ہاشم پورہ فیصلہ: انصاف سے کم انصاف

سہیل انجم

عدالتی اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر ناانصافی کے مترادف ہے۔ اور اگر انصاف جرم کی شدت و سنگینی کے مساوی نہ ہو تو پھر وہ حقیقی انصاف بھی نہیں۔ میرٹھ کے ایک محلہ ہاشم پورہ کے 38 بے قصور مسلمانوں کو پی اے سی کے جوانوں نے جس وحشیانہ انداز میں گولی مار کر قتل کیا اور گنگ نہر میں پھینک دیا تھا وہ بہت بھیانک جرم تھا، اب 31برسوں کے طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد پی اے سی کے ان جوانوں کو محض عمر قید کی سزا سنانا حقیقی معنوں میں انصاف نہیں بلکہ انصاف سے کم انصاف ہے۔ لیکن جس طرح پولیس اور ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اس سنگین جرم کو چھپانے، اس کے شواہد کو ملیا میٹ کرنے، ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے اور پی اے سی کے قاتل جوانوں کو بچانے کی کوشش کی گئی اس کی روشنی میں دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ امید کا چراغ جلائے رکھنے کے مترادف ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ ہمارے ملک کی عدلیہ اب بھی مذہبی تعصبات سے بہت حد تک پاک ہے اور اگر اس کے سامنے صحیح طریقے سے ثبوت و شواہد پیش کیے جائیں تو وہ انصاف کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتی۔ حالانکہ اس سے قبل دہلی کی تیس ہزاری عدالت نے تمام ملزموں کو ثبوتوں کے فقدان میں بری کر دیا تھا۔ لیکن جب استغاثہ نے جنرل ڈائری پیش کی، جسے اب تک پولیس و انتظامیہ کی جانب سے چھپایا جاتا رہا ہے، تو معزز عدالت نے اس کی بنیاد پر تمام ملزموں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ اس معاملے میں کل 19 ملزم تھے جن میں سے تین کی موت ہو چکی ہے۔ یعنی اب ملزموں کی تعداد 16 ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ہاشم پورہ قتل عام کو مسلمانوں کا نشانہ بند قتل قرار دیا ہے۔ یعنی جان بوجھ کر اور قصداً ان کو قتل کیا گیا۔ عدالت نے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ادارہ جاتی تعصب کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ 1987 میں جب بابری مسجد کا قفل کھول دیا گیا تھا تو ملک کے مختلف حصوں میں فسادات برپا ہو گئے تھے۔ میرٹھ میں بھی فساد چھڑ گیا تھا۔ اسی دوران پی اے سی کو فساد پر قابو پانے کے لیے تعینات کر دیا گیا۔ پی اے سی کا رول مسلمانوں کے تعلق سے کبھی بھی صاف نہیں رہا۔ اس کے اندر موجود تعصب سے ہر کوئی واقف ہے۔ اس کے باوجود جہاں جہاں فسادات ہوتے پی اے سی تعینات کر دی جاتی۔ کرفیو کا نفاذ ہر جگہ ہوتا لیکن اس پر عمل صرف مسلم علاقوں میں ہوتا اور ہندو علاقے پوری طرح آزاد رہتے۔ بہر حال فسادات کے دوران ایک جگہ مسلمانوں کی میٹنگ ہو رہی تھی کہ پی اے سی کے جوان پہنچ گئے اور انھوں نے 42 مسلم نوجوانوں کو اکٹھا کیا اور ایک ٹرک میں بٹھا کر غازی آباد کے پاس گنگ نہر کے نزدیک لے گئے۔ جہاں اس نے انھیں انتہائی بے دردی سے گولیاں ماریں اور ان کی لاشیں گنگ نہر میں پھینک دیں۔ کل 38 افراد جائے واردات پر ہلاک ہوئے۔ جو بچ گئے وہ اس وجہ سے بچ گئے کہ پی اے سی کے جوانوں نے انھیں مردہ تصور کر لیا تھا۔ ان میں سے کئی نے خود کو پانی میں ایک مردہ کی مانند کافی دیر تک رکھا اور پھر پولیس گاڑی جانے کے بعد کسی طرح تیر کر باہر آئے تھے۔ لیکن بعد میں ان مقتولین کے ورثا صرف گیارہ افراد کی لاشیں شناخت کر سکے۔ اس سنگین اور وحشیانہ جرم کے بعد جو بچ گئے تھے انھوں نے جب اپنی روداد سنائی تو سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ نہ صرف پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں زبردست طوفان اٹھ گیا۔ لیکن یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔

غازی آباد کی مقامی عدالت میں معاملہ پیش ہوا اور گیارہ سال بعد یعنی 1996 میں پہلی فرد جرم داخل کی گئی۔ کیس کی سماعت انتہائی سست رفتاری سے جاری رہی۔ ہاشم پورہ کے مسلمانوں نے مقامی عدالتی کارروائی پر اپنی بے اطمینانی کا اظہار کیا تو سپریم کورٹ کے حکم پر اسے 2002 میں دہلی کی تیس ہزاری عدالت میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد 2006میں ایک تازہ فرد جرم داخل کی گئی۔ عدالت نے 2015 میں فیصلہ سنایا۔ اس نے یہ تو تسلیم کیا کہ قتل عام ہوا ہے لیکن ثبوتوں کے فقدان میں تمام ملزموں کو بری کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے متاثرین کے زخموں پر مرہم پاشی کی غرض سے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

اس فیصلے پر ہاشم پورہ کے مسلمانوں کے ساتھ تمام انصاف پسند افراد میں مایوسی چھا گئی۔ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اب اس معاملے میں انصاف نہیں ملے گا۔ لیکن قومی انسانی حقوق کمیشن نے نئے ثبوتوں کے ساتھ دوبارہ سماعت کی عرضی داخل کی۔ پہلا ثبوت پی اے سی کی جنرل ڈائری تھی جس میں ٹرکوں کی آمد و رفت کا اندراج تھا۔ اس ڈائری کو کیس کی جانچ کرنے والی ایجنسی نے چھپا دیا تھا۔ انسانی حقوق کمیشن نے اس ڈائری کی بنیاد پر کارروائی کی اپیل کی اور اس طرح ایک طویل قانونی جنگ کے بعد بہر حال کسی نہ کسی صورت میں انصاف فراہم کر دیا گیا۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ پی اے سی کے جوانوں نے اتنا بڑا سنگین اور بھیانک جرم اپنے اعلا افسران کی مرضی یا ان کے علم میں لائے بغیر نہیں کیا ہوگا۔ لیکن افسروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی کارروائی کا امکان ہے۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کے فوٹو گرافر پروین جین کی کھینچی ہوئی تصویروں نے بھی مجرموں کے چہرے سے نقاب ہٹانے میں بڑی مدد دی۔ انھوں نے ہی وہ تصویر کھینچی تھی جس میں مسلم نوجوان ہاتھ اوپر اٹھائے ہوئے چل رہے ہیں اور ان کے ارد گرد پی اے سی کے جوان ہیں۔

متاثرین ہاشم پورہ نے امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑا تھا۔ حالانکہ ان کو یہاں تک پہنچنے میں قیامت سے گزرنا پڑا۔ ایک نسل جوان سے بوڑھی ہو گئی ، ایک نسل ختم ہو گئی اور تیسری نسل پیدا ہو گئی۔ تب کہیں جا کر کچھ انصاف ملا ہے۔ مقتولین کے ورثا میں بیشتر غریب لوگ ہیں۔ کوئی مزدوری کرتا ہے تو کوئی چھوٹا موٹا کام۔ جو معاوضہ ملا وہ قرضوں کی ادائیگی کی نذر ہو گیا۔ یہاں تک کہ ایسے کئی افراد ہیں جن کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ وہ کیس کی سماعت کی تاریخ پر میرٹھ سے دہلی آسکیں۔

چار افراد جن کو گولیاں لگی تھیں مگر جو بچ گئے ان کے نام مجیب الرحمن، باب الدین، محمد عثمان اور ذوالفقار ناصر ہیں۔ باب الدین پاور لوم چلا کر گزارہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ وہ تاریخ پر دہلی جا سکیں۔ ان کو دوسروں کی مدد پر انحصار کرنا ہوتا تھا۔ لوگ پیسے دیتے تھے تب وہ دہلی جا پاتے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ وہ دہلی چلے تو گئے لیکن کھانے کے پیسے نہیں ہوتے اور انھیں پورا دن بھوکا رہنا پڑتا۔ وہ اس بدترین واقعہ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پی اے سی کے جوانوں نے گولیاں چلانی اور لاشیں نہر میں پھینکنی شروع کر دی تھیں۔ جب انھوں نے مدد کے لیے چیخنا چلانا شروع کیا تو پی اے سی جوانوں نے اندھا دھند گولیاں چلائیں۔ اس کے بعد وہ ٹرک کو ہنڈن نہر غازی آباد لے گئے۔ اور وہاں مزید لاشیں بہائیں۔ اس وقت باب الدین کی عمر سولہ سال تھی۔ ان کے سینے میں گولی لگی تھی۔ انھیں بھی نہر میں پھینک دیا گیا تھا۔ بعد میں غازی آباد کے پولیس والوں نے انھیں وہاں سے نکالا اور انھیں نریندر موہن اسپتال میں داخل کرایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر میں زندہ ہوں تو اس وقت کے غازی آباد کے ایس پی وی این رائے اور ڈی ایم نسیم زیدی کی مہربانیوں کی وجہ سے ہوں۔ ہاشم پورہ کے کئی افراد اپنے اعزا کی تدفین تک نہیں کر سکے تھے۔

(وی این رائے یا وبھوتی نرائن رائے اس وقت غازی آباد کے ایس پی تھے۔ وہ پہلے شخص تھے جو جائے واردات پر پہنچے۔ انھوں نے اس بارے میں ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں تمام تفصیلات موجود ہیں۔)

محمد عثمان کے پیر میں گولی لگی تھی۔ ان کا میرٹھ سے دہلی آنا بہت ہی تکلیف دہ ہوتا تھا۔ وہ کہتے ہیں ہم نے بارہا غازی آباد اور دہلی کا سفر کیا۔ کبھی ٹرک سے کبھی بس سے اور کبھی پرائیویٹ ٹیکسی سے جانا پڑتا۔ اگر چہ ہم اس قتل عام میں بچ گئے لیکن اس کے بعد ہماری زندگی آسان نہیں رہی۔ اس قتل عام کے بعد عثمان کے گھر والے مقروض ہو گئے۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے ان کو ہاشم پورہ کا اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے پھلوں کی ایک ریڑھی لگائی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میں نے کچھ دنوں تک مزدوری کی۔ لیکن پیر میں گولی لگنے کی وجہ سے میں کام نہیں کر پاتا۔ لہٰذا مجھے مزدوری بھی چھوڑنی پڑی۔

اس قتل عام کے بعد متعدد گھروں میں کوئی کمانے والا نہیں رہ گیا۔ زیب النسا کو یاد ہے کہ جب اس کے شوہر محمد اقبال کو پی اے سی کے جوان پکڑ کر لے گئے تھے تو اس کی گود میں دو دن کا بچہ تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ ان تمام برسو ںمیں مجھے اور میری تین بیٹیوں کو بڑی جد و جہد کرنی پڑی ہے۔ زیب النسا کی بیٹی نازیہ جو کہ اب 31 سال کی ہے، کہتی ہے کہ ہم لوگوں کو اپنا گزارہ چلانے کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ قمر الدین کے والد 81 سالہ جمال الدین ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح انھوں نے اپنے بیٹے کی تلاش میں اس اسپتال سے اس اسپتال اور اس تھانے سے اس تھانے کا چکر لگایا تھا۔ ایک روز پتا چلا کہ میرے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے۔ مراد نگر تھانے کے ایک افسر نے میرے بیٹے کی لاش دکھائی۔ اس پر زخموں کے نشان تھے اور لاش ناقابل شناخت تھی۔ میں نے کچھ دیگر لاشوں کی شناخت میں اس افسر کی مدد کی۔

محمد آصف جو کہ ایک زیر تعمیر عمارت میں مزدوری کرتا ہے، اس وقت دو سال کا تھا جب ا س کے والد مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ اس کا کہنا ہے کہ ان دنوں میں روزانہ صبح چھ بجے کام پر چلا جاتا ہوں۔ میں مزدوری کے لیے ایک چوک پر بیٹھتا ہوں۔ ہمارے سات بھائی ہیں لیکن کوئی بھی تعلیم حاصل نہیں کر سکا۔ اگر اس دن پی اے سی والوں نے چھوڑ دیا ہوتا تو ہم ایک بہتر زندگی گزار پاتے اور ہمارے والد بھی ہمارے ساتھ ہوتے۔ متاثرین کے ورثا اور بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ یو پی حکومت نے پانچ پانچ لاکھ روپے دیے تھے جو کہ کم تھے۔ بعض لوگوں نے اس معاوضے سے قرضوں کی ادائیگی کی اور بعض نے دوسرے مقامات پر زمینیں خریدیں۔ قمر الدین کی چھوٹی بہن شہناز کے مطابق پورا پیسہ چند مہینوں میں ختم ہو گیا تھا۔

بہت سے لوگوں خاص طور پر ہاشم پورہ کے لوگوں نے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے لیکن ان کو اس بات کا دکھ بھی ہے کہ قاتلوں کو عمر قید سنائی گئی سزائے موت نہیں۔ در اصل یہ سب سزائے موت ہی کے حقدار ہیں کیونکہ انھوں نے 38 بے قصور افراد کا وحشیانہ قتل کیا ہے اور ان کے ورثا کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔ ادھر ملیانہ میں بھی ایسی ہی واردات ہوئی تھی۔ وہاں بھی اقلیتی فرقہ کے بہت سے افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا لیکن وہ کیس بھی کچھوے کی چال سے چل رہا ہے۔ تین دہائی گزر جانے کے بعد بھی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔ اس معاملے میں ایک سال بعد فرد جرم داخل کی گئی تھی۔ مگر 31 برسوں میں صرف سات افراد کی گواہیاں ہو سکی ہیں۔

بہر حال ہمیں عدلیہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ایسے ماحول میں جبکہ انتظامیہ نے ہاشم پورہ معاملے کو دبانے اور اسے ختم کرانے کی پوری کوشش کی دہلی ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا اور ملزموں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ پی اے سی کو اور دوسرے اداروں کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے کہ بہر حال انصاف ہو کر رہتا ہے خواہ پورا ہو یا ادھورا۔

sanjumdelhi@gmail.com

(آرٹیکل میں مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں،یہ اردو تہذیب نیوز پورٹل کے افکار و نظریات کے عکاس نہیں ہیں )

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Hashimpura massacre and judgement in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply