حافظ سعید کی گرفتاری اور عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ

سہیل انجم

دو روز قبل دو اہم واقعات پیش آئے۔ دونوں کا تعلق ہندوستان اور پاکستان کے باہمی رشتوں سے ہے۔ پہلا معاملہ کالعدم جماعت الدعویٰ کے سربراہ حافظ سعید کی گرفتاری کا ہے اور دوسرا ہندوستانی شہری کل بھوشن جادھو کے سلسلے میں ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ ہے۔ یہ دونوں ایسے معاملے ہیں جو ہندوستان اور پاکستان کے باہمی رشتوں کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ جہاں تک حافظ سعید کا معاملہ ہے تو ان پر ممبئی حملوں کی منصوبہ سازی کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ بھی متعدد معاملات میں انھیں ملزم بنایا گیا ہے۔ ابھی چند روز قبل ان کے اور ان کے کچھ رفقا کے خلاف 23 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ بعض دہشت گرد گروپوں کے ساتھ مل کر فنڈ اکٹھا کرتے رہے ہیں جس کا مقصد دہشت گردی کو پروان چڑھانا تھا۔ ان پر منی لانڈرنگ کا بھی الزام ہے۔ اس سے قبل عید الفطر کے موقع پر انھیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ قذافی اسٹیڈیم میں نماز عید کی امامت نہ کریں ورنہ ان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس سے قبل بھی ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے تھے اور انھیں کئی ماہ تک نظربند بھی کیا گیا تھا۔ لیکن ہندوستان کا مطالبہ ہے کہ ان کے خلاف ممبئی حملوں کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے اور انھیں سزا دی جائے۔ ہندوستان نے اس بارے میں پاکستان کو ٹھوس شواہد بھی پیش کیے ہیں۔ لیکن جب بھی ان کے خلاف عدالتی کارروائی ہوئی اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور عدالت نے یہ کہہ کر کہ ہندوستان کے شواہد پختہ نہیں ہیں کارروائی معطل کر دی۔

امریکہ بھی حافظ سعید کو ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ بتاتا ہے۔ اس نے ان پر دس ملین ڈالر کا انعام رکھا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی ان کو عالمی دہشت گرد کے زمرے میں رکھا ہے۔ امریکہ ان کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالتا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گرد تنظیموں کو فنڈ فراہم کرنے کے خلاف پیرس میں قائم ہونے والی فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بھی پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے اور یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے۔ اس نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ اس نے انتباہ دیا تھا کہ اگر پاکستان نے ٹھوس کارروائی نہیں کی تو وہ اسے بلیک لسٹ کر دے گا۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ کیے جانے کا مطلب ہوتا کہ اسے نہ تو کوئی ملک قرض دےتا اور نہ ہی کوئی مالیاتی ادارہ۔ اسی درمیان پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے دورے پر جانے والے ہیں۔ وہ 22 جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ ان حالات کے پس منظر میں عمران خان پر زبردست دباؤ تھا کہ وہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف سخت ایکشن لیں۔ حکومت پاکستان کچھ چھوٹے موٹے اقدامات کرتی رہی ہے لیکن ان کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ لہٰذا پاکستان کو کوئی بڑا قدم اٹھانا تھا۔ اور وہ بڑا قدم بدھ کے روز اٹھا لیا گیا یعنی جماعت الدعویٰ کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کر لیا گیا۔ وہ ایک مقدمہ میں حاضری دینے کے لیے لاہور سے گوجراں والا جا رہے تھے کہ انھیں گرفتار کرکے گوجراں والا کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جس نے انھیں جیل بھیج دیا۔

اب تک حافظ سعید کے خلاف جو بھی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں دنیا کی نظروں میں ان کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ سب کو معلوم تھا کہ یہ سب نمائشی کارروائیاں ہیں۔ لیکن اب جبکہ انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس قدم کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ دس سال کی تلاش کے بعد انھیں پکڑا گیا ہے۔ حالانکہ ان کو تلاش کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ وہ تو کھلے عام گھومتے رہے ہیں اور جگہ جگہ تقریریں کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی عجیب صورت حال ہے کہ امریکہ نے ان پر دس ملین ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔ انعام تو اس کے اوپر رکھا جاتا ہے جس کا کچھ اتا پتہ نہ ہو اور جس کو تلاش کیا جا رہا ہو۔ حافظ سعید تو کھلے عام اپنی سرگرمیوں کو انجام دیتے رہے ہیں۔ اس معاملے کے واقف کاروں کا خیال ہے کہ ان کی یہ گرفتاری بھی بس نام کی ہے۔ ان کو جیل میں ہر قسم کی سہولت ملے گی۔ اور پھر کوئی بھروسہ نہیں کہ عمران خان کے امریکہ سے لوٹنے کے بعد انھیں پھر رہا کر دیا جائے۔ یا پھر ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے بعد انھیں رہا کر دیا جائے۔ پاکستان تو ان کے خلاف ایکشن لینے میں سنجیدہ ہے ہی نہیں۔ اسی لیے ہندوستان نے اس کو محض نمائشی قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک حقیقی ایکشن نہیں لیا جائے گا ایسے اقدامات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس کا یہ کہنا بجا ہے کہ جب تک ان کے خلاف حقیقی عدالتی کارروائی نہیں ہوتی اور انھیں سزا نہیں دی جاتی اس وقت تک ایسے اقدامات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ صرف گرفتاری کافی نہیں ہے۔ ان کے خلاف عدالتی کارروائی چلنی اور انھیں سزا سنائی جانی چاہیے۔ در اصل دنیا ایکشن چاہتی ہے اس قسم کے اقدامات نہیں جنھیں واپس لیا جا سکے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ایک عدالت ان کی گرفتاری کا حکم سناتی ہے اور دوسری رہائی کا۔

نئی دہلی میں ایسا سمجھا جا رہا ہے کہ پاکستان نے یہ قدم وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے پیش نظر اٹھایا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے بھی ایسے اقدامات دیکھے ہیں۔ دورے کے بعد پھر وہی سب کچھ ہونے لگتا ہے جو پہلے ہوتا رہا ہے۔ اس کی اس بات میں کافی دم ہے۔ اس لیے اگر پاکستان واقعی ان کے خلاف کارروائی کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ان کے خلاف ٹھوس شواہد عدالت میں پیش کرے۔ ان کے اثاثے منجمد کرے اور ان کے اداروں پر قبضہ کرے۔ جب تک ان کے اداروں کو حکومت اپنے ہاتھ میں نہیں لے گی ان کی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں ان کے حامیوں کی جانب سے اس گرفتاری کے خلاف ہنگامہ آرائی نہ کی جائے۔ اگر کچھ لوگ ایسی شرارت کرنے کا منصوبہ بنائیں تو ان پر پہلے ہی قابو پا لیا جائے۔

جہاں تک کل بھوشن جادھو کے معاملے میں عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ ہے تو اس پر ہندوستان اور پاکستان دونوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ دونوں نے اسے اپنی اپنی جیت بتایا ہے۔ ان کی جیت کا مطلب بھی ہے۔ عدالت نے جہاں ہندوستان کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا کہ کل بھوشن کو واپس کرنے کا حکم دیا جائے وہیں اس نے پاکستان کو حکم دیا کہ وہ ان کے خلاف سنائے جانے والے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کل بھوشن کو قونصلرر سائی دے اور ہندوستانی سفارت خانے کے افسران کو ان سے ملنے دے۔ اس فیصلے کے بعد ہندوستان نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کل بھوشن کو رہا کرے اور ہندوستان واپس بھیجے۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دیکھے گا کہ اسے کب اور کیا کرنا ہے۔ نئی دہلی کے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فیصلے میں بہت سی باتیں واضح نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان عدالتی حکم کے مطابق فیصلے پر نظر ثانی کرے گا۔ یعنی وہ دوبارہ کارروائی کرنے کے بعد کہہ سکتا ہے کہ ہم نے نظر ثانی کی ہے اور جو فیصلہ پہلے سنایا گیا تھا یعنی سزائے موت کا وہ درست تھا اور اس کو پھر بحال کیا جا رہا ہے۔ البتہ اسے کل بھوشن کو قونصلر رسائی دینی ہوگی۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ انھیں قانونی امداد ملے گی اور ہندوستانی اہلکار انھیں یہ بتانے کی پوزیشن میں ہوں گے کہ انھیں کیا کیا قانونی سہولتیں مل سکتی ہیں۔

لیکن بہر حال یہ کوئی ضروری نہیں کہ کل بھوشن کو قونصلر رسائی کا مطلب یہ ہو کہ انھیں رہا کر دیا جائے گا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ انھیں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جبکہ ہندوستان کا اصرار ہے کہ وہ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد ایران سے بزنس کرتے رہے ہیں اور ان کا اغوا کر لیا گیا اور ان پر جاسوسی کا الزام لگا دیا گیا۔ بہر حال اب یہ معاملہ ایک بار پھر پاکستانی عدالت میں چلے گا۔ یہ لڑائی لمبی ہے۔ کوئی ضروری نہیں کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد اس معاملے میں کوئی آسانی پیدا ہو۔ حالانکہ دونوں ملکوں کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے معاملات سے بچنے کی کوشش کریں اور باہمی مذاکرات کی مدد سے تمام مسائل کو حل کریں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Hafiz saeed arrest and verdict of icj in kulbhushan jadhav case in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.