حج انتظامات کی کہانی :کچھ معروف شخصیات، اداروں اور عام حجاج کی زبانی

سہیل انجم

کرسٹیانے بیکر Kristiane Backer ایم ٹی وی کی آرٹسٹ رہی ہیں۔ ان کی ملاقات سابق کرکٹر اور پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان سے کیا ہوئی کہ ان کے دل کی دنیا بدل گئی۔ عمران خان نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور انھوں نے برسوں تک اسلام کا مطالعہ کیا اور بالآخر وہ مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔ اسلام لانے کے بعد 2001 میں انھوں نے عمرہ کیا اور 2006 میں فریضہ حج کی ادائیگی کی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک کتاب تصنیف کی یا ایک سفرنامہ تحریر کیا جس کا نام انھوں نے رکھا ”ایم ٹی وی سے مکہ تک: اسلام نے کیسے مجھے متاثر کیا“۔

وہ امسال پھر فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ آئی تھیں۔ انھوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بارہ برسوں کے بعد جب میں نے خانہ کعبہ کو دیکھا تو میری زبان گنگ ہو کر رہ گئی۔ یہاں ان بارہ برسوں میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ انھوں نے حج کے دوران حجاج کے تحفظ کے سلسلے میں سعودی حکومت کی کاوشوں کی زبردست ستائش کی اور کہا کہ 23 لاکھ سے زائد حجاج کو جس طرح تحفظ اور انسانی امداد فراہم کی گئی اس سے وہ بہت متاثر ہوئیں۔ انھوں نے حج کے دوران حاجیوں کو فراہم کی جانے والی طبی اور نقل و حمل کے لیے بہم پہنچائی گئیں سہولتوں و خدمات کو بھی سراہا۔ کرسٹیانے بیکر اس وقت لندن میں فائن آرٹ مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔

امریکہ کی ابتحاج محمد اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور تلوار بازی کی چمپئن ہیں۔ خانہ کعبہ کے سامنے ان کی ایک تصویر اچانک ٹویٹر پر ٹرینڈ کرنے لگی۔ اس تصویر کے نیچے انھوں نے لکھا تھا کہ اس وقت میں اپنی تعطیلات مکہ میں گزار رہی ہوں۔ مجھے اس سعادت پر جو مسرت حاصل ہوئی ہے میں بیان نہیں کر سکتی۔ میں دعا گو ہو ںکہ اللہ تعا لی تمام حجاج کا حج قبول کرے۔ میری تمنا ہے کہ آپ کو بھی اس کی سعادت نصیب ہو۔ اس 32 سالہ خاتون کھلاڑی نے بتایا کہ وہ حج پر آئی ہوئی ہیں اور یہاں کے انتظامات دیکھ کر ان کو بہت مسرت ہو رہی ہے۔ ان کے مداحوں نے اس پر ان کو مبارکباد پیش کی اور ایک مداح نے لکھا کہ وہ پاکستان سے تعلق رکھتا ہے، وہ بھی حج کرنے آیا ہوا ہے اور اس وقت منیٰ میں ہے اور انھیں یاد کر رہا ہے۔

انسانی حقوق کے ایک ادارے ”عرب ریڈ کریسنٹ اینڈ ریڈ کراس آرگنائزیشن“ نے حج کے دوران بھیڑ کو کنٹرول کرنے میں سعودی پولیس اور دیگر جوانوں کی مہارت کی ستائش کی اور پر امن طور پر حج کی تکمیل پر خوشی ظاہر کی۔ ادارے کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر صالح السحیبانی نے کہا کہ سعودی قیادت نے حج کے پہلے اور اس کے بعد کے اقدامات سے انسانی مثالیں قائم کی ہیں۔ جس طرح سے معمر حجاج کی دیکھ بھال کی گئی وہ قابل تعریف ہے۔

کونسل آف برٹش حاجیز Council Of British Hajjis کے رضاکاروں کی ایک ٹیم حج کے دوران سعودی عرب میں موجود رہی جس نے حجاج کی خدمت کی۔ انھوں نے حجاج کو طبی خدمات بھی فراہم کیں۔ کونسل کے سی ای او رشید مگرادیا نے حکومت کے انتظامات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر یہاں آکر اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرنے پر انھیں فخر محسوس ہو رہا ہے۔ انھوں نے منیٰ میں اے سی خیموں اور موبائیل ایپ کی بھی ستائش کی اور کہا کہ اس سے حاجیوں کو بڑی آسانی رہی۔ انھوں نے 19 اگست کی شام کو آنے والی دھول بھری آندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے گرمی سے کچھ راحت ملی اور برطانوی حجاج اپنے اپنے خیموں میں مقیم رہے۔ انھوں نے برطانوی حجاج کو بہتر سہولت فراہم کرنے پر حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے میڈیا کارکنوں نے حکومت کا مہمان بننے پر اس کا شکریہ ادا کیا اور شاندار مہمان نوازی کی تعریف کی۔ سیاسی تجزیہ کار الکساسبہ نے اردن میڈیا کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کی حکومت حرمین کی شاندار خدمت انجام دیتی ہے اور جس طرح وہ حج کے انتظامات کرتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ حجاج کو پیش کی جانے والی خدمات میں روز بہ روز بہتری آئے گی۔

سوڈان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے مشیر محمد محمد الشیخ نے سال بہ سال حج کو آسان بنانے پر سعودی حکومت کی تعریف کی۔ انھوں نے سعودی کوششوں اور خدمات پر میڈیا کی توجہ کو بہت اہم بتایا اور حج کے دوران میڈیا کارکنوں کو جو سہولتیں فراہم کی گئیں اس پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

عباس المہدار جدہ سے آئے تھے۔ انھوں نے اپنی فیملی کے ساتھ حج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہم عرفات کے خیمہ میں پہنچے تو اس وقت ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ ہم نے اسے اللہ کی رحمت قرار دیا اور کہا کہ حج کا آغاز بہت شاندار انداز میں ہو رہا ہے۔ ان کے سامنے صرف ایک مسئلہ تھا اور وہ یہ کہ انھیں وھیل چیئر پر حج کرنا تھا۔ گرمی شدید تھی لیکن آندھی اور بارش نے موسم کو کچھ معتدل کر دیا تھا۔ نویں ذی الحجہ کو جب وہ عرفات کے میدان میں تھے تو انھوں نے اپنے سر پر ایک چھتری تان رکھی تھی۔ وہ پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ حج پر آنے والوں کو ان کا مشورہ ہے کہ وہ جب بھی آئیں پوری تیاری کے ساتھ آئیں۔ انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حج میں مشکلات آتی ہیں، دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا حجاج کو چاہیے کہ وہ بھی حکومت کی کوششوں میں صبر کے ساتھ ہاتھ بٹائیں۔

صحت کی عالمی تنظیم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یعنی WHO نے حجاج کی صحت کا بہترین انداز میں خیال رکھنے پر سعودی حکومت اور بالخصوص وزارت حج و عمرہ کی ستائش کی۔ تنظیم کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس DR. Tedros Adhanom Ghebrysus نے مذکورہ وزارت کی کوششوں کو ممتاز اور شاندار قرار دیا۔ اس سے قبل سعودی عرب کے وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے بتایا کہ امسال کا حج سیزن وبائی امراض سے بالکل پاک رہا۔ 16 لاکھ حاجیوں کی سعودی عرب میں داخل ہوتے ہی میڈیکل جانچ کی گئی۔ جبکہ تین لاکھ ساٹھ ہزار سعودی حاجیوں کو پولیو کی دوا پلائی گئی اور چار لاکھ ساٹھ ہزار کو فلیو اور میننجائٹس کے ٹیکے لگائے گئے۔ مکہ کے گورنر خالد الفیصل کے مطابق حج کے دوران 32 ہزار ڈاکٹر تعینات کیے گئے۔ پانچ ہزار بستروں کے ساتھ پچیس اسپتالوں میں حجاج کا علاج کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزارت کی جانب سے 127 ایمرجنسی مراکز اور 153 صحت مراکز قائم گئے تھے جو کہ مذکورہ صحت سہولتوں کے علاوہ تھے۔

حج پر آنے والی بہت سی خواتین حمل سے تھیں۔ مکہ میں مقیم ایک ماہر امراض خواتین ڈاکٹر نگہت عرفانہ نے ایسی خواتین کو صحت کے تعلق سے مفید مشورے دیے۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ حج جسمانی مشقت کا تقاضہ کرتا ہے اس لیے حاملہ خواتین پابندی کے ساتھ اپنی دوائیں لیں۔ شوگر کے مریض ڈاکٹر کی پرچی ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں۔ انھوں نے بتایا کہ حج کے دوران حاملہ خواتین قبل از وقت اسقاط، قبل از وقت درد زہ اور بروقت درد زہ اور دیگر مسائل سے دوچار ہوتی ہیں۔ انھوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ ماہواری کو موخر کرنے کی دوائیں لینے کے سلسلے میں بہت محتاط رہیں۔ ایسی دوائیں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ لیں۔ ڈاکٹر عرفانہ مکہ کے ایک زچہ بچہ اسپتال میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ دو بار عرفات کے اسپتال میں بھی حجاج کی خدمت کر چکی ہیں۔ انھوں نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت نے حجاج کو بہترین طبی خدمات فراہم کی ہیں اور اللہ کے مہمانوں کی خدمت پر انھیں فخر ہے۔

ایک اخباری اطلاع کے مطابق حج کے دوران سات بچوں کی ولادت ہوئی۔ ان سیکورٹی جوانوں نے جو حجاج کے تحفظ اور خدمات میں مصروف رہے، دایا کی بھی خدما ت انجام دیں۔

حج کے دوران جہاں بہت سے معمر افراد لاپتہ ہو جاتے ہیں وہیں بہت سے بچے بھی کھو جاتے ہیں۔ حالانکہ حجاج اپنے بچوں کے تئیں فکر مند رہتے ہیں اور ان کو ہمیشہ اپنے ساتھ ہی رکھتے ہیں لیکن بعض اوقات زبردست بھیڑ کی وجہ سے ان کی انگلیاں بچوں کے ہاتھوں سے چھوٹ جاتی ہیں اور وہ کھو جاتے ہیں۔ حج کے ابتدائی دو دنوں میں گیارہ بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے یعنی منیٰ میں کھو گئے۔ گمشدہ بچوں کی دیکھ بھال کے مرکز کے سپروائزر لینا ابو زنادہ کے مطابق کوموروس کی ایک حجن روتے ہوئے مرکز پر آئیں اور انھوں نے بتایا کہ صبح سے ہی ان کا بچہ کھویا ہوا ہے۔ وہ لوگ ایک مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے کہ ان کے شوہر بھی لاپتہ ہو گئے۔ ان کا خیال تھا کہ پولیس اسٹیشن میں وہ زیادہ محفوظ رہیں گی لہٰذا وہ وہیں پناہ لینا چاہتی تھیں۔ ہم نے انھیں کسی طرح خاموش کرایا اور ہماری کوششوں سے چند گھنٹے کے بعد ان کے ملک کے سفارت خانہ کے افراد آئے اور انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ ہم سب سے پہلے کھو جانے والوں کی تفصیلات حاصل کرتے ہیں پھر انھیں اپنے فیلڈایجنٹوں کو پاس کرتے ہیں۔ بالآخر وہ لاپتہ لوگوں کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ لاپتہ بچوں کو جب ان کے مرکز میں لایا جاتا ہے تو وہ پوری تندہی کے ساتھ ان کے اہل خانہ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ابو زنادہ نے بتایا کہ ان کے مرکز میں بعض ایسے بچے بھی آئے جو ہسٹیریائی انداز میں چیخ چلا رہے تھے اور اس شخص کو چھوڑنے کو راضی نہیں تھے جو ان کو وہاں لے کر آیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ سب سے کم عمر لاپتہ بچہ جو ان کے مرکز میں آیا پانچ سال کا تھا اور زیادہ عمر کا بچہ بارہ سال کا تھا۔ ان کے پاس ایسے ماہرین کی ٹیم ہے جس کے کارکن بچوں سے عربی، انگریزی اور اردو میں بات کرنے کے علاوہ اشارو ںکنایوں میں بھی بات کرتے ہیں اور تفصیلات معلوم کر کے ان کو ان کے والدین کے حوالے کرتے ہیں۔ وہ بعض اوقات سڑکوں پر صفائی ملازمین سے بھی رابطہ کرتے ہیں اور ان کی مدد سے بچوں کو ان کے والدین تک پہنچاتے ہیں۔

سعودی عرب ایمرجنسی فورسز کے ایک رکن محمد الشیدی نے جو کہ حفر الباطن سے آئے ہوئے تھے اپنا پورا وقت جمرات میں حجاج پر پانی اسپرے کرنے میں لگایا۔ ان کا کہنا ہے کہ حاجیوں کی خدمت کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ سول ڈیفنس کے خالد المجراشی نے بتایا کہ ان کی ٹیم 70رضاکاروں پر مشتمل ہے جو کہ حاجیوں کی مدد کے لیے غزان سے آئی ہے۔ انڈونیشیا کی حجن جمیلہ نے اسپیشل ایمرجنسی فورسز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ منیٰ میں ان کی والدہ کی ہتھیلی میں کریک آگیا تھا جس کے بعد فورسز کے جوانوں نے انھیں وھیل چیئر پر صحت مرکز تک پہنچایا۔
پاکستان کے اویس کے مطابق حج کے دوران سب سے تکلیف دہ صورت حال گرمی کی تھی۔ لیکن جس طرح امدادی کارکنوں نے پانی کی بوچھاریں چھوڑیں اور پھواریں ماریں وہ بہت ہی آرام دہ تھیں۔ اس سے کچھ دیر کے لیے گرمی سے نجات مل جاتی تھی اور اس زبردست بھیڑ اور اگست کی شدید گرمی میں راحت کا سامان ہو جاتا تھا۔

سینیگال کی نبیلہ کہتی ہیں کہ انھوں نے یہ تو سنا تھا کہ حج کے دوران زبردست انسانی خدمت انجام دی جاتی ہے لیکن ان کو معلوم نہیں تھا کہ کتنے لوگ اس میں مصروف رہتے ہیں۔ لیکن اب محسوس ہوا کہ آپ جیسے ہی سعودی عرب کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہاں کی حکومت دنیا کے مسلمانوں کی کس طرح شاندار خدمت انجام دے رہی ہے۔

انگلینڈ کے 32 سالہ بلال نے دوسری بار حج کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حرم شریف میں جو توسیع کی گئی ہے اس سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ جب اس سے قبل میں یہاں آیا تھا تو میری عمر پندرہ سال تھی۔ لیکن اب جو میں آیا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ یہاں کی شکل و صورت ہی بدل گئی ہے۔
کراچی پاکستان کے ایک حاجی محمد عامر سے ہماری ملاقات مطاف میں ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ دوسری بار حج کر رہے ہیں اور اس بار انھوں نے جو خدمات دیکھی ہیں وہ بے مثال ہیں۔

امسال حج کی میڈیا کوریج بڑے پیمانے پر ہوئی ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر العواد بن صالح العواد کے مطابق حج کی میڈیا کوریج 100 ملکوں تک پہنچی ہے اور تین کروڑ بیس لاکھ افراد نے حج کوریج کا مشاہدہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بہتر حکمت عملی کے ساتھ ہونے والی کوریج کی وجہ سے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے اور کسی بھی قسم کی سازش کو ناکام کرنے میں کامیابی ملی۔ حج کی تفصیلات لوگوں تک پہنچانے کے لیے ایک ویب سائٹ بنائی گئی۔ بہتر حکمت عملی کی وجہ سے ٹویٹر پر 18 ارب امپریشن درج ہوئے۔ حج کی سرگرمیوں میں مصروف 75 اداروں کے بارے میں رپورٹنگ کی گئی۔

تصویر کا دوسرا رخ

یہ تو تھے وہ تاثرات و خیالات جو حجاج کے علاوہ حجاج کی خدمت میں مصروف افراد، اداروں اور ذمہ داروں کے تھے۔ اب ذرا تصویر کا دوسرارخ ملاحظہ فرمائیں۔ آئیے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ انتظامات کی حقیقی صورت حال کیا تھی۔ کیا واقعی سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا کہ مذکورہ بیانوں میں بتایا گیا یا اس سے کچھ مختلف بھی تھا۔ ہم فی الحال منیٰ کے خیموں کی بات کرتے ہیں۔ منیٰ میں پاکستان، ایران، ترکی اور بعض دیگر ملکوں کے خیموں میں شاہانہ انتظامات تھے۔ داخلی حجاج یعنی سعودی عرب کے حاجیوں کے لیے بھی بہترین انتظامات تھے۔ لیکن ہندوستانی خیموں کے انتظامات انتہائی ناقص اور تکلیف دہ تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ دوسرے حاجی اول درجے کے شہری ہیں اور ہم سوئم درجے کے۔ خیموں کا انتظام متعلقہ ملکوں کی حج کمیٹیاں اور معلم کے ادارے کرتے ہیں۔ معلم کو یہاں مطوِّف کہتے ہیں۔ ایک ایک معلم کے تحت کئی کئی عمارتیں ہوتی ہیں اور ایک ایک عمارت میں کئی کئی سو حاجی قیام کرتے ہیں۔ ہمارے معلم عبد الوہاب حامد عبد الرحمن بدر کے ذمہ کئی بلڈنگیں تھیں۔ ان کے اوپر 3800 حجاج کے قیام، خورد نوش، آمد ورفت اور منیٰ و عرفات میں بھی قیام کے بند و بست کی ذمہ داری تھی۔ اس طرح ایک ایک مطوف یا معلم کے تحت کئی کئی ہزار حجاج ہوتے ہیں۔ ہم لوگوں کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ ہم 17 اگست یعنی 7 ذی الحجہ کو بعد نماز عشا تیار رہیں۔ اسی وقت ہم کو منیٰ لے جایا جائے گا۔ لیکن رات بھر انتظار کرتے رہے کوئی لینے نہیں آیا۔ بالآخر نماز فجر کے بعد بس آئی اور لوگوں سے منیٰ چلنے کو کہا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ لوگ آئے تھے لیکن چونکہ لابی میں کوئی موجود نہیں تھا اس لیے وہ لوگ واپس چلے گئے۔ لابی میں اس لیے کوئی موجود نہیں تھا کہ حاجیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ تیار ہو کر اپنے اپنے کمروں میں رہیں اور ہو سکے تو سو جائیں کیونکہ یہ بتانا مشکل ہے کہ واقعتاً بس کس وقت آئے گی۔ بہر حال اس طرح ہم لوگ صبح سات بجے کے آس پاس خیموں میں پہنچے۔ فوراً ناشتہ دیا گیا اور دوپہر میں دال روٹی دی گئی۔ ناشتے میں ایک سوکھی روٹی، جام کی ایک چھوٹی سی ڈبیہ، چیز(CHEESE) کی دو ٹکیہ اور ایک ابلا انڈا دیا گیا۔ باہر خیموں کے درمیان واقع گلیوں میں برف والے پانی کے بڑے بڑے کین اور چائے کے اسٹیل کے کین رکھ دیے گئے۔ پانی سے عجیب سی بو آتی رہی۔ چائے کے لیے ماراماری کا عالم تھا۔ خیر اللہ اللہ کرکے ناشتے اور پھر کھانے سے فراغت حاصل کی گئی۔

اس سے پہلے کہ ہم منیٰ کے کھانوں کا ذکر کریں خیموں کی صورت حال بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ پہلے ایک خیمے میں عورتوں کو پہنچایا گیا اور اس کے بعد ایک خیمے میں مردوں کو۔ عام طور پر ایک عمارت کے مردوں اور عورتوں کے خیمے آمنے سامنے تھے۔ لیکن ہماری عمارت کے مردوں اور عورتوں کو دور دور رکھا گیا۔ خیموں کے درمیان کی گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ مشتاق یوسفی مرحوم کا وہ معرکہ آرا جملہ یاد آتا رہا کہ ایسی تنگ گلیوں میں اگر ایک طرف سے مرد اور دوسری طرف سے عورت آرہی ہو تو نکاح کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ ہم لوگوں کو چونکہ اپنے بچوں کی بھی خیریت لینی ہوتی تھی لہٰذا ایسی صورت حال سے بار بار گزرنا پڑا۔ خیموں کے درمیان عام راستے بھی بہت تنگ تھے اور انھی راستوں پر پانی اور چائے کے کین بھی براجمان ہوتے اور کوڑے کے ڈھیر بھی۔ جگہ جگہ گندا پانی جمع رہتا اور اگر کوئی بچ کر نہ چلتا تو اس کے کپڑے خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا۔

خیمے کے اندر گئے تو وہاں کا منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ چوڑے اسفنج کے گدے یوں سٹا سٹا کر بچھائے گئے تھے کہ ان کے درمیان سوئی بھی نہیں رکھی جا سکتی تھی۔ ایک حاجی کے حصے میں ایک گدا تھا۔ ہر گدے پر ایک انتہائی گندی سی چادر رکھی ہوئی تھی جس کے روئیں جھڑ جھڑ کر کپڑوں میں چپک رہے تھے۔ ایک خیمے میں بمشکل پچاس افراد کی گنجائش تھی لیکن اس میں دو سو یا اس سے بھی زائد حاجیوں کو ٹھہرایا گیا تھا۔ اور طرفہ تماشہ یہ کہ اس حالت میں پانچ روز قیام کرنا تھا۔ جب سارے گدوں پر حاجی براجمان ہو گئے اور وہ بھی دو سفید چادروں میں تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم لوگ انسان نہیں بلکہ وہ برائیلرمرغ (broiler chickens) ہیں جن کو جالی دار بکسوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے اور پھر بوقت ضرورت انھیں ذبح کیا جاتا ہے۔ مرغ تو ایک ہی بار ذبح کیے جانے کی اذیت سے گزرتے ہیں مگر ہم لوگوں کے سامنے تو ایسے مراحل بار بار آتے رہے ۔ مزید طرفہ تماشہ یہ کہ گدے ہی پر آپ کو ناشتہ بھی کرنا ہے، کھانا بھی کھانا ہے، چائے بھی پینی ہے اور نماز بھی ادا کرنی ہے۔ اسی پر آپ کو اپنا سامان بھی رکھنا ہے اور اپنے چپلوں کے رکھنے کا بھی انتظام کرنا ہے اور اسی پر سونا بھی ہے۔ جگہ اتنی کم کہ کروٹ لینے پر اپنے ہمسائے پر چڑھ جانے کا اندیشہ الگ تھا۔

ہم جب پہلی بار اپنے خیمے کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہیں سامنے ہی ٹوائلٹ ہے،وضو خانہ بھی ہے۔ لیکن کچھ دیر کے بعد جب فراغت کے لیے وہاں گئے تو دیکھا کہ اس کے سامنے باڑ لگا کر اس کا راستہ روک دیا گیا ہے اور ہمارے خیمے کے برابر سے جانے والی گلی کے آخری سرے پر کچھ اور خیمے نصب ہیں اور یہ مخصوص انتظام ان لوگوں کے لیے کیا گیا ہے۔ وہ ترک حاجیوں کے خیمے تھے۔ یعنی ان کے ٹوائلٹ کا انتظام ہمارے خیمے سے متصل تھا۔ وہاں خونخوار قسم کے حبشی نوجوانوں کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی تاکہ کسی دوسرے خیمے کا کوئی حاجی حمام میں دراندازی نہ کر بیٹھے۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ کسی حاجی صاحب کو پیشاب کا سخت تقاضہ ہے اور وہ چوکیدار سے فریاد کر رہے ہیں مگر وہ انتہائی سختی سے روک دیتا ہے اور دوسری طرف جانے کا اشارہ کرتا ہے۔ کئی حاجی صاحبان ان سے لڑنے پر آمادہ تھے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو ان بے چارے پہرے داروں کی کوئی خطا نہیں تھی۔ خطا تو ایسا انتظام کرنے والوں کی تھی۔ وہیں برابر میں ترک حاجیوں کے لیے دسترخوان بچھانے کی جگہ تھی جہاں ان کو کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ دن بھر ہم لوگوں کے صبر و ضبط کا امتحان اس طرح لیا جاتا کہ ہمیشہ روسٹیڈ چکن کی مہک آ آ کر ہمارے نتھنوں میں گھستی رہی اور ہم لوگ ہونٹوں پر زبان پھیر پھیر کر اور دل مسوس مسوس کر وقت گزارنے پر مجبور تھے۔
18 اور 19 اگست کی درمیانی شب میں یعنی 9 ذی الحجہ کی رات میں ہم لوگوں کو عرفات لے جایا گیا۔ وہاں جانا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا ۔ بسوں کا کوئی معقول انتظام نہیں، نہ ہی کوئی بتانے والا۔ ہم کچھ لوگ اپنی صوابدید پر خیمے سے باہر نکلے۔ اپنی حجنوں کو بلایا۔ بمشکل اپنے مکتب کی ایک بس کی خبر ملی اور ہم لوگ اس میں گھس گئے۔ مگر بیٹھنے کی جگہ کہاں تھی وہ تو پہلے سے ہی بھری ہوئی تھی۔ لہٰذا کھڑے کھڑے جانے پر مجبور ہوئے۔ جب 20 اگست کی صبح کے تقریباً تین بجے عرفات پہنچے تو ہم لوگوں کو ہماری عمارت نمبر کے حساب سے ایک خیمے میں لے جایا گیا۔ خیمہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ چاروں طرف زمین پر کولر رکھے ہوئے تھے۔ لیکن خیمہ میں لائٹ کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ باہری روشنی میں ہم لوگوں نے اپنا سامان رکھا اور چٹائی یا چادر بچھا کر لیٹنے کی جگہوں پر قبضہ کیا۔ وہاں کا انتظام قدرے بہتر تھا۔ کھانا بھی ہلکا پھلکا تھا۔ لیکن جب واپسی کا موقع آیا تو معلم کی جانب سے بس کے سلسلے میں کوئی واضح بات نہیں بتائی گئی۔ کبھی کہا گیا کہ بسیں چھ بجے آجائیں گی کبھی کہا گیا کہ رات میں دس بھی بج سکتے ہیں اور کبھی یہ کہا گیا کہ بہت پیدل چلنا پڑے گا۔ گویا ہمیں عرفات سے پیدل ہی مزدلفہ اور پھر منیٰ کے لیے روانہ ہو جانا چاہیے۔ خیر ہم باہر سڑک پر آئے۔ کافی دیر کے بعد ہمارے مکتب والے نمبر کی دو ایک بسیں آئیں اور ہم لوگ انتہائی جاں فشانی کے ساتھ ایک بس میں سوار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس میں سوار ہونا بھی کسی جہاد سے کم نہیں تھا۔ بس نے ہم لوگوں کو مزدلفہ میں مسجد مشعر الحرام سے کچھ مسافت پر چھوڑا۔ ہم لوگوں نے مسجد مشعر الحرا م میں جا کر مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کیں۔ کچھ دیر بڑی بڑی کنکریوں پر چٹائی یا چادر بچھا کر سوئے۔ کنکریوں پر نیند اس لیے آگئی کہ ہم لوگ بے انتہا تھکے ہوئے تھے اور آرام کی سخت ضرورت تھی۔ ہاں وہاں پینے کے پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ کچھ مخیر حضرات پانی کی بوتلیں تقسیم کر رہے تھے لیکن وہاں تک رسائی سب کے بس کی بات نہیں تھی۔

آگے بڑھنے سے قبل 19 اگست کی رات کے کھانے کا قصہ سن لیجیے۔ دن میں تو دال روٹی دی گئی اور رات میں ایک ایک پیکٹ تھمایا گیا۔ پیکٹ کھولنے پر یوں لگا کہ یہ کوئی پرانٹھا ہے۔ لیکن ہاتھ لگانے کے بعد اندازہ ہوا کہ نہیں یہ تو چاول ہے جسے بریانی بتایا گیا۔ چاول کے دانے ایک دوسرے سے چپک کر پرانٹھے کی شکل بنا رہے تھے۔ وہ ریڈی میڈ بریانی تھی جس میں گوشت کے انتہائی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے تھے۔ اس میں سے عجیب سی بو آرہی تھی۔ ا سکی کوالٹی انتہائی گھٹیا تھی۔ ہم نے بمشکل دو لقمے کھائے۔ اس کھانے پر ہنگامہ شروع ہو گیا۔ ہماری بلڈنگ میں دہلی سے شائع ہونے والے ہندی روزنامہ شاہ ٹائمز کے بیورو چیف جناب مطلوب رانا بھی ہیں۔ اتفاق سے منیٰ میں وہ ہمارے برابر میں تھے۔ ہم نے ان سے اور اپنے روم پارٹنر جناب قمر الدین قریشی سے مشورہ کیا اور اس کھانے پر احتجاج کا فیصلہ کیا۔ مطلوب صاحب نے ویڈیو بنایا اور کچھ لوگوں کے بیانات لیے۔ پیکٹ کی تصویریں بھی لی گئیں۔ یہ کھانا دہلی میں 9جولائی کو پیک کیا گیا تھا اور اسے 19 اگست کو حاجیوں کو کھلایا جا رہا تھا۔ تصویروں،بیانوں اور ویڈیو کا ایک پیکج بنا کر مختلف واٹس ایپ گروپوں، حج کمیٹی آف انڈیا اور دہلی کمیٹی کے ذمہ داروں اور دیگر اداروں کو ارسال کر دیا گیا۔ چند لمحوں کے اندر یہ پورا معاملہ وائرل ہو گیا۔ پھر تو مردوں کے خیمے سے بھی آواز اٹھی اور عورتوں سے خیمے سے بھی۔ بڑی تعداد میں مرد و خواتین مطبخ پر جمع ہو گئے اور ہنگامہ شروع ہو گیا۔ پہلے تو معلم کے ذمہ داروں نے ہمیں دھونس میں لینے کی کوشش کی مگر حاجیوں کے تیور دیکھ کر خاموش ہو گئے۔ دہلی حج کمیٹی کے سی ای او جناب اشفاق عارفی صاحب کا میسج ہمارے پاس آیا۔ انھوں نے پوچھا کہ اس میں کیا صداقت ہے اور کیا آپ اس پورے معاملے کے شاہد ہیں۔ ہم نے ان کو بتایا کہ ہم نہ صرف شاہد ہیں بلکہ اس ہنگامے کا حصہ بھی ہیں اور ہم نے کھانا کھایا ہی نہیں۔ وہ اس لائق تھا ہی نہیں کہ اسے کھایا جاتا۔ انھوں نے بتایا کہ اس معاملے کو سعودی حکومت کے متعلقہ اداروں تک پہنچایا گیا ہے اور ان شاءاللہ معاملہ حل ہو جائے گا۔ معلم کے لوگوں نے تبایا کہ یہ کھانا دہلی سے آنے والے حج کمیٹی کے افسران نے منظور کیا تھا۔ لیکن جناب اشفاق عارفی نے ہم کو بتایا کہ کھانے کے معاملے میں زیادہ دخل سعودی حکومت اور معلم کا ہوتا ہے۔

بہر حال یہ معاملہ کافی دور تک چلا گیا اور پھر انڈین حج مشن اور خود سعودی حکومت میں طوفان برپا ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد سعودی عرب کی وزارت صحت کے فوڈ انسپکٹر نے آکر کھانے کا جائزہ لیا۔ ایک بزرگ حاجی صاحب نے اشتعال میں آکر ایک چمچہ کھانا ان کے منہ میں ٹھونس دیا اور کہا کہ کھا کر بتاؤ کہ کیا تم اسے کھا سکتے ہو۔ اس کے بعد ہوا یوں کہ اس کھانے کو روک دیا گیا۔ جن خیموں میں تب تک کھانا نہیں پہنچا تھا وہاں کے لوگ انتظار کر رہے تھے۔ ہمارے ایک دوست نے ہمیں فون کیا کہ رات کے گیارہ بج گئے ہیں ابھی تک کھانا نہیں آیا۔ ہم نے ان کو سارا واقعہ بتایا اور کہا کہ بازار سے کھانا لے کر کھا لیںکیونکہ اب کھانا نہیں آئے گا اور اگر آئے گا بھی تو بہت تاخیر سے آئے گا۔ بہر حال ہم تو اپنے خیمے میں سو گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بارہ بجے کے آس پاس بہت اچھا کھانا پیش کیا گیا۔ اس کے بعد کھانے کی کوالٹی میں رفتہ رفتہ بہتری آنے لگی اور آخری دن تک کھانا بہت اچھا دیا گیا۔ البتہ ناشتے میں وہی سوکھی روٹی، ابلا انڈا، چیز اور جام کی ڈبیہ ہی چلتی رہی۔

اس واقعہ کے بعد معلم کا دفتر متحرک ہو گیا۔ کچھ نوجوانوں کو عورتوں کے خیمے میں فیڈ بیک لینے کے لیے بھیجا گیا اور ان سے یہ لکھوانے کی کوشش کی گئی کہ کھانا ٹھیک تھا۔ لیکن جب کچھ خواتین نے موبائل فون سے ان کی تصویر لینے کی کوشش کی تو وہ رفو چکر ہو گئے۔ غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق یہ معاملہ کافی اچھل گیا ہے اور حکومت کی جانب سے معلم کے خلاف جانچ کا حکم دے دیا گیا ہے۔ معلم کے بعض کارکنوں نے بتایا کہ اس خاندان میں یہ خدمت ڈیڑھ سو برسوں سے انجام دی جا رہی ہے۔

ہم لوگ عرفات میں سورج غروب ہونے کے بعد معلم کے دفتر کے باہر تھے۔ اسی دوران ایک تنومند نوجوان آیا۔ اس نے بتایا کہ وہ معلم کے دفتر سے ہے۔ وہ اردو بول رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کے والدین ہندوستانی ہیں۔ اس کا نام عمران اسکندر ہے۔ اس کے مطابق کھانا ہندوستانی افسران نے طے کیا تھا۔ حالانکہ معلم اس کھانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ انھوں نے اسے ہمارے گھر پکوایا اور ہماری والدہ کو کھلایا۔ ہم نے بھی کھایا۔ ہم لوگوں کو کھانا اچھا لگا۔ اس کے باوجود معلم اس پر راضی نہیں تھے۔ دو دو بار کھانے کا تجربہ کیا گیا۔ بہر حال اب اسے روک دیا گیا ہے جو کہ معلم کے سرد خانے میں پڑا ہوا ہے۔ عمران اسکندر کے مطابق کھانا روک دینے کی وجہ سے معلم کو پانچ لاکھ ریال کا نقصان ہوا ہے۔

ایک رات کھانے سے قبل دیکھا کہ قونصل جنرل جناب نور الرحمن شیخ، حج کونصل اور ڈپٹی قونصل جنرل جناب شاہد عالم اور جناب محمد یونس اعظمی خیموں میں آئے اور انھوں نے مطبخ کے ذمہ داروں سے کہا کہ حاجی صاحبان جو کھانا چاہیں وہ کھانا انھیں پیش کیا جائے۔ اتفاق سے شاہد عالم ہم سے ٹکرا گئے۔ ہم نے اپنا تعارف کرایا تو انھوں نے پہچان لیا اور کہا کہ آپ نے ڈاکٹر سے متعلق جو شکایت کی تھی وہ یاد آگئی۔ یونس اعظمی نے کہا کہ ہم نے بھی وہ رپورٹ پڑھی تھی۔ شاہد عالم نے ہی ہمیں بتایا کہ مطبخ کے ذمہ داروں کو بہتر کھانا دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اس ہنگامے کے بعد معلم کے دفتر سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ حاجی صاحبان بہتر رپورٹ دے دیں۔ ایک شام ان کے دفتر کے دو ذمہ داران ہماری بلڈنگ میں آئے اور انھوں نے ہم لوگوں سے درخواست کی کہ کچھ مثبت بیان دے دیں۔ خیر ہم لوگوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا کہ پہلے دن تو کھانا ناقص تھا لیکن احتجاج کے بعد کھانے کی کوالٹی بہتر کر دی گئی۔ البتہ منیٰ میں رہائش اور بسوں کا انتظام اطمینان بخش نہیں تھا۔ ہاں عزیزیہ سے حرم لے جانے کے لیے بسوں کا معقول انتظام ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ معلم سے یہ خدمت چھن جانے کا خطرہ ہے۔ واللہ عالم بالصواب۔ قونصل جنرل آف انڈیا نے بھی ہماری بلڈنگ کا دورہ کیا اور حجاج سے گفتگو کی۔ قونصلیٹ جنرل آف انڈیا جدہ کی جانب سے چار صفحات پر مشتمل ایک فارم پُر کرنے کے لیے حاجیوں کو دیا گیا ہے جس میں ٹِک مارک کرکے انتظامات کے بارے میں اپنی رائے دینی ہے۔

یہاں یہ بھی بتا دیں کہ معلم کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ حاجیوں کو بذریعہ بس منیٰ سے عزیزیہ یا جہاں بھی وہ مقیم ہیں وہاں پہنچائے۔ مگر ہم لوگوں کو اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی کہ بس ملے گی یا نہیں اور اگر ملے گی تو کب ملے گی۔ اڑتی پڑتی افواہ ایسی سنی گئی کہ بس 13 ذی الحجہ کو رات میں دس بجے ملے گی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا اس لیے کہا گیا تاکہ حجاج پیدل ہی عزیزیہ چلے جائیں اور انھیں بس فراہم کرنے کی جھنجھٹ ہی ختم ہو جائے۔ بہر حال ہم لوگ 12 ذی الحجہ کو رمی کرکے تقریباً ساڑھے چار بجے پیدل ہی عزیزیہ کے لیے نکل پڑے۔ چونکہ مسافت زیادہ نہیں تھی اس لیے زیادہ وقت نہیں لگا۔ پھر بھی ڈیڑھ گھنٹے متواتر چلنے کے بعد ہم لوگ اپنی بلڈنگ میں پہنچے۔

(باقی تفصیلات آئندہ)
sanjumdelhi@gmil.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Indian hajis complain poor quality packaged food in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply