کاش دلوں کے کاریڈور بھی کھل جاتے!

سہیل انجم

ہم نے بارہا یہ بات لکھی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان عجیب و غریب ہمسائے ہیں۔ ان میں کب دوستی کی پینگیں چلنے لگیں اور کب دشمنی کی آتش جوالہ بھڑک اٹھے کہنا مشکل ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ کیا کسی کو اس کا وہم و گمان تھا کہ سکھ مت کے بانی بابا گورونانک دیو جی مہاراج کی550 ویں سالگرہ دونوں ملکوں کے باہمی رشتوں میں ایک نئی صبح کی نوید بن جائے گی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوا کہ اس موقع پر دونوں ملکوں کے باہمی رشتے سدھر گئے یا دونوں نے جامع مذاکرات کا آغاز کر دیا لیکن یہ تو ہوا کہ کرتارپور کاریڈور کے بہانے سرحد کی دونوں جانب خوشگوار ہوائیں چلنے لگیں اور فضائیں خیرسگالی کے جذبات سے معطر ہو گئیں۔

کرتارپور صاحب پاکستان کی سرحد کے اندر ہے۔ وہاں گرونانک جی کی آخری آرام گاہ ہے۔ وہاں انھوں نے اپنی زندگی کے 18 سال گذارے تھے۔ ہندوستان کے سکھ ایک عرصے سے بلکہ 70 برسوں سے کرتارپور صاحب کے خوش اسلوبی سے درشن کی امنگیں دلوں میں پالے ہوئے تھے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ بیس برسوں سے پاکستان سے کرتارپور صاحب راہداری کھولنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور اب جا کر اس نے مثبت جواب دیا یعنی راہداری کی تعمیر کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ پاکستان اس تاخیر کے لیے ہندوستان کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ ایسا دونوں ملکوں میں اکثر ہوتا رہتا ہے۔ یعنی تمھی سے محبت تمھی سے لڑائی والی کیفیت ہمیشہ قائم رہی ہے۔

خیر اس بار پاکستان میں ایک سابق کرکٹر عمران خان کی پارٹی کامیاب ہو گئی اور وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہو گئے۔ انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں ہندوستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور یہاں تک کہا کہ اگر ہندوستان ایک قدم آگے بڑھے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔ انھوں نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں ہندوستان کے ایک سابق کرکٹر اور پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو کو مدعو کیا۔ دونوں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ سدھو چلے گئے اور انھوں نے نہ صرف اس تقریب میں شرکت کی بلکہ انھوں نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجواکو ایک جھپی بھی دے دی۔ جس پر ہندوستان میں تنازعہ پیدا ہونا فطری تھا سو ہوا۔ لیکن سدھو کے بقول اس جھپی سے ایک اچھی بات یہ نکلی کہ باجوانے ان سے کہا کہ پاکستان کرتارپور راہداری کھولنے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے یہ بیان دیا لیکن ہندوستان میں کسی کو اس پر یقین نہیں آیا۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ پاکستان کی فوج نے ہندوستان سے کبھی بھی ہمدردانہ رویے کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ سرحد پر سیز فائر کی خلاف ورزی کی اس کی عادت پڑ گئی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وہ سرحد پار سے دہشت گردوں کو ہندوستان میں داخل بھی کرواتی ہے۔ اس کے لیے وہ دراندازوں کو کور فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں کسی نے باجوا کی بات پر یقین نہیں کیا۔ تاہم پاکستانی اخبارات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے 28 نومبر کو کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

اسی دوران ہندوستان کی کابینہ نے کرتارپور راہداری کی تعمیر کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے اپنی سرحد کے اندر ڈیرہ نانک پر اس کاسنگ بنیاد رکھنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ اس راہداری پر ہر قسم کی سہولت موجود ہوگی۔ یعنی سکھ یاتریوں کو وہاں ویزا اور کسٹم کی سہولت بھی فراہم ہوگی۔ ادھر پاکستان نے 28 نومبر کی تقریب سنگ بنیاد میں ہندوستان کی وزیر حارجہ سشما سوراج کو مدعو کیا۔ لیکن وہ اپنی پیشگی مصروفیت کی وجہ سے نہیں جا سکیں۔ البتہ انھوں نے دو مرکزی وزرا ہرسمرت کور بادل اور ہردیپ سنگھ پوری کو وہاں بھیجنے کا اعلان کر دیا۔ عمران خان نے سدھو کو ایک بار پھر بلایا اور سدھو پھر گئے۔جہاں ان کی بڑی پذیرائی ہوئی۔

بہر حال عمران خان نے سنگ بنیاد رکھا اور اعلان کیا گیا کہ سکھ یاتریوں کو کرتارپور صاحب کے درشن کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ڈیرہ نانک سے کرتارپور کا فاصلہ محض چند کلومیٹر کا ہے۔ یہ اعلان کیا گیا کہ یاتری راہداری سے کرتارپور جائیں اور درشن کرکے اسی روز واپس لوٹ آئیں۔ سنگ بنیاد کی تقریب کے دوران بڑا جذباتی منظر رہا۔ ہو بھی کیوں نہ۔ سکھوں کی ایک دیرینہ خواہش مراد پوری ہو رہی تھی۔ کرتارپور سکھوں کے لیے ایسے ہی مقدس ہے جیسے کہ مسلمانوں کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ۔ لہٰذا جب ان کو وہاں جانے کی اجازت مل گئی تو سکھوں میں خوشی و جذبات کی لہر دوڑجانا فطری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سدھو نے بھی خوشی سے سرشار جذباتی تقریر کی اور ہرسمرت کور نے بھی۔ عمران خان نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا اور دوسروں نے بھی۔

تقریب کے دوران بار بار یہ بات سامنے آئی کہ اس کاریڈور سے دونوں ملکوں کے مابین دوستی پروان چڑھے گی۔ نفرت کی فضا پیار کے ماحول میں بدل جائے گی۔ ایسا ہونا بھی چاہیے۔ کیونکہ کوئی بھی مذہب نفرت نہیں سکھاتا۔ ہر مذہب پیار محبت کی تلقین کرتا ہے۔ اور اگر سکھ مت کی وجہ سے دونوں ملکوں میں دوستانہ رشتے قائم ہو جائیں تو یہ بہت بڑی بات ہوگی۔ لیکن کیا ایسا ممکن ہے۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ جب بھی ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں تو بعض طاقتوں کے پیٹ میں مروڑ ہونے لگتا ہے اور کوئی نہ کوئی ایسی واردات انجام دے دی جاتی ہے جو ماحول کو خراب کر دے اور دوستی کی خوشبو کی جگہ نفرت و کشیدگی کی ناگوار بو پھیل جاتی ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نے اچانک پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وہاں کے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔ لیکن اس کے بعد ہی پٹھان کوٹ کے فوجی ٹھکانے پر حملہ کر دیا گیا۔ اس لیے اس بار بھی دل کی دھڑکن بڑھ گئی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کچھ گڑ بڑ ہو جائے۔

ایسی کسی انہونی کو ٹالنے کے لیے ہی ہندوستان نے اعلان کیا ہے کہ کرتارپور راہداری کی تعمیر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں ملکوں میں جامع مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔ دونوں باتیں الگ الگ ہیں۔ دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ وزیر حارجہ سشما سوراج نے بجا طور پر کہا کہ جب تک پاکستان کی جانب سے دہشت گردی بند نہیں کی جائے گی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہاں کی فوج اور سویلین حکومت دونوں ایک پیج پر ہیں یعنی دونوں مسائل میں متفق ہیں۔ کیا عمران خان اپنے ملک کی فوج کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہو سکیں گے کہ وہ ہندوستان مخالف رویہ ترک کر دے اور ہندوستان کو ایک دشمن ملک کے بجائے ایک دوست ملک کی مانند دیکھنا شروع کر دے۔ کیا جنرل قمر جاوید باجوا سے کوئی ایسی غلطی نہیں ہو سکتی کہ یہ خوشگوار فضا ناگواری میں نہ بدل جائے۔

یہ معاملہ بہت نازک ہے۔ لیکن اگر پاکستان کی فوجی قیادت چاہے تو اس کی نزاکت کو ختم کر سکتی ہے۔ وہ اگر اپنی پالیسی میں بنیادی تبدیلی لے آئے تو کرتارپور راہداری کھلنے کے ساتھ ساتھ دلوں کی راہداری بھی کھل جاے گی۔ کاش ایسا ممکن ہوتا۔ جس دن ایسا ہوا پورے برصغیر میں امن کی کھیتی لہلہا اٹھے گی اور خطہ جنت کا نمونہ بن جائے گا۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: I wish corridors of hearts too open up in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment