عمران خان کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت

سہیل انجم
جب سے ہندوستان نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی ہے پاکستان میں زبردست واویلہ ہے۔ اس واویلہ کی قیادت کوئی اور نہیں بلکہ خود وزیر اعظم عمران خان کر رہے ہیں۔ انھوں نے پاکستان کے یوم آزادی پر یعنی 14 اگست کو پاکستان کے قبضے والے کشمیر کے دار الحکومت مظفرآباد پہنچ کر ہندوستان کو خوب کوسا۔ ہندوستانی وزیر اعظم کو اپنی شدید تنقید کا ہدف بنایا۔ دوسرے روز یعنی ہندوستان کے یوم آزادی پندرہ اگست کو پاکستان میں یوم سیاہ منایا گیا۔ اخبارات نے سیاہ بارڈر کے ساتھ اپنے ایڈیشن نکالے۔ وزیر اعظم عمران خان سمیت بیشتر سیاست دانوں نے اپنی سوشل میڈیا تصاویر ہٹا دیں اور ان کی جگہ پر سیاہ چوکھٹہ لگا دیا۔ اس موقع پر عمران خان نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ اگر وہ خاموش رہی اور جنگ ہو جاتی ہے تو وہ خود اس کی ذمہ دار ہوگی۔ انھوں نے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا کہ اس خاموشی کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے اور سربیائی مسلمانوں کی مانند کشمیری مسلمانوں کا قتل عام ہوگا۔ پانچ اگست سے ہی جبکہ ہندوستان نے مذکورہ قدم اٹھایا ہے دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ سرحد پر پاکستانی افواج کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کے واقعات بھی ہو رہے ہیں۔ دونوں جانب ہلاکتیں بھی ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ کسی بھی طرح اس ایشو کو بین الاقوامی رنگ دے دے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسی مقصد سے چین کا دورہ کیا تھا۔ لیکن ان کے دورے کے فوراً بعد ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی بیجنگ کا دورہ کیا۔ جہاں قریشی نے کشمیر کے معاملے پر چینی قیادت کو ورغلانے کی کوشش کی وہیں جے شنکر نے چینی قیادت کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ بہر حال پاکستان کی جانب سے پوری مہم چلائی جا رہی ہے۔
جبکہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 اور 35 اے کا خاتمہ پوری طرح ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس میں پاکستان مداخلت نہ کرے۔ اس معاملے پر دونوں ملکوں کے رویے میں بنیادی فرق بھی دکھائی دے رہا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات کو کم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس نے ہندوستان سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے ہائی کمشنر کو اسلام آباد سے واپس بلا لے۔ لیکن ہندوستان نے بہت تحمل مزاجی کے انداز میں رد عمل ظاہر کیا۔ اس نے پاکستان سے کہا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اس میں اسے مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوششیں ابھی تک ناکام ہی ثابت ہوئی ہیں۔ امریکہ اور دیگر ملکوں کی قیادتوں نے کہا ہے کہ دونوں ملک اس مسئلے کو باہمی گفت و شنید سے حل کریں۔ جہاں تک اس مسئلے کا تعلق ہے تو یہ باہمی تنازعہ ہی ہے بین الاقوامی نہیں۔ شملہ سمجھوتہ ہو یا لاہور اعلامیہ دونوں میں اسے دوطرفہ مذاکرات سے حل کرنے کی بات کہی گئی ہے اور پاکستان نے دونوں سمجھوتوں کو مانا بھی ہے۔ ان پر اس نے دستخط بھی کیے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ اسے عالمی سطح پر ہوا دینے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ کوئی بھی موقع ہو وہ گنوانا نہیں چاہتا اور بیشتر عالمی فورموں پر کشمیر کا مسئلہ اٹھاتا رہتا ہے۔ ہندوستان کی جانب سے پاکستان کی اشتعال انگیزیوں پر عموماً خاموشی ہی ظاہر کی جا رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے ایک بیان کے علاوہ حکومت کی سطح سے کوئی اور بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ یہاں تک کہ جہاں عمران خان نے اپنے یوم آزادی خطاب میں ہندوستان کو خوب برا بھلا کہا وہیں ہندوستان کے وزیر اعظم نریند رمودی نے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد اپنی تقریر میں ایک بار بھی پاکستان کا نام نہیں لیا۔ ہاں انھوں نے کشمیر کا ذکر کیا اور دفعہ 370 کو کشمیریوں کی ترقی کی راہ میں روڑہ قرار دیا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی ہر طرح سے حمایت کرتا رہے گا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ وہ اس پر حملہ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دے گا۔ جہاں تک کشمیری عوام کی حمایت کرنے کی بات ہے تو ان کی حمایت یا ان کی مدد اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ پاکستان سرحد پار سے وہاں دہشت گرد بھیجنا بند کر دے۔ وہ کشمیری عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں تعاون دے نہ یہ کہ ان کے مسائل و مصائب میں اضافہ کرے۔ کشمیریوں کی مدد اسی صورت میں ہو سکے گی جب ان کے روز مرہ کی ضرورتیں پوری ہوں۔ ان کو روزگار ملے۔ ان کی صحت کی دیکھ بھال ہو۔ وہاں ترقیاتی سرگرمیاں تیز ہوں تاکہ کشمیری نوجوانوں کی بے روزگاری دور ہو۔ دہشت گرد بھیجنا اور دہشت گردانہ کارروائیاں کروانا کشمیریوں کی مدد نہیں ہے۔
حقیقت واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان نے جب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی ہے پاکستان کی گھڑی کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے۔ اندرون ملک و بیرون ملک بھی صرف اور صرف کشمیر کی بات ہو رہی ہے۔ پاکستان کو اس سے غرض نہیں کہ وہ کتنے مسائل میں گھراہوا ہے اور اس کی آنے والی نسلوں کا مستقبل کس طرح تباہ ہو رہا ہے۔ صحت عامہ کی صورت حال انتہائی خراب ہے۔ ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں ہے۔ ملک کو آگے لے جانے کے سلسلے میں نئے نئے آئڈیاز سے سابقہ حکومتیں بھی محروم رہی ہیں اور موجودہ حکومت بھی محروم ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ ملکی معیشت تباہی کے غار میں پہنچ گئی ہے لیکن اس کی آنکھ اب بھی نہیں کھل رہی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں ایک ساتھ آزاد ہوئے تھے مگر ہندوستان کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور پاکستان کہاں سے کہاں چلا گیا۔ اس وقت ہندوستان پانچ ٹریلین یعنی پانچ کھرب ڈالر کی معیشت بننے جا رہا ہے اور پاکستان کی صورت حال یہ ہے کہ پیاز بھی لائن لگا کر لینی پڑتی ہے۔ اقتصادی مندی کی طرف کسی کا دھیان نہیں ہے اور عوام کو مہنگائی کی مار سے کیسے بچایا جائے اس کی کسی کو فکر نہیں ہے۔ حالیہ دنوںمیں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی میں دس فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ اس کا اثر مصنوعات کی کوالٹی پر بھی پڑرہا ہے اور کوانٹٹی پر بھی۔ مثال کے طور پر مشینری کی درآمد میں 29 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں تیس فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ دوسرا شعبہ ٹیکسٹائل یا کپڑے کا ہے جہاں مجموعی قدر میں 9 فیصد کی اور خام کاٹن کی درآمد میں 31 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ آٹو موبائل سیکٹر میں گیارہ فیصد، آئرن اور اسٹیل میں گیارہ فیصد اور سیمنٹ میں چار فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ درآمدات میں کمی کی وجہ سے غیر ملکی زر مبادلہ میں بھی کمی آئی ہے او را س کا اثر مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی اور سرمایہ کاری پر بھی پڑ رہا ہے۔ او ران سب چیزوں کا اثر یقینی اور واضح طور پر غریبی اور بے روزگاری پر پڑ رہا ہے۔ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ تو ہوا ہے مگر کلکشن میں اضافہ نہیں ہوا۔ 2017-18 میں ٹیکس کلکشن 3842 بلین روپے تھا مگر 2018-19 میں یہ گھٹ کر 3820 بلین رہ گیا ہے۔ اقتصادی مندی جوں کی توں قائم ہے بلکہ اس میں اور اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ شیئر بازار کا تو اور برا حال ہے۔ وہاں روزانہ گراوٹ آرہی ہے جسے انگریزی میں Blood Bath کہتے ہیں۔ یعنی بازارِ حصص روزانہ خون میں نہا رہا ہے۔ شیئر بازار میں مندی کا اثر دوسری چیزوں پر بھی پڑتا ہے۔ سرمایہ کاری میں تنزلی آتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار آتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں درآمدات و برآمدات دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا اثر مجموعی قومی پیداوار پر پڑتا ہے۔ حکومت اہم شعبوں کے لیے مختص کی جانے والی رقوم میں تخفیف کرتی ہے اور بہت سے پروجکٹوں اور اسکیموں کے فنڈ میں کٹوتی ہو جاتی ہے۔ ان سب چیزوں کا اثر لازمی اشیا کی قیمتوں پر پڑتا ہے اور مہنگائی بڑھنے لگتی ہے۔ آج پاکستان میں مہنگائی جس شرح سے بڑھ رہی ہے کسی بھی ہمسایہ ملک میں نہیں بڑھ رہی۔
دہشت گردی کا مسئلہ الگ ہے۔ اگر چہ اس نے عالمی دباو¿ کے تحت کچھ اقدامات کیے ہیں اور حافظ سعید وغیرہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دہشت گردی بند ہو گئی ہے۔ دھماکے اور خود کش حملے جاری ہیں۔ لہٰذا پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دے۔ اگر وہاں اقتصادی ترقی آئے گی تو اس کا مثبت اثر پورے خطے پر پڑے گا۔ ورنہ اس کی اپنی توانائی غیر ضروری کاموں میں اسی طرح ضائع ہوتی رہے گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Imran khan need a change in his strategy in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.