یہ عمران خان کی جانب سے پاکستان کی بڑی خدمت ہوگی

سہیل انجم

پاکستان اس وقت عجیب و غریب صورت حال سے دوچار ہے۔ اسے مجبور ہو کر وہ اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں جو وہ کرنا نہیں چاہتا۔ حالانکہ اسے بہت پہلے یہ کارروائیاں انجام دے دینی چاہیے تھیں۔ وہاں کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے حافظ محمد سعید اور ان کے نائب عبد الرحمن مکی کے خلاف دو درجن مقدمات قائم کیے ہیں۔ ان پر دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ کئی شہروں میں ان کے خلاف رپورٹیں درج کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ایسی مختلف تنظیموں کی مدد سے فنڈ اکٹھا کیا جو دہشت گردی کوفروغ دیتی ہیں اور کالعدم قرار دی جاچکی ہیں۔

حافظ محمد سعید پر دہشت گردی کا الزام نیا نہیں ہے۔ ان پر 2008 میں ممبئی کے خوفناک حملوں کے بعد سے ہی دہشت گردی کی پرورش کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ہندوستان نے انھیں ممبئی حملوں کا منصوبہ ساز بتایا اور ان کے خلاف بے شمار شواہد پاکستان کے حوالے کیے۔ لیکن پاکستان نے ان کو نظرانداز کیا اور ان کی روشنی میں کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی۔ ان کے خلاف عدالت میں چلنے والی کارروائی بھی معرض التوا میں ہے۔ لیکن اب پاکستان کو ان کے خلاف سخت ایکشن لینا پڑ رہا ہے اور کوئی تعجب نہیں کہ انھیں جلد ہی گرفتار بھی کر لیا جائے۔ لیکن کیا ان کی گرفتاری سے دہشت گردی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی یا پاکستان اس قدم سے اپنی سرزمین سے دہشت گردی ختم کرنے میں کامیاب ہو سکے گا یہ ایک الگ سوال ہے جس پر پھر کبھی بات ہوگی۔

اس سے قبل بھی حافظ سعید کے خلاف جو کہ کالعدم جماعت الدعویٰ کے سربراہ ہیں کارروائی ہو چکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی سرگرمیوں پرکوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ عید کے موقع پر بھی ان کے خلاف کارروائی کی گئی تھی اور انھیں قذافی اسٹیڈیم میں عید کی نماز کی امامت نہیں کرنے دی گئی تھی۔ ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ اگر وہ اسٹیڈیم میں امامت کرنے کی کوشش کریں گے تو انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ لہٰذا انھوں نے وہاں امامت کے بجائے اپنی رہائشی کالونی جوہر ٹاؤن کے قریب ایک مسجد میں نماز عید ادا کی تھی۔ اس وقت حکام کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ان کو پہلے ہی یہ اطلاع دے دی گئی تھی کہ اگر وہ امامت کرنے کی کوشش کریں گے تو انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ حالانکہ وہ برسوں سے وہاں امامت کے فرائض انجام دیتے آرہے تھے۔

اس موقع کا وہ غلط استعمال بھی کرتے رہے ہیں۔ وہ عید الفطر کے خطبے میں کشمیر کے سلسلے میں اپنے نظریات کا پرپیگنڈہ کرتے رہے ہیں۔ کشمیر کے بارے میں ان کے نظریات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ وہ کشمیر میں جاری دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں اور اسے جنگ آزادی اور جہاد قرار دیتے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بے قصوروں کو بلا وجہ ہلاک کرنا جنگ آزادی اور جہاد کیسے ہو گیا۔ لیکن حکومت پاکستان نہ صرف یہ کہ ان کو ایک بہت بڑے مجمع کی امامت اور کشمیر پر اشتعال انگیزی کی اجازت دیتی رہی ہے بلکہ انھیں اس موقع پر مکمل سیکورٹی بھی فراہم کرتی رہی ہے۔ وہ سیکورٹی فورسز کی حفاظت میں اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کرتے تھے اور عید الفطر کے خطبے کو سیاسی پروپیگنڈہ میں تبدیل کر دیتے تھے۔

لیکن اس بار عید پر ایسا کیا ہوا تھا کہ حکومت پاکستان نے انھیں امامت کی اجازت نہیں دی اور یہ وارننگ بھی دے دی کہ اگر انھوں نے امامت پر اصرار کیا تو انھیں گرفتار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ در اصل اس میں پاکستانی حکومت کی ایمانداری اور اس کے خلوص کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ بلکہ اس نے بدرجہ مجبوری یہ قدم اٹھایا تھا۔ حافظ سعید پر اقوام متحدہ نے 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد ہی پابندی لگا دی تھی۔ ان کو ممبئی حملوں کا جس میں 166افراد ہلاک ہوئے تھے، ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ امریکہ نے جون 2014 سے جماعت الدعویٰ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اس نے حافظ سعید پر دس لاکھ ڈالر کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ لیکن پاکستان کی جانب سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ پاکستانی عدالتوں میں ان کے خلاف چلنے والے مقدمات میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ ہاں انھیں کبھی کبھار نظربند کر دیا جاتا اور پھر رہا بھی کر دیا جاتا۔ یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ دنیا یہ سمجھے کہ حکومت پاکستان ان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ انھیں سیکورٹی بھی فراہم کرتی اور ان کے ادارے فلاح انسانیت فاونڈیشن کو مبینہ فلاحی کاموں کے لیے فنڈ بھی فراہم کرتی رہی ہے۔

اقوام متحدہ اور امریکہ کی جانب سے بار بار پاکستان سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کرے اور دہشت گرد تنظیموں اور گروپوں کے خلاف واقعی کارروائی کرے۔ پاکستان یہ تو کہتا رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کر رہا ہے لیکن حقیقتاً یہ کارروائیاں محض نمائشی رہی ہیں۔ کیونکہ حافظ سعید سمیت بیشتر دہشت گردوں کو حکومت کی جانب سے کھلی چھوٹ حاصل رہی ہے۔ ان کو اپنی سرگرمیاں انجام دینے میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔ لیکن جب سے پیرس کی تنظیم ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں ڈالا ہے، حکومت پاکستان دہشت گرد گروپوں کے خلاف اقدامات کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ پلوامہ میں خود کش حملے کے بعد جس میں ہندوستان کے 40 سیکورٹی جوان ہلاک ہوئے تھے، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو پھر گرے لسٹ میں ڈال دیا۔ اس نے دھمکی دی ہے کہ وہ اگر حقیقی معنوں میں دہشت گرد گروپوں کو فنڈ کی فراہمی اور انھیں اپنی وارداتیں انجام دینے پر روک نہیں لگاتا تو اسے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ اسے، جو کہ شدید اقتصادی بحران میں مبتلا ہے، کہیں سے بھی مالی امداد نہیں مل سکتی۔ نہ تو عالمی مالیاتی ادارے اسے قرض دے سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی ملک اس کی مالی معاونت کر سکتا ہے۔ لہٰذا پاکستان کو مجبور ہو کر حافظ سعید کے خلاف یہ کارروائی کرنی پڑی۔ ایف اے ٹی ایف دہشت گرد گروپوں کو فنڈ کی فراہمی روکنے کے لیے وجود میں آئی ہے۔ اگر اس نے پاکستان کو یا کسی کو بھی بلیک لسٹ کر دیا تو اسے شدید مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی دھمکی کے بعد عمران خان کی حکومت نے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کریک ڈاون شروع کیا ہے۔ اس نے متعدد مدارس و مساجد کا انتظام و انصرام اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور دہشت گرد گروپوں کی کارروائیوں کے خلاف وہ بظاہر کارروائی کر رہی ہے۔ لیکن یہ کارروائیاں کتنی حقیقی ہیں اور کتنی نمائشی یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔ بہر حال حافظ سعید کے خلاف دو درجن مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں اور جو لوگ اس کو بڑھانے کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں۔ لیکن کیا ایف اے ٹی ایف ان نمائشی کارروائیوں سے مطمئن ہو جائے گی یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔ لیکن بہر کیف عمران خان کی حکومت کچھ تو ایکشن لے رہی ہے۔

سابقہ حکومتیں تو ایکشن لینے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہیں۔ عمران خان کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ ہم بھی دہشت گردی کے اتنے ہی مخالف ہیں جتنے کہ دوسرے لوگ ہیں۔ اگر وہ ان اقدامات کی مدد سے اپنے ملک کو معاشی بحران کی دلدل سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کی جانب سے پاکستان اور اہل پاکستان کی ہی نہیں بلکہ برصغیر کی بھی زبردست خدمت ہوگی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Imran khan did the great job by taking action against hafiz saeed in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.