”دیش کا نیتا ووٹ کی بھکشا بھاشن دے کر مانگے ہے“

سہیل انجم

حفیظ میرٹھی کی شاعری سے پہلی بار اس وقت تعارف حاصل ہوا جب ایمرجنسی کے زمانے میں ان کی ایک غزلِ مسلسل کسی رسالے میں پڑھنے کو ملی۔ وہ غزل کیا تھی ایمرجنسی کے کارپردازوں کے خلاف واشگاف اعلان جنگ تھی۔ اس کا جو نتیجہ نکلنے والا تھا وہ نکلا اور حفیظ میرٹھی ایک تو جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اور دوسرے اپنی باغیانہ شاعری کی پاداش میں داخلِ زنداں کر دیے گئے۔ اس غزل کا مطلع تھا:
آج کچھ ایسا طے پایا ہے، حق کے اجارہ داروں میں
ہم پر جو ایمان نہ لائیں چنوا دو دیواروں میں
اس کے دوسرے اشعار بھی حکمراں طبقے کو اور بالخصوص اس نوجوان کو جو اُن دنوں مملکت کے سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوا تھا مشتعل کرنے والے تھے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار:
سورج کو دو دیس نکالا دن کا قصہ پاک کرو
بنتے ہیں ایسے منصوبے رات کے رشتہ داروں میں
اک جابر کا مجبوروں نے کچھ ایسے استقبال کیا
آنکلا ہو کوئی مسیحا جیسے درد کے ماروں میں
مقطع تو حفیظ میرٹھی کے پورے کردار کا ایک سچا بیانیہ تھا اور اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کے جذبات کا ترجمان بھی تھا جو حکومتی جبر و استبداد کے سامنے سینہ سپر تھے:
ہر ظالم سے ٹکر لی ہے سچے فنکاروں نے حفیظ
ہم وہ نہیں جو ڈر کر کہہ دیں ہم ہیں طابعداروں میں

”ایمرجنسی“ کے زیر عنوان انھوں نے ایک نظم بھی کہی ہے۔ اس کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
کلیجہ رکھ دیا میرے وطن کا برما کر
یہ کس نے تھوپ دی لعنت کہاں سے منگواکر
نہ گفتگو، نہ کوئی تبصرہ، نہ کچھ تنقید
سب اہل فکر و نظر رہ گئے ہیں پتھرا کر
صحافیوں نے خوشامد کی انتہا کر دی
قصیدے پڑھتے ہیں فرعونیت کے گا گا کر

اس کے بعد کبھی کبھار ان کا کلام کہیں نہ کہیں پڑھنے کو مل جاتا۔ لیکن ان کی شاعری کے بالاستیعاب مطالعے کا موقع اس وقت ملا جب میں نے ایک کتاب میلے سے کلیات حفیظ خریدی جو کہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلیشرز نے شائع کی ہے۔ اب ایک بار پھر جب ان کی کلیات کی ورق گردانی کی تو ان کی شاعری کے محاسن کھلتے چلے گئے۔

حفیظ میرٹھی کی شاعری کا سب سے بڑا وصف ان کی حق گوئی ہے۔ بیباکی و بے خوفی ان کا طرہ امتیاز ہے۔ جبھی تو وہ اس قسم کے اشعار کہنے کا سلیقہ رکھتے ہیں:
گاتا ہے حفیظ آج بھی آزاد ترانے
گستاخ نے شائد درِ زنداں نہیں دیکھا۔

حالانکہ یہ وہی حفیظ ہیں جو درِ زنداں سے بھی آگے گزر گئے تھے اور طوق و سلاسل کو اپنی گردن کا ہار بنا لیا تھا۔ اس کے باوجود وہ راست گوئی سے باز نہیں آئے اور وہی کچھ کہا جو ان کو سچا لگا۔ وطن کی محبت اپنی جگہ پر ہے۔ لیکن اس وطن کے علاوہ جس کو علامہ اقبال نے خداؤں میں ایک جدید خدا قرار دیا تھا، اور بھی بہت کچھ ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جبھی تو حفیظ میرٹھی اس حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں لیکن ذرا طنز کے رنگ میں رنگ کر کرتے ہیں:
شعور و آگہی والو، خبر والو، نظر والوں
ذرا دیکھو تو سچائی کا کتنا بول بالا ہے
مجھے میرے وطن کے لوگ سولی پر چڑھا دیں گے
اگر کہہ دوں خدا کا حق وطن سے بھی زیادہ ہے

وہ غزل کے شاعر ہیں اور اپنے جذبات و افکار کے اظہار کے لیے انھوں نے صنف غزل کو وسیلہ بنایا ہے۔ لیکن غزل کے وسیع تر دامن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے کبھی گل و بلبل کی آڑ میں، کبھی محبوب کے عشوہ و ادا کے بہانے تو کبھی غم روزگار کے حوالے سے زمانے کی زیادتیوں، ناقدریوں اور حکمراں طبقے کی ”عنایتوں“ کے خلاف جارحانہ تیور کا مظاہرہ کیا ہے اور پرزور احتجاج بلند کیا ہے۔

ان کی شاعری اعلیٰ و ارفع اقدار کا حسین نمونہ ہے۔ مذہبی، سماجی او رانسانی قدروں کی پاسداری کے ساتھ پاکیزہ شاعری کیسے کی جاتی ہے یہ جاننا ہو تو حفیظ میرٹھی کے کلام کا مطالعہ کیجیے۔ غزل کا شاعر ہونے کے باوجود ان کی شاعری میں کہیں بھی ابتذال یا بھانڈپن نظر نہیں آئے گا۔

یہ دنیا جہاں حق پرستوں سے بھری ہے وہیں اس میں منافقوں کی بھی خاصی تعداد موجود ہے۔ معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کے گفتار و کردار میں تضاد ہی تضاد ہو۔ جو خود کو پارسا دکھانے کی کوشش کرتے ہوں لیکن پارسائی جن کو چھو کے بھی نہ گزری ہو۔ جن کا ظاہر بڑا پاکیزہ اور شفاف ہو مگر باطن اتنا ہی کریہہ اور بدنما ہو۔ ایسے لوگوں کو آئینہ دکھانا آسان نہیں۔ اس کے لیے جرات رندانہ چاہیے۔ حفیظ میرٹھی کے اندر جو جرات رندانہ تھی اس کا مظاہرہ ان کے کلام میں جگہ جگہ ملے گا:
جو بہت پاک، بہت صاف نظر آتے ہیں
دام لگ جائیں جو بھرپور تو بک جاتے ہیں

آج سیاست کی منڈی پر ایک نظر ڈال لیجیے آپ کو اس قسم کے لوگوں کی بھرمار مل جائے گی۔ ایسے ہی لوگوں نے غیروں کے قدموں میں جبہ و دستار لے جا کر رکھ دی ہے اور ایسے ہی ضمیر فروشوں کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:
یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیم بو ذر و دلق اویس و چادر زہرہ

آج دنیا پرست شیوخ کی کمی نہیں ہے۔ ایک ڈھونڈو ہزار مل جائیں گے۔ یہ لوگ اہل اقتدار کے آستانوں پر اپنی قیمت لگواتے ہیں اور دام بھرپور مل جائے تو نہ صرف خود کو بلکہ پوری ملت کو فروخت کرکے چلے آتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حفیظ نے مذکورہ شعر کہا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا حق کی آواز بلند کرنے والوں سے خالی ہو گئی ہے۔ آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو مٹ جائیں گے مگر اپنے اصولوں اور قدروں پر حرف نہیں آنے دیں گے:
سب اسیروں کو گنہگار نہ سمجھو یارو
قید خانے میں تو یوسف بھی پہنچ جاتے ہیں

حفیظ میرٹھی نے اپنی شاعری سے عہد حاضر کے سیاست دانوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے اور بڑے دلچسپ انداز میں کی ہے۔ ملک میں کس طرح ووٹوں کی تجارت ہوتی ہے اور ان کی حصولیابی کے لیے کیسے کیسے پاپڑ بیلے جاتے ہیں اور کیسے کیسے کرتب دکھائے جاتے ہیں یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ انھی کرتبوں میں ایک کرتب کرتبِ لسانی بھی ہے۔ یعنی اپنی چرب زبانی سے عوام کو اپنا ہمنوا بنا لو۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ سیاست داں جن کے ووٹ حاصل کرتے ہیں انھی کی گردنوں پر چھریاں بھی چلاتے ہیں اور مختلف بہانوں سے انھیں تباہ و برباد کرنے کے گُر آزماتے ہیں۔ ایسے سیاست دانوں کے لیے حفیظ نے کہا ہے:
دیش کا نیتا ووٹ کی بھکشا بھاشن دے کر مانگے ہے
یعنی ہمارے قتل کو ظالم ہم سے ہی خنجر مانگے ہے

لفظ ”بھکشا“ کو انھوں نے بڑے بلیغ انداز میں استعمال کیا ہے۔ یہ ایسا لفظ ہے جو بہت کچھ کہہ رہا ہے۔ جب ووٹ کی بھکشا لینی ہوتی ہے تو ہمارے نیتا کو ووٹروں پر بڑا پیار آتا ہے اور وہ ان کے دکھ درد میں شریک ہونے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ لیکن کام نکلنے کے بعد اگر وہی ووٹر اپنے مسائل لے کر ان کے پاس جائیں تو انھیں دھتکار دیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کو کس بیباکی کے ساتھ انھوں نے بیان کیا ہے ملاحظہ فرمائیں:
اس کو پکڑو، اس کو مارو، جس نے جگایا ہے اس کو
یہ فٹ پاتھ پہ سونے والا رہنے کو گھر مانگے ہے

ایسے لوگ رہبری کے نام پر سودا گری کرتے ہیں۔ ان کی پیروی حفیظ جیسے شاعر کبھی نہیں کر سکتے۔ ہاں انھیں اس بات کا احساس ضرور ہے کہ ان کی یہ حق گوئی انھیں ایک روز مصیبت میں ضرور ڈال دے گی۔ انھیں معلوم ہے کہ ان کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ انھیں زمانے کے خداو¿ں سے بار بار یہ پیغام ملتا رہا ہے کہ ذرا انجام سوچ لیں اور پھر اس قسم کی شاعری کریں:
پیغام یہ ملا ہے جنابِ حفیظ کو
انجام پہلے سوچ لیں تب شاعری کریں

لیکن حفیظ میرٹھی ان شعرا میں ہیں جو انجام سوچ کر شاعری نہیں کرتے، جو اہل طاقت کے در پر حاضری نہیں دیتے، جو اقتدار کے ایوانوں میں چہل قدمی نہیں کرتے اور جو اپنی کج کلاہی پر ذرا بھی حرف نہیں آنے دیتے۔

زنجیر غلامی کی ایک علامت ہے۔ لیکن اہل جنوں نے اس سے بڑے کام نکالے ہیں۔ شعرا نے بھی اس کا بھرپور استعمال کیا ہے اور اس کی آڑ میں ظالموں اور جابروں کی خوب خوب خبر لی ہے۔ فیض احمد فیض ہوں یا جوش ملیح آبادی یا دوسرے انقلابی شعرا۔ انھوں نے اس علامت کو بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے اور اسے ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر اختیار کیا ہے۔ زنجیریں جب بیدار ہوتی ہیں تو زمانے میں انقلاب آجاتا ہے، سب کچھ تہہ و بالا ہو جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے جانے کیا سے کیا ہو جاتا ہے۔ اہل جنوں ویرانوں کو آباد کرتے ہیں اور زنجیروں کی جھنکار سے وہ نغمگی پیدا کرتے ہیں جو کبھی تو پیا رمحبت بن کر دلوں میں اتر جاتی ہے اور کبھی آسیب بن کر حکمراں طبقے کے سروں پر ناچنے لگتی ہے۔ حفیظ میرٹھی نے بھی غزل کے پیرائے میں زنجیر کو استعمال کیا ہے اور کیا خوبصورت انداز میں استعمال کیا ہے:
آباد رہیں گے ویرانے، شاداب رہیں گی زنجیریں
جب تک دیوانے زندہ ہیں پھولیں گی پھلیں گی زنجیریں
آزادی کا دروازہ بھی خود ہی کھولیں گی زنجیریں
ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی جب حد سے بڑھیں گی زنجیریں
جب سب کے لب سل جائیں گے ہاتھوں سے قلم چھن جائیں گے
باطل سے لوہا لینے کا اعلان کریں گی زنجیریں

جب جبر و استبداد کے بوٹوں سے انسانوں کے سروں کو روندا جاتا ہے، جب زبان پر پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں، جب ہاتھوں سے قلم چھین لیے جاتے ہیں، جب اف کرنا بھی ایک جرم بن جاتا ہے تو ایسی ہی انقلابی شاعری جنم لیتی ہے اور خونِ دل میں انگلیاں ڈبو کر داستانِ جنوں رقم کی جاتی ہے اور زنجیر کا ہر ہر حلقہ زبان بن جاتا ہے اور ظلم و بربریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے لگتا ہے۔

حفیظ کی شاعری قصیدہ گوئی نہیں ہے۔ سراسر احتجاج ہے۔ اہل طاقت کے خلاف، اہل اقتدار کے خلاف، اہل ہوس کے خلاف اور اہل خرد کے خلاف۔ جبھی تو کہتے ہیں:
کسی جبیں پر شکن نہیں ہے، کوئی بھی مجھ سے خفا نہیں ہے
بہ غور میرا پیام شائد ابھی جہاں نے سنا نہیں ہے

ان کا پیغام وہ نہیں ہے کہ لوگ عیش و عشرت میں پڑ جائیں اور مسرتوں سے جھوم اٹھیں بلکہ وہ اپنے دامن میں ایسی بجلیاں لیے ہوئے ہے کہ اگر وہ کڑک اٹھیں تو پوری دنیا تھرّا جائے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی شاعری سے لوگ خوش نہیں ہوں گے۔ لوگ ان کے دشمن بن جائیں گے۔ اس کے باوجود وہ اپنی روش سے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ خواہ کوئی خوش ہو یا ناراض وہ وہی بات کہیں گے جو حق ہوگی اور وہی کچھ لکھیں گے جس کی اجازت ان کا ضمیر دے گا۔ وہ اس کی سزا بھگتنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں:
آپ جو سزا بھی دیں ٹھیک ہے مناسب ہے
ہاں میں ایک باغی ہوں میرا قتل واجب ہے

حفیظ میرٹھی چونکہ غزل کے شاعر ہیں اس لیے ان کے یہاں غزل کے پیرائے میں انقلابی آواز بلند کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی بڑے ہی سبک انداز میں غم روزگار اور غم دل سے بھی لوگوں کو واقف کرایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ان اشعار کو ملاحظہ فرمائیں:
سر ہتھیلی پر لیے آئیں گے ہم اہل وفا
جب ضرورت ہو ہماری یاد فرمانا ہمیں
اسیروں کے لیے سوغات ہوگی
ہمیں کانٹے ہی بھجوا دو چمن سے
جب دیکھنے کی طرح سے دیکھا تری جانب
پردے بھی نمایاں ہوئے جلوے بھی نظر آئے
جفاکاروں کے اس طرز جفا کو داد دیتا ہوں
ستم ڈھانے لگے کوئی کوئی غم خوار ہو جائے

حفیظ میرٹھی کی شاعری میں سہل ممتنع کے بھی بے شمار اشعار مل جائیں گے جو براہ راست دل میں اتر جاتے ہیں۔ سہل ممتنع میں کہی گئی ان کی اس غزل نے تو پوری دنیا میں دھوم مچا دی تھی۔ کئی گلوکاروں نے اس کو اپنی آواز بھی دی:
چاہے تن من سب جل جائے
سوز دروں پر آنچ نہ آئے
شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے
دل ٹوٹے آواز نہ آئے
بحر محبت توبہ توبہ
تیرا جائے نہ ڈوبا جائے
ہائے وہ نغمہ جس کا مغنی
گاتا جائے روتا جائے
سہل ممتنع کی کچھ اور مثالیں:
توبہ توبہ الٰہی یہ کیا کہہ دیا
میں نے گھبرا کے بت کو خدا کہہ دیا
تیری وعدہ خلافی جو حد سے بڑھی
ہم نے جھوٹا تجھے برملا کہہ دیا
ان کی محفل میں جا تو رہے ہو حفیظ
گر کسی نے کچھ اچھا برا کہہ دیا

حفیظ میرٹھی کی شاعری میں بڑی سبک روی بھی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی دریا خراماں خراماں بہے چلا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے مشاہدات و تجربات کو اپنے قلبی جذبات و احساسات کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کر دیا ہے کہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کہاں غمِ دل کا فسانہ ختم ہوتا ہے اور کہاں غمِ روزگار کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ان کی شاعری بلند آہنگ گھن گرج اور سبک خرامی کا ایک ایسا حسین سنگم ہے کہ دیکھتے ہی بنتا ہے۔

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Hafeez meeruthi desh ka neta vote ki bhiksha bhashan de kar mange hai in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.