”فردوس بر روئے زمیں“ سیاست کی بھینٹ کب تک چڑھتی رہے گی؟

سہیل انجم

اس بات کو بار بار بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ یعنی لازمی حصہ ہے۔ ایک ایسا حصہ جسے کسی بھی قیمت پر اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کے باوجود پڑوسی ملک پاکستان کی جانب سے بار بار اسے توڑنے یا ہندوستان سے الگ کرانے کی کوششیں اور سازشیں عمل میں آتی رہتی ہیں۔ اس کے لیے وہ دو محاذوں پر کام کر رہا ہے۔ ایک داخلی محاذ پر اور دوسرے خارجی محاذ پر۔ داخلی محاذ پر ہمیشہ سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اور خارجی محاذ پر وقتاً فوقتاً مہم جوئی کی جاتی ہے۔ داخلی محاذ یعنی کشمیر کے علاحدگی پسندوں کی تحریک کی حمایت اور ہر طرح سے حمایت کا جاری رکھنا۔ یعنی سیاسی، اخلاقی اور مالی امداد کے ذریعے اور اس کے ساتھ ہی جنگجوئیت میں مبتلا عناصر کی ہتھیاروں سے مدد بھی کی جاتی ہے۔ اس بارے میں سیاست داں بھی سرگرم رہتے ہیں اور فوج بھی۔ سیاست داں جہاں بیانات کے ذریعے اس مسئلے کو گرمائے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں وہیں فوج سرحد پر جنگجوؤں اور دراندازوں کو ہندوستان کی سرحد کے اندر داخل کرانے کی کوشش کرتی ہے۔ بعض اوقات وہ اس میں کامیاب ہو جاتی ہے اور بعض اوقات درانداز ہندوستانی افواج کی جوابی کارروائیوں میں فنا کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے ہر سال پانچ فروری کو کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے۔ اس دن پاکستان میں کشمیر کے بارے میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور جلسے جلوس منعقد کیے جاتے ہیں اور ہندوستان کے خلاف اپنی بھڑاس نکالی جاتی ہے۔ جبکہ گزشتہ کئی برسوں سے اس دن لندن میں ایک کشمیر کانفرنس کی جاتی ہے۔ امسال یہ کانفرنس برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ایوان نمائندگان میں منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس کے انعقاد سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور علاحدگی پسند مگر معتدل لیڈر میر واعظ عمر فاروق کو دو بار فون کیا اور ان کو کشمیر کانفرنس کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ حکومت ہند نے اس کی مخالفت کی اور پاکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے عمر فاروق کو فون کیے جانے کو ہندوستان کے اندرونی امور میں مداخلت قرار دیا۔ اس نے برطانوی حکومت سے بھی احتجاج کیا اور وہاں کی پارلیمنٹ میں منعقد ہونے والی کشمیر کانفرنس کی مخالفت کی۔ اس نے وہاں کی حکومت پر زورد یا کہ چونکہ یہ معاملہ ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے اس لیے وہ اس سلسلے میں مناسب کارروائی کرے۔

برطانیہ میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کی کوریج کے لیے جہاں دوسرے ملکوں کے میڈیا نمائندوں کو بلایا گیا وہیں ہندوستانی میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ اپنی دانست میں کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں تو آپ ہندوستانی میڈیا کو اس کی کوریج سے کیوں روک رہے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ آپ حقیقی صورت حال کو دنیا کے سامنے لانے کی ہندوستانی صحافیوں کی کوششوں کو روکنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس سے الگ ہٹ کر باعث اطمینان بات یہ رہی کہ اس کشمیر کانفرنس کو میڈیا نے کوئی بہت کوریج نہیں دی۔ دوسری بات یہ کہ خود برطانیہ نے ہندوستان کو بتایا کہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ اس مسئلے کو دونوں ملک بات چیت کی مدد سے حل کریں۔ دوسرے ممالک بھی یہی موقف رکھتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان کی جانب سے بار بار یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ کسی تیسرے ملک کو اس میں شامل کرایا جائے اور اس کی مدد سے اسے حل کیا جائے۔ لیکن کوئی تیسرا ملک بھی اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ چونکہ تمام ممالک اسے دوطرفہ مسئلہ مانتے ہیں اس لیے وہ اس میں مداخلت کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ پاکستان بار بار استصواب رائے کی بات کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے بہت آگے نکل گیا ہے۔ یعنی استصواب رائے ایک فرسودہ معاملہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان شملہ سمجھوتہ ہوا اور لاہور اعلانیہ جاری ہوا اور دونوں میں باہمی گفت و شنید سے مسئلے کو حل کرنے پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے نہ کہ استصواب رائے کی مدد سے۔ لیکن پاکستان ان دونوں معاہدوں کی بات نہیں کرتا وہ بس ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہے یعنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں اسے حل کرنا۔

پاکستان بار بار اس مسئلے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی بھی کوشش کرتا رہتا ہے۔ وہ کبھی برطانیہ میں کشمیر کانفرنس کرے گا تو کبھی اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اسے اٹھائے گا۔ وہ اس معاملے میں ہندوستان کو ایک ویلن بنا کر پیش کرتا ہے اور الزام لگاتا ہے کہ ہندوستان کشمیری عوام پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ لیکن وہ اس کی کوئی بات نہیں کرتا کہ وہاں جنگجوؤں کی جانب سے کس طرح ہندوستان کے خلاف ایک جنگ چھیڑی ہوئی ہے اور دہشت گردانہ وارداتوں سے کس طرح کشمیری عوام کی زندگی جہنم بنی ہوئی ہے۔ وہ دہشت گردی کو جنگ آزادی قرار دیتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بات چیت کی آواز اٹھائی جاتی رہی ہے اور ہندوستان بھی بات چیت سے اس مسئلے کو حل کرنے کے حق میں ہے۔ لیکن ہندوستان کا یہ موقف بھی ہے کہ بات چیت اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتی اور یہ بات درست بھی ہے۔ وزیر اعظم نریند رمودی اور وزیر خارجہ سشما سوراج کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ بموں کے دھماکوں کی آواز میں امن کی آواز سنائی نہیں دے گی۔ لہٰذا پہلے وہاں دہشت گردی بند ہو اور عسکریت پسند اپنے ہتھیار رکھ دیں اس کے بعد ہی بات چیت کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔ لیکن نہ تو عسکریت پسند اس کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی پاکستان۔ پاکستان اگر کشمیری عوام کا ہمدرد ہے تو اسے عسکریت پسندوں کی مدد و حمایت بند کرنی ہوگی۔ وہ کشمیر کانفرنس کرے مگر اس کا مقصد مسئلے کو اور الجھانا نہ ہو بلکہ اسے حل کرانا ہو۔

وزیر اعظم ہند نریندر مودی کہہ چکے ہیں کہ وہ کشمیر کو ایک پرامن ریاست دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ وہاں ترقیاتی سرگرمیوں کا جال بھی بچھانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے کئی پروجکٹ بھی چلا رکھے ہیں۔ لیکن یہ ترقیاتی سرگرمیاں اسی وقت وقوع پذیر ہو سکتی ہیں جب ایک سازگار ماحول ہو اور پرامن فضا ہو۔ کشمیر جنت ارضی ہے۔ زمین کی جنت ہے۔ لیکن بندوقوں اور گولیوںکی تڑتڑاہٹ اور بموں کے دھماکوں نے اس جنت کو جہنم میں تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان کی سیاست نے بھی اس کے حسن کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ پاکستان بھی اس خطہ ارضی کی ماضی کی عظمتوں اور اس کے حسن کی بازیابی میں تعاون دیتا۔ وہ اگر کشمیری عوام کا واقعی ہمدرد ہے تو اسے اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: How long kashmir to suffer in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment