حافظ سعید کو سزا سنانا کوئی ڈرامہ تو نہیں ؟

سہیل انجم

”لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم جماعت الدعویٰ کے بانی و امیرحافظ سعید سمیت دو افراد کو تنظیم کا حصہ ہونے، غیر قانونی جائیداد رکھنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ا لزامات میں مجموعی طور پر 11سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدلیہ نے دومختلف مقدمات میں محفوظ فیصلہ سنایا۔ سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی۔حافظ سعید کے وکیل عمران فضل گل نے عدالتی فیصلے کوایف اے ٹی ایف کے دباﺅ کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں افراد پر کسی قسم کی دہشت گردی کی معاونت اور غیر قانونی فنڈنگ کا کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔جماعت الدعویٰ کے امیر حافظ سعید، جو 6ماہ 27دن سے گرفتار تھے، کی سزا کے بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں دہشت گردی کی دفعہ الیون ایف ٹو اور الیون این کے تحت سزا ہوئی ہے جن میں اول الذکر کسی کالعدم تنظیم سے تعلق کے بارے میں ہے۔ البتہ متذکرہ فیصلے کے خلاف قانونی دادرسی کے لیے ان کے پاس اپیل کا حق ہے جو متعلقہ ہائی کورٹ میں دائر کی جاسکتی ہے، جس کی ہائی کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل بینچ سماعت کریگا“۔

یہ اقتباس پاکستان کے کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ جنگ کے اداریے کا ایک حصہ ہے۔ اس سے کئی باتیں واضح ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ حافظ سعید کے وکیل نے کہا ہے کہ انھیں فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے دباؤ میں سزا سنائی گئی ہے۔ لیکن انھوں نے یہ بات اس انداز میں کہی ہے جس سے حافظ سعید بہت مظلوم ثابت ہوتے ہیں اور ان کو جو سزا سنائی گئی ہے وہ غلط معلوم ہوتی ہے۔ تاہم ان کی یہ بات تو درست ہے کہ حافظ سعید کو ایف اے ٹی ایف کے دباؤ میں سزا سنائی گئی ہے۔ لیکن وہ مظلوم نہیں ہیں۔ انھیں تو بہت پہلے ہی سزا سنائی جانی چاہیے تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عدلیہ کو انھیں اس دباؤ کے بغیر ہی سزا سنانی چاہیے تھی۔ بارہ فروری کو حافظ سعید کو سزا سنائی گئی ہے اور سولہ فروری سے پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس شروع ہونے جا رہا ہے جو ایک ہفتہ چلے گا۔ اس میں اس بات پر غور ہوگا کہ پاکستان کو جو کہ پہلے سے ہی اس کی گرے لسٹ میں ہے، اسی میں رہنے دیا جائے یا بلیک لسٹ کر دیا جائے۔ ایف اے ٹی ایف کا پاکستان پر ایک عرصے سے دباؤ ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے اور اپنے اقدامات سے یہ ثابت کرے کہ وہ اس سلسلے میں سنجیدہ ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسے مواقع آئے ہیں جب ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے قبل پاکستان نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے وہ یہ دکھا سکے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے معاملے میں سنجیدہ ہے اور وہ اپنی سرزمین پر دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا۔

ایف اے ٹی ایف پیرس میں قائم ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو اس بات پر نظر رکھتا ہے کہ دہشت گردوں کو سرمایہ کی فراہمی نہ کی جائے۔ اگر کسی ملک کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے کہ وہ دہشت گردوں کو سرمایہ کی فراہمی کرتا ہے یا کسی اور جانب سے ہونے والی فنڈنگ کو روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کرتا تو وہ ادارہ اس کے خلاف اقدام کرتا ہے۔ اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسے پہلے گرے لسٹ میں ڈالے اور پھر بلیک لسٹ کر دے۔ بلیک لسٹ کیے جانے کی صورت میں مذکورہ ملک کو نہ تو کسی دوسرے ملک سے مالی معاونت یا قرض مل سکتا ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ سے۔

اس لیے اب جبکہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے قبل حافظ سعید کو سزا سنائی گئی ہے یہ شبہ تو خود بہ خود سر اٹھائے گا کہ اس اجلاس کے پیش نظر ہی سزا سنائی گئی ہے۔ اگر یہ اجلاس نہ ہو رہا ہوتا یا پاکستان پر بلیک لسٹ کیے جانے کی تلوار نہ منڈلا رہی ہوتی تو حافظ سعید کو سزا نہیں سنائی جاتی۔ ہندوستان کا بھی یہی کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے پیش نظر ہی ان کو سزا سنائی گئی ہے۔ ہندوستان اس دلیل کے پیش نظر یہ کہنا چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے تعلق سے بالکل سنجیدہ نہیں ہے۔ جب بھی اس پر کوئی تلوار لٹکتی ہے تو وہ ایسے اقدامات کرتا ہے ورنہ وہ دہشت گردوں کی مدد کرتا رہتا ہے یا انھیں چھوٹ دیے رہتا ہے۔ پاکستان پر ہندوستان کا یہ الزام ایک عرصے سے چلا آرہا ہے کہ وہ دہشت گردی کا حامی ہے۔

اس کا الزام ہے کہ حافظ سعید ممبئی پر دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔ وہ پاکستان سے مسلسل یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے اس بارے میں پاکستان کو شواہد پیش کیے ہیں اور ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ کہا ہے کہ حافظ سعید ہی ممبئی حملوں کے منصوبہ ساز ہیں۔ اس نے کئی ڈوزیر پاکستان کو دیے ہیں۔ لیکن پاکستان کی عدالتوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے ثبوت نہیں دیے بلکہ اخبارات کی خبریں اور اطلاعات دی ہیں۔ اسی لیے ممبئی حملوں کے کیس میں کوئی پیش رفت آج تک نہیںہو سکی ہے۔ جب بھی عدالت میں کیس جاتا ہے تو وہ ثبوتوں کو ناکافی قرار دے کر کیس پنڈنگ کر دیتی ہیں۔ ہندوستان کا پاکستان سے یہ بھی مطالبہ ہے کہ وہ پٹھان کوٹ حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کرے اور اڑی کے فوجی ٹھکانے پر ہونے والے حملے کے ذمہ داروں کو بھی انصاف کے کٹہرے تک لائے۔ ان دونوں حملوں میں ہندوستان کے مطابق جیش محمد کے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔ لیکن ان دونوں معاملات میں بھی ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

پاکستان کے رویے کو دیکھ کر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ واقعی وہ دہشت گردی کے خاتمے کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ ورنہ اسے اس کا انتظار نہیں ہوتا کہ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہو اور اس پر بلیک لسٹ ہونے کی تلوار لٹک جائے تب وہ کوئی کارروائی کرے۔ اسے تو یوں بھی کارروائی کرنی چاہیے۔ اسے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتا تو ممبئی حملوں کے سلسلے میں بھی کارروائی کر چکا ہوتا۔ وہ مانتا ہے کہ ان حملوں میں حافظ سعید کا ہاتھ ہے۔ حافظ سعید بار بار ہندوستان کے خلاف جہاد چھیڑنے کا اعلان بھی کرتے ہیں اور اپنی تقریروں میں کھلے عام ہندوستان کے خلاف بیان بازی کرتے اور اسے نیست و نابود کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کو ہندوستان کے خلاف بولنے کی پوری چھوٹ ملتی رہی ہے۔ اب جبکہ دو الگ الگ معاملات میں حافظ سعید کو سزا سنائی گئی ہے تو امید کی جانی چاہیے کہ ہندوستان ممبئی حملوں کے معاملے کو بھی آگے بڑھانے کے لیے پاکستان سے کہے گا۔ یا اگر ہندوستان نہیں بھی کہتا ہے تب بھی پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں کارروائی آگے بڑھائے۔ ممبئی حملہ معمولی حملہ نہیں تھا۔ تین روز تک وہاں دہشت گردوں نے موت کا ننگا ناچ ناچا اور ان سے ہندوستانی سیکورٹی فورسز کی لڑائی جاری رہی اور اس میں 166 افراد کی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ جن میں کئی غیر ملکی بھی تھے۔ امریکہ نے حافظ سعید کے اوپر ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ اس کے باوجود ان کے خلاف وہ کارروائی آج تک نہیں ہو سکی جو ہونی چاہیے۔ بہر حال موجودہ کارروائی خواہ ایف اے ٹی ایف کے دباؤ ہی میں کیوں نہ ہوئی ہو، ہوئی تو۔ ہمیں امید ہے کہ دیگر معاملوں میں بھی کارروائی ہوگی اور ضرور ہوگی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Hafiz saeed sentenced another drama in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
Tags:
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.