فلسطین کے حق میں ہندوستان کا ووٹ

(سہیل انجم)
ہندوستان ہمیشہ فلسطین کا دوست رہا ہے۔ اس نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی کھل کر حمایت کی ہے۔ فلسطین کے مقبول رہنما یاسر عرفات اور ہندوستان کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی میں بھائی بہن جیسا رشتہ تھا۔ یاسر عرفات کہا کرتے تھے کہ میں ہندوستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب بھی یہاں آتے تو کئی کئی روز تک رہ جاتے تھے۔ ہندوستان کی یہ پالیسی آزادی کے بعد سے ہی رہی ہے۔ اس نے کبھی بھی صہیونی مملکت اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی حمایت نہیں کی۔ لیکن سابق وزیر اعظم نرسمہا راو¿ کے دور حکومت میں یہاں کی فلسطین اسرائیل پالیسی میں تبدیلی آنی شروع ہوئی۔ دونوں میں قربت بڑھنے لگی۔ ہندوستان نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیا اور اس سے سفارتی رشتے قائم کر لیے۔ واجپئی کی این ڈی اے حکومت میں دونوں ملکوں میں مزید قربت پیدا ہو گئی اور یہ قربت رفتہ رفتہ بڑھتی ہی گئی۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد تو دونوں ملکوں میں دوستانہ مراسم اور گہرے ہو گئے۔ ہندوستان اسرائیل سے پہلے بھی ہتھیار خریدتا رہا ہے۔ اب اس میں اور تیزی آگئی ہے۔ اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم نیتن یاہو اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی میں بھی دوستی کی حد تک قریبی تعلقات ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے جب پچھلے دنوں اسرائیل کا دورہ کیا تو وہ فلسطین نہیں گئے۔ حالانکہ ہندوستان کی یہ دیرینہ پالیسی رہی ہے کہ جب کوئی بھی ہندوستانی رہنما اسرائیل جاتا تھا تو وہ فلسطین بھی جاتا تھا۔ مودی کے دورے سے قبل سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے دونوں جگہوں کا دورہ کیا تھا۔ لیکن مودی کے فلسطین نہ جانے سے ہندوستان کی فلسطینی پالیسی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے اور یہ کہا جانے لگا کہ وہ اسرائیل کے اتنا قریب ہو گیا ہے کہ اس کی فلسطین پالیسی متاثر ہو گئی ہے اور وہ اب فلسطین کا اس طرح حامی نہیں رہا ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے اور وہ مذاکرات کی مدد سے اس مسئلے کے حل کا خواہاں ہے اور یہ کہ وہ دو مملکتی حل کے حق میں ہے۔
امریکہ کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقی یروشلم یا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اپنے انتخابی وعدے پر عمل کرنے کے بعد پوری دنیا میں احتجاج کی ایک نئی لہر شروع ہو گئی۔ نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ بہت سے مغربی ممالک نے بھی اس اعلان کی شدید مخالفت کی۔ ہندوستان کی جانب سے اس طرح اس پر رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا جیسا کہ اس سے توقع تھی۔ لیکن اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دے کر، جس میں امریکہ کے فیصلے کی مخالفت کی گئی ہے اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا ہے، ہندوستان نے یہ ثابت کر دیا کہ فلسطین کے معاملے میں اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اقوام متحدہ کی امریکہ و اسرائیل مخالف قرارداد کے حق میں 128 اور اس کے خلاف 9 ووٹ پڑے جن میں دو ووٹ امریکہ اور اسرائیل کے بھی ہیں۔ 35 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس ووٹنگ سے قبل امریکہ نے قرارداد کی حمایت کرنے والوں کو دھمکی دی تھی کہ ان کو دی جانے والی مالی امداد بند کر دی جائے گی۔ نیتن یاہو نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور یہاں تک کہا تھا کہ اقوام متحدہ جھوٹوں کا گروہ اور ایک کٹھ پتلی ہے۔ اس کے باوجود قرارداد کے حق میں اور امریکی فیصلے کے خلاف بڑی تعداد میں ووٹ دیے گئے۔ ہندوستان کی جانب سے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کی بڑی اہمیت ہے۔ حالانکہ اس سے قبل وہ جولائی 2015 میں جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں اسرائیل کے خلاف ووٹ دینے سے گریز کرتے ہوئے ووٹنگ سے غیر حاضر ہو گیا تھا۔ اس لیے خیال کیا جا رہا تھا کہ اس مرتبہ بھی ہندوستان ووٹنگ سے غیر حاضر رہے گا۔ ایسا اس لیے بھی سوچا جا رہا تھا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم اگلے ماہ ہندوستان آنے والے ہیں۔ ادھر اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات روز بہ روز بڑھتے جا رہے ہیں۔ لیکن ہندوستان نے قرارداد کے حق میں یعنی فلسطین کی حمایت میں ووٹ دے کر یہ بتانے اور جتانے کی کوشش کی ہے کہ مذکورہ دونوں ملکوں سے اس کی بڑھتی قربت کے باوجود اس کی فلسطین پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ وزیر اعظم مودی کے دورہ اسرائیل میں فلسطین نہ جانے کے فیصلے کی روشنی میں بھی یہی سمجھا جا رہا تھا۔ ووٹنگ کے بعد حکومت کے ایک اہلکار نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پالیسی ہمارے اصولوں کی بنیاد پر ہے اور وہ ایک مستقل پالیسی ہے جو ایک عرصے سے چلی آرہی ہے۔ پہلے بھی ہندوستان فلسطین کے حق میں ووٹ دیتا رہا ہے۔
در اصل ہوا یوں کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور ہندوستان کی جانب سے وہ رد عمل سامنے نہیں آیا جس کی امید اس سے کی جا رہی تھی تو اسلامی ملکوں کے سفرا نے نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے دفتر جا کر وزیر مملکت برائے خارجہ ایم جے اکبر اور دوسرے اہلکاروں سے ملاقات کی اور ہندوستان کے بیان پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس وفد کی قیادت سعودی عرب کے سفیر برائے ہند سعود الفیصل الساطی نے کی تھی۔ وفد کے ممبران نے اس ملاقات میں کہا تھا کہ ہندوستان نے امریکی فیصلے کی مذمت نہیں کی جبکہ اسے مذمت کرنی چاہیے تھی۔ وفد نے ہندوستان سے اپیل کی تھی کہ وہ امریکی فیصلے کے خلاف سخت بیان دے اور اس کی مذمت کرے۔ اس وقت ہندوستان نے ان سفرا کے تشویشات کو دور کرنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ ہندوستان اپنی پالیسی اپنے اصولوں اور مفادات کی بنیاد پر بناتا ہے نہ کہ کسی تیسرے فریق کی ہدایت پر۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کی فلسطین پالیسی جوں کی توں ہے اور وہ مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کرنے کے حق میں ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ وہاں کوئی لڑائی جھگڑا ہو یا خون خرابہ ہو۔ وہ دو ریاستی حل کے حق میں ہے۔ یعنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین بھی ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے ابھرے۔
ہندوستان کے اس تازہ موقف کی روشنی میں یہ امید کی جانی چاہیے کہ وہ فلسطین کی اپنی دیرینہ پالیسی پر گامزن رہے گا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ اپنی دیرینہ فلسطین پالیسی کو خیرباد نہیں کہے گا کیونکہ اس کو جہاں اسرائیل اور امریکہ سے اپنے دوستانہ تعلقات قائم رکھنے ہیں وہیں اس کو عالم عرب اور مسلم دنیا سے بھی اپنے رشتے خراب نہیں کرنے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہندوستان کا تازہ موقف عرب سفرا کی ہندوستانی اہلکاروں سے ملاقات کا نتیجہ ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کا بھی مطلب یہی ہوا کہ ہندوستان اپنے عرب دوستوں کو بھی ناراض کرنا نہیں چاہتا اور امریکہ و اسرائیل کو بھی نہیں۔ گویا وہ ایک متوازن پالیسی لے کر چل رہا ہے۔ اسے کسی تیسرے فریق کی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ اپنے مفادات کی بنیاد پر پالیسی مرتب کرتا ہے جیسا کہ دوسرے تمام مالک کرتے ہیں۔ بہر حال یہ امید رکھنی چاہیے کہ ہندوستان فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھے گا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: india no change in stand on palestine issue | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )

Leave a Reply