کیا واقعی معلق پارلیمنٹ آرہی ہے؟

سہیل انجم

انتخابی مہم جوں جوں اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے یہ قیاس آرائی تیز ہونے لگی ہے کہ الیکشن میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملے گی اور معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ اس قیاس آرائی کی متعدد وجوہات ہیں۔ سب سے اہم بیان بی جے پی کے سینئر رہنما اور جنرل سکریٹری رام مادھو کا آیا ہے جنھوں نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ الیکشن میں بی جے پی سادہ اکثریت سے دور رہے۔ اگر ایسا ہوا تو اسے ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک اتحاد قائم کرنا ہوگا۔ ان کا یہ بیان اپنے آپ میں کافی اہم ہے۔ حالانکہ ان کا یہ بیان وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی صدر امت شاہ، مرکزی وزیر ارون جیٹلی اور دیگر لیڈروں کے بالکل برعکس ہے۔ ان لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی کو نہ صرف اکثریت ملے گی بلکہ وہ سابقہ انتخابات سے بھی زیادہ نشستیں جیتے گی۔ رام مادھو شکست خوردگی کا بیان دینے والے پہلے رہنما ہیں۔ ممکن ہے کہ انھوں نے یہ بات سادہ لوحی میں کہہ دی ہو یا اچانک ان کی زبان سے نکل گیا ہو اور ان کا مقصد یہ بتانا نہ رہا ہو کہ بی جے پی کو اکثریت نہیں ملے گی۔ کیونکہ اس کے بعد ہی انھوں نے این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب ہمارے پاس کنگ ہے یعنی بادشاہ ہے تو ہمیں کنگ میکر کی یعنی بادشاہ گر کی کیا ضرورت ہے۔ بادشاہ کا اشارہ نریندر مودی کی جانب ہے۔ گویا وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ بی جے پی کو ہر حال میں اکثریت ملے گی۔

لیکن ان کے بیان کے بعد اپوزیشن کے خیمے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائڈو نے کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے کئی ایشوز پر گفتگو کی جن میں وی وی پیٹ کے علاوہ مابعد نتائج کی صورت حال بھی شامل تھی۔ انھوں نے یہ تجویز پیش کی کہ نتائج آنے سے دو روز قبل یعنی 21 مئی کو دہلی میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کا ایک اجلاس طلب کیا جائے جس میں معلق پارلیمنٹ کی صورت میں کیا حکمت عملی بنائے جائے اس پر غور کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ راہل گاندھی اس پر ارضی ہو گئے ہیں۔ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ اپوزیشن رہنما 22 مئی کو صدر سے ملاقات کریں گے اور ان سے درخواست کریں گے کہ اگر الیکشن میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہ ملے اور بی جے پی سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھرے تو وہ اسے حکومت سازی کی دعوت نہ دیں بلکہ اپوزیشن کے محاذ کو بلائیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ اسی روز اپویشن جماعتوں کی جانب سے صدر کو غیر بی جے پی حکومت کی حمایت میں خطوط بھی سونپے جائیں گے۔

دراصل اپوزیشن کو اندیشہ ہے کہ اگر بی جے پی سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھری تو سابقہ تجربات کی روشنی میں یہ اندیشہ ہے کہ صدر اسی کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو بی جے پی علاقائی پارٹیوں کے ممبران کو توڑنے کی کوشش کرے گی تاکہ ایوان میں اکثریت ثابت کر سکے۔ گوا اور منی پور میں اور کرناٹک میں بھی وہاں کے گورنروں نے جو فیصلے کیے تھے ان کی روشنی میں اپوزیشن کو اندیشہ ہے کہ بی جے پی پیسوں اور طاقت کا استعمال کرکے اکثریت حاصل کر لے گی۔ اسی لیے نائڈو اور دیگر رہنما ایسی کوئی بھی صورت حال پیدا ہونے دینا نہیں چاہتے۔ جہاں تک آئین و قانون کی بات ہے تو دونوں طرح کی مثالیں موجود ہیں۔ یعنی سب سے بڑی پارٹی کو حکومت سازی کی دعوت دینا اور سب سے بڑے محاذ کو دعوت دینا۔ ماضی کی تاریخ میں دونوں قسم کی نظیریں موجود ہیں۔ یہ فیصلہ صدر کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ کس کو بلاتے ہیں اور کس کو نہیں۔ جس پارٹی یا محاذ سے ان کو ایک مستحکم حکومت دینے کی امید ہوگی وہ اس کو طلب کریں گے۔

معلق پارلیمنٹ کی قیاس آرائی کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ بی جے پی کو اتر پردیش میں بہت سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ پچھلے الیکشن میں اس نے وہاں کی 80 میں سے 73 نشستیں جیتی تھیں۔ اس بار اسے ایس پی، بی ایس پی اور آر ایل ڈی کے اتحاد کا سامنا ہے اور ایسا سمجھا جا رہا ہے کہ یہ اتحاد اس کو سخت ٹکر دے رہا ہے۔ ایسی بہت سی سیٹیں ہیں جو مذکورہ اتحاد بی جے پی سے چھین رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے یو پی میں بہت نقصان ہو رہا ہے۔ اسی لیے بی جے پی نے مغربی بنگال اور دوسری ریاستوں پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے تاکہ یو پی میں جو نقصان ہو رہا ہے اس کا ازالہ ان ریاستوں سے کیا جائے۔ لیکن ان ریاستوں سے اتنی سیٹیں جیتنا کہ خسارے کی بھرپائی ہو جائے آسان نہیں ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح بی جے پی کے رہنماؤں کے بیانات آرہے ہیں اور وہ جس طرح ہر مرحلے میں انتخابی ایجنڈہ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کو بھی اپنی کامیابی کا یقین نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دی گئی ہے۔ یہ الزامات بہت نچلی سطح تک پہنچ رہے ہیں اور اب تو تہذیب و شائستگی کا بالکل ہی فقدان ہو گیا ہے۔ اس بارے میں کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں ہے۔ سب کے دامن داغدار ہو رہے ہیں۔ کسی کا زیادہ تو کسی کا کم۔ لیکن سب کیچڑ میں غسل فرما رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ سب صرف اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ کسی کو بھی اپنی کامیابی کا یقین نہیں ہے۔

اب یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بی جے پی کو اکثریت نہیں ملی اور اپوزیشن بھی حکومت سازی کی پوزیشن میں نہیں آسکی تو کیا ہوگا۔ کیا بی جے پی این ڈی اے کی دیگر جماعتوں کے ساتھ ایک کمزور حکومت بنائے گی جیسی کہ واجپئی نے بنائی تھی یا پھر وہ حکومت سازی سے معذرت چاہ لے گی اور اس کی کوشش دوبارہ الیکشن میں جانے کی ہوگی۔ اور اگر بنے گی تو اس کا وزیر اعظم کون ہوگا۔ کچھ دنوں قبل یہ قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ اگر ایسی کوئی نوبت آئی تو نریندر مودی کے بجائے نتن گڈکری یا کسی اور لیڈر کو وزیر اعظم کے منصب پر بٹھایا جائے گا۔ کیونکہ اس صورت میں این ڈی اے کی حلیف جماعتوں کو مودی کے تحت کام کرنے میں دلچسپی نہیں ہوگی۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ خام خیالی ہے۔ اگر ایسی نوبت آئی تو حلیف جماعتیں سر کے بل چل کر جائیں گی اور مودی کی قیادت قبول کر لیں گی۔ ہاں یہ بات دوسری ہے کہ مودی ایسی کمزور حکومت کی قیادت کرنا چاہیں گے یا نہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ انھوں نے گجرات میں بھی کبھی کمزور حکومت یا اقلیتی حکومت کی قیادت نہیں کی۔ لہٰذا شاید وہ مرکز میں بھی ایک کزور حکومت کی قیادت نہ کریں۔ کچھ لوگوں کا ایسا خیال ہے۔ لیکن ہمارا خیال اس سے الگ ہے۔ وہ کمزور حکومت کی قیادت کے لیے تیار ہو جائیں گے اور پھر اپنے دست راست امت شاہ کے ساتھ مل کر کچھ ایسا کریںگے کہ حکومت اقلیت کے بجائے اکثریت میں بدل جائے۔ بہر حال یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: If india going towards a hung parliament in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.