سوامی جی کو وفاداری کا انعام

سہیل انجم
حکومت نے گزشتہ دنوں چھ افراد کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا ہے جن میں سب سے اہم نام سبرامنیم سوامی کا ہے۔ ان کے علاوہ نوجوت سنگھ سدھو، نریندر جادھو، باکسر میری کوم، ملیالم ایکٹر سریش گوپی اور صحافی سوپن داس گپتا ہیں۔ ان افراد کی نامزدگی نے کئی پیغامات دیے ہیں۔ سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ خوشامد بڑی چیز ہے، خدمت بڑی بات ہے۔ سبرامنیم سوامی کو خدمت اور خوشامد کا انعام ملا ہے۔ سبرامنیم سوامی ایک کٹر ہندوتو وادی لیڈر ہیں۔ وہ آر ایس ایس کے قریب اس وقت سے رہے ہیں جب بی جے پی نام کی پارٹی بنی ہی نہیں تھی۔ اس وقت آر ایس ایس میں دو لیڈروں پر سب کی نظریں رہتی تھیں۔ ایک اٹل بہاری واجپئی پر اور دوسرے سوامی پر۔ یہاں تک کہ بہت سے لوگ سوامی کے اندر وزیر اعظم بننے کی کوالٹی بھی دیکھنے لگے تھے۔ لیکن سبرامنیم سوامی میں دو خرابیاں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بہت عجلت پسند ہیں اور دوسرے یہ کہ بہت منہ پھٹ ہیں۔ نہ تو کسی بات پر صبر کرتے ہیں اور نہ ہی کچھ بولنے سے پہلے سوچتے ہیں کہ وہ کیا بولنے جا رہے ہیں۔ اسی لیے شاید جب بی جے پی بنی تو ان کو وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ متمنی تھے۔ لہٰذا وہ بی جے پی سے دور ہو گئے۔ یہاں تک کہ انھوں نے اپنی پارٹی بنا لی جس کے وہ واحد لیڈر رہے۔ اس دوران بھی وہ آر ایس ایس کی بھاشا بولتے رہے۔ مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کرتے رہے اور مضامین بھی لکھتے رہے۔
لیکن جب 2014 کے پارلیمانی انتخابات کا وقت آیا اور انھوں نے اپنی سیاسی سوجھ بوجھ سے یہ جان لیا کہ اس الیکشن میں بی جے پی کی جیت ہوگی اور وہی مرکز میں حکومت بنائے گی تو انھوں نے ایک لمبی چھلانگ لگائی اور تقریباً ایک سال قبل ہی یعنی اگست 2013 میں اپنی ون مین پارٹی جنتا پارٹی کو بی جے پی میں ضم کر دیا۔ اس کے بعد انھوں نے نئی دہلی حلقہ سے لوک سبھا کا ٹکٹ مانگا مگر ان کو وہ ٹکٹ نہیں ملا۔ در اصل ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انھیں یا تو لوک سبھا کا الیکشن لڑایا جائے گا یا پھر راجیہ سبھا میں بھیج دیا جائے گا۔ لیکن بہر حال لوک سبھا کا ٹکٹ نہیں ملا۔ اس کے بعد وہ اس کوشش میں لگے رہے کہ ان کو راجیہ سبھا میں بھیج دیا جائے۔ اس کے لیے وہ مسلسل محنت بھی کرتے رہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریفوں کے پل باندھتے رہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ انھوں نے کانگریس کے سب سے بڑے نیتا کو نشانہ بنایا یعنی سونیا گاندھی کو۔ ایک تو وہ سونیا گاندھی کے خلاف مسلسل بیانات دیتے رہے دوسرے انھوں نے نیشنل ہیرالڈ معاملے میں کیس کر دیا جس کی وجہ سے کانگریس اور خاص طور پر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی خاصی بدنامی ہوئی۔ بی جے پی اپنے لیے سب سے بڑا حریف گاندھی خاندان کو ہی سمجھتی ہے۔ اس لیے ان کی اس کاوش کو پارٹی کی بہت بڑی خدمت سمجھا گیا۔ بی جے پی میں سوامی کی جے جے کار ہونے لگی۔ اس کے علاوہ بھی وہ اکثر و بیشتر مواقع پر سونیا گاندھی اور ان کے بیٹے اور پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی کو نشانہ بناتے رہے۔
جب وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ نے راجیہ سبھا کی سیٹیں بھرنے کے لیے نامزدگی پر غور کیا تو سب سے پہلا چہرہ سوامی کا ہی نظر آیا۔ بی جے پی کے اندرونی ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ سوامی کو اس لیے راجیہ سبھا میں بھیجا گیا کہ انھوں نیشنل ہیرالڈ کیس میں کافی محنت کی اور اس محاذ پر لگے رہے جس سے پارٹی کو کافی فائدہ پہنچا۔ یعنی گاندھی نہرو خاندان کے خلاف محاذ کھولنا بی جے پی کے لیے فائدے کا سودا ہے۔ اس طرح ان کو پارٹی کی طرف سے وفاداری کا انعام دیا گیا۔ تاہم بیچارے راجیہ سبھا میں پہنچ تو گئے لیکن اس کے آداب سے واقف نہیں ہیں۔ وہ کبھی ملک کے اس اعلی ترین ادارے کے رکن نہیں رہے نا اس لیے ان کو معلوم ہی نہیں ہے کہ اس ایوان میں کیسے رہا جاتا ہے اور کیسے بولا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ابھی دو ہی روز پارلیمنٹ میں بحیثیت ممبر گئے اور دونوں روز زبان چلائی۔ لیکن اتفاق ایسا کہ دونوں روز ان کی زبان بہک گئی اور ان کے جملے ایوان کارروائی سے نکال دینے پڑے۔ اس پر کانگریس نے خوب چٹکی لی۔ سینئر کانگریسی لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ یہ تو ملک کو بی جے پی کا تحفہ ہیں اور انھیں پتہ ہی نہیں کہ اس ایوان کے آداب کیا ہیں۔ دو روز میں دو بار ان کے جملے کارروائی سے نکالنے پڑے۔ سوامی جی کو تو گلی کی بھاشا اور ا س ایوان کی بھاشا میں کوئی تمیز ہی نہیں ہے۔ ابھی تو ابتدائے عشق ہے۔ ابھی تو دو ہی بار ان کی زباندانی نے بی جے پی کو شرمندہ کیا ہے۔ ابھی تو چھ سال تک جھیلنا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کچھ آداب سیکھتے ہیں یا اسی طرح بے ادبی کرتے رہتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ صرف پڑھا لکھا ہونا ہی باادب ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کی تعلیم زیادہ نہیں ہے لیکن ان کو معلوم ہے کہ اس ایوان کا کیا وقار ہے اور اس وقار کو کیسے برقرار رکھنا ہے۔
تعلیم کی بات آئی ہے تو بتا دیں کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیم کا کچھ پتا نہیں کہ وہ کتنا پڑھے لکھے ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجری وال نے چیف انفارمیشن کمشنر کو ایک خط میں لکھا ہے کہ آپ مودی جی کی تعلیمی لیاقت کو چھپائیں نہیں بلکہ سب کو بتائیں کہ وہ کتنا پڑھے لکھے ہیں۔ ملک کو ان کی تعلیمی لیاقت کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔ یعنی مودی جی کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں تو لوگوں کو معلوم نہیں لیکن انھیں ایوان کے آداب بہر حال کچھ نہ کچھ تو آتے ہی ہیں۔ اگر چہ انھوں نے بھی ایوان میں کچھ ایسی باتیں کہی ہیں جو سنجیدگی کے برخلاف ہیں اور جن میں طنز کے نشترپروئے ہوئے ہیں لیکن انھوں نے کبھی ایسا کچھ نہیں کہا کہ ان کے جملے ایوان کی کارروائی سے نکالنے پڑے ہوں۔
بہر حال سبرامنیم سوامی کو راجیہ سبھا میں بھیج کر مودی امت کی جوڑی نے یہ بتا دیا کہ پارٹی پر صرف انھی دونوں کی پکڑ ہے۔ ان لوگوں نے اس بارے میں کسی سے مشورہ تک نہیں کیا۔ البتہ ارون جیٹلی سے جو کہ اس وقت حکومت میں دوسرے نمبر کے مالک ہیں مشورہ کیا گیا۔ لیکن کسی اور سے نہیں۔ اس سے ایک بات یہ بھی واضح ہوتی ہے کہ آئندہ بھی حکومت اور پارٹی میں جو کچھ ہوگا اس کا فیصلہ یہی دونوں لوگ کریں گے۔ کابینہ میں توسیع ہونے والی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 19 مئی کو کابینہ میں توسیع کی جائے گی۔ اس تاریخ کو ہی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج آئیں گے۔ اس تاریخ کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ اگر بی جے پی کی کارکردگی اچھی نہیں رہی اور اپوزیشن جماعتیں زیادہ کامیاب رہیں تو بی جے پی کی شکست اور اپوزیشن کی کامیابی کی خبریں کابینہ توسیع کی خبر میں دب جائیں اور اگر بی جے پی کو زیادہ کامیابی ملتی ہے تو یہ کہا جائے کہ آج بی جے پی کے لیے دوہری خوشی کا موقع ہے۔ ایک تو انتخابی کامیابی کا اور دوسرے کابینہ توسیع کا۔ بہر حال دیکھنا یہ ہے کہ اس روز کیا کیا تماشے ہوتے ہیں۔
جہاں تک دوسروں کی نامزدگی کا معاملہ ہے تو نوجوت سنگھ سدھو کو اس لیے راجیہ سبھا میں نامزد کیا گیا کہ وہ پارٹی بدلنے والے تھے۔ وہ امرتسر سے ایم پی رہے ہیں۔ لیکن ان کی سیٹ پر ارون جیٹلی کو لڑایا گیا تھا جس میں وہ ہار گئے تھے۔ اس کے بعد سے ہی وہ پارٹی سے خفا تھے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ وہ پالا بدل لیں انھیں راجیہ سبھا میں بھیج کر ان کا راستہ بند کر دیا گیا۔ میری کوم کی نامزدگی نہ صرف ان کے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی حیران کن رہی۔ لیکن ایسا کرکے در اصل یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ حکومت کے نزدیک کھلاڑیوں کی بڑی عزت ہے۔ ملیالم ایکٹر کو اس لیے لایا گیا تاکہ نائر برادری کے ووٹ اور ان کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ سریش گوپی نائر ہیں۔ اس کا مقصد نائر برادری سے تعلق رکھنے والے ششی تھرور کی کاٹ بھی کرنی تھی۔ سوپن داس گپتا کو اس لیے بھیجا گیا کہ وہ نیوز چینلو ںاور اخباروں میں نریندر مودی اور ان کی حکومت کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ گویا خدمت، چمچہ گیری اور خوشامد بڑی چیز ہے۔ لگے رہیے کبھی نہ کبھی تو فائدہ ہوگا ہی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: If bjp rewarded subramanian swamy in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply