ہند پاک کشیدگی کسی کے حق میں نہیں!

سہیل انجم

اب بھی بر صغیر پر جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اگر چہ پلوامہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کی فضائیہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں اور ہندوستان کے ایک فوجی پائلٹ کے پاکستان میں پکڑے جانے اور ا س کے ہندوستان واپس آجانے سے ایک مرحلہ تو ختم ہو گیا ہے لیکن دہشت گردی مخالف لڑائی جاری ہے۔ ہندوستانی پائلٹ ابھینندن کے واپس آجانے سے معاملہ فرو نہیں ہوا بلکہ وہ جوں کا توں ہے۔ ابھینندن کا معاملہ تو درمیان میں آگیا تھا ورنہ ایسا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جیش محمد کے دہشت گردوں کا سی آر پی ایف کے قافلے پر کیا جانے والا خود کش حملہ انتہائی خوفناک تھا اور اس کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی تھی اور اب بھی کی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے اس کا انتقام لینے کا اعلان کیا تھا اور اس نے 26 فروری کو انتقام لے لیا۔ اس کے متعدد میراج 2000 طیاروں نے خیبرپختونخوا کے بالاکوٹ میں واقع جیش محمد کے تربیتی کیمپ کو تباہ کر دیا ہے جس میں میڈیا رپورٹوں کے مطابق کم از کم تین سو دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ اس کے بعد پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کی اور اس کے ہندوستان کے مطابق 24 طیاروں نے ہندوستانی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ لیکن چونکہ ہندوستانی افواج تیار تھیں اس لیے وہ اپنے نشانے پر مار کرنے میں ناکام رہے۔ ہندوستان کے مگ 21 طیاروں نے ان کے طیاروں کا پیچھا کیا اور ایک ایف 16 طیارہ مار گرایا۔ حالانکہ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے کہ اس نے ایف 16 طیارہ استعمال کیا تھا لیکن ہندوستانی افواج کے افسران نے ایمرام میزائل کے ٹکڑے دکھا کر ثابت کیا ہے کہ پاکستان نے ایف 16استعمال کیا تھا کیونکہ بقول فوجی افسران مذکورہ میزائل صرف پاکستان استعمال کرتا ہے اور وہ ایف 16 پر ہی نصب کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہندوستانی حکومت نے اس سلسلے میں امریکہ کو بھی باخبر کر دیا ہے اور وہ مزید تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ در اصل ایف 16طیارے کا استعمال امریکہ کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پاکستان نے اس کا استعمال کیا ہے جیسا کہ ہندوستانی افسران کہہ رہے ہیں تو اس سے پاکستان کو عالمی فورم پر بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پائلٹ ابھینندن کے بارے میں جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں ان سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ وہ ایک پیشہ ور فوجی ہیں اور ایک بہادر انسان بھی ہیں۔ جب ان کا جہاز پاکستانی علاقے میں گرا تو وہاں کے مقامی لوگوں نے انھیں پکڑ لیا۔ انھوں نے اپنے پستول سے ہوائی فائرنگ کرکے ان کو ڈرانے کی کوشش کی لیکن انھوں نے ان کو دوڑا لیا۔ پھر وہ ایک تالاب میں کود گئے اور جیب سے نقشے اور دیگر کاغذات نکال کر کچھ کو نگل جانے کی کوشش کی اور باقی پانی میں ضائع کر دیا۔ اتنے میں وہاں پاکستانی فوج کے جوان آگئے اور انھوں نے انھیں پکڑ لیا۔ پاکستانیوں نے ان سے بہت کچھ جاننے کی کوشش کی لیکن انھوں نے یہ کہتے ہوئے کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا کہ وہ اس کے پابند نہیں ہیں۔ اب ہندوستان آنے کے بعد انھوں نے بتایا کہ انھیں جسمانی طور پر تو کوئی تکلیف نہیں دی گئی لیکن ذہنی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا ایک فوجی اسپتال میں علاج اور جانچ چل رہی ہے۔ یہ بھی جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ پاکستانی فوجیوں نے ان کے جسم میں کہیں کوئیBUG تو نہیں لگا دیا یعنی کوئی ایسا آلہ تو نہیں فٹ کر دیا جو ان کی سرگرمیوں اور حرکتوں سے پاکستانی افواج کو باخبر کرتا رہے۔ ان سے یہ بھی پوچھ تاچھ کی جائے گی کہ پاکستان میں ان سے کیا کیاجاننے کی کوشش کی گئی اور انھوں نے کیا کیا بتایا۔ ان کے والد بھی ایک فوجی تھے اور اتفاق سے وہ بھی یہی جہاز یعنی مگ 21 آراتے تھے جو کہ ابھینندن اڑا رہے تھے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا انھیں رہا کر دینا ایک بہت بڑی بات ہے اور اس طرح انھوں نے اس کشیدگی کو ختم کر دیا ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہو گئی تھی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے پس پردہ عالمی دباؤ تھا۔ امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی کوششیں تھیں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک نہیں چاہتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کی نوبت آجائے۔ کیونکہ اگر جنگ شروع ہو جاتی تو عمران خان کے مطابق وہ نہ تو عمران کے ہاتھوں میں رہتی اور نہ ہی نریندر مودی کے۔ جنگ جب شروع ہو جاتی ہے تو وہ اپنا راستہ خود بناتی ہے اور کہاں جا کر ختم ہوگی اس کے بارے میں کوئی بھی اندازہ نہیں کر سکتا خود جنگ شروع کرنے والے بھی نہیں۔ جنگ سے تباہی وبربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ انسانیت کے لیے سب سے بڑا زخم جنگ ہی ہے۔ اسی لیے کوئی بھی ملک نہیں چاہتا تھا کہ دونوں میں جنگ ہو جائے۔ البتہ ہندوستان کے نیوز چینل یہ ضرور چاہتے تھے۔ انھوں نے جنگی جنون پیدا کرنے کی کوشش کی اور عوام کے درمیان غصہ اور ناراضگی کو جنم دینے کی کوشش کی۔ حالانکہ اس صورت حال سے حکومت خود پریشان تھی۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے کئی روز قبل ایڈوائزری جاری کرکے ہدایت دی تھی کہ رپورٹنگ میں تمام صحافتی ضابطوں کی پابندی کی جائے اور اشتعال انگیز زبان استعمال نہ کی جائے لیکن اس کے باوجود نیوز چینلوں پر ان دنوں میں جنگ جاری رہی۔ حد تو تب ہو گئی جب ایک اینکر فوجی وردی میں آگیا اور ایک کھلولنہ پستول کے ساتھ رپورٹنگ کرنے لگا۔ ملک کے سنجیدہ طبقات نے میڈیا کے اس رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس سے خود احتسابی کی اپیل کی ہے۔

لیکن ان تمام تفصیلات کے باوجود دہشت گردی مخالف ہندوستان کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر ان کے ملک میں ہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بہت بیمار ہیں اور چلنے پھرنے سے معذور ہیں۔ لیکن یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہاں کی حکومت ان سے رابطہ میں ہیں۔ ہندوستان کی جانب سے انھیں اقوام متحدہ کے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب تک اس کی کوششوں کو چین ویٹو کرتا رہا ہے۔ لیکن اب کئی ملکوں نے اس کوشش کی حمایت کی ہے۔ امید ہے کہ اس بارے میں ہندوستان کو جلد ہی کامیابی ملے گی۔ دہشت گردی کی فہرست میں ان کے نام کی شمولیت سے ان کو حاصل ہونے والی فنڈنگ کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ دریں اثنا وزیر خارجہ سشما سوراج نے ابو ظہبی میں اسلامی تعاون تنظیم کے ایک اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف زبردست تقریر کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی مخالف جنگ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ امید ہے کہ ان کی اس تقریر کا عالمی سطح پر اثر ضرور پڑے گا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: India pakistan tension should end soon in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.