کرتارپور کاریڈور کے دو ہیرو، عمران خان اور نوجوت سنگھ سدھو

سہیل انجم

تقسیم ہند کے بعد سرحد کی دونوں جانب زبردست خون خرابہ ہوا تھا۔ دونوں جانب سے سرحد عبور کرنے والے کس قیامت صغریٰ سے گزرے تھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ کسی کی زندگی اور عزت و آبرو محفوظ نہیں تھی۔ مسلمانوں نے ہندوؤں کو اور ہندوؤں نے مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا تھا۔ پاکستان سے ہندوستان آنے والے ہندوو¿ں اور سکھوں کے ساتھ انتہائی بہیمانہ سلوک ہوا تھا اور اسی طرح ہندوستان سے پاکستان جانے والے مسلمانوں کے ساتھ بھی انسانیت سوز حرکتیں ہوئی تھیں۔ لاکھوں افراد کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان بھی زبردست دشمنی پیدا ہوئی تھی اور مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان بھی۔ بلکہ مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان دشمنی زیادہ شدید تھی۔

لیکن اب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ایک تاریخی قدم کی وجہ سے یہ دشمنی دوستی میں بدل گئی ہے۔ پوری دنیا کے سکھ عمران کی فیاضی اور دریا دلی کا قصیدہ پڑھ رہے ہیں۔ سکھ برادری کے مذہبی پیشوا باباگرو نانک دیو جی مہاراج کی آخری آرامگاہ کرتار پور صاحب کے لیے ایک راہداری یا کاریڈور کی تعمیر سے نہ صرف بھارت اور پاکستان بلکہ پوری دنیا کے سکھوں میں زبردست جوش و خروش ہے۔ 9 نومبر کو جب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ہاتھوں اس کاریڈور کا افتتاح ہونا تھا تو اس سے کافی پہلے سے ہی دنیا بھر سے سکھ برادری کے لوگ پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ ہندوستان سے بھی بڑی تعداد میں سکھ وہاں پہنچے۔ 9 نومبر کو عمران خان نے کرتار پور صاحب میں اور ہندوستانی وزیر اعظم نریند رمودی نے ڈیرہ بابا نانک پر کاریڈور کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر ہندوستان کے پانچ سو سکھ یاتری کرتارپور صاحب گئے۔ ان میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور ہندوستانی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریند رسنگھ کے علاوہ سابق کرکٹر اور موجودہ کانگریس رہنما نوجوت سنگھ سدھو بھی شامل تھے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے عمران خان اور ہندوستان کے نوجوت سنگھ سدھو اس کاریڈور کے کھلنے کے ہیرو ہیں۔

سدھو سابق کرکٹرہیں۔ وہ 1981-82 میں وہ افق کرکٹ پر نمودارہوئے تھے۔ 19 سال تک کرکیٹ کھیلنے کے بعد وہ سیاست میں آگئے اور انھوں نے 2004 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)میں شمولیت اختیار کی۔ اور امرتسر سے بی جے پی کے ٹکٹ پر لوک سبھا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ وہ 2014 تک اس سیٹ سے پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتے رہے۔ انھیں 2016 میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا۔ مگر 2017 میں انھوں نے بی جے پی چھوڑ دی اور کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے بی جے پی کی جانب سے ان کی اہلیہ کو اسمبلی کا ٹکٹ نہ دیے جانے کی وجہ سے پارٹی چھوڑی۔
انھوں نے 2017 میں امرتسر سے اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ انھیں امریندر سنگھ حکومت میں سیاحت اور بلدیاتی اداروں کا وزیر بنایا گیا۔ اس قلمدان کو سنبھالنے کے بعد انھوں نے کئی اہم کام کیے۔ وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے ساتھ ان کے کچھ اختلافات پیدا ہوئے او رانھوں نے جولائی 2019 میں کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اس سے قبل انھوں نے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کے خلاف جم کر انتخابی مہم چلائی تھی۔ مسلسل تقاریر کرنے کی وجہ سے ان کی آواز کئی دنوں تک غائب ہو گئی تھی۔

نوجت سنگھ سدھو ایک سیاست داں کے علاوہ ٹیلی ویژن پرسنالٹی بھی ہیں۔ وہ انڈیاز لافٹر چیلنج، کامیڈی نائٹس وِد کپل، کپل شرما شو، بگ باس اور کیا ہوگا نمو کا جیسے مقبول ٹی وی شوز میں میزبانی کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ جب وہ بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوئے تو بعض بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے ان کے ٹی وی شوز کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ وہ یا تو حکومت میں وزیر ہی رہ سکتے ہیں یا پھر ٹی وی شوز ہی کر سکتے ہیں۔ دونوں جگہوں سے مالی فائدہ اٹھانا عوامی نمائندگی ایکٹ کے منافی ہے۔ اس پر ان کے خلاف مقدمہ بھی قائم ہوا مگر عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا۔

اگست 2018 میں عمران خان کی بحیثیت وزیر اعظم حلف برداری کی تقریب میں انھیں مدعو کیا گیا۔ عمران اور سدھو میں پرانی دوستی ہے۔ حالانکہ ہندوستان میں بعض حلقوں کی جانب سے تقریب میں ان کی شرکت کی مخالفت کی گئی۔ لیکن انھوں نے کہا کہ وہ اپنے دوست کی حلف برداری میں ضرور جائیں گے۔ سدھو نے اس تقریب میں شرکت کی۔ انھوں نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجواکوگلے لگایا جس پر بھارت میں دائیں بازو کی جانب سے ان کی شدید مخالفت کی گئی اور الزام عاید کیا گیا کہ پاکستان کے جس آرمی سربراہ کی قیادت میں پاکستانی فوج بھارت کے خلاف کارروائی کرتی ہے سدھو نے اس آرمی چیف کو گلے لگا کر ملک سے بغاوت کی ہے۔ لیکن سدھو نے اپنے اس قدم کی حمایت کی اور وہ اس پر جمے رہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ قمر جاوید باجوا نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بابا گرو نانک کے 550 ویں یوم ولادت پر کرتارپور کاریڈور کو کھول دیا جائے گا۔

اسی درمیان جب فروری 2019 میں پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر دہشت گردانہ حملہ کیا گیا تو سدھو نے کپل شرما شو کے دوران اس حملے کی مذمت کی لیکن یہ بھی کہا کہ مٹھی بھر لوگوں کی کارستانی کی وجہ سے کیا آپ پورے ملک کو ذمہ دار ٹھرا سکتے ہیں اور کیا ایک شخص (عمران) کو ہدف بنا سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان پر بی جے پی کی جانب سے شدید رد عمل ظاہر کیا گیا اور بی جے پی لیڈر گری راج سنگھ نے کہا کہ سدھو کو پاکستان بھیج دیا جانا چاہیے۔ کپل شرما شو کے خلاف بھی بی جے پی کارکنوں کی جانب سے ہنگامہ کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں انھیں ہٹا کر ارچنا پورن سنگھ کو میزبان مقرر کر دیا گیا۔

حکومت پاکستان کی جانب سے نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور کاریڈور کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی۔ اس پر یہاں کہا گیا کہ ان کو حکومت سے اجازت لینی ہوگی۔ انھوں نے وزارت خارجہ میں پاکستان جانے کی اجازت کے لیے درخواست داخل کی لیکن اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے دوسری درخواست دی اور تقریب سے ایک روز قبل ان کو اجازت دی گئی۔ اس تقریب میں شرکت کے موقع پر انھوں نے اپنے دوست عمران خان کی زبردست ستائش کی اور کاریڈور کھولنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ اب جبکہ یہ کاریڈور کھل گیا ہے پوری دنیا کے سکھ پاکستانی حکومت کی تعریف کر رہے ہیں۔

نئی دہلی میں مقیم سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے سابق سکریٹری کرتار سنگھ کوچر کا کہنا ہے کہ یہ راہداری بہت پہلے کھل جانی چاہیے تھی۔ لیکن اب جا کر اس کا کھولا جانا بھی قابل ستائش اور لائق خیرمقدم ہے۔ انھوں نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی ستائش کے ساتھ نریندر مودی حکومت کی بھی تعریف کی اور کہا کہ بعض اختلافات کے باوجود بھارتی حکومت نے تعاون دیا۔ اب جبکہ یہ تاریخی قدم اٹھاگیا گیا ہے تو جہاں عمران خان کی ستائش ہو رہی ہے وہیں نوجوت سنگھ سدھو کی بھی ہو رہی ہے۔ کرتار سنگھ کوچر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہاں انھوں نے بھی ایک اہم کام کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس قدم سے سدھو کا قد بڑھا ہے اور سکھ برادری میں ان کی وقعت میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس سے بالخصوص پنجاب کی سیاست میں ان کے کرئیر پر کیا اثر پڑے گا۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے سکھوں میں ان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوا ہے اور ممکن ہے کہ اس سے ان کی مستقبل کی سیاست پر کوئی مثبت اثر پڑے۔

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Imran and sidhu two real heroes of kartarpur corridor in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.