عمران حکومت: امیدیں اور اندیشے

سہیل انجم

عمران خان بنیادی طور پر سیات داں نہیں ہیں۔ وہ پہلے کرکٹرہیں اور اس کے بعد انسانی کارکن۔ سیاست میں آنے کا ان کا فیصلہ غالباً ملکی حالات کے تحت تھا۔ انھوں نے پاکستان تحریک انصاف نامی جماعت بنائی اور کئی سال کی جد و جہد کے بعد بالآخر وہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ مختلف ملکوں میں اہم شخصیات سے ان کے نجی اور ذاتی مراسم ہیں۔ ہندوستان میں بھی ایسی بہت سی بڑی شخصیات ہیں جن سے ان کی دوستی ہے۔ انھی میں سابق کرکٹر اور ریاست پنجاب کے ایک وزیر نوجوت سنگھ سدھو بھی ہیں شامل ہیں جنھوں نے عمران کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی۔ عمران اقتدار میں آنے سے قبل ہندوستان کے بارے میں بہت محتاط بیان دیتے رہے ہیں۔ البتہ کبھی کبھار وہ بھی پٹری سے اتر جاتے تھے۔ ممکن ہے کہ وہ ایسا پاکستانی عوام کو خوش کرنے کے لیے کرتے رہے ہوں۔ جب انتخابی نتائج سامنے آئے اور یہ یقینی ہو گیا کہ وہی وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوں گے تو انھوں نے جو پہلی تقریر کی تھی اس میں ہندوستان کے بارے میں بھی بہت سی باتیں کی تھیں۔ جن کا لب لباب یہ تھا کہ وہ اپنے اس ہمسایہ ملک کے ساتھ دوستانہ مراسم چاہتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان ایک قدم بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم بڑھائے گا۔ ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد اکثر یہ سوال پوچھا جاتا رہا ہے کہ کیا اب دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔ لیکن اس سوال کا کوئی اطمینان بخش جواب ابھی تک نہیں ملا ہے۔

جہاں تک پاکستان کی سیاست کا تعلق ہے تو وہاں حکومت کسی کی بھی بنے اصل باگ ڈور فوج کے ہاتھوں میں رہتی ہے۔ عمران خان کو لانے میں بھی فوج اور عدلیہ کا ہاتھ ہے۔ اگر ان دونوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے گرد تانا بانا نہ بنا ہوتا اور عدلیہ نے ان کو جیل میں نہ ڈالا ہوتا تو شاید پاکستان کی سیاسی صورت حال آج کچھ اور ہوتی۔ عمران خان کے ایک قدم اور دو قدم والے بیان کے علاوہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی بدرجہ مجبوری اندرون خانہ ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے کی سمت میں مبینہ طور پر کوششیں کی تھیں۔ لیکن ان کے جو عوامی بیانات آتے ہیں وہ ہندوستان کے خلاف دشمنی اور کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر کشیدگی میں اضافہ والے ہوتے ہیں۔ اس لیے عمران کے ایک قدم اور دو قدم والے بیان کے بعد کئی ایسے اہم فیصلے ہوئے ہیں جو دونوں ملکوں کے باہمی رشتوں کو دوستی کی پٹری پر لانے میں مزاحم ہوں گے۔ تازہ فیصلہ پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے جماعت الدعویٰ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کو آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دینا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے کمپنیوں، اداروں اور افراد پر جماعت الدعویٰ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن اور اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل لوگوں کو چندہ دینے پر پابندی عاید کر دی تھی۔ لیکن اب عدالت نے کہا ہے کہ حکومت کو اس کے کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ حافظ سعید نے اس فیصلے کو سچائی کی جیت قرار دیا ہے۔ جماعت الدعویٰ او فلاح انسانیت فاونڈیشن کے زیر اہتمام تین سو مدرسے، اسکول، اسپتال قائم ہیں اور اس کی ایمبولینس سروس بھی ہے۔ ایک اشاعتی ادارہ بھی ہے۔ ان دونوں گروپوں کے رضاکاروں کی تعداد پچاس ہزار ہے۔

جماعت الدعویٰ لشکر طیبہ کا بدلا ہوا نام ہے۔ جب لشکر پر پابندی عاید کر دی گئی تو اس نام سے کام کیا جانے لگا۔ لیکن اقوام متحدہ نے اس کے بانی حافظ سعید اور فاونڈیشن پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔ امریکہ نے بھی حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے اور ان پر انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حافظ سعید آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں اور ان کے ادارے بھی چل رہے ہیں اور امریکہ ان کو پکڑ نہیں پاتا۔ حافظ سعید اور لشکر طیبہ کے بارے میں زیادہ کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ دنیا جانتی ہے کہ ممبئی حملوں میں انھی کا ہاتھ تھا۔ ہندوستان نے حافظ سعید اور لشکر طیبہ کے خلاف پختہ اور ناقابل تردید شواہد پاکستان کے حوالے کیے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ کچھ دنوں تک انھیں گھر میں نظربند رکھا گیا لیکن پھر عدالت نے ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر انھیں رہا کر دیا۔ در اصل پاکستان کی حکومتیں نہیں چاہتی تھیں کہ حافظ سعید یا ان کے اداروں کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ ان کو اس سلسلے میں ہنگامہ آرائی کا بھی خدشہ لگا رہتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہاں کی حکومتیں خود ان عناصر کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہیں۔ ایک بار نواز شریف کی حکومت نے فلاح انسانیت فاونڈیشن کو بہت بڑی رقم عطیہ کی تھی تاکہ وہ اپنا کام اور آگے تک وسیع کر سکے۔

اسی درمیان وزیر اعظم عمران خان کا ایک بیان آیا ہے جس میں انھوں نے وہاں کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی مدح سرائی کی ہے اور اسے دنیا کی بہترین انٹلی جنس ایجنسی قرار دیا ہے۔ یہ بیان انھوں نے آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے موقع پر کہی۔ اس سے قبل وہ دو بار جنرل ہیڈ کوارٹر کا بھی دورہ کر چکے ہیں۔ ظاہر ہے ان کے سر پر فوج کا دست شفقت ہے۔ ان کو وہاں کا دورہ کرنا ہی چاہیے اور فوج کے کارناموں کی ستائش بھی کرنی چاہیے۔ آئی ایس آئی کے بارے میں ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ وہ یہاں دہشت گردانہ کارروائیاں کرواتی اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ آئی ایس آئی کی ہند مخالف سرگرمیاں ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ایسے میں عمران خان کا اس کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرنا اور اسے دنیا کی بہترین انٹلی جنس ایجنسی قرار دینا ایک خاص سمت میں اشارہ کرتا ہے۔ جماعت الدعویٰ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور عمران خان کی جانب سے آئی ایس آئی کی مدح سرائی کے تناظر میں یہ توقع کیسے کی جائے کہ وہ ہندوستان کی جانب دوستی کا قدم بڑھائیں گے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یقینی طور پر فوج اور آئی ایس آئی کے ناراض ہو جانے کا خدشہ رہے گا۔ اور عمران خان ہو ںیا کوئی اور فوج کو ناراض کرکے حکومت میں نہیں رہ سکتا۔ نواز شریف کو اسی لیے حکومت سے بے دخل ہونا پڑا اور جیل جانا پڑا کیونکہ وہ فوج کو کھلی چھوٹ دینا نہیں چاہتے تھے اور وہ ایسے بہت سے فیصلے کر رہے تھے جو فوج کو ناپسند تھے۔

یہ اتفاق ہے کہ انھی دنوں میں ہندوستان کی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سرحد پار کی جانب سے برآمد کی جانے والی دہشت گردی بند نہیں کی جاتی تو مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات خارج از امکان ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے باوجود کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور درانداز ہندوستانی سرحد کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں سارک ملکوں کے سربراہوں کو اسی لیے مدعو کیا تھا کہ وہ تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دوستانہ رشتے چاہتے ہیں۔ لیکن دس سال گزر جانے کے باوجود ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ایسے میں پاکستان کے ساتھ بات چیت کس بنیاد پر کی جائے۔ انھوں نے ہندوستان کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ بھی کیا کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔

عمران خان ہندوستان سے دوستی کے معاملے میں سنجیدہ ہو سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ دل سے چاہتے ہوں کہ دونوں ملکوں کے مابین تلخیاں کم ہوں اور دونوں دوستی کی راہ پر آگے بڑھیں۔ لیکن کیا فوج بھی ایسا چاہتی ہے۔ کیا وہاں کی عدلیہ بھی ایسا چاہتی ہے۔ کیونکہ صرف وزیر اعظم کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ جب تک یہ ادارے نہیں چاہیں گے اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔ عمران خان کو اپنے فیصلوں اور عمل سے یہ دکھانا ہوگا کہ واقعی وہ ہندوستان کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں۔ لیکن مذکورہ حالات میں اس کا امکان کم کم نظر آتا ہے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Imran era hope and fears in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply