کشمیر میں تاریخ خود کو دوہرا رہی ہے

سہیل انجم

جموں و کشمیر میں ایک بار پھر تاریخ نے خود کو دوہرایا ہے۔ ایک بار پھر منتخب حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور گورنر راج نافذ ہو گیا۔ پاکستان میں اتنی بار مارشل لا نہیں لگا جتنی بار کشمیر میں گورنر راج لگ گیا۔ حالانکہ مرکز کی جانب سے بارہا اس کی کوشش کی گئی کہ ایسا نہ ہو لیکن وہ ہو کر رہا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ گورنر راج کے نفاذ سے قبل ایک سینئر اور معتبر صحافی اور رائزنگ کشمیر و بلند کشمیر کے ایڈیٹر و مالک شجاعت بخاری اور ایک فوجی جوان اورنگ زیب کا وحشیانہ قتل ہوا۔ شجاعت بخاری کشمیر میں امن کے حامی تھے۔ وہ خون خرابہ کے دشمن اور مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کی مدد سے حل کرنے کے طرفدار تھے۔ وہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی یعنی درپردہ مذاکرات کے انعقاد میں شامل رہے ہیں۔ وہ نہ تو حکومت کے طرفدار تھے اور نہ ہی عسکریت پسندوں کے حامی۔ اسی لیے ان کی زندگی ہمیشہ خطرے میں رہی۔ اس سے قبل دو بار ان کا اغوا ہو چکا تھا مگر دونوں بار قسمت نے ان کا ساتھ دیا اور وہ بچ کر نکل آئے۔ لیکن اس بار موت نے ان کو تاک لیا تھا اور حملہ آوروں نے لال چوک کے مصروف علاقے میں اور افطار سے عین قبل ان کو گولیاں سے بھون دیا۔ ان کے قتل پر پورے ملک میں غصہ اور ناراضگی کا مظاہرہ جاری ہے۔ کشمیر کے صحافیوں نے ان سے اظہار یکجہتی کی غرض سے 20 جون کو اپنے اخباروں میں اداریہ شائع نہیں کیا۔ اس کی جگہ انھوں نے خالی چھوڑ دی۔ یہ بھی احتجاج کا ایک طریقہ ہے۔ جب ملک میں ایمرجنسی لگی تھی تو بہت سے اخباروں نے اداریہ کی جگہ کو سیاہ کر دیا تھا۔ 21 جون کو سری نگر میں شجاعت بخاری کے قتل کے خلاف مظاہرہ کیا گیا اور کاروبار بند رکھا گیا۔ شجاعت کا قتل بلا شبہ امن کا قتل ہے اور انسانیت کا گلا گھونٹنا ہے۔

اسی طرح رائفل مین اورنگ زیب کا قتل بھی انسانیت کا قتل ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اورنگ زیب پہلا فوجی ہے جسے ہلاک کیا گیا۔ اس سے پہلے جانے کتنے فوجی مارے گئے اور اس کے بعد بھی مارے گئے ہیں۔ اورنگ زیب چھٹی لے کر گھر جا رہا تھا تاکہ اپنے گھر والوں کے ساتھ عید منا سکے۔ لیکن راستے میں اسے دہشت گردوں نے اغوا کیا اور پھر ہلاک کر دیا۔ اس کے قتل سے پہلے کا ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں اسے ایک درخت سے باندھا گیا ہے اور اس سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ اورنگ زیب ایک بڑے عسکریت پسند کو ہلاک کرنے والی ٹیم میں شامل تھا۔ اسی لیے اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس کے قتل پر بھی کشمیر میں غم و غصے کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے اہل خانہ نے اس کے قاتلوں سے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے والد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے بیٹے کے قاتلوں کو کیفر کرادر تک پہنچائے۔ اس کے اہل خانہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر سیکورٹی فورسز نے ایسا نہیں کیا تو وہ لوگ خود قاتلوں کو تلاش کرکے انھیں موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔ پہلے آرمی چیف جنرل بپن راوت اور پھر وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے اس کے گھر جا کر اس کے والدین اور دیگر اہل خانہ سے ملاقات کی ہے اور انھیں دلاسہ دیا ہے۔

بہر حال یہ دونوں واقعات کشمیر میں صدر راج نافذ کیے جانے سے عین قبل پیش آئے۔ ان واقعات نے حکومت کے اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے اس سے پہلے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ حکومت نے رمضان کے مقدس مہینے میں فائر بندی کا اعلان کیا تھا یعنی دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائی یکطرفہ طور پر روک دی تھی لیکن اس کا فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اگر اس کا مثبت جواب دیا گیا ہوتا تو ممکن ہے کہ اس فیصلے کو آگے بڑھا دیا جاتا۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو ممکن تھا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ایک اور صدر راج کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ جب 2015 میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے اور کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملی تھی اور ایک معلق اسمبلی وجود میں آئی تھی تو پی ڈی پی کے صدر مفتی محمد سعید اور وزیر اعظم نریند رمودی نے ایک مخلوط حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پی ڈی پی سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھری تھی۔ اسے کشمیر میں اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ بی جے پی دوسری بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھری تھی۔ اسے جموں کی تمام سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ حالانکہ دونوں پارٹیوں کے نظریات میں زمین آسمان کا فرق تھا جسے اردو میں بعد المشرقین کہیں گے۔ یعنی ایک مشرق ہے تو دوسرا مغرب۔ اس وقت مفتی سعید نے کہا تھا کہ دونوں جماعتیں نارتھ پول اور ساوتھ پول ہیں۔ لیکن دونوں کا ملن اس لیے ہوا تھا کہ ریاست کو ایک منتخب حکومت فراہم کی جا سکے۔ اس حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے شرکت کی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا جب ریاست میں کسی حکومت کی حلف برداری میں وزیر اعظم شریک ہوئے ہوں۔ ان کے علاوہ بی جے پی صدر امت شاہ، سینئر رہنما ایل کے آڈوانی، راج ناتھ سنگھ اور دیگر کئی مرکزی وزرا بھی تقریب حلف برداری میں موجود تھے۔

مفتی سعید کے انتقال کے بعد دونوں جماعتوں نے پھر مخلوط حکومت قائم کی۔ حالانکہ اس بار محبوبہ مفتی نے اس کا فیصلہ کرنے میں کافی وقت لیا تھا۔ بہت پس و پیش کے بعد انھوں نے اپنے والد کے فارمولے کو اپنایا اور بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔ اس موقع پر ایک ایجنڈا آف الائنس یعنی اتحاد کا ایجنڈہ تیار کیا گیا تھا اور یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اسی کے مطابق حکومت چلے گی۔ بی جے پی ہمیشہ جموں و کشمیر کو خصوصی اختیارات دینے والی دفعہ 370 کی مخالف رہی ہے اور اسے ختم کرنے کی وکالت اور مطالبہ کرتی رہی ہے۔ لیکن اس نے اس حکومت کے دوران اس کو نہیں چھیڑا۔ اگر چہ سپریم کورٹ میں دفعہ 370 اور دفعہ 35 کو ہٹانے کے لیے مقدمات قائم کیے گئے لیکن بی جے پی نے بحیثیت پارٹی اس کی حمایت نہیں کی۔ اس کا مقصد صرف یہی تھا کہ یہ حکومت چلتی رہے۔ حالانکہ اسے کچھ لوگ اس کی موقع پرستی قرار دے رہے ہیں۔ ادھر پی ڈی پی پولیس اور فورس کو خصوصی اختیارات تفویض کرنے والے قانون ”افسپا“ یعنی آرمڈ فوسرز اسپیشل پاور ایکٹ (AFSPA) کو ہٹانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سے فورسز کو بہت زیادہ اختیارات ملتے ہیں اور عوام کو دشواریاں ہوتی ہیں۔ لیکن نہ تو دفعہ 370 ختم ہوئی اور نہ ہی افسپا ہٹایا گیا۔ یعنی اسے یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے موقف میں نرمی کا مظاہرہ کیا۔ ادھر وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی درخواست پر دس ہزار سے زائد پتھرباز نوجوانوں پر سے مقدمات اٹھا لیے گئے۔ مرکزی حکومت نے ریاست کے لیے 80 ہزار کروڑ روپے کا پیکج دیا۔ دوسرے کئی فلاحی پروگرام چلائے گئے۔ کئی پروجکٹوں کو مکمل کیا گیا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اسکیمیں جاری کی گئیں۔ تازہ معاملہ رمضان میں سیز فائر کا تھا۔ محبوبہ کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ لیکن جب اس کا کوئی مثبت جواب نہیں آیا تو اسے آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس دوران سیکورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن چلائے گئے۔ ان تین برسوں میں جتنے دہشت گرد مارے گئے پہلے کبھی نہیں مارے گئے تھے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سویلینس بھی بہت ہلاک ہوئے ہیں۔ سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کے مطابق سیکورٹی فورسز نے چار دہشت گردوں کے خلاف آپریشن چلایا تو اس میں بیس سویلین ہلاک ہوئے۔ انھوں نے اسے منظم قتل عام قرار دیا ہے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ پلوامہ میں جہاں 13 سویلین مارے گئے وہیں صرف ایک دہشت گرد مارا گیا۔ در اصل 2016 میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد دہشت گردی میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا۔ بہت سے نوجوان دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو گئے۔ یہاں تک کہ کئی پروفیسروں اور ڈاکٹروں وغیرہ نے بھی ہتھیار اٹھا لیے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اس رجحان کے لیے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے مخلوط حکومت سے الگ ہونے پر بھی بی جے پی پر تنقید کی ہے۔ لیکن بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس نے قومی سلامتی اور ملکی مفاد میں یہ فیصلہ کیا۔ اس کے مطابق چونکہ اس حکومت کے دوران دہشت گردی کم نہیں ہوئی اور نہ ہی حالات میں بہتری آئی اس لیے مجبور ہو کر یہ فیصلہ کرنا پڑا۔

بہر حال اب ریاست میں گورنر راج لاگو ہو گیا ہے۔ گورنر نے بڑے پیمانے پر افسران کا تبادلہ کیا ہے۔ فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے جلد از جلد الیکشن کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ پارلیمانی الیکشن کے ساتھ وہاں ریاستی الیکشن بھی کرا لیا جائے گا۔ بی جے پی کے اس فیصلے پر الگ الگ رائیں ظاہر کی جا رہی ہیں اور کی جاتی رہیں گی۔ لوگ اپنے اپنے انداز میں اس کی تاویل کریں گے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ ایک بار پھر جموں و کشمیر گورنر راج میں داخل ہو گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب حالات کیا کروٹ لیتے ہیں۔ دہشت گردی کم ہوتی ہے یا مزید بڑھتی ہے۔ معمول کے حالات لوٹتے ہیں یا دن بہ دن خراب ہوتے ہیں۔ وقت بتائے گا کہ کشمیر کے لیے اس کی جھولی میں کیا ہے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: History repeating itself in kashmir in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply