”ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار“

سہیل انجم

آجکل پاکستانی وزیر اعظم عمران خان مرزا غالب کا یہ شعر بار بار دوہرا رہے ہیں:

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے؟

اس شعر میں غالب کا روئے سخن اپنے محبوب کی جانب تھا لیکن عمران کا روئے سخن کسی محبوب کی جانب نہیں بلکہ پاکستان کے روایتی حریف کی جانب ہے۔ قارئین سمجھ گئے ہوں گے یہ روایتی حریف کون ہے۔ ظاہر ہے ہندوستان ہے اور کون ہے۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو اپنا روایتی حریف سمجھ لیا ہے۔ اس کا مظاہرہ جگہ جگہ ہوتا ہے۔ ابھی چند روز قبل جب مانچسٹر میں ہندوستان اور پاکستان کی کرکٹ ٹیمیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو اس وقت بھی یہی صورت حال تھی۔ اب تو پوری دنیا کو معلوم ہو گیا ہے کہ یہ دونوں بہت دلچسپ حریف ہیں۔ خاص طور پر کرکٹ کا معاملہ ہو تو دنیا بھر کی نگاہیں ان پر ٹک جاتی ہیں۔ اور بات صرف کرکٹ ہی کی کیوں؟ ہندوستان میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل جب پلوامہ میں خود کش حملہ ہوا تھا اور اس کے جواب میں پہلے ہندوستان اور پھر پاکستان نے فضائی کارروائی کی تھی تو اس وقت بھی پوری دنیا کی نگاہیں ان دونوں ممالک پر ٹکی ہوئی تھیں۔ لوگوں کو اندیشہ تھا کہ کہیں دونوں ملک جنگ نہ شروع کر دیں۔ اگر ان دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ جائے تو اس کی زد میں اور بھی علاقے آسکتے ہیں۔ اور اگر نہ بھی آئیں تو اس سے عالمی سطح پر ایک بے چینی تو پیدا ہو ہی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت جبکہ دونوں ملک جنگ کے دہاے پر پہنچ گئے تھے، کئی ملکوں کے ذمہ داروں نے دونوں کو سمجھایا اور جنگ سے باز رہنے پر آمادہ کیا۔

بہر حال بات ہو رہی تھی عمران خان کی۔ وہ غالب کا مذکورہ شعر کیوں پڑھ رہے ہیں؟ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ در اصل عمران خان ان دنوں بہت پریشان ہیں۔ ملکی معیشت مائل بہ زوال ہے بلکہ ماگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کے دریچوں سے زبردست اقتصادی بدحالی جھانک رہی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ پاکستان کو فنڈ کی ضرورت ہے۔ لیکن دہشت گرد گروپوں کو سرمایہ کی فراہمی روکنے کے لیے قائم ہونے والے ادارے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر سخت شرائط عاید کر رکھی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو فنڈ کی فراہمی روکے اور ان کے خلاف کارروائی کرے۔ اس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے۔ گرے لسٹ کا مطلب یہ ہوا کہ اگر اس نے ذرا بھی لغزش کی تو وہ بلیک لسٹ ہو جائے گا۔ اگر پاکستان کی دہشت گردی مخالف کارروائیوں سے ایف اے ٹی ایف مطمئن نہیں ہوا تو وہ اسے بلیک لسٹ کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پھر کوئی بھی ملک یا کوئی بھی مالیاتی ادارہ جیسے کہ ورلڈ بینک وغیرہ پاکستان کو نہ تو قرض دے سکیں گے اور نہ ہی مالی امداد۔

اگر ایسا ہوا تو پاکستان کے لیے مزید دشواریاں پیدا ہو جائیں گی۔ عمران خان بہت سنجیدگی کے ساتھ اپنے ملک کو مالی بحران سے نکالنا چاہتے ہیں۔ وہ ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو کسی بھی طرح سنبھالنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے وہ جہاں مختلف ملکوں کے سربراہوں سے مل کر راستے تلاش کر رہے ہیں وہیں وہ اپنے سب سے اہم ہمسایہ ملک ہندوستان کے ساتھ بہتر اور خوشگوار تعلقات کے خواہشمند بھی ہیں۔ وہ اس محاذ پر امن چاہتے ہیں تاکہ ادھر سے بے پروا ہو کر ملکی معیشت کے استحکام کے لیے کوششیں کر سکیں۔ اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان سے جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو جائے۔ مذاکرات کی تجدید کا مطلب ہوگا کہ ہندوستان کا رخ پاکستان کے تعلق سے نرم ہو جائے گا۔ اس کا ایک فائدہ فوری طور پر یہ ہوگا کہ سرحد پر کشیدگی ختم ہو جائے گی اور دونوں ملکوں کی افواج کے مابین گولہ باری کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہندوستان اس وقت جس طرح پاکستان کو عالمی سطح پر یکہ و تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس میں کمی آجائے گی۔ یعنی عالمی سطح پر بھی اس کے لیے آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ ہندوستان اس کے خلاف جو ماحول بنانے کی کوشش کر رہا ہے اس کا سلسلہ رک جائے گا۔ اسی لیے عمران خان ہندوستان کے ساتھ
جلد از جلد بات چیت کے حق میں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انھوں نے حالات کو بھانپ کر ہندوستانی انتخابات سے قبل یہ بیان دیا تھا کہ اگر مودی حکومت دوبارہ قائم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ بات چیت میں آسانی ہوگی۔ جب مودی حکومت دوبارہ واپس آگئی تو انھوں نے فوری طور پر نریندر مودی کو مبارکباد کا پیغام دیا۔ اس کے بعد انھیں فون کرکے مبارکباد پیش کی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انھوں نے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے اپنے ہم منصبوں کو مکتوب ارسال کرکے بات چیت شروع کرنے کی اپیل کی۔ لیکن ہندوستان کی جانب سے سردمہری کا سلسلہ جاری ہے۔ دیگر عالمی رہنماو¿ں نے بھی مودی حکومت کو مبارکباد پیش کی تھی۔ ہندوستان نے ان تمام کو تو فوری طور پر جواب دے دیا تھا لیکن عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خطوط کے جواب نہیں دیے تھے۔ ابھی گزشتہ دنوں جب کرغزستان کے دار الحکومت بشکیک میں ایس سی او اکا جلاس منعقد ہوا اور وہاں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نریندر مودی اور عمران خان کی مختصر ملاقات ہوئی اور دونوں میں علیک سلیک ہوئی تو اس کے بعد ہندوستان نے پاکستانی خطوط کے جواب دیے۔ مودی نے عمران کے نام اور ایس جے شنکر نے قریشی کے نام اپنے مکتوب میں اس بات کا اظہار کیا کہ ہندوستان پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دوستانہ اور معمول کے اور باہمی امداد پر مبنی تعلقات چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا کہ اس خطے میں اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے ہندوستان کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔ بات چیت کے لیے سازگار ماحول کی ضرورت ہے۔ اور سازگار ماحول قائم کرنے کی ذمہ داری پاکستان کی ہے۔ لیکن پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں چلنے لگیں کہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ وہاں کے میڈیا کے مطابق وزیر اعظم مودی اور وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنے خطوں میں اس خواہش کا اظہار کیا ہے۔ پاک میڈیا میں ایسی خبریں چلنے سے سیاسی و صحافتی حلقوں میں چہ می گوئیاں ہونے لگیں اور لوگ یہ جاننے کے لیے بے چین ہو گئے کہ کیا ہندوستان نے اپنے موقف کو نرم کر لیا ہے۔ ان کو اس خبر پر یقین نہیں آیا تھا۔ کیونکہ وزیر اعظم مودی نے جس طرح انتخابی مہم میں پاکستان اور دہشت گردی کو ایک ایشو بنایا تھا اس کے پیش نظر اس کی امید کم تھی کہ ابھی فوری طور پر ہندوستان بات چیت پر آمادہ ہو جائے گا۔ لہٰذا وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کو سامنے آنا پڑا۔ انھوں نے اپنے بیان میں اس خبر کی تردید کی اور اسے فیک نیوز بتا کر مسترد کر دیا۔ انھوں نے بتایا کہ دونوں رہنماو¿ں نے ہندوستان کے اس موقف کو دوہرایا ہے کہ وہ پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات چاہتا ہے اور خطے میں سازگار ماحول کے قیام کی ذمہ داری پاکستان کی ہے۔

اس طرح پاکستانی میڈیا نے جو ماحول بنانے کی کوشش کی تھی اس کا سلسلہ ہوا۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان داخلی مجبوریوں کی وجہ سے ہندوستان سے بات چیت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن ہندوستان ابھی کسی بھی قیمت پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اب بتائیے ایسے میں عمران خان غالب کا مذکورہ شعر نہ پڑھیں تو کیا کریں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Imran khan is in dire trouble because of deteriorating economy in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.