مدینہ کے تاریخی مقامات و واقعات اور حرم نبوی سے حرم مکی کو روانگی

سہیل انجم

دہلی سے حجاج کی فلائٹ کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ مگر ابھی دوسرے امبارکیشن پوائنٹس سے حجاج کی آمد جاری ہے۔ دہلی سے آخری فلائٹ 28 جولائی کی شام کو روانہ ہوئی۔ مدینہ میں ہندوستان سے اب تک تقریباً چالیس ہزار حجاج پہنچ چکے ہیں۔ وہاں سے مکہ مکرمہ کی روانگی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 27 جولائی تک مکہ مکرمہ میں تقریباً تیس ہزار حاجی پہنچ چکے تھے۔ اب تک تین ہندوستانی عازمین فوت ہو چکے ہیں۔ یہ اطلاعات مکہ مکرمہ میں واقع ہندوستانی حج مشن کی نیوز بلیٹن سے موصول ہوئی ہیں۔ مکہ میں ہندوستانی عازمین کو حرم کے قریب واقع عمارتوں میں جسے گرین کٹگری کہا جاتا ہے، ٹھہرایا جاتا ہے۔ جبکہ بڑی تعداد میں حاجی عزیزیہ میں ٹھہرائے جاتے ہیں۔ عزیزیہ سے حرم شریف جانے کے لیے بسوں کا انتظام ہے جو چوبیس گھنٹے فراہم ہیں۔ مکہ مکرمہ کی تفصیل ذرا آگے آئے گی۔ کچھ تفصیل سابقہ قسط کی ملاحظہ فرمائیں۔

اس سے قبل ہم نے مدینہ منورہ کی تاریخی زیارتوں کا ذکر کیا تھا۔ مدینہ میں مسجد قبلتین کے پاس ایک وادی ہے جس کا نام ”وادی عقیق“ ہے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اسے وادی مبارک کہا ہے۔ انھوں نے اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ اس وادی میں عبادت کریں۔ اتفاق سے ہمارے ایک عزیز جامعہ اسلامیہ کے قریب رہائش پذیر ہیں۔ ان کے گھر آمد و رفت کے وقت دو دو بار اس وادی کی زیارت ہوتی تھی۔ اسے ایک نہر کی شکل دے دی گئی ہے۔ اس کے اوپر آمد و رفت کے لیے پل بنائے گئے ہیں۔ مدینہ اور اس کے مضافات زبردست تاریخی واقعات کے گواہ رہے ہیں۔ وہاں ایسے ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ شاید ہی کسی شہر یا علاقے میں ایسے واقعات پیش آئے ہوں۔

مسجد نبوی کے شمال مغربی کونے پر ایک جگہ ہے جس کا نام ہے ”ثقیفہ بنی ساعدہ“۔ یہ وہ تاریخی مقام ہے جہاں اللہ کے رسول کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا گیا تھا۔ یہ بڑا عظیم واقعہ ہے۔ ہوں یوں تھا کہ اللہ کے رسول کی وفات پر مدینہ میں کہرام مچ گیا۔ کسی کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی وفات ہو سکتی ہے۔ لوگ پریشان حال مسجد نبوی کی طرف کوچ کر رہے تھے۔ اسی موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار میان سے باہر نکال لی اور اعلان کیا کہ اگر کسی نے کہا کہ اللہ کے رسول کی وفات ہو چکی ہے تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ حضرت ابو بکر صدیق کو اس کی اطلاع ملی۔ وہ آئے اور انھوں نے کہا کہ جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا تو وہ سمجھ لے کہ آپ کی وفات ہو چکی ہے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ کی ذات ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اتنا سننا تھا کہ مجمع کے قلوب کی حالت بدل گئی۔ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو اپنی تلوار نکال چکے تھے، انگشت بدنداں رہ گئے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے یہ آیت ابھی ابھی نازل ہوئی ہے۔ معاملہ سنبھلنے کے بعد خلیفہ کا انتخاب ہونا تھا۔ مہاجر اور انصار دونوں کی خواہش تھی کہ ان میں سے خلیفہ منتخب ہو۔ بہر حال حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اول منتخب کیا گیا۔ یہ ثقیفہ بنی ساعدہ وہی مقام ہے۔ اسے اب ایک پارک یا باغ کی شکل دے دی گئی ہے۔ بڑا ہی خوبصورت منظر ہے۔ چاروں طرف ہریالی ہی ہریالی ہے۔ اہل مدینہ نے تاریخی واقعہ کے گواہ اس مقام کو ایک مرکز کی شکل دے دی ہے۔ وہاں سے مغرب کی جانب تھوڑی دور چلنے کے بعد ایک جگہ آتی ہے جس کا نام ہے ”سبق“۔ سبق یعنی مسابقہ، مقابلہ۔ یہاں اللہ کے رسول نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا تھا۔ اس جگہ کو قد آدم عارضی دیوار سے گھیر دیا گیا ہے۔

اس سے تھوڑا سے آگے چلنے پر ایک بڑا بازار آتا ہے جس کا نام داؤدیا ہے۔ یہ گھڑیوں کا ہول سیل بازار ہے۔ سستی اور اچھی گھڑیاں یہاں ملتی ہیں۔ یہیں تھوڑی دور پر گورنر ہاوس ہے۔ قریب ہی میں مسجد ترکی کے پاس ایک میوزیم ہے۔ اس میں اللہ کے رسول اور بعد کے ادوار کی تاریخی اشیا محفوظ کی گئی ہیں۔ یہ عمارت خلافت عثمانیہ کے دور میں ریلوے اسٹیشن تھا۔ عمارت کی پشت پر کئی ڈبے ریل کی پٹریوں پر کھڑے ہیں۔ اس مقام کو ایک پارک کی شکل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کافی بڑا پارک ہے۔ شام کے وقت میوزیم دیکھنے والوں اور پارک میں جانے والوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ میوزیم میں داخلہ مفت ہے البتہ پارک میں داخلے کا ٹکٹ دس ریال ہے۔ جیسا کہ ذکر کیا گیا میوزیم میں قدیم ادوار کی اشیا محفوظ ہیں۔ دور صحابہ میں عروسی لباس کا نمونہ ہے۔ سکے ہیں۔ حجرہ رسول میں خوشبو کے لیے خوشبو دان ہے۔ اس دور کی چکی ہے۔ لوہے کی صراحیاں ہیں۔ بندوقیں اور تلواریں ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا تحریر کردہ قرآن کے نسخے کی فوٹو کاپی ہے۔ اس کی اصل کاپی استنبول میں ہے۔ بڑا خوبصورت خط ہے۔ بالکل کتابت کیا ہوا ہے۔ پتھروں پر قرآنی آیات کندہ ہیں۔ اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جو قابل دید ہیں۔

ادھر مسجد نبوی کے اوپر جو گنبد خضرا بنا ہوا ہے اس کے بالمقابل مدینہ کی سپریم کورٹ ہے۔ مسجد نبوی کے ائمہ کرام ہی اس کے جج ہوتے ہیں۔ مسجد کے جنوب مغربی کونے پر باب السلام کے پاس ایک کثیر منزلہ عمارت ہے جو کہ مسجد کا ایڈمنسٹریشن ہاوس ہے۔ رات میں اس پر چاروں طرف سے ہرے رنگ کا فوکس ڈالا جاتا ہے جس سے عمارت کی خوبصورتی بڑھ جاتی ہے۔ باب السلام سے مسجد میں داخل ہوں تو وہیں بائیں طرف ایک عمارت ہے جسے میوزیم کی شکل دی جا رہی ہے۔ اس میں رسول اللہ کے زمانے کی بہت سی اشیا اور دستاویزات محفوظ کی جائیں گی۔ اس کے برابر میں ایک اور عمارت ہے۔ پہلے اسی میں کچھ اس قسم کی چیزیں تھیں۔ وہ سب اس نئے میوزیم میں رکھی جائیں گی۔ اسے عربی میں ”متحف السلام“ اور انگریزی میں ”السلام میوزیم“ کہا جاتا ہے۔

مسجد نبوی کی مشرقی جانب مدینہ کا سب سے بڑا قبرستان ہے جسے ”بقیع“ کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اسے جنت البقیع کہتے ہیں۔ جبکہ اس کا اصل نام ”بقیع الغرقد“ ہے۔ غرقد عربی کا لفظ ہے۔ یہ ایک جنگلی درخت کا نام ہے جو خاردار جھاڑی کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہاں جب اللہ کے رسول نے مسجد تعمیر کرنے کے بعد صحابہ کرام کے لیے قبرستان بنانا چاہا تو اسی مقام کا انتخاب کیا۔ یہاں چونکہ غرقد کے بہت سے درخت یا جھاڑیاں تھیں اس لیے اس کا نام بقیع الغرقد تھا۔ بقیع کا مطلب ہوتا ہے خالی پڑی جگہ۔ بقیع الغرقد یعنی وہ خالی جگہ جہاں غرقد کے درخت ہیں۔ غرقد یہودیوں کے لیے بہت مقدس درخت ہے۔ آج یہودی جہاں جہاں آباد ہو رہے ہیں وہاں وہاں وہ بڑی تعداد میں غرقد اگا رہے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور انھیں قتل کر دیں۔ یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا کہ اے مسلمان اے عبد اللہ یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ او راسے قتل کر دو۔ سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ یہود کے درخت میں سے ہے۔ یعنی جو یہودی غرقد کے پیچھے چھپا ہوگا اس کو غرقد پناہ دے گا۔

بقیع نماز فجر اور عصر کے بعد کھلتا ہے۔ ہم نے نماز فجر کے بعد اس کی زیارت کی۔ بالکل ابتدا میں بقیع نشیبی علاقہ تھا مگر مسجد نبوی کے بیرونی صحن کے فرش سے ایک ڈیڑھ منزل اونچا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے وہاں ہمیشہ مٹی ڈالی جاتی ہے۔ جنوب مشرقی سمت میں مٹی کے ٹرک کھڑے رہتے ہیں۔ جب زیارت ختم ہو جاتی ہے تو وہاں مٹی ڈالی جاتی ہے۔ جب ہم اس کے اندر داخل ہوتے ہیں تو دائیں جانب پر قبروں کا ایک چھوٹا سا قطعہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں صحابہ کرام کی قبریں ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پتھر نصب کرکے نشانات بنا دیے گئے ہیں۔ یہاں پولیس کسی کو رکنے نہیں دیتی۔ کسی قبر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ حضرت فا طمہ زہرا کی قبر ہے، کسی کو کسی دوسرے صحابی کی قبر کے طور پر مشہور کیا گیا ہے۔ لیکن وہاں پانچ سال تک ڈیوٹی دینے والے مولانا جاوید ندیم کا کہنا ہے کہ کسی قبر کے بارے میں یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس کی ہے۔ ہاں اس میں کم از کم دس ہزار صحابہ کرام مدفون ہیں۔ نوے ہزار تابعین اور طبع تابعین ہیں۔ گویا ایک لاکھ قبریں تو پرانے مرحومین کی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب قبرستان بھر گیا اور ایک بھی قبر کی جگہ نہیں بچی تو وہاں مٹی ڈال کر اسے یوں سمجھیے کہ اسے دو منزلہ کر دیا گیا۔ اس لیے یقین کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ پہلے یہاں کچھ قبروں پر گنبد بنائے گئے تھے۔ بہت سی قبروں کو جوں کا توں رکھا گیا تھا۔ لیکن سعودی عرب میں ملک سعود کی حکومت کے قیام کے بعد ان نشانات کو ختم کر دیا گیا۔ اب قبروں پر دو ڈھائی فٹ لمبائی اور تقریباً ایک بالشت اونچائی میں مٹی لگا دی جاتی ہے تاکہ قبر کی نشاندہی ہو سکے۔ باقی جگہ کو بالکل برابر کر دیا جاتا ہے۔ قبرستان کہیں نیچا ہے تو کہیں اونچا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں مسلسل مٹی ڈالی جاتی ہے۔ جب ہم زیارت کرکے نکل رہے تھے تو اچانک بھیڑ رک گئی۔ معلوم ہوا کہ آگے آگے عراقی عازمین کا ایک گروپ ہے جو ویڈیوگرافی کر رہا ہے۔ وہ کھڑا ہو گیا تھا اور ان لوگوں کی وجہ سے پیچھے کے لوگوں کو بھی رک جانا پڑا جس کی وجہ سے بڑی افرا تفری مچ گئی تھی۔ واپس آتے وقت دائیں جانب ایک بڑی سی قبر ہے۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ حضرت فا طمہ زہرا کی ہے۔ اس کی جانب اہل تشیع بڑی حسرت اور ماتم بھری نظر ڈالتے ہیں۔

موبائیل کی وجہ سے جہاں بہت سی آسانیاں ہیں وہیں بہت بے ادبی بھی ہوتی ہے۔ بقیع میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح لوگ ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی کرتے ہیں اور سیلفی بھی لیتے ہیں۔ گویا وہ دعائیں پڑھنے اور قبروں کی زیارت کرنے نہیں بلکہ سیلفی لینے جاتے ہیں۔ اسی طرح مسجد نبوی میں بھی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ خاص طور پر نماز کے بعد جب لوگ نکلتے ہیں تو مجمع کی تصویر لیتے ہیں اور اپنے اپنے عزیزوں کو ویڈیو کال کرتے ہیں۔ اونچی آواز میں ان کو بتاتے ہیں کہ دیکھ لو مجمع دیکھ لو۔ کوئی چھتری دکھاتا ہے تو کوئی صحن، کوئی اندر کا حصہ تو کوئی وضو خانہ اور پارکنگ۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ لوگ روضہ رسولﷺ پر بھی ویڈیو گرافی اور ویڈیو کالنگ کرتے ہیں اور اپنے اعزا کو وہاں کا منظر دکھاتے ہیں۔ ہم نے ایک اخبار میں پڑھا تھا کہ کسی شخص نے روضہ رسول پر پہنچ کر ویڈیو کالنگ کی اور اپنی بیوی سے کہا کہ لو تم بھی وہیں سے سلام پیش کر دو۔ عورتیں جس حالت میں بھی رہتی ہیں موبائیل میں نظر آتی ہے۔ ایک بار ایک کوئی بڑے شیخ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ روضہ رسول کی زیارت کرنے کے لیے لائن میں چل رہے تھے کہ ان کے آگے والا شخص ویڈیو کالنگ کرنے لگا۔ موبائیل میں ان کی اور ان کے بچوں کی بھی تصویریں آنے لگیں۔ انھوں نے وہیں اس کو بری طرح جھاڑا اور زبردستی ویڈیو کالنگ بند کرائی۔ اس طرح ہم نے دیکھا کہ لوگ نمازوں میں اتنے خشوع خضوع کا مظاہرہ نہیں کرتے جتنے خشوع و خضوع کا مظاہرہ تصویر کشی اور ویڈیو گرافی و ویڈیو کالنگ میں کرتے ہیں۔ حکومت نے شاید دو سال قبل اس پر پابندی عاید کر دی تھی۔ لیکن یہ پابندی قابل عمل نہیں ہے۔ اس پر پابندی تو لوگ ہی لگا سکتے ہیں۔ وہ خود اس سے دور رہیں تو چاہے کوئی بات بن سکتی ہے ۔

ہاں ایک بات اور بتاتے چلیں کہ اللہ کے رسول کی قبر مبارک انتہائی حفاظتی دائرے یا رِنگ میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چھ سات سو سال سے کسی نے قبر مبارک نہیں دیکھی ہے۔ ایک بار نامعلوم اسباب سے وہاں آگ لگ گئی تھی اور حضرت عمر یا حضرت ابو بکر کی قبر کو نقصان پہنچا تھا۔ اس کو درست کرنے کے لیے کسی کو وہاں بھیجنا تھا۔ ذمہ داروں نے شہر کے ایک انتہائی بزرگ کے بارے میں فیصلہ کیا۔ ان کو بار بار پیشاب آنے کا عارضہ تھا۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ ان سے یہ خدمت لی جانے والی ہے تو انھوں نے دو روز تک پانی نہیں پیا کہ کہیں خدا نخواستہ وہ قبر مبارک پر ناپاک ہو جائیں۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد انھوں نے بتایا کہ قبروں کی کیفیت کیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے اللہ کے رسول کی قبر ہے پھر حضرت ابو بکر کی پھر حضرت عمر کی۔ لیکن یہ دونوں قبریں سر کی جانب سے تھوڑی نیچے کرکے یعنی پائتانے کی طرف بڑھا کر اس طرح ہیں کہ جب ہم زیارت کرنے جاتے ہیں تو پہلے اللہ کے رسول کا چہرہ مبارک آتا ہے، پھر حضرت ابو بکر کا اور پھر حضرت عمر کا۔ یعنی ایک طرح سے زینہ نما قبریں ہیں۔ اسی لیے وہاں جو تین جالیاں ہیں ان میں درمیان والی جالی کے پاس پہنچ کر پہلے اللہ کے رسول کو سلام پیش کیا جاتا ہے، پھر حضرت ابو بکر کو اور پھر حضرت عمر کو۔ بتایا جاتا ہے کہ ان قبروں کی چاروں طرف تین یا چار دیواریں ہیں اور وہاں ہوا تک کا گزر نہیں ہو سکتا۔ ان دیواروں کی چاروں طرف ہرے رنگ کی چادر لٹکائی گئی ہے۔ جب ہم قریب سے گزرتے ہیں تو وہ چادر دکھائی دیتی ہے جس پر قرآنی آیات نقش ہیں۔

اس طرح مدینہ منورہ کا ہمارا قیام ختم ہوا اور ہم 26 جولائی کی نماز مغرب کے بعد میقات یعنی ابیار علی سے مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے اور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے 27 جولائی کی صبح کو ساڑھے پانچ بجے عزیزیہ مکہ پہنچے۔ کمروں میں سامان وغیرہ رکھ کر عمرہ کے لیے نکل پڑے۔ صبح کے پونے آٹھ بجے حرم شریف میں داخل ہوئے۔ اگر چہ تھک کر چور ہو گئے ہیں لیکن طواف اور سعی کی اور نماز جمعہ کے بعد حلق کروایا اور کھایا اور پھر ہوٹل پر واپس آئے۔ حرم میں لوگوں کی بھیڑ بڑھتی جا رہی ہے۔ جمعہ کے روز صبح تقریباً دس بجے ہی گیٹ بند کر دیے جاتے ہیں۔ اندر مردوں اور عورتوں کی نمازوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ دس ساڑھے دس بجے ہی مسجد کے اندر لوگ بیٹھ گئے۔ بارہ بجے پہلی اذان اور ساڑھے بارہ بجے دوسری ہوئی۔ امام صاحب نے نصف گھنٹہ عربی میں خطبہ دیا۔ ان کی آواز بڑی مترنم اورشیریں تھی۔ جب انھوں نے قرآت شروع کی تو دل یہی چاہتا تھا کہ وہ یوں ہی پڑھتے جائیں اور ہم کھڑے رہ کر سنتے جائیں۔ اس طرح لاکھوں فرزندان توحید نے حرم مکی میں نماز جمعہ ادا کی۔ ہم نے بھی اس سفر میں پہلی نماز حرم مکی جمعہ ادا کی۔ پچھلا جمعہ ہم نے مسجد نبوی میں ادا کیا تھا۔

عزیزیہ میں بلڈنگ نمبر 175 میں ہمارا کمرہ پانچویں منزل پر پانچ بستروں والا ہے۔ ہماے ساتھ اہلیہ اور بیٹی ہے۔ ہمارے ہم کمرہ پرانی دہلی کے کلاں محل کے جناب قمر الدین قریشی صاحب او ر ان کی اہلیہ ہیں۔ کلاں محل اور سندر نگری دونوں جگہ ان کے گھر ہیں۔ وہ دونوں جگہ رہتے ہیں۔ دونوں میاں بیوی ماشائاللہ بہت معاون ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اچھے ساتھی ملے ہیں۔ (باقی آئندہ)۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Hajj report 2 in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply