ہند امریکہ تعلقات نئی بلندیوں پر

سہیل انجم

ہندوستان اور امریکہ کے مابین ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کا ایک عرصے سے انتظار تھا۔ دو بار اس کی تاریخیں ملتوی کی گئیں۔ لیکن بہر حال 6 ستمبر کو نئی دہلی میں یہ ڈائیلاگ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کیا ہے؟ یہ سوال بہت سے لوگ پوچھتے رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ کیا اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات نئی سمتوں میں گامزن ہوں گے۔ در اصل ٹو پلس ٹو کا مطلب ہے کہ دونوں ملکوں کے دو دو وزرا ءایک ساتھ بیٹھیں اور چاروں ایک ساتھ مذاکرات کریں۔ ایسے مذاکرات کم ہی ہوتے ہیں۔ دہلی میں جو مذاکرات ہوئے ان میں ہندوستان کی وزرائے خارجہ و دفاع سشما سوراج اور نرملا سیتا رمن اور ان کے امریکی ہم منصب مائیکل پامپیواور جیمزمیٹس نے حصہ لیا۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریند رمودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مابین ہونے والی چوٹی ملاقات کے بعد یہ دوسری اعلیٰ سطحی ملاقات تھی۔ اس ملاقات کے دوران جو معاہدے ہوئے ہیں وہ ہندوستان کے لیے بے حد مفید ہیں۔

ایک اہم فوجی معاہدے پر دستخط ہو جانے کے بعد ہندوستان امریکہ سے اہم دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کر سکے گا جس میں ہتھیار بند ڈرون بھی شامل ہیں۔ جس معاہدے کے تحت ہندوستان کو ہتھیار حاصل ہوں گے اس کا نام COMCASA معاہدہ ہے۔ اگست 2016 میں ہندوستان نے ایک لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دونوں ملکوں کی افواج کو ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو کسی حد تک استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ ایک اور معاہدہ ہونے والا ہے جس میں وقت لگ سکتا ہے۔ یہ بھی فوجی معاہدہ ہوگا۔ مذاکرات کے دوران دونوں ملکوں کی مذکورہ دونوں وزارتوں کے مابین ہاٹ لائن شروع کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔ اس کے ذریعے دونوں ملکوں کے مابین مستقل بنیادوں پر رابطہ قائم رہے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ دہشت گردی جیسے مسئلے سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔ دونوں ملکوں میں دہشت گردی کے سلسلے میں بھی بات چیت ہوئی اور پومپیو نے ہندوستان آمد سے قبل پاکستان کے دورے میں اُس پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی مخالف اقدامات تیز کرے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر کی امداد روک دی ہے۔ پومپیو دہلی سے پہلے اسلام آباد گئے تھے جہاں انہوں نے دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا تھا۔

سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ قدم ہندوستان کے لیے بہت اچھا ہے۔ کنگز کالج لندن میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے پروفیسر ہرش وردھن پنت بھی اسے ہندوستان کے لیے ایک درست اشارہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پومپیو کے دورے اور پاکستان کی امداد روکنے سے جو پیغام ملا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں نئی حکومت قائم ہونے کے بعد بھی امریکہ نے پاکستان کو شک کا فائدہ نہیں دیا کہ دیکھیں یہ نئی حکومت کیا کرتی ہے، پھر آگے دیکھیں گے۔ ہندوستان کے لیے اچھا پیغام یہ ہے امریکہ کی پالیسی میں تسلسل جاری ہے۔ ادھر اور سیز ریسرچ فاؤنڈیشن کے ایک سینئر فیلو اور تجزیہ کار ابھیجنان راج کہتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا دباؤ بڑھانے کا نتیجہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے نظر آنے والی کارروائیوں کی صورت میں نکلے گا یا وہ اس سلسلے میں صرف باتیں ہی کرے گا۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ ان مذاکرات سے ہندوستان کو فائدہ پہنچنے والا ہے۔

ہندوستان کی پالیسی یہ ہے کہ وہ نہ تو کسی دوسرے ملک کے اندرونی امور میں مداخلت کرتا ہے اور نہ ہی اپنے امور میں کسی کو مداخلت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کی پالیسی قومی مفادات کے تحت طے ہوتی ہے اور اس حکومت میں اس پالیسی پر زیادہ شدت سے عمل ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان جہاں فلسطینی کاز کا حامی ہے وہیں وہ اسرائیل سے بھی اپنے رشتے بہتر چاہتا ہے۔ یہی صورت حال ایران کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کی بھی ہے۔ اس کے رشتے جہاں امریکہ سے ہیں، روس سے ہیں، چین سے ہیں وہیں ایران سے بھی ہیں۔ ایران ہندوستان کو خام تیل فراہم کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو اس معاہدے سے نکال دیا ہے جو پانچ بڑے ملکوں اور ایران کے درمیان ہوا تھا اور جس کے بعد ایران پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔ حالانکہ باقی ممالک اب بھی اس معاہدے کے ساتھ ہیں۔ لیکن امریکہ نے اب ایران پر نئی پابندیاں عاید کر دی ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ دوسرے ممالک بھی ایران سے اپنا رشتہ منقطع کر لیں۔ اس نے تمام ملکوں سے کہا ہے کہ وہ چار نومبر تک ایران سے اقتصادی رشتے ختم کر دیں۔ اس نے ہندوستان سے بھی کہا ہے کہ وہ اس مدت کے اندر ایران سے تیل خریدنا بند کر دے۔ لیکن جیسا کہ بتایا گیا کہ ہندوستان کی پالیسی کسی ملک کی ہدایت پر نہیں چلتی نہ ہی وہ کسی سے ڈکٹیشن لیتا ہے۔

اسی لیے جب دونوں امریکی وزرا سے ہندوستانی وزرا کے مذاکرات ہوئے تو ہندوستان نے دو ٹوک لفظوں میں کہہ دیا کہ ایران سے تیل خریدنے کا معاملہ اس کا اپنا ہے اور اس میں امریکہ کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم توانائی پر منحصر ہیں اور اگر ہم ایران سے تیل خریدنے میں بڑی تخفیف کرتے ہیں تو ہماری معیشت پر اس کا برا اثر پڑے گا۔ سشما سوراج نے کھل کر کہا کہ آپ کی پالیسیوں کی وجہ سے ہماری معیشت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بھی اس کا کھل کر جواب دیا اور کہا کہ ہم آپ کے مسئلے کو سمجھتے ہیں۔ یہ ہماری پالیسی ہے۔ لیکن ہم قطعاً نہیں چاہیں گے کہ ہماری اس پالیسی سے آپ کی معیشت پر کوئی اثر پڑے۔ پومپیو نے بعض ممالک کو اس بارے میں چھوٹ دینے کا بھی اشارہ دیا۔ یعنی کچھ ممالک ایران کے ساتھ اپنے تجارتی روابط رکھ سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ جہاں ضروری ہے وہاں ہم استثنیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن ہم توقع کرتے ہیں کہ ہر ملک ایرانی تیل کی خریداری کو تبدریج صفر کر دے گا۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے تمام تر دباؤ کے باوجود ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے ایران سے تیل کی خریداری کو بند کرنا ممکن نہیں ہے۔ در اصل ہندوستان ایران میں چاہ بہار کی بندرگاہ پر وسطی ایشیا کے ملکوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں بھاری سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔ ایسے میں یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری پوری طرح بند کر دے۔ اس طرح ہندوستان نے امریکہ کے دباؤ میں آنے سے انکار کیا ہے۔

ہندوستان اور امریکہ کے مابین باہمی مذاکرات کے پچاس میکینزم قائم ہیں اور موجودہ مذاکرات اعلی سطی چوٹی کانفرنس کے بعد دوسرے بڑے مذاکرات تھے۔ ان مذاکرات سے صرف ہندوستان کو ہی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ امریکہ کو بھی ہوگا۔ جہاں ہندوستان کو اس سے ہتھیاروں کی کھیپ حاصل ہوگی وہیں وہ ہندوستان کے فوجی ٹھکانوں کو کسی حد تک استعمال کر سکے گا۔ در اصل اس خطے میں چین کی بڑھتی طاقت ہندوستان کے لیے بھی باعث تشویش ہے اور امریکہ کے لیے بھی۔ چین کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہے۔ وہ چین پاکستان تجارتی راہداری بنا رہا ہے۔ اس نے ون بیلٹ ون روڈ کا بھی ایک بڑا پروجکٹ شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد اس خطے پر اپنی بالادستی قائم کرنا ہے۔ ہندوستان اس صورت حال سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ اپنے اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کی خاطر چین کے کئی پروجکٹوں سے الگ ہے۔ وہ تجارتی راہداری کی مخالفت کرتا ہے۔ کیونکہ وہ مقبوضہ کشمیرسے ہو کر گزرتی ہے جسے ہندوستان اپنا حصہ سمجھتا ہے۔ اس نے ون بیلٹ ون روڈ پروجکٹ میں بھی شرکت نہیں کی ہے۔ امریکہ بھی چین کے بڑھتے اثرات سے فکرمند ہے۔ اسی لیے وہ ہندوستان کی طرف زیادہ فراخ دلی کے ساتھ دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھاتا رہا ہے۔ لیکن بہر حال امریکہ اور ہندوستان کے بڑھتے رشتے جہاں امریکہ کے لیے سود مند ہیں وہیں ہندوستان کے لیے بھی ہیں۔ ہندوستان نہ تو کسی کے معاملے میں مداخلت کرتا ہے اور نہ ہی اپنے معاملے میں کسی کی مداخلت پسند کرتا ہے۔ اس کو اپنی علاقائی سا لمیت کا تحفظ کرنا ہے اور وہ جو کچھ کر رہا ہے اسی کی خاطر کر رہا ہے۔ ہندوستان اور امریکہ کے مابین تازہ مذاکرات اس کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: India us and 22 dialogue in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply