پاکستان میں سوشل میڈیا بھی آزاد نہیں

سہیل انجم

جب سے دنیا میں انٹرنیٹ کا انقلاب آیا ہے میڈیا میں ایک نئے شعبے کا اضافہ ہو گیا ہے جسے سوشل میڈیا کہا جاتا ہے۔ آج پوری دنیا میں مین اسٹریم میڈیا کے متوازی سوشل میڈیا کی جلوہ نمائی ہے۔ اگر مین اسٹریم میڈیا کسی وجہ سے کسی موضوع پر اظہار خیال نہیں کرتا تو سوشل میڈیا کرتا ہے۔ اگر مین اسٹریم میڈیا کوئی فیک نیوز یا جعلی خبر پھیلاتا ہے تو سوشل میڈیا اس کی فوری گرفت کرتا اور حقائق کو سامنے لاکر عوام کو صحیح صورت حال سے واقف کرا تا ہے۔ ہندوستان و پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں ویب سائٹس کام کر رہی ہیں جو حقائق کو منظر عام پر لانے میں مصروف ہیں۔ لیکن چونکہ سوشل میڈیا انٹرنیٹ کی مدد کے بغیر ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتا اس لیے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کس کس ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال کتنی آزادی سے ہو پا رہا ہے اور کہاں کہاں اس کو پابند کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ہم سر دست پاکستان کا جائزہ لیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہاں انٹرنیٹ کے استعمال کی کیا صورت حال ہے اور کیا واقعی پاکستان میں اسے آزادی حاصل ہے یا نہیں یا اس کا استعمال کس کس طرح ہوتا ہے۔ کیا حکومت اس کا غلط استعمال کرتی ہے اور کیا سیاسی جماعتیں اس کا استحصال کرتی ہیں۔

پاکستان میں یوں تو میڈیا یا ذرائع ابلاغ کو وہ آزادی حاصل نہیں ہے جو دوسرے ملکوں میں ہے اور اسے اپنی مرضی کے مطابق کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ مختلف قسم کے قوانین بنا کر انھیں پا بہ زنجیر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی اخباروں اور نیوز چینلوں کے اشتہار روک لیے جاتے ہیں تو کبھی اشتہاروں کا مواد حکومت کے متعلقہ دفاتر سے منظور کرانے کی شرط عاید کی جاتی ہے۔ انٹرنیٹ کو بھی پابند سلاسل کرنے کی کوشش کی جائے گی ایسا سوچا بھی نہیں گیا تھا۔ لیکن ایک حالیہ رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کو وہ آزادی حاصل نہیں ہے جو اسے حاصل ہونی چاہیے۔ یہ مسلسل نواں سال ہے جب پاکستان میں انٹرنیٹ کو پابند کرنے کی کوشش ہوئی ہے۔ صورت حال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ 2019 میں پاکستان 100 ملکوں کی فہرست میں 27ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ سال وہ 26ویں پر تھا۔ گویا وہ امسال ایک اور زینہ نچے گر گیا ہے۔ ایک ادارہ فریڈم ہاوس نے انٹرنیٹ کی آزادی پر اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کو Access کے معاملے میں 25 میں سے 5، Limit on content کے معاملے میں 35 میں سے 14اور User Rights یا صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کے معاملے میں 40 میں سے سات پوائنٹس ملے ہیں۔ انٹرنیٹ اور ڈیجٹل میڈیا کی آزادی کے حوالے سے پاکستان عالمی سطح پر دس بدترین ملکوں میں شامل ہے۔ علاقائی درجہ بندی میں ویانہ اور چین کے بعد وہ تیسرا بدترین ملک ہے۔

انٹرنیٹ کی آزادی پر قدغن لگانے کے سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے دوران اس کا بے تحاشہ استحصال ہوتا ہے۔ نیوز سائٹوں کے ذریعے گمراہ کن خبریں پھیلائی جاتی ہیں اور تکنیکی ذرائع کے علاوہ انٹرنیٹ بلاک کرکے بھی حقائق چھپا کر جھوٹی باتوں کا پرچار کیا جاتا ہے۔ ”ڈیجٹل رائٹس فاونڈیشن“ کی ایگزیکٹیو ڈائرکٹر نگہت داد کے مطابق سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکومت میں بھی جو خطرناک قوانین بنائے گئے ان کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیٹ انتہائی غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں 67 ملین براڈبینڈ کنکشن ہیں۔ فریڈم ہاوس کی گزشتہ رپورٹ کے بعد سے یہ اضافہ دس ملین کا ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں بھی ایکسس میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اس کا غلط استعمال بھی بڑھا ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ احتجاجوں اور انتخابات کے دوران اور مذہبی و قومی تعطیلات میں بھی انتظامیہ کی جانب سے انٹرنیٹ تک رسائی میں رخنہ اندازی کی جاتی ہے اور اس کی وجہ سیکورٹی صورت حال بتائی جاتی ہے۔ 2018 کے عام انتخابات کے دوران اور اس کے بعد بھی بلوچستان اور فاٹا کے بہت سے علاقوں میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے ٹیکنیکس کی مدد سے ان صحافیوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی تھی جو حکومت پر نکتہ چینی کر رہے تھے۔

متعدد صارفین کو اہانت آمیز مواد کی پوسٹنگ کی وجہ سے سزائے موت سنائی گئی ہے ۔ ان کے مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ آٹھ لاکھ ایسی ویب سائٹیس جن پر سیاسی، مذہبی اور سماجی مواد پوسٹ کیے جاتے ہیں بلاک کر دی گئی ہیں۔ جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹیز دیگر ویب سائٹوں پربھی پوسٹوں پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ وہ چند حقائق ہیں جو مذکورہ رپورٹ سے پیش کیے گئے ہیں ورنہ یہ رپورٹ بہت خطرناک ہے اور یہ بتاتی ہے کہ پاکستان میں کس طرح انٹرنیٹ کو پابند کرنے کی کوششیں کی جا تی رہی ہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی ایسے اقدامات کیے ہیں اور سابقہ حکومتوں نے بھی کیے ہیں۔ ایسی رپورٹیں اکثر موصول ہوتی ہیں کہ فلاں بلاگر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور فلاں کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلاگرس کے اغوا اور ان کی گمشدگی کے بھی واقعات پیش آئے ہیں۔ مجموعی طور پر پاکستان میں جہاں ایک طرف مین اسٹریم میڈیا کی آزادی چھینی جا رہی ہے وہیں دوسری طرف انٹرنیٹ کی آزادی پر بھی قدغن لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں حکومت و انتظامیہ اپنی نکتہ چینی برداست نہیں کر سکتیں اور اگر کسی نے کچھ کہا تو اس کے خلاف تو کارروائی ہوتی ہی ہے انٹرنیٹ تک رسائی کی آزادی کو بھی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک آزاد اور مہذب ملک اور ترقی پذیر معاشرے کے لیے یہ اچھے شگون نہیں ہیں۔ حکومت و انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اپنی روش بدلیں اور میڈیا کو مکمل آزادی فراہم کریں۔
ای میل:sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Even social media is not free in pakistan in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.