حامد نہال انصاری اور ”پاکستانی اسلام“

سہیل انجم

حامد نہال انصاری کی کہانی بالی ووڈ فلم ”ویر زارا“ کی کہانی سے بڑی حد تک مشابہت رکھتی ہے۔ ویر زارا میں ویر یعنی شاہ رخ خان ہندوستانی فضائیہ میں ایک افسر ہوتے ہیں اور زارا یعنی پریتی زنٹا لاہور کی ایک بااثر اور ثروت مند سیاسی خاندان کی بیٹی ہوتی ہیں۔ ویر کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ زارا اس سے محبت کرتی ہے تو وہ اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے کر اس سے ملنے پاکستان چلا جاتا ہے جہاں اسے گرفتار کرکے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ایک عرصے کے بعد ایک خاتون وکیل یعنی رانی مکھرجی کو اس کیس کا علم ہوتا ہے اور وہ شاہ رخ خان کا کیس لڑتی اور انھیں رہائی دلواتی ہے۔

اب 33 سالہ حامد نہال انصاری کی کہانی سنئے۔ وہ ممبئی کے ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی والدہ فوزیہ انصاری ایک کالج کی پرنسپل ہیں اور ان کے والد نہال انصاری بھی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں۔ حامد سوشل میڈیا پر کافی سرگرم رہتے ہیں۔ فیس بک پر ان کی ملاقات خیبرپختونخوا، پاکستان کی ایک دوشیزہ سے ہوتی ہے۔ دونوں میں کچھ دنوں تک نیٹ کے توسط سے بات چیت ہوتی ہے اور حامد کو اس دوشیزہ سے عشق ہو جاتا ہے۔ وہ انھیں پاکستان بلاتی ہے۔ اسی درمیان حامد کو افغانستان میں ایک ملازمت مل جاتی ہے۔ وہ وہاں سے بھی پاکستانی لڑکی کے رابطے میں رہتے ہیں۔ جب اس کی طرف سے بہت زیادہ اصرار ہوتا ہے اور یہ بھی اپنے عشق میں نیم دیوانہ ہو چکے ہوتے ہیں تو بغیر ویزا اور جائز دستاویزات کے پاکستان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس سے قبل حامد نئی دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن میں ویزا کی درخواست دیتے ہیں۔ چھ ماہ کی جد و جہد کے بعد بھی ویزا نہیں ملتا۔ اس پر لڑکی کے بعض واقف کار حامد سے کہتے ہیں کہ وہ ایسے ہی پاکستان چلے آئیں۔ وہ ان کو ورغلاتے ہیں کہ وقت نکلا جا رہا ہے۔ لڑکی کے والدین اس کی شادی کہیں اور کر دیں گے۔ تم جلد آؤ ورنہ کف افسوس ملنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ حامد ان لوگوں کے بہکاوے میں آجاتے ہیں اور سرحد پر وہ لوگ ان کی جیب میں فرضی کاغذات رکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسی کے سہارے تم پاکستان میں داخل ہو سکتے ہو۔ سرحد عبور کرنے کے بعد ان لوگوں کا رویہ بدل جاتا ہے۔ حامد کو لڑکی تک پہنچانے کے بجائے وہ کوہاٹ کے علاقے میں انھیں سیکورٹی ایجنسیوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ انھیں جعلی دستاویز کی بنیاد پر پاکستان میں داخل ہونے کے جرم میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

یہ نومبر 2012 کا واقعہ ہے۔ یہاں ممبئی میں ان کے اہل خانہ کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ان کو گمشدہ تصور کر لیا جاتا ہے۔ لیکن اسی درمیان بالکل رانی مکھرجی کے انداز میں ایک پاکستانی خاتون منظر میں آتی ہے۔ اس کا نام زینت شہزادی ہے۔ وہ ایک صحافی ہے۔ اسے حامد کے کیس کا پتہ چلتا ہے۔ وہ ممبئی میں ان کے اہل خانہ سے رابط قائم کرتی ہے۔ تب حامد کے گھر والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو پاکستانی جیل میں ہیں۔ زینت نے حامد کو حبس بیجا میں رکھنے کا ایک مقدمہ سیکورٹی ایجنسیوں کے خلاف قائم کر دیا۔ ادھر جب حامد کی والدہ فوزیہ کو علم ہوا تو یہاں این ڈی اے کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ انھوں نے وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی اور ان کے سامنے اپنے بیٹے کا کیس رکھ کر ان کی رہائی کے لیے کوشش کرنے کی گزارش کی۔ سشما نے کوششیں شروع کر دیں۔ اسی درمیان 2015 میں پاکستانی ایجنسیوں نے حامد کی گرفتاری کا اعتراف کیا اور ان کے خلاف ایک فوجی عدالت میں جعلی دستاویزات رکھنے اور جاسوسی کے الزام میں کیس قائم کر دیا۔ ادھر ڈرامائی انداز میں زینت شہزادی کو لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ اگست 2015 میں وہ اپنے گھر سے دفتر جا رہی تھیں کہ انھیں اغوا کر لیا گیا۔ انھیں اکتوبر 2017 میں پاک افغان سرحد سے بازیاب کرایا گیا۔ حامد کو 2016 میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ مگر ایجنسیاں ان کے خلاف جاسوسی کا الزام ثابت نہیں کر سکیں۔ فرضی کاغذات کا الزام درست ثابت ہوا کیونکہ وہ درست ہی تھا جو کہ پاکستانی سازشی کارندوں نے ان کی جیب میں رکھا تھا۔ انھیں تین سال کی سزائے قید سنائی گئی۔

اس دوران ہندوستان کی جانب سے کوششیں جاری رہیں۔ ہندوستانی حکام نے 96 مرتبہ پاکستان سے درخواست کی کہ وہ انھیں حامد سے ملنے کی اجازت دے۔ لیکن اس نے اجازت نہیں دی۔ حالانکہ ویانہ کنونشن کے تحت یہ حق ملنا چاہیے تھا۔ پاکستان کے بعض انسانیت نواز وکلا اور انسانی حقوق کے کارکن بھی میدان میں آگئے۔ انھوں نے حامد کا کیس بے جگری سے لڑا اور یہ ثابت کیا کہ وہ جاسوس نہیں ہیں۔ ہاں ان سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ وہ جعلی دستاویز کی بنیاد پر آئے ہیں۔ اس طرح حامد کو رہا کر دیا گیا۔ انھیں امرتسر میں واگہہ سرحد پر ہندوستانی حکام اور حامد کے اہل خانہ کے حوالے کیا گیا۔ ہندوستانی سرزمین پر قدم رکھتے ہی حامد نے سب سے پہلے اللہ تعالی کے سامنے سجدہ شکر ادا کیا۔ اگلے روز ان کو نئی دہلی میں سشما سوراج سے ملوایا گیا۔ جہاں حامد نے اپنی بپتا سنائی۔ ان کی والدہ نے بجا طور پر کہا کہ ”میرا بھارت مہان، میری میڈم مہان“۔ میڈم یعنی سشما سوراج۔ یقیناً سشما سوراج کا حامد کی رہائی میں بڑا ہاتھ تھا۔ وہ پہلے بھی ایسے متعدد انسانی اقدامات کر چکی ہیں۔

ان چھ برسوں میں حامد پر پاکستان میں کیا گزری اسے سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حامد کے بقول پاکستانی حکام کا بار بار یہی کہنا تھا کہ تم بے قصور ہو لیکن چونکہ ہندوستانی ہو اس لیے ہم تمھیں نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تم تو پکے پکائے آم کی مانند ہماری جھولی میں آگرے ہو۔ بار بار ان کو یہ یقین دلایا جاتا کہ بس اب تم رہا ہونے والے ہو۔ لیکن پھر کوئی نیا افسر آتا اور کہتا کہ ہمیں کیا معلوم کہ تمھارا کیس کیا ہے۔ وہ از سر نو تحقیقات اور پوچھ تاچھ کرتا۔ اس دوران حامد کو اذیتیں دی جاتی رہیں۔ انھیں ٹارچر کیا جاتا رہا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار ایک پندرہ فٹ گہرے بیسمنٹ میں انھیں ایک ہفتے تک کھڑا رکھا گیا تھا۔ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی۔ انھیں سونے بھی نہیں دیا جاتا تھا۔ اگر ان کو ذرا سی بھی جھپکی آتی تو کسی جانب سے ان پر زناٹے دار چانٹا پڑتا اور ان کی آنکھ کھل جاتی۔ ٹارچر کی وجہ سے ان کی ایک آنکھ کا ریٹینا پھٹ گیا۔ جس کا علاج پاکستانی ڈاکٹروں نے کیا۔ بہر حال جب ان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا تو انھیں رہا کر دیا گیا۔

پاکستان خود کو ایک اسلامی ملک کہتا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت یہ نعرہ لگتا رہا ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔ لیکن آج پاکستان میں کون سا اسلام رائج ہے سمجھ میں نہیں آتا۔ اسلام قیدیوں کے تعلق سے بہت حساس ہے۔ اس کے قوانین میں انسانیت نوازی ہے۔ اس نے جنگی قیدیوں کے لیے تو سخت قوانین بنائے ہیں ۔ عام قیدیوں کے ساتھ اسلام نے بڑا ہمدردانہ رویہ رکھا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول کے زمانے میں جنگی قیدیوں کو بھی زیادہ سزا نہیں دی جاتی تھی۔ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ انھیں کہہ دیا گیا کہ تم مدینہ کے ناخواندہ افراد کو تعلیم دو اور اپنے گھر جاؤ۔ لیکن پاکستان میں قیدیوں کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جاتا جو اسلام نے بتایا ہے۔

پاکستان میں اگر کوئی ہندوستانی شہری پکڑا گیا ہے تو فوری طور پر اس پر جاسوسی اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عاید کر دیے جاتے ہیں۔ حامد کے ساتھ بھی یہی کیا گیا۔ یہ بجائے خود غیر اسلامی فعل ہے۔ کسی پر تہمت لگانا اسلام میں سخت ممنوع اور گناہ ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسا کرنا عام بات ہو گئی ہے۔ اسلام اس کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو اس کے جرم سے زیادہ سزا دی جائے۔ جتنا جرم ہے بس اسی کے بقدر سزا ملنی چاہیے۔ اگر سزا زیادہ دے دی گئی تو وہ اس کے انسانی حقوق کی خلاف ورز ی اور زیادتی کے زمرے میں داخل ہو جائے گی۔ لیکن پہلے بھی ہندوستانی قیدیوں کو جرم سے زیادہ سزا دی جاتی رہی ہے اور حامد کے معاملے میں بھی یہی کیا گیا۔

جب ایک فوجی عدالت میں ان کا مقدمہ چلا اور قانون کے مطابق تین سال کی قید سنائی گئی تو ان کو اسی وقت رہا کر دیا جانا چاہیے تھا۔ کیونکہ اس وقت تک وہ تین سال کی جیل کاٹ چکے تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت تک ان کا جرم ثابت نہیں ہوا تھا تو پھر یہ بتائیے کہ انھیں اس سے قبل جو تین سال تک جیل میں رکھا گیا اسے کس جرم کی سزا مانی جائے گی۔ اسے کس کھاتے میں ڈالا جائے گا۔ اسی لیے ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ حامد کو ان کے جرم سے زیادہ سزا دی گئی ہے۔

اسلام میں قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کی اجازت نہیں ہے۔ ان کو ٹارچر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کے ساتھ انسانی بنیادوں پر برتاؤ کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسا لگتا ہے کہ وہ اسلام رائج نہیں ہے جو اللہ کے رسول لے کر آئے تھے۔ بلکہ اپنی مرضی کا اسلام رائج کر دیا گیا ہے۔ آئے دن اسلام کے نام پر جو غیر اسلامی اقدامات کیے جاتے ہیں اور اسلام کے نام پر اسلام کے نام لیواؤں کو ہی بے دردی کے ساتھ ہلاک کیا جاتا ہے وہ اس کی زندہ مثال ہے۔

خیر اب تو حامد انصاری وطن واپس آگئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ فیس بک کے توسط سے کسی سے محبت نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ اس کے جال میں پھنس کر کیا حشر ہو جائے کہا نہیں جا سکتا۔ انھوں نے اس کا بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ جعلی دستاویز کی بنیاد پر پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ یہ انھوں نے غلط کیا تھا۔ ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ہر معاملے میں قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔ اور وہ اب کبھی بھی قانون شکنی نہیں کریں گے۔

بلا شبہ حامد نہال انصاری کو ایک نئی زندگی ملی ہے۔ انھوں نے چھ برس تک پاکستانی جیلوں میں جو شب و روز کاٹے ہیں ان سے انھوں نے بہت کچھ سبق سیکھا ہے۔ دوسروں کو بھی حامد کے کیس سے سبق سیکھنا چاہیے اور سوشل میڈیا کے بہکاوے میں آکر کوئی بھی غلط قدم نہیں اٹھانا چاہیے۔

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Hamid nehal ansar and paksitani islam in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment