ہند پاک تعلقات میں خوشگوار موڑ

سہیل انجم

ہند پاک تعلقات نشیب و فراز سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ تعلقات ایک ایسی وادی کی شکل میں ہیں جہاں مسطح یا سمتل زمین بھی ہے اور گڈھے اور کھائیاں بھی ہیں۔ جہاں دوستی اور خیرسگالی کے پھول بھی کھلے ہوئے ہیں اور دشمنی و منافرت کے خاردار درخت بھی ہیں۔ جہاں کبھی حبس کا عالم رہتا ہے تو اچانک ایسی فرحت بخش ہوائیں چلنے لگتی ہیں جو موسم بہار کی نقیب بن جاتی ہیں۔ اس وادی پر بے یقینی کے بادل بھی چھائے رہتے ہیں۔ لیکن وہ ایسے بادل ہیں جو ذرا سی تیز ہوا چلتے ہی اڑنے لگتے ہیں۔ ایسے ہیں یہ دونوں پڑوسی اور ایسے ہیں ان کے رشتے۔ اس لیے ان دونوں کے بارے میں بڑا سے بڑا سیاسی پنڈت بھی کوئی پیشین گوئی نہیں کر سکتا۔

اب یہی دیکھیے کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی ایک گیند پر ان کے پاکستانی ہم منصب عمران خان نے ایسا چ شاٹ کھیلاجس نے پورے ماحول کو امید و یقین میں بدل دیا۔ اگر ہم ہندوستان و پاکستان کو کھیل کا میدان اور دونوں وزرائے اعظم کو کھلاڑی مان لیں تو بات واض©ح انداز میں سمجھ میں آجائے گی۔ جب پاکستان میں عام انتخابات ہوئے اور عمران خان کو اپنی ٹیم کا کپتان چن لیا گیا تو ہندوستانی ٹیم کے کپتان نریندر مودی نے ایک مکتوب کی شکل میں دوستی کی گیند پھینکی اور اس پرعمران کے بہت سوجھ بوجھ کے ساتھ کھیلے گئے شاٹ سے امید کی ایک کرن نمودار ہوگئی ۔کیونکہ ان کا یہ شاٹ معاندانہ یا دشمنانہ نہیں بلکہ”فرینڈلی شاٹ“ تھا۔ اس شاٹ سے ہندوستانی خیمے میں بھی جوش پیدا ہو گیا اور وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ایک بہترین مبصر کی طرح کمنٹری روم میں آکر ہندوستانی ٹیم کے بھی نیک ارادوں سے پوری دنیا کو آگاہ کر دیا۔
دراصل جب عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے تو اسی وقت امید و یقین کا ایک دیا روشن ہو گیا تھا۔ ہم نے اس سے قبل اپنے کالم میں لکھا تھا کہ عمران خان بنیادی طور پر سیاست داں نہیں ہیں۔ وہ پہلے ایک کھلاڑی تھے اور بعد میں ایک انسانی و فلاحی کارکن بن گئے۔ ملک کے حالات نے ان کو ایک سیاسی جماعت تشکیل دینے پر مجبور کیا اور اس طرح وہ وزیر اعظم کے عہدے پر متمکن ہو گئے۔ اسی لیے یہ امید تھی کہ وہ سیاست دانوں کی مانند نہیں بلکہ ایک کھلاڑی کی مانند سوچیں گے اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کریں گے۔ جب وزیر اعظم مودی نے ایک خط لکھ کر ان کو مبارکباد کا پیغام دیا تو انھوں نے اس کے جواب میں دونوں ملکوں کے رشتوں کو سدھارنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ 14 ستمبر کو لکھے گئے اس خط میں انھوں نے جہاں دوطرفہ مذاکرات کے آغاز کی اپیل کی وہیں یہ تجویز بھی رکھی کہ رواں ماہ کے اواخر میں نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ سشما سوراج اور شاہ محمود قریشی کی ملاقات ہونی چاہیے۔ لیکن ان کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ ہندوستان نے مذاکرات کے تعلق سے ایک ٹھوس موقف اختیار کر رکھا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔ اس لیے انھوں نے جہاں مسئلہ کشمیر کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا وہیں دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرنے کی بھی پیشکش کی۔

اس خط کا انکشاف بڑے ڈرامائی انداز میں ہوا۔ 20 ستمبر کی صبح نو دس بجے کے آس پاس بعض نیوز ویب سائٹوں پر عمران خان کے اس خط کا ذکر تھا اور سرکاری ذرائع کے حوالے سے اس کی ہلکی سی تفصیل بھی پیش کی گئی تھی۔ دو تین گھنٹے کے اندر اندر دیگر متعدد ویب سائٹوں پر بھی وہ خبر نظر آنے لگی۔ نیوز چینلوں پر بھی اسے ایک اہم واقعہ کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ پھر تو یہ خبر ایک بریکنگ نیوز کی مانند دونوں ملکوں کے میڈیا میں چھا گئی۔ اس کے بعد نئی دہلی کے حکومتی حلقوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ تمام میڈیا اداروں کے فون اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے موبائیل بجنے لگے۔ عجلت میں ایک پریس کانفرنس بلائی گئی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اس کا اعلان کیا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نیو یارک میں ملاقات کریں گے۔ لیکن چونکہ حالات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی ہے اس لیے انھوں نے بتایا کہ یہ صرف ملاقات ہے، اسے مذاکرات سمجھنے کی خوش فہمی نہ پالی جائے۔ اس کا کوئی ایجنڈا بھی ابھی طے نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی اور سرحد پار کی دہشت گردی کے تعلق سے ہندوستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور یہ کہ پاکستان میں سارک سربراہ کانفرنس کے انعقاد کے لیے ابھی ماحول سازگار نہیں ہے۔ یہ پریس کانفرنس دونوں ملکوں میں لائیو یعنی براہ راست دکھائی گئی۔
2015 میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ سشما سوراج اور سرتاج عزیز کے مابین ملاقات ہوئی تھی۔ دونوں نے طے کیا تھا کہ دوطرفہ مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔ اسی درمیان وزیر اعظم مودی افغانستان سے آتے ہوئے چانک لاہور میں رک گئے۔ انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ ایسا لگا کہ اب دونوں ملکوں میں دوستانہ تعلقات پروان چڑھنے لگیں گے۔ لیکن دہشت گردوں کو یہ باتیں راس نہیں آئیں۔ لہٰذا انھوں نے پٹھان کوٹ میں ہندوستانی فضائیہ کے ٹھکانے پر حملہ کر دیا۔ لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں اجیت ڈوبھال اور ناصر خان جنجوعہ کے مابین درپردہ بات چیت ہوتی رہی جسے سیاسی و سفارتی زبان میں بیک چینل ڈپلومیسی کہتے ہیں۔ لیکن اس بار ایسا لگا کہ پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں کو یہ بات گراں گزر گئی۔ انھوں نے ہندوستانی بحریہ کے ایک سابق افسر کل بھوشن جادھو کو مارچ اپریل 2016 میں دہشت گردی اور جاسوسی کے الزام میں پکڑ لیا۔ حالانکہ بحریہ سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ تجارت کرنے لگے تھے۔ جس وقت انھیں پکڑا گیا وہ ایران کے دورے پر تجارتی مقاصد کے تحت گئے تھے۔ اس قدم نے دونوں ملکوں کے سدھرتے رشتوں کو ایک بار پھر نفرت و کشیدگی کی قربان گاہ پر قربان کر دیا۔ اس کے بعد پھر کیا ہوا۔ ستمبر 2016 میں اڑی کے فوجی ٹھکانے پر دہشت گردانہ حملہ ہو گیا جس میں متعدد ہندوستانی فوجی ہلاک ہوئے۔ ہندوستان کو ان کارروائیوں کا جواب دینا تھا۔ لہٰذا ہندوستانی فوج نے پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں واقع دہشت گردوں کے کیمپوں پر سرجیکل اسٹرائک کی اور ان کے کئی ٹھکانوں کو تباہ و برباد کر دیا۔ حالانکہ پاکستان اب بھی سرجیکل اسٹرائک کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ جبکہ ہندوستان کی جانب سے ایسی بے شمار تفصیلات پیش کی جا چکی ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ سرجیکل اسٹرائک ہوئی اور اس سے پاکستان کو کتنا نقصان پہنچا۔

بہر حال اگر پاکستان کے نئے وزیر اعظم حالات کو بہتر بنانے کے خواہش مند ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ مذاکرات کرنے کی ان کی پہلی باضابطہ پہل پر ہندوستان نے مثبت پیش رفت کی ہے۔ حالانکہ اس نے بہت ہی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملاقات کو صرف ملاقات تک محدود رکھا ہے۔ یوں بھی عمران خان کے ایک خط پر کوئی بہت بڑا قدم نہیں اٹھایا جا سکتا تھا۔ جب تک حالات میں بنیادی تبدیلی نہ آئے تب تک کوئی بڑا قدم اٹھانے کی گنجائش بھی نہیں ہے۔ ابھی ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ عمران کی اس پہل اور ہندوستان کے جواب کو وہاں کے شدت پسند کس طرح لیتے ہیں۔ اگر انھوں نے بھی اس کا خیرمقدم کیا تو یہ ایک اچھی بات ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ پاکستانی فوج کے رویے میں کوئی تبدیلی آتی ہے یا نہیں۔ جب تک اس کی سوچ نہیں بدلے گی کوئی بھی پہل کامیاب نہیں ہوگی۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں بہت دورازکار لگتی ہیں۔ لیکن امید کے چراغ جلانے میں کوئی برائی نہیں ہے۔

عمران خان کی پہل نے دونوں ملکوں میں جو خوشگوار ماحول پیدا کر دیا ہے، دعا ہے کہ وہ قائم رہے اور یہ ماحول دونوں ملکوں کو دوستی و خیرسگالی کی راہ پر ڈال دے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: India says yes to imran khans request in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply