ہندوستان: انتخابی میدان میں بدزبانی کا مقابلہ

سہیل انجم

وہ زمانہ چلا گیا جب سیاست دانوں سے شائستگی کی توقع کی جاتی تھی۔ جب سیاست داں خوش اخلاق و منکسر المزاجہوتے تھے۔ جب مجرمانہ بیک گراؤنڈ کے افراد سیاست میں آنے سے گھبراتے تھے۔ جب سیاسی قدروں کو عزیز رکھا جاتا تھا۔ جب اصول پسندی کو سیاسی خود غرضی و ذاتی مفاد پرفوقیت حاصل تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ اب باکردار سیاست دانوں کا قحط پڑگیا ہے اور وہ بالکل ہی ناپید ہو گئے ہیں۔ البتہ ایسی شخصیات اب خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ وہ بھی اپنی طبعی عمر کو پہنچتی جا رہی ہیں اور جلد ہی یہ نسل بھی ختم ہو جائے گی۔ اب سیاست میں ایک نیا کلچر شروع ہوا ہے۔ ایک نئی طرز ڈالی گئی ہے۔ ایک نئی روایت قائم کی گئی ہے۔ اور وہ کلچر، وہ طرز، وہ روایت عدم شائستگی اور بے کرداری سے عبارت ہے۔ اب ویسے سیاست داں نہیں رہے کہ ایک ریل حادثے پر استعفیٰ دے دیں۔ اب تو ایک کیا ایک ہزار حادثے ہو جائیں، کرپشن کے ایک ہزار کیس قائم ہو جائیں، ایک ہزار مجرمانہ عمل بائیو ڈاٹا میں جمع ہو جائیں۔ اب کسی کو ان باتوں کی پروا نہیں ہے۔ اب تو وہ سب سے بڑا نیتا ہے جو عوام کو سب سے زیادہ بیوقوف بنا سکے۔ جو سب سے زیادہ جھوٹ بول کر لوگوں کو ہمنوا بنا سکے۔ جس کے اوپر مجرمانہ مقدمات کی بھرمار ہو۔ جس کو ضمانت ملی ہوئی ہو یا جو کسی جرم کی پاداش میں جیل کی ہوا کھا چکا ہو۔ پہلے انگریزوں کی مخالفت کرنے کی وجہ سے جیل ہوتی تھی تو اس پر فخر کا اظہار کیا جاتا تھا۔ لیکن اب کسی جرم کی وجہ سے جیل ہو جائے تو اس پر بھی فخر کا اظہار کیا جاتا ہے۔ عوام بھی اسی کو جراتمند اور بہادر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔ وہ تو تھانے دار اور ایس پی ڈی ایس پی کو بھی تھپڑ مار دیتا ہے۔ گویا بد تمیزی، بیہودگی، بد زبانی اور غنڈہ گردی ہی آج کی سیاست کی معرا ج ہے۔ جس نے یہ کورس پڑھ لیا وہ پاس ہو گیا اور سو میں سو نمبر لے آیا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

یوں تو بہت سے نیتاؤں کی بد زبانی کبھی نہیں رکتی۔ وہ راجدھانی ایکسپریس کی رفتار سے چلتی رہتی ہے۔ لیکن انتخابات کے دوران اس کی اسپیڈ اور بڑھ جاتی ہے۔ پھر تو بدزبانی کی ریل بولیٹ ٹرین بن جاتی ہے۔ وہ چھوٹے کیا درمیانہ اسٹیشنوں پر بھی نہیں رکتی۔ اگر ان کو روکنے کے لیے الیکشن کمیشن نامی گارڈ لال جھنڈی دکھائے تب بھی وہ رکنے کو تیار نہیں ہوتی۔ بس اک ذرا نگاہِ غلط انداز اُدھر ڈال لیتی ہے اور پھر اپنی رفتار میں مگن ہو جاتی ہے۔ موجودہ پارلیمانی انتخاب کے ابھی دو ہی مرحلے نکلے ہیں۔ ابھی پانچ مراحل باقی ہیں۔گویا ابھی پورا ایک مہینہ انتخابی مہم چلے گی۔ 19 مئی کو آخری مرحلے کی پولنگ ہوگی اور 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان ہوگا۔ یعنی ابھی بد زبانیوں کے مزید نمونے دیکھنے کو ملیں گے۔ خدا خیر کرے۔

ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کوئی شخص برسر عام اور برسرجلسہ کسی کو ماں کی گالی کیسے دے سکتا ہے۔ شرفا تو خلوت میں بھی کسی کو ماں کی گالی نہیں دے سکتے۔ ماں کی گالی تو دور کی بات ہے وہ کوئی بھی گالی نہیں دے سکتے۔ان کی زبان ہی نہیں پھوٹے گی ایسے کلمات نکالنے کے لیے۔ لیکن ایسا بھی ہوا ہے اس الیکشن میں۔ ایک پارٹی کے امیدوار نے ایک دوسری پارٹی کے بڑے رہنما کو انتخابی ریلی اور بھرے پُرے مجمع میں ماں کی گالی دے دی۔ جب کوئی شخص ہزاروں کے مجمع میں کسی کو ماں کی گالی دے سکتا ہے تو پھر وہ تنہائی میں یا کم لوگوں کی موجودگی میں کیا کیا بد زبانیاں نہیں کرتا ہوگا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس لیڈر کی پارٹی نے اس پر نہ تو کوئی اظہار افسوس کیا، نہ اس کی گوشمالی کی اور نہ ہی اس کو آئندہ ایسی زبان بولنے سے روکا۔ گویا اسے پارٹی کی خاموش حمایت حاصل ہے۔ وہ پھر اس قسم کی ہرزہ سرائی کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ ایک امیدوار نے تو ایک خاتون کو بے پردا ہی کر دینا چاہا اور وہ بھی ایک انتخابی ریلی میں۔ انھوں نے ان خاتون کا جو کہ ان کی حریف اور مد مقابل ہیں، زیر جامہ دیکھ لیا اور بتا دیا کہ وہ کس رنگ کا ہے اور اس قسم کے زیر جامے کون لوگ پہنتے ہیں۔ ان کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا کہ وہ جب ایک بھرے مجمع میں کسی خاتون کے زیر جامہ کا ذکر لچھے دار انداز میں کر سکتے ہیں تو ذاتی محفلوں میں کیا کیا نہ کہتے ہوں گے۔ ان کی پارٹی نے بھی ان پر کوئی قدغن نہیں لگائی۔

لہٰذا وہ اس واقعہ کے بعد بھی خاموش نہیں رہے۔ دھمکیاں دینا تو عام بات ہے۔ ایسے کئی لیڈر ہیں جو آئے دن لوگوں کو اور خاص طور پر اپنے نظریاتی مخالفین کو دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ اس الیکشن میں بھی اس کا نمونہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کسی نے دھمکی دی کہ ہماری حکومت آئے گی تو ہم ان لوگوں کی جانچ کرائیں گے اور انھیں جیل بھیجیں گے۔ کسی نے کہا کہ جو مجھے ووٹ نہیں دے گا وہ الیکشن بعد میرے پاس کام کرانے نہ آئے کیونکہ میں اس کا کام نہیں کروں گی۔ جب اس نے مجھے ووٹ نہیں دیا تو میں اس کا کام کیوں کروں۔ کسی نے کسی خاص مذہب کے نام پر ووٹ مانگا تو کسی دوسرے نے مذہبوں کا مقابلہ کروا ڈالا اور کہہ دیا کہ تمھیں اُس مذہب کے ہیرو پسند ہیں تو ہمیں اِس مذہب کے ہیرو پسند ہیں۔ اور یہ بات ایسے شرانگیز انداز میں کہی گئی کہ حیرت ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان رہنماؤں کو تنبیہ کی اور ان پر کچھ گھنٹوں کے لیے انتخابی تشہیر کرنے پر پابندی عاید کر دی۔ لیکن پابندی کا طوق گلے سے اترتے ہی پھر ان کی زبانیں قینچی کی مانند چلنے لگیں۔ بلکہ قینچی بیچاری تو ان لوگوں کے زبانوں کے آگے شرمندہ ہو جاتی ہوگی۔ وہ بھی سوچتی ہوگی کہ بدنام تو میں ہوں لیکن یہ لوگ تو مجھ سے بھی زیادہ قچر قچر کرتے ہیں۔ کوئی کسی کی سات پشتوں کو نوازنے لگتا ہے تو کوئی کسی کو ”حلالی“ نہ ہونے کا سرٹی فیکٹ دے دیتا ہے۔ کوئی کسی کا شجرہ نسب بیان کرنے لگتا ہے تو کوئی کہتا ہے کہ فلاں فرقہ کو برباد کرنا ہے تو فلاں رہنما کو ووٹ دو۔ کوئی کہتا ہے کہ فلاں کے اجداد تو دوسرے مذہب سے تعلق رکھتے تھے تو کوئی کسی کی مذہب پرستی کو ہی ہدف تنقید بناتا ہے۔

گویا لیڈروں کے درمیان ایک مقابلہ چل رہا ہے کہ کون سب سے زیادہ بھدی اور غلیظ زبان استعمال کر سکتا ہے۔ کون شائستگی کو خیرباد کہہ کر بیہودگی کو اپنا وطیرہ بنا سکتا ہے۔ اور کون سنجیدگی کے بجائے ہلڑ بازی کو ترجیح دینے میں آگے نکل سکتا ہے۔ ایک آپا دھاپی ہے اور ایسی زبان بولنے کے عادی لیڈران ہذیان گوئی میں تمام لوگوں پر سبقت لے جانا چاہتے ہیں۔ اس الیکشن میں صرف اتنا ہی نہیں ہو رہا ہے بلکہ ایک دوسرے کو چور ڈاکو بھی بولا جا رہا ہے۔ حالانکہ جن جن لوگوں کو چور کہا گیا ہے ان کی چوری ابھی ثابت نہیں ہوئی ہے۔ کسی نے کہا کہ فلاں نام کے لوگ چور ہوتے ہیں تو کوئی اس سے بھی آگے بڑھ گیا اور کہہ گیا کہ اس کا نام کیا لیتے ہو وہ تو چور کی بیوی ہے۔ چور کی بیوی کو جیسے پکارا جاتا ہے ویسے ہی اسے بھی پکارا جائے گا۔ کچھ ایسے سیاست داں بھی ہیں جو دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ یعنی اگر کسی نے کوئی نازیبا بات اپنی زبان سے نہیں بھی نکالی ہے تب بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ اس نے تو ایسا کہا ہے۔ کسی کے اوپر بہتان تراشی کرنا ایک مہذب اور شریف آدمی کا شیوہ نہیں۔ لیکن اس الیکشن میں ایسا خوب ہو رہا ہے۔ شرافت کو اٹھا کر الگ رکھ دیا گیا ہے۔ انسانیت کا جامہ اتار دیا گیا ہے اور یہاں تک کہ رذالت کا لبادہ اوڑھ لیا گیا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ایک شاعر نے کہا ہے:

یہی لوگ ہیں ازل سے جو فریب دے رہے ہیں
کبھی ڈال کر نقابیں کبھی اوڑھ کر لبادہ

الیکشن میں جیت حاصل کرنے کے لیے کیا یہ سب ضروری ہے اور اگر ان سب کی بنیاد پر جیت حاصل ہو جائے تو کیا اس جیت کا کوئی مطلب ہے۔ اگر کوئی انسانیت کا جامہ ترک کرکے حیوانیت کا جامہ پہن لے تو کیا وہ انسان کہلانے کا حقدار ہوگا۔ ویسے حیوان بھی اتنے حیوان نہیں ہوتے جتنے کہ بعض اوقات انسان ہو جاتے ہیں۔ کیا ایک انسان انسانیت سے نیچے گر کر کچھ حاصل کر لے تو اسے انسانی کامیابی کہا جائے گا۔ انسان کی معراج تو انسانیت ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ انتخابی بازار میں انسانیت نامی شے کی کوئی قدر نہیں، کوئی قیمت نہیں۔ قدر اور قیمت ہے تو بے کرداری کی، بد زبانی کی، ہلڑ بازی کی اور بے حیائی بے شرمی اور غنڈہ گردی کی۔ ایسے لوگ منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچیں گے تو پارلیمنٹ کا کیا ہوگا۔ اس کا وقار تو خاک میں مل جائے گا۔ لیکن اس کی پروا کس کو ہے۔ وقار خاک میں ملتا ہے مل جائے۔ پروا تو بس الیکشن جیتنے کی ہے۔ خواہ اس کے لیے انسان کے بجائے شیطان ہی کیوں نہ بننا پڑے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Foul mouthed politicians making politics dirty in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.