سعودی ولی عہد ایم بی ایس کا دورہ ہند

سہیل انجم

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا پاکستان و ہندوستان کا دورہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ اسی درمیان جموں و کشمیر میں پلوامہ کے قریب ایک خوفناک دہشت گردانہ حملہ ہوا جس میں سی آر پی ایف کے 40 سے زائد جوان شہید ہو گئے۔ پاکستان سے سرگرم کالعدم گروپ جیش محمد نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ اس حملے میں کشمیر کے نوجوان عادل احمد ڈار کا ایک ویڈیو جاری کیا گیا جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ہندوستان پر ایک خوفناک حملہ کرنے جا رہا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ایک سال قبل وہ جیش محمد میں شامل ہوا تھا۔ حملے کے بعد دونوں پڑوسی ملکوں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں زبردست اضافہ ہوا۔ ہندوستان میں بجا طور پر پاکستان کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا گیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ حملے کے ذمے داروں کے خلاف اور پاکستان کے خلاف بھی کیونکہ جیش محمد پاکستان ہی سے سرگرم ہے، سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بارے میں مسلح افواج ممکنہ متبادلوں پر غور کر رہی ہیں۔ وہ اپنی تجویز حکومت کو پیش کریں گی اور حکومت اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ بہر حال کوئی نہ کوئی کارروائی تو کی ہی جائے گی خواہ سابقہ سرجیکل اسٹرائک کی مانند ہو یا اس سے مختلف۔

اسی درمیان ہندوستان نے پاکستان کو عالی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ متعدد ملکوں کے سفیروں سے وزارت خارجہ کہ اعلیٰ اہلکاروں نے ملاقات کرکے انھیں صورت حال سے واقف کیا ہے۔ ہندوستان کی جانب سے تین متبادلوں پر کارروائی چل رہی ہے۔ سب سے پہلے سفارتی محاذ پر اقدامات کیے گئے جو اب بھی جاری ہیں۔ اس کے بعد اقتصادی محاذ پر کارروائی کی گئی جس کے تحت پاکستان کو دیا جانے والا انتہائی مراعات یافتہ تجارتی ملک کا درجہ واپس لے لیا گیا ہے اور ہندوستان سے پاکستان برآمد کی جانے والے اشیا پر دو سو فیصد محصول لگا دیا گیا ہے۔ پاکستان کی وزارت تجارت کے مطابق اس سے پاکستان کوایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوگا۔اسی درمیان ہندوستان نے دریائے راوی، ستلج اور بیاس کا پانی پاکستان جانے سے روک دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے لیے تین منصوبے شروع کیے جارہے ہیں۔ ان دریاؤں کا پانی روک کر دریائے جمنا کی طرف منتقل کیا جائے گا۔1960ءمیں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت ہندوستان اور پاکستان کا تین تین دریاؤں کے پانی پر حق تسلیم کیا گیا تھا۔ اس کے تحت ہندوستان راوی، ستلج اور بیاس کا سارا پانی استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن اب تک ایسا نہیں کیا جا رہا تھا اور تینوں دریاؤں کا پانی پاکستان جاتا رہا ہے۔

ادھر حملے کے بعد ہندوستان کی سفارتی کوششیں کامیابی کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ پوری دنیا میں پلوامہ حملے کی مذمت کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیو گوتریس نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام ممبران نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک ہولناک حملہ قرار دیا ہے۔ ہندوستان حملے کے ذمے دار جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت قرار دلوانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس نے یہ کوشش ایک بار پھر تیز کر دی ہے۔ اس کی اس کوشش کو چین ناکام بناتا رہا ہے۔ لیکن اب اس نے کہا ہے کہ اس معاملے پر وہ ہندوستان اور پاکستان کے رابطے میں ہے۔ ان تمام کوششوں کے ساتھ ساتھ عالمی رہنماؤں کی جانب سے یہ کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ حملے کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی کو کم کروایا جائے اور جنگ کی نوبت نہ آنے دی جائے۔ اسی لیے گوتریس نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ وہ باہمی طور پر اس مسئلے کو حل کریں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے طے شدہ دورے سے قبل یہ حملہ ہوا۔ اس کے بعد یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ان کا دورہ ملتوی ہو جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تاہم پاکستان کا ان کا دورہ ایک روز کے لیے ملتوی کیا گیا۔ انھوں نے پاکستان میں دوروز قیام کیا اور وہاں بیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ انھوں نے پاکستان کو سعودی عرب کا ایک قریبی دوست قرار دیا۔ ان کو پاکستان سے براہ راست ہندوستان آنا تھا لیکن اس حملے کی وجہ سے ہندوستان نے اسے پسند نہیں کیا لہٰذا محمد بن سلمان نے ہندوستان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے پاکستان سے ریاض جانا مناسب خیال کیا۔ انھوں نے ریاض میں ایک شب قیام کرنے کے بعد ہندوستان آنے کو ترجیح دی۔ یہاں ان کا شاندار خیرمقدم کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی نے پروٹوکول توڑ کر ائیرپورٹ جا کر اور گلے لگا کر ان کا خیر مقدم کیا۔ محمد بن سلمان نے جن کو ان کے نام کے مخفف کے طور پر ایم بی ایس بھی کہا جاتا ہے وزیر اعظم مودی کے ساتھ وفود سطح کے مذاکرات کیے اور دونوں ملکوں کے باہمی رشتوں کو مزید بلندیوں پر لے جانے کے لیے گفتگو کی گئی اور کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے مابین مختلف شعبوں میں پانچ معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔

مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ ایم بی ایس نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب دہشت گردی مخالف جنگ میں ہندوستان کے ساتھ ہے اور خفیہ معلومات کی فراہمی سمیت ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے ہندوستان میں 100 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی خواہش بھی ظاہر کی۔ بعد میں وزارت خارجہ کی جانب سے ایک تفصیلی بیان جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ مودی اور ایم بی ایس نے پلوامہ حملے کے لیے پاکستان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ولی عہد نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کو دونوں ملکوں کی مشترکہ تشویش قرار دیا۔ انھوں نے تمام ملکوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے استعمال کو خارج کر دیں اور دہشت گردی کے کیمپوں کا خاتمہ کرکے ان کو کسی بھی قسم کی مدد و اعانت کا سلسلہ بند کریں۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے اور انھیں انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقوام متحدہ کی قراردوں کی روشنی میں کارروائی کی جائے۔ اس بیان سے یہ بات واضح ہے کہ اس سے پاکستان کو ایک سخت پیغام دیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی اعانت بند کرے۔ ان کے کیمپوں کا خاتمہ کرے اور ان کو انصاف کے کٹہرے تک لائے۔ یہ بیان بھی پاکستان کو ایک پیغام ہے کہ دہشت گردی کو کسی دوسرے ملک کے خلاف ایک پالیسی کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ خیال رہے کہ پاکستان ایک عرصے سے دہشت گردی کو ہندوستان کے خلاف اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنائے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان گروپوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا جو ہندوستان کے خلاف وارداتیں انجام دیتے ہیں۔

مذاکرات کے دوران دونوں ملکوں میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کے سلسلے میں متعدد اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ 2016 میں جب وزیر اعظم مودی نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اس کے بعد سے دونوں ملکوں کی باہمی تجارت کا حجم بہت زیادہ بڑھا ہے اور اسے مزید بڑھانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ جو معاہدے ہوئے ہیں ان کا مقصد بھی باہمی تجارت کو آگے بڑھانا ہے۔ سعودی عرب نے اپنی جیلوں میں بند ہندوستانی شہریوں کو رہا کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس کے علاوہ ایک اور بہت اچھا فیصلہ ہوا ہے۔ یعنی حج کوٹے میں اضافہ۔ گزشتہ سال ہندوستان کا حج کوٹہ پونے دو لاکھ تھا جو اب بڑھا کر دو لاکھ کر دیا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے لیے بہت اہم ہیں۔ ہندوستان سب سے زیادہ تیل سعودی عرب سے ہی خریدتا ہے۔ تیس لاکھ ہندوستانی باشندے سعودی عرب میں کام اور ملازمت کرتے ہیں۔ وہ ایک بڑی رقم ہر سال زر مبادلہ کے طور پر ہندوستان بھیجتے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے جہاں یمن میں جاری جنگ اور ایران سے خراب تعلقات کی وجہ سے پاکستان سے بہتر تعلقات کی ضرورت ہے تو وہیں عالمی صورت حال کے پیش نظر ہندوستان سے بھی اچھے اور دوستانہ رشتے رکھنے کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر ہندوستان کی اہمیت کے پیش نظر وہ اسے نظرانداز نہیں کر سکتا۔ یوں بھی دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی ہیں بلکہ تاریخ کے آغاز سے پہلے سے ہی ان میں دوستی رہی ہے۔ اس کا ذکر خود ولی عہد نے بھی کیا تھا۔

اس طرح اگر ہم گہرائی میں جا کر حملے کے بعد ولی عہد کے دورے کا جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ان کا دورہ ہند انتہائی کامیاب رہا اور ہندوستان کے نقطہ نظر سے بھی زبردست کامیاب رہا۔ سعودی عرب نے دہشت گردی کے معاملے پر کھل کر ہندوستان کا ساتھ دیا اور پاکستان کو دہشت گردی مخالف کارروائی کا پیغام دیا۔ اس پیغام میں یہ بات بھی پوشیدہ ہے کہ جو ممالک دہشت گردی کی اعانت کرتے ہیں وہ خسارے میں رہیں گے۔ دہشت گردی کے علاوہ تجارتی و سیاسی رشتوں کو نئی بلندیاں ملی ہیں۔ سعودی عرب نے اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں ہندوستان کی خدمات کو سراہا ہے اور ہندوستانی باشندوں کے تعاون کا اعتراف کیا ہے۔مجموعی طور پر ہندوستان پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کو یکہ و تنہا کرنے کی اپنی کوششوں اور دہشت گردی مخالف جنگ کو تیز کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوا ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: India saudi arabia boost ties with mbs visit in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.