انتخابی بگل بج گیا، عوام اپنا رول ادا کریں

سہیل انجم

وہ گھڑی آگئی جس کا انتظار تھا۔ چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی بگل بجا دیا۔ سترہویں لوک سبھا کے لیے مقابلہ آرائی کا میدان سج گیا۔ اب سے لے کر23 مئی تک وہ گہما گہمی رہے گی کہ اللہ کی پناہ۔ 23 مئی کو انتخابی نتائج آئیں گے اور اسی روز یہ طے ہو جائے گا کہ ملک میں اقتدار کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں آئے گی۔ یہی حکومت پھر برسراقتدار آئے گی یا پھر کوئی نئی پارٹی حکومت بنائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا کسی محاذ کو اکثریت حاصل نہ ہو اور ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر جوڑ توڑ اور ارکین کی خرید و فروخت کا بازار گرم ہوگا اور جو پارٹی یا محاذ زیادہ سے زیادہ ممبران کو توڑ کر اپنے خیمے میں لے آئے گا حکومت اس کے ہاتھ میں آجائے گی۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ:
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

یعنی جمہوریت میں افراد کی اہمیت ہے کسی اور چیز کی نہیں۔ عوام اپنے اکثریتی ووٹوں سے جس کو چن لیں وہی حکومت کا مالک بن جاتا ہے۔ اقبال کے اس شعر سے قطع نظر دنیا بھر میں اگر کوئی طرز حکومت سب سے زیادہ قابل قبول اور قابل بھروسہ ہے تو وہ یہی جمہوری طرز نظام ہے۔ ہندوستان میں پارلیمانی نظامِ انتخاب ہے۔ امریکہ کی مانند صدارتی نظام انتخاب نہیں۔ پارلیمانی نظام میں رائے دہندگان پارلیمنٹ کے لیے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں۔ جو پارٹی سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھرتی ہے اور اگر اس کو حکومت سازی کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ پارٹی اپنا ایک قائد منتخب کرتی ہے جسے پارلیمانی پارٹی کا قائد کہا جاتا ہے۔ وہی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنی صوابدید پر وزرا کا تقرر کرتا ہے اور ایک کابینہ تشکیل دیتا ہے جو حکومت کے فرائض انجام دیتی ہے۔ جبکہ صدارتی طرز انتخاب میں صدر کا چناو¿ ہوتا ہے۔ رائے دہندگان کے سامنے کم از کم دو امیدوار ہوتے ہیںجیسا کہ امریکہ میں ہے۔ پھر عوام ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہیں۔ جو امیدوار کامیاب ہوتا ہے وہ اپنی کابینہ تشکیل دیتا ہے اور اس طرح حکومت چلائی جاتی ہے۔

امریکہ اگر دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت ہے تو ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ دنیا کے نقشے پر کوئی دوسرا ملک ایسا نہیں ہے جہاں اتنے رائے دہندگان ہوں جتنے کہ ہندوستان میں ہیں۔ اسی لیے یہاں جب بھی الیکشن ہوتا ہے تو پوری دنیا کی نگاہیں اس پر ٹکی ہوتی ہیں۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کے نمائندے ہندوستان آتے ہیں اور رپورٹنگ کرتے ہیں۔ اس وقت یہاں کل ووٹروں کی تعداد 90 کروڑ ہے۔ جن میں ڈیڑھ کروڑ ووٹر اٹھارہ اور انیس سال کی عمر کے ہیں۔ یعنی وہ پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔ ذرا تصور کیجیے کہ کیا کسی اور ملک میں اتنے رائے دہندگان ہوں گے۔ 90 کروڑ لوگوں کے ووٹ ڈالنے کا انتظام بھی کوئی معمولی نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ہمالیائی انداز کی تیاری کرنی پڑتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دس لاکھ 35 ہزار 918 پولنگ اسٹیشن بنائے جائیں گے اور ان سب کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں سے ہوگی۔ 2014 کے الیکشن میں یہ تعداد 9 لاکھ 28 ہزار تھی۔ بعض سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد اور بڑھانی چاہیے۔ سات مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جس کا آغاز گیارہ اپریل سے ہوگا اور آخری ووٹ 19 مئی کو ڈالا جائے گا۔ ان تمام کارروائیوں کے لیے زبردست انتظامات کرنے ہوتے ہیں۔ ان انتظامات کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہوتی ہے۔

انتخابی عمل بحفاظت پایہ تکمیل کو پہنچ جائے اس کا بھی انتظام کرنا ہوتا ہے۔ لاکھوں سیکورٹی جوان تعینات کیے جاتے ہیں۔ بہت سے مقامات حساس ہوتے ہیں جہاں سیاسی بخار تیز ہوتا ہے وہاں تشدد کے اندیشے ہوتے ہیں۔ پولنگ بوتھوں پر ہنگاموں کا خطرہ ہوتا ہے۔ زور زبردستی سے ووٹ ڈلوانے کی بھی کوششیں ہوتی ہیں۔ حساس علاقوں میں نیم مسلح دستے تعینات کیے جاتے ہیں اور ان کو ہنگاموں کو فرو کرنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ کہیں کہیں تشدد بھی ہوتا ہے اور ہلاکتیں بھی ہو جاتی ہیں۔ اس کو روکنا بھی ہوتا ہے۔ گویا یہ ایک بہت بڑا عمل ہے جس کو خوش اسلوبی سے ہو جانا چاہیے۔ آج سے تیس چالیس سال قبل دور دراز کے علاقوں میں بڑی ہنگامہ آرائی ہوتی تھی۔ اس وقت الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے نہیں بلکہ بیلٹ پیپروں سے ووٹ ڈالے جاتے تھے۔ دبنگ قسم کے لوگ بوتھ لوٹ لیتے تھے۔ بعض اوقات وہیں پولنگ بوتھ ہی پر زبردستی لوگوں کے ووٹ کسی ایک امیدوار کے حق میں ڈال دیے جاتے تھے اور بعض اوقات یہ بھی ہوتا تھا کہ بیلٹ باکس لے جاتے وقت راستے میں لوٹ لیا جاتا تھا اور اس میں پڑے ہوئے ووٹ نکال کر ٹھپہ لگا ہوئے نئے بیلٹ پیپر ڈال دیے جاتے تھے اور پولنگ عملہ کو ڈرا دھمکا کر سیل لگوا لی جاتی تھی۔ بہار وغیر ہ میں باقاعدہ گینگ ہوتے تھے جو بوتھ لوٹتے تھے۔ اس دوران ہتھیاروں کا کاروبار خوب چلتا تھا۔ لیکن اب یہ قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ اب ووٹنگ مشینوں سے ووٹ ڈالے جاتے ہیں اور زبردست حفاظتی انتظام کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بے ایمانی نہ کر سکے۔

انتخابی عمل میں سب سے زیادہ ذمہ داری عوام پر عاید ہوتی ہے۔ وہ جیسے نمائندے چنیں گے ویسی ہی حکومت بنے گی۔ جاہل اور نیم خواندہ اور غنڈہ قسم کے امیدوار بھی میدان میں ہوتے ہیں اور تعلیم یافتہ اور سنجیدہ امیدوار بھی۔ غنڈے بھی الیکشن لڑتے ہیں اور شرفا ءبھی۔ یہی لوگ پارلیمنٹ میں پہنچ کر قانون سازی کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھے لوگوں کو منتخب کریں تاکہ اچھے اور باکردار لوگ چن کر آئیں اور ایک اچھی حکومت عوام کو ملے۔ ہر ووٹر کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے حلقے میں جو امیدوار ہیں ان میں صاحبِ کردار کون ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی امیدوار اچھا نہیں ہوتا۔ لہٰذا جو سب سے کم خراب ہو ا س کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ووٹنگ مشینوں میں ایک بٹن NOTA (نوٹا) کا بھی ہوتا ہے۔ یعنی جتنے امیدوار ہیں ہمیں ان میں سے کوئی بھی پسند نہیں ہے لہٰذا ہم سب کو مسترد کرتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں کئی انتخابی نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوٹا کا استعمال زیادہ ہونے لگا ہے۔ یعنی اچھے امیدواروں کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ لہٰذا بہت سے ووٹر سبھی امیدواروں کو مسترد کر دیتے ہیں۔ اگر چہ نوٹا کو ایک اچھا انتظام کہا جا سکتا ہے لیکن اس سے کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ اس بارے میں کوئی فیصد طے کی جانی چاہیے کہ اگر اتنے فیصد ووٹ نوٹا کو ملیں تو وہاں از سر نو الیکشن کرایا جائے گا۔ لیکن ایسا کوئی انتظام نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ نوٹا کا بٹن دبانا اپنے ووٹ کو بے مصرف کرنا ہے۔ اس سے بہتر تو یہی ہے کہ جو کم خراب امیدوار ہو اس کے حق میں ووٹ ڈال دیا جائے۔

بہت سے ایسے امیدوار بھی میدان میں ہوتے ہیں جن کا ریکارڈ مجرمانہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت اپنے خلاف مقدمات کی تفصیل دینی ہوتی ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کو الیکشن لڑنے سے روکا بھی نہیں جا سکتا۔ ہاں اگر کوئی امیدوار ایسا ہے جسے کسی کیس میں کم از کم تین سال کی جیل ہوئی ہے تو وہ فیصلے کے بعد چھ سال تک الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ اس کے بعد لڑ سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے خلاف چارج شیٹ داخل ہے تو اسے بھی الیکشن کے لیے نااہل قرار دے دیا جانا چاہیے۔ لیکن بہت سے قانون دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی ضروری نہیں کہ جس کے خلاف چار ج شیٹ داخل ہو وہ مجرم ہی ہو۔ ممکن ہے کہ عدالت اسے رہا کر دے۔ لہٰذا جب تک سزا نہ ہو جائے کسی کو الیکشن لڑنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ بہر حال یہ قانونی معاملے ہیں ان پر قانونی ماہرین ہی رائے دے سکتے ہیں۔ لیکن بہر حال اچھے امیدوراوں کے انتخاب کی ذمہ داری رائے دہندگان پر ہوتی ہے۔ وہ جتنے اچھے لوگ چنیں گے اتنی اچھی حکومت بنے گی۔

لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عوام نے جس پارٹی یا امیدوار کے خلاف اپنا نمائندہ منتخب کیا ہے وہ بعد میں اسی پارٹی یاامیدورا سے ساز باز کر لیتا ہے جس کو عوام نے ٹھکرا دیا تھا۔ یہ رائے دہندگان کے ساتھ کھلا ہوا دھوکہ ہے۔ حالانکہ دل بدلی مخالف قانون تو ہے لیکن وہ بہت زیادہ موثر نہیں ہے۔ ا س سے بھی بچ کر نکل جانے کے راستے موجود ہیں۔ لہٰذا سیاسی ماحول جب تک صاف ستھرا نہیں ہوگا تب تک اچھے امیدوراوں کی کمی رہے گی۔ عوام کو اس بات سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا کہ وہ کسی لالچ میں نہ آئیں اور نہ ہی کسی دھمکی سے ڈریں۔ وہ بے خوف ہو کر اور اپنی پسند کے مطابق امیدوار منتخب کریں۔ یاد رکھیں کہ جتنے اچھے امیدوار ہوں گے اتنی ہی اچھی حکومت بنے گی ارو عوام کا اتنا ہی بھلا ہوگا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Election commission blows bugle in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.