پاکستانی انتخاب اور میڈیا

سہیل انجم

پاکستان میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ اسی کے ساتھ پاکستانی سپریم کورٹ کی ضرورت سے زیادہ سرگرمی بھی مرکز نگاہ بنی ہوئی ہے۔ ایک اور موضوع ایسا ہے جس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور اس کا تعلق بھی انتخابات سے ہے۔ وہ ہے پاکستانی میڈیا کے حالات۔ سب سے پہلے یہ بتا دیں کہ صحافیوں کی کئی عالمی تنظیموں نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دے رکھا ہے۔ پاکستان میں صحافت نے گزشتہ دس برسوں میں جتنی ترقی کی ہے اتنے ہی اس کے لیے خطرات بھی بڑھے ہیں۔ صحافیوں کا اغوا، ان کو دھمکیاں اور یہاں تک کہ ان کا قتل اب معمولی واقعات بن گئے ہیں۔

اسی کے ساتھ حکومت کی جانب سے میڈیا کو پابند سلاسل کرنے کی بھی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ خاص طور پر ملک کے سب سے پرانے اخبار ڈان کے خلاف جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ بہت سے شکوک و شبہات بلکہ تشویش پیدا کر رہے ہیں۔ مئی سے اس کی کاپیوں کی تقسیم پر پابندی ہے۔ اس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر سیریل المائدہ کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کا ایک متنازعہ انٹرویو شائع کرنے پر قانونی نوٹس تھما دیا گیا ہے۔ یہ وہی انٹرویو ہے جس میں نواز شریف نے ممبئی حملوں کا ذکر کیا تھا اور سوال کیا تھا کہ کیا ہمیں یعنی پاکستان کو یہ زیب دیتا ہے کہ ہم نان اسٹیٹ ایکٹرس کو ممبئی پر حملہ کرنے کی اجازت دیتے جس میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے پہلے جب المائدہ نے فوج کے بعض سینئر اہلکاروں اور دہشت گردوں کے مابین قریبی روابط سے متعلق ایک انتہائی سنسنی خیز اسٹوری شائع کی تھی تو اس وقت بھی اخبار کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ المائدہ کو ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ادھر حالیہ دنوں میں جیو ٹی وی کی نشریات پر پابندی لگائی گئی، اسے آف ایئر کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے اس کو زبردست مالی خسارے سے دوچار ہونا پڑا تھا اور تین ماہ تک اسٹاف کو تنخواہیں دینے میں دشواریاں پیدا ہوئی تھیں۔ ڈان اخبار کی کاپیوں کی تقسیم پر پابندی سے اسے بھی مالی خسارے کا سامنا ہے۔ دوسرے میڈیا اداروں پر بھی خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ان حالات میں میڈیا تنظیموں کی جانب سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا میڈیا کو پابند سلاسل کرنے سے آزادانہ اور صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے پاکستان کی نگراں حکومت پر زور دیا ہے کہ 25 جولائی کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے آزادی صحافت کو یقینی بنانے کے فوری اقدامات کیے جائیں۔ سی پی جے نے یہ مطالبہ پاکستان کے نگراں وزیر اعظم ناصر الملک کے نام ایک خط میں ایسے وقت کیا ہے جب انتخابات سے پہلے ملک میں صحافیوں اور الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سی پی جے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جوئل سائمن نے اس خط میں کہا ہے کہ پاکستان میں حال ہی میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہاں صحافی رپورٹنگ کرنے میں آزاد نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنا فریضہ انجام دے سکیں۔ سی پی جے نے المائدہ کے خلاف کارروائی کی بھی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی صحافی کسی سیاست داں کا متنازعہ انٹرویو کرتا ہے تو بھی اسے سزا نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان میں صحافیوں کی ایک نمائندہ تنظیم فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے بھی ملک میں میڈیا پر عائد غیر اعلانیہ پابندیوں کے خلاف احتجا کیا ہے۔ اس کی جانب سے ملک بھر میں احتجاجوں کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ انسانی حقوق کے غیر سرکاری ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی میڈیا کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے اور اس پر عائد کی جانے والی کسی بھی قسم کی پابندی کی مخالفت کی ہے۔ اس کے ایک عہدیدار کامران عارف نے ایک صحافی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے اگر میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے کے اقدامات جاری رہتے ہیں تو رواں ماہ ہونے والے انتخابات کے صاف و شفاف انعقاد سے متعلق شکوک شبہات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ صورت حال ملک کے لیے مفید نہیں ہے۔ اگر نگراں وزیر اعظم ناصر الملک صاف شفاف اور آزادنہ انتخابات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ میڈیا پر عاید پابندیاں اٹھانے کا اعلان کریں۔ صحافیوں کو کسی بھی واقعہ کی رپورٹنگ کی پوری پوری چھوٹ ہونی چاہیے۔ اگر انھیں اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکا جائے گا تو اس سے آزادانہ انتخاب کو یقینی بنانے کے حکومت کے دعوے پر شکوک و شبہات پیدا ہوں گے۔ نگراں وزیر اعظم کا ظاہر ہے اپنا کوئی مفاد نہیں ہوگا۔ ان کو ملک میں انتخابات کرواکر اپنے گھر لوٹ جانا ہے۔ اس لیے ان کو خاص طور پر آزادانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے تمام تر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ تاریخ میں ان کا ذکر اس لیے بھی ہو کہ انھوں نے صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے میڈیا کو تمام قسم کی پابندیوں سے آزادی دلائی تھی۔

یوں بھی میڈیا کو ہر حال میں آزادی ملنی چاہیے خواہ ملک میں انتخابات ہو رہے ہوں یا نہ ہو رہے ہوں۔ جس ملک میں میڈیا آزاد نہیں ہوتا وہ ملک خود کو ایک مہذب اور جمہوری ملک کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔ پاکستان کے بارے میں جو یہ تاثر بن گیا ہے کہ یہ ملک صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ملک ہے، اس تاثر کو توڑنے کی ضرورت ہے۔ یہ اسی وقت ہوگا جب صحافیوں کو پوری طرح سے تحفظ حاصل ہو اور ان پر جو پابندیاں عاید ہیں ان کو اٹھا لیا جائے۔ یہ کام جتنی جلد ہو پاکستان کے حق میں اتنا ہی اچھا ہوگا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ذرائع ابلاغ یا میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ جس طرح باقی تینوں ستونوں یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کو آزادی ملنی چاہیے اسی طرح میڈیا کو بھی آزادی ملنی چاہیے۔ لیکن چونکہ پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں گہری نہیں ہیں یا گہری نہیں ہونے دی گئی ہیں اس لیے عوام میں بھی جمہوری مزاج نہیں بن سکا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ میڈیا کو بھی پوری طرح آزادی دینے میں حکمرانوں کی جانب سے آناکانی کی جاتی ہے۔ دنیا میں جن ملکوں میں جمہوریت جتنی زیادہ مضبوط ہے میڈیا بھی اتنا ہی زیادہ مضبوط اور اتنا ہی آزاد ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں تو صدر پر بھی خوب تنقید کی جاتی ہے۔ گزشتہ الیکشن میں ان تنقیدوں سے پریشان ہو کر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے خلاف خوب بیانات دیے تھے۔ بلکہ وہ اب بھی ان پر نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ اور دوسرے ترقی یافتہ اور جمہوری ملکوں میں میڈیا کو پوری آزادی حاصل ہے۔ صحافیوں کو اختیارات بھی خوب ملے ہوئے ہیں۔ لیکن پاکستان میں وہ بات پیدا نہیں ہو سکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہاں جمہوریت کو پروان چڑھنے نہیں دیا گیا۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ میڈیا اگر آزاد اور مضبوط ہوگا تو اس سے جمہوریت کو بھی فائدہ ہوگا اور ملک کا وقار بھی بڑھے گا۔ اس لیے نگراں وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ میڈیا کو ہر قسم کی پابندی سے نجات دلائیں تاکہ صاف شفاف اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Title: gen election in pakistan and media | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )

Leave a Reply