اس الیکشن نے تو بھیانک جنگوں کو بھی مات دے دی

سہیل انجم

خدا خدا کرکے تقریباً ڈیڑھ ماہ سے جاری انتخابی مہم ختم ہونے کو آرہی ہے۔ بلکہ اسے اب ختم ہی سمجھیے۔ 19 مئی کو آخری پولنگ ہے اور پھر اس کے بعد نتائج کا بے صبری سے انتظار۔ آخری پولنگ اور ووٹوں کی گنتی کے درمیان تین روز کا وقفہ ہے۔ یہ تین روز تین دن نہیں بلکہ ہندی میں کہیں تو تین یُگ ثابت ہوں گے۔ ووٹوں کی گنتی تو 23 مئی کو ہوگی لیکن 19 مئی کی شام سے ہی اکزٹ پول اور انتخابی سروے کی رپورٹوں کا میڈیا میں سیلاب آجائے گا۔ یہ تین روز بڑے ہنگامہ خیز ہونے والے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ جب تک نئی حکومت نہیں بن جائے گی سیاسی ہنگامے جاری رہیں گے۔ پورے ملک میں اتھل پتھل مچی ہوگی اور ہر جگہ ایک ہی چرچا ہوگا کہ کس کو اکثریت ملے گی، کون حکومت بنائے گا۔ اکزٹ پول اور سروے رپورٹوں سے کچھ تو اندازہ ہو جائے گا لیکن حتمی شکل ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ یوں تو سروے رپورٹوں کے نتائج عام طور پر حقیقی نتائج کے قریب ہی رہتے ہیں لیکن بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پیشین گوئیاں بالکل الٹ گئی ہیں اور میڈیا کی قیاس آرائیاں منہ چھپاتی پھر رہی ہیں۔ اگر چہ ابھی سے یہ قیاس آرائی ہو رہی ہے کہ کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملے گی اور ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ لیکن اسے محض خیال سمجھنا چاہیے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق قائم نہ ہو سکے۔
یہ قیاس آرائیاں اپنی جگہ پر لیکن اگر ہم غور کریں تو موجودہ الیکشن، الیکشن نہیں تھا بلکہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں کئی فریق تھے اور کئی فوجیں تھیں۔ اور سب ایک دوسرے سے دست و گریباں تھے، بلکہ گتھم گتھا تھے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ ایک ایک پرچم کے نیچے کئی کئی چھوٹی چھوٹی افواج بھی لڑ رہی ہیں۔ لیکن اصل مقابلہ تو ایک بہت بڑے محاذ سے چھوٹے چھوٹے محاذوں کا تھا۔ سب سے بڑے محاذ کی قیادت بی جے پی کر رہی تھی۔ لیکن اس کے مدمقابل جو محاذ تھے ان میں کوئی بھی اس کے جیسا وسیع، ملک گیر اور بھاری بھرکم نہیں تھا۔ اس کی قیادت میں قائم ہونے والا محاذ این ڈی اے پورے ملک میں لڑ رہا تھا مگر اس کا مقابلہ الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ محاذوں یا جماعتوں سے رہا ہے۔ مثال کے طور پر سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اس کا اصل مقابلہ ایس پی، بی ایس پی اور آر ایل ڈی کے محاذ سے تھا۔ وہاں کانگریس بھی موجود تھی۔ مگر اس کی موجودگی محض اپنے وجود کی بقا کے لیے تھی۔ کیونکہ اگر وہ منظر سے غائب ہو جاتی تو اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جاتا۔ اس ریاست میں این ڈی اے کو مہا گٹھ بندھن سے کڑی ٹکر ملی۔

بہار میں بھی این ڈی اے کا مقابلہ مہا گٹھ بندھن سے رہا۔ لیکن اس مہا گٹھ بندھن کی شکل یو پی سے الگ رہی۔ یوپی میں جہاں کانگریس لڑائی سے باہر رہی وہیں بہار میں لڑائی میں موجود تھی۔ اس نے ریاستی پارٹی راشٹریہ جنتا دل اور کچھ چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد کرکے این ڈی اے کے سامنے چیلنج پیش کیا۔ مہاراشٹر میں کانگریس اور این سی پی کا اتحاد این ڈی اے کے بالمقابل رہا تو کرناٹک میں کانگریس اور جنتا دل سیکولر سے اس کی ٹکر رہی۔ تمل ناڈو میں اس کا مقابلہ ڈی ایم کے اور کانگریس سے رہا۔ باقی ریاستوں میں کوئی محاذ نہیں تھا بس الگ الگ پارٹیاں تھیں۔ مثال کے طور پر مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس یا ٹی ایم سی سے اس کا مقابلہ تھا۔ آندھرا میں کانگریس اور تلگو دیسم سے، تلنگانہ میں ٹی آر ایس سے، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کانگریس سے، اڑیسہ میں بیجو جنتا دل سے اور جموں و کشمیر میں کانگریس، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس سے تھا۔

یوں تو ان تمام ریاستوں میں زوردار جنگ رہی لیکن حقیقی جنگ مغربی بنگال میں دیکھنے کو ملی۔ جہاں بی جے پی ممتا بنرجی سے ان کا قلعہ چھیننے کی کوشش میں ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھی وہیں ممتا بنرجی اپنے قلعے کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے تیار تھیں۔ اس میدان میں بڑا خوں ریز معرکہ ہوا۔ حقیقی معنوں میں خوں ریز ہوا۔ کیونکہ وہاں کئی افراد کی جانیں ضائع ہوئیں اور آتش زنی اور توڑ پھوڑ ہوئی۔ یہاں تک کہ اپنے عہد کے ایک معروف مصلح اور ماہر تعلیم ایشور چند ودیا ساگر کے مجسمے کو ان کے نام سے قائم کالج کے احاطے ہی میں توڑ دیا گیا۔ سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ بی جے پی کو اترپردیش اور بہار میں جو نقصان ہو رہا ہے اس کا ازالہ وہ مغربی بنگال میں کرنا چاہتی ہے۔ لیکن مغربی بنگال میں بی جے پی کا عروج ممتا بنرجی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر بی جے پی نے وہاں اپنے قدم جما لیے تو پھر ممتا کی سیاسی موت ہو جائے گی۔ کیونکہ ان کی پارٹی صرف اسی ریاست میں ہے۔ انھوں نے کمیونسٹ پارٹی کے تاریخی قلعے کو مسمار کرکے اپنا قلعہ تعمیر کیا ہے۔ وہ آسانی سے اپنے قلعے پر بی جے پی کو قابض ہونے دینا نہیں چاہتیں۔ اس کے علاوہ وہ وزیر اعظم بننے کا خواب بھی دیکھ رہی ہیں۔ ایسے میں بھی ان کو اپنا قلعہ بچانے کی ضرورت تھی ورنہ ان کو کون پوچھے گا۔

خیر الیکشن میں تمام پارٹیاں اپنی کامیابی کے لیے جی توڑ کوشش کرتی ہی ہیں اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے۔ اگر وہ کوشش نہیں کریں گی تو انھیں کامیابی کہاں سے ملے گی۔ لیکن اس بار کے الیکشن نے سابقہ تمام انتخابات کو مات دے دی۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ الیکشن نہیں تھا بلکہ جنگ تھی اور حقیقی جنگ تھی۔ لیکن جنگوں میں بھی اتنی منافرت اور دشمنی دیکھنے کو نہیں ملتی جتنی کہ اس الیکشن میں دیکھنے کو ملی۔ اس الیکشن میں تو اخلاقیات کا جنازہ بڑی دھوم سے نکالا گیا۔ شرافت و شائستگی کو ملک بدر کر دیا گیا۔ تہذیب کا دامن چاک کر دیا گیا اور سچائی کو تحت الثریٰ میں دفن کر دیا گیا۔ جتنی بھی غیر اخلاقی حرکتیں ہو سکتی تھیں وہ سب کی گئیں۔ گالی گلوج تک کی نوبت آگئی۔ جو سیاسی لیڈان ان انتخابات سے پہلے تک بہت با اخلاق کہلایا کرتے تھے اخلاق ان کے بھی میلوں دور سے نکل گیا۔کسی نے کسی کے خاندان کی سات پشتوں کی خبر لی تو کسی نے اس سے بھی آگے جانے کی کوشش کی۔ کوئی کسی کو پاگل بتا رہا ہے تو کوئی کسی کو جاہل۔ غرضیکہ وہ کون سا ہتھیار ہے جو نہیں اپنایا گیا۔ سچائی کا گلا گھونٹا گیا اور جھوٹ کو رواج دینے کی کوشش کی گئی۔

اس مہم میں سوشل میڈیا کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ جھوٹی باتوں کو پھیلانے اور افواہ بازی کے لیے اس سے بہتر کوئی پلیٹ فارم نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہی پلیٹ فارم سچائیوں کا نقیب بھی ثابت ہوا اور اگر جھوٹ کو سچ کا لبادہ اوڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی تو اسی پلیٹ فارم پر اسے بے نقاب بھی کیا گیا۔ اس بار ووٹروں کی تعداد 90 کروڑ رہی اور بیس کروڑ افراد نے الیکشن میں سوشل میڈیا اور ایس ایم ایس کا استعمال کیا۔ ان میں سے ہر ایک شخص سیکڑوں اور ہزاروں افراد کے رابطے میں رہا۔ آج ہندوستان میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جن کے پاس موبائل نہ ہو۔ ایسے تمام لوگ سیکڑوں اور ہزاروں افراد کے رابطے میں اور نشانے پر بھی رہے۔ ہر شخص ایک دوسرے کو گمراہ کرنے میں مصروف رہا۔ لیکن غلطی ا س پلیٹ فارم کی نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کی ہے جو اس پر موجود ہیں۔ ان کو اس کی ٹریننگ ہی نہیں ملی ہے کہ اس کا بہتر استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اس کو مثبت استعمال کے بجائے منفی استعمال کا ذریعہ بنا لیا۔ جہاں کسی کے واٹس ایپ پر کوئی ویڈیو آیا یا کوئی پیغام آیا تو اس نے لطف لینے کے لیے فوراً درجنوں بلکہ سیکڑوں افراد تک اسے فارورڈ کر دیا۔ اس نے ذرا سا رک کر یہ جاننے اور سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ یہ ویڈیو یا یہ پیغام صحیح ہے یا غلط یا محض گمراہ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ لوگ صحیح ویڈیو اور پیغام سے اتنے متاثر نہیں ہوتے جتنے کہ فرضی ویڈیو سے ہو جاتے ہیں۔ وہ صحیح کو صحیح نہیں سمجھتے مگر غلط کو صحیح سمجھ لیتے ہیں۔
اس طرح کوئی بھی حربہ نہیں چھوڑا گیا اپنے مقابل کو شکست دینے کا۔ بلکہ وہ لوگ بھی اس جنگ میں نادانستگی میں شامل ہو گئے جن کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ جو غیر جانبدار رہے اور جو یہ کہتے رہے کہ ہمارا کسی پارٹی سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ رائے دہندگان کا وہ طبقہ بھی جو ماحول کو دیکھ کر آخر میں اپنی رائے بناتا ہے، اس پروپیگنڈہ مشین سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ بہر حال یہ انتخابی لڑائی ختم ہو گئی۔ اب ایک دوسری لڑائی شروع ہونے والی ہے۔ اگر واقعی کسی پارٹی کو یا محاذ کو اکثریت نہیں ملی اور معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی تو ایک بار پھر بے اصولی سیاست کا دور شروع ہو جائے گا۔ کامیاب ممبران کی خرید و فروخت کا بازار لگ جائے گا اور بیشتر ممبر زیادہ سے زیادہ قیمت میں بکنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ جو پارٹی یا محاذ زیادہ قیمت دینے کی پوزیشن میں ہوگا وہ جوڑ توڑ اور خرید فروخت کرکے اپنی حکومت بنا لے گا۔ لیکن ہماری دعا ہے کہ ایسا رزلٹ سامنے نہ آئے ورنہ یہ صورت حال ملک کی جمہوریت کے لیے بد شگونی بن جائے گی۔ ویسے بھی ہماری جمہوریت کو جانے کتنے خطرات لاحق ہیں اگر ایسی کوئی صورت حال پیدا ہوئی تو اس کا تو خاتمہ ہی ہو جائے گا۔ خدا کرے کہ یہ ملک بے اصولی سیاست سے پاک ہو جائے اور ایسے لوگوں کی جو اس سیاست کو رواج دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں، اس جنگ میں شکست ہو جائے۔
sanjmdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Election 2019 in india defeats the bloodiest wars in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.