یو پی کا انتخابی منظرنامہ:بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی

سہیل انجم
جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں ان میں سب سے بڑی اور سب سے اہم ریاست اترپردیش ہے۔ اترپردیش کی سیاست پورے ملک کی سیاست کو متاثر کرتی ہے اور راستہ بھی دکھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں یو پی کے قلعے کو فتح کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کازور لگا دیتی ہیں۔ یہاں سات مرحلوں میں یعنی گیارہ فروری سے آٹھ مارچ کے درمیان انتخابات ہونے ہیں۔ گیارہ مارچ کو (پانچوں ریاستوں میں) ووٹوں کی گنتی ہوگی اور پندرہ مارچ کو انتخابی عمل مکمل ہو جائے گا۔ اس الیکشن کی بھی ہمیشہ کی مانند بڑی اہمیت ہے۔ حکمراں سماجوادی پارٹی جہاں اپنے اقتدار کی واپسی کے لیے اتحادی سیاست میں داخل ہونے پر مجبور ہوئی ہے وہیں مسلمانوں کے ووٹوں کے سہارے بی ایس پی پھر برسراقتدار آنا چاہتی ہے۔ بی جے پی جس نے 2014 کے پارلیمانی الیکشن میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی، اقتدار میں آنے کے خواب دیکھ رہی ہے تو کانگریس اپنی بچی کھچی زمین کو بچانے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہے۔ باقی چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں جیسے کہ اجیت سنگھ کی آر ایل ڈی، ڈاکٹر محمد ایوب کی پیس پارٹی، اسد الدین اویسی کی مجلس اتحاد المسلمین اور دیگر مزید چھوٹی چھوٹی جماعتیں۔ یو پی میں دو پارٹیاں ایسی ہیں جن کا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ایک ہے سماجوادی پارٹی اور دوسری ہے بی جے پی۔
سماجوادی پارٹی حالیہ دنوں میں کس بحران سے گزری ہے، بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پارٹی پر قابض ہونے کی باپ بیٹے کی جنگ میں بہر حال بیٹا کامیاب ہوا ہے۔ باپ پر اب پارٹی لیڈروں اور کارکنوں کا بھروسہ نہیں ہے۔ وہ آج کیا کہتے ہیں اور کل کیا کہیں گے، یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا۔ نہ ہی ان کے کسی وعدے پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ ان کا سیاسی سورج اب غروب ہو گیا ہے۔ محض شفق رہ گئی ہے۔ وہ بھی کچھ دیر میں تاریکی میں ڈوب جائے گی۔ جبکہ بیٹے کا سورج ابھی چمکنا شروع ہوا ہے۔ یوں تو وہ پانچ سال سے اقتدار کے آسمان پر چمکتا رہا ہے۔ لیکن اس پر باپ اور چاچا کا گہن لگا ہوا تھا۔ اس نے بڑی کوششوں اور لڑائیوں کے بعد اس گہن کو صاف کیا ہے اور اب نکھر کر سامنے آیا ہے۔ اسے یعنی اکھلیش سنگھ کو نوجوان طبقے میں بھی مقبولیت ملی ہے اور نسبتاً عمر دراز طبقے میں بھی۔ وہ لوگ بھی انھیں اب پسند کرنے لگے ہیں جو صاف ستھری سیاست میں یقین رکھتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو فرقہ وارانہ سیاست پر ترقی کی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن ان پانچ برسوں میں دریائے گنگا و جمنا میں بہت پانی بہہ گیا ہے۔ حالات بہت بدل گئے ہیں۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ نریندر مودی جیسے تیز طرار لیڈر کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہے اور دوسری پارٹیوں میں اختلافات پیدا کرواکر فائدہ اٹھانے میں ماہر امت شاہ بی جے پی کے صدر ہیں۔ وہ اور وزیر اعظم اترپردیش کی انتخابی حکمت عملی کی چادر بن رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وہی ابھی تک پارٹی میں سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور مرکزی حکومت میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ جیسے لیڈروں کی بھی ایک نہیں چل رہی ہے۔ وہ اپنے بیٹے پنکج سنگھ کو صاحب آباد حلقے سے ٹکٹ دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ ان حالات میں وزیر اعلیٰ اکھلیش سنگھ کو اپنی حکومت کو بچا پانا آسان نہیں ہے۔ وہ ابھی سیاسی میدان میں نریندر مودی اور امت شاہ کے مقابلے میں طفل مکتب ہیں۔ ان کو بھی اس بات کا احساس ہے۔ اسی لیے انھوں نے کانگریس پارٹی سے انتخابی اتحاد کا فیصلہ کیا۔ اگر چہ سماجوادی پارٹی کی حالیہ لڑائی میں وہ ایک صاف ستھرے سیاست داں کی حیثیت سے ابھر کر آئے ہیں لیکن یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ محض اسی امیج کی بنیاد پر وہ الیکشن جیت لیں گے۔
ابھی تک بڑے زور شور کے ساتھ یہ باتیں سامنے آرہی تھیں کہ سماجوادی، کانگریس ، آر ایل ڈی اور جے ڈی یو کا مہا گٹھ بندھن یا عظیم اتحاد بہار کے طرز پر بنے گا۔ لیکن اب یہ اتحاد تادم تحریر سکڑتا نظر آرہا ہے۔ ابھی تک جو خبریں سامنے آئی ہیں ان کے مطابق صرف سماجوادی اور کانگریس کا اتحاد ہوگا۔ آر ایل ڈی اس میں شامل نہیں ہوگی۔ وہ مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ مفاہمت کرکے الیکشن لڑے گی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اختلاف سیٹوں کی تقسیم پر ہوا ہے۔ اجیت سنگھ جتنی سیٹیں مانگ رہے ہیں اکھلیش اتنی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال تھا کہ اگر یہ اتحاد ہو جاتا ہے تو اس سے بی جے پی کو کڑی ٹکر ملے گی اور یہ اتحاد کامیاب ہو سکتا ہے۔ لیکن اب اجیت سنگھ کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ سماجوادی پر بی جے پی کا دباؤ ہے اسی لیے وہ اتحاد سے بھاگ رہی ہے۔ سیاست میں کب کون سا بیان دے کر کس کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ بالکل غیر یقینی ہے۔ اسی طرح سیاست میں اور خاص طور پر الیکشن کے مواقع پر کون کب کس کا دامن تھام لے یا کس کو اپنے دسترخوان پر جگہ دے دے کہا نہیں جا سکتا۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ ریتا بہوگنا جوشی اور نرائن دت تیواری جیسے لوگ بی جے پی میں جا سکتے ہیں۔ تیواری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود نہیں گئے ہیں بلکہ انھوں نے اپنے بیٹے کو داخل کیا ہے۔ لیکن بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی کے بارے میں ان کے دل میں ایک نرم گوشہ پیدا ہوا ہے۔ جبھی تو وہ امت شاہ سے ملے اور ان سے گلدستہ حاصل کیا۔ بہر حال مذکورہ اتحاد میں اب صرف دو پارٹیاں نظر آرہی ہیں۔ سماجوادی اور کانگریس۔ کہا جاتا ہے کہ سماجوادی نے آر ایل ڈی سے سمجھوتہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ غالباً اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں جاٹوں کے ووٹ تو حاصل ہو جاتے مگر مسلمانوں کے ووٹوں کے کھسک جانے کا خدشہ تھا۔ مظفر نگر فسادات کے دوران اجیت سنگھ کا رول کوئی بہت اچھا نہیں تھا۔ اگر وہ چاہتے تو جاٹوں پر اپنے اثرات کا استعمال کرکے ان کو روک سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے نہ تو ایسا کیا اور نہ ہی فساد زدہ مسلمانوں کے پاس گئے۔ شائد اسی لیے مسلمان ان سے ناراض ہیں۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے معلوم نہیں۔ لیکن اس قسم کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔
جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے تو اسے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کی یو پی کی راہ بہت آسان ہے۔ بی جے پی کی جانب سے دو ایشوز کو الیکشن میں آزمانے کی تیاری کی گئی ہے۔ ایک نوٹ بندی اور دوسرا سرجیکل اسٹرائک۔ اس کے علاوہ دوسرے اور بہت سے تیر اس کے ترکش میں ہیں۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ بی جے پی نے ان دونوں کو رام بان کا درجہ دے رکھا ہے۔ لیکن جہاں تک عوامی سطح پر ان دنوں ایشوز کا معاملہ ہے تو بظاہر ان کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم نریند رمودی نے یو پی الیکشن کو ذہن میں رکھ کر ہی نوٹ بندی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد انھوں نے اس کا پرچار بھی اس انداز میں کیا کہ اس سے عوام فرقہ وارانہ بنیاد پر بٹ جائیں۔ وہ بار بار کہتے رہے کہ نوٹ بندی کے ایک ہی جھٹکے سے جعلی نوٹوں کا کاروبار بند ہو گیا۔ دہشت گردی کی فنڈنگ بند ہو گئی۔ دہشت گردانہ وارداتیں ختم ہو گئیں۔ دہشت گردوں میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی۔ ان بیانوں کے بین السطور میں پاکستان اور مسلمان رہے ہیں۔ یعنی یہ قدم ان دونوں کے خلاف اٹھایا گیا۔ اس طرح نوٹ بندی سے رائے دہندگان کو دو خیموں میں تقسیم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ اس فیصلے کے فوراً بعد عوام نے اس کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ وزیر اعظم کے اس قدم کی وہ حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اب جو خبریں آرہی ہیں ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ نوٹ بندی کا کوئی اثر اب نہیں رہ گیا ہے۔ بلکہ کسان حکومت سے ناراض ہو گیا ہے۔ اس کی فصل خراب ہو گئی ہے اور بہت سی دشواریوں کا اسے سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نوٹ بندی ووٹ بندی کا کام کرے گا۔ جہاں تک سرجیکل اسٹرائک کا معاملہ ہے تو جس وقت یہ قدم اٹھایا گیا تھا عوام نے بھرپور انداز میں اس کی حمایت کی تھی اور اسے پاکستان کو سبق سکھانے والا قدم قرار دیا تھا۔ لیکن اب جو خبریں موصول ہو رہی ہیں ان کے مطابق سرحد پر شہید ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ نے بی جے پی کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو الیکشن سے نہ جوڑے۔ ویسے بھی اب اس کارروائی کا اثر دم توڑ چکا ہے۔ گویا یا یہ دونوں ایشو ایسے نہیں ہیں جن کی بنیاد پر بی جے پی عوام کے اجتماعی ووٹ حاصل کر سکے۔ اس کے علاوہ عوام کا یہ کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے پارلیمانی انتخابات کے موقع پر جو جو وعدے کیے تھے ان میں سے ایک بھی وعدہ انھوں نے پورا نہیں کیا ہے۔ اس لیے وہ اس حکومت سے بہت زیادہ خوش نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے اندر بالخصوص ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر زبردست رسہ کشی چل رہی ہے۔ کہیں کہیں تو کھل کر احتجاج اور مظاہرہ بھی ہو رہا ہے۔ امت شاہ اس پورے معاملے کو جھیل رہے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ الیکشن سات مرحلوں میں ہے اور ہر مرحلے میں بی جے پی کو اسی انتشار کی کیفیت سے گزرنا پڑے گا۔
جہاں تک مایاوتی کی بی ایس پی کا معاملہ ہے تو انھوں نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد کہاتھا کہ ان کی ہار اس لیے ہوئی کہ مسلمانوں نے ان کو ووٹ نہیں دیا۔ اسی لیے اس بار انھوں نے مسلمانوں کو بہت زیادہ ٹکٹ دیے ہیں۔ 97 مسلمانوں کو انھوں نے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمان بی جے پی میں جائیں گے نہیں۔ کانگریس سے تو ناراض ہی ہیں اور سماجوادی میں لڑائی چل رہی ہے۔ لہٰذا ایک ہی پارٹی بچتی ہے یعنی بی ایس پی۔ اسی لیے انھوں نے مسلمانوں کو رجھانے کی کوشش میں زیادہ مسلم امیدوار اتارے ہیں۔ لیکن سماجوادی اور کانگریس میں اتحاد ہو جانے سے ان کا حساب کتاب گڑ بڑ ہو گیا ہے۔ اب کوئی ضروری نہیں کہ مسلمان اجتماعی طور پر بی ایس پی کی جانب جھکیں۔ وہ اسی پارٹی یا اتحاد کو ووٹ دیں گے جو بی جے پی کو شکست سے دوچار کر سکے اور ان کا اب خیال ہے کہ جو نیا اتحاد بنا ہے اس میں اتنا دم ہے کہ وہ بی جے پی روک سکتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا جو رجحان سامنے آرہا ہے وہ اس اتحاد کی حمایت میں دکھائی دے رہا ہے۔ اب سات مرحلے مکمل ہوتے ہوتے ہوا کا رخ کیا ہوتا ہے کیا اس میں کوئی تبدیلی آتی ہے یا کوئی نیا منظر نامہ سامنے آجاتا ہے، بہت کچھ اس پر بھی منحصر کرے گا۔ یہ دیکھنا بڑا دلچسپ ہوگا کہ بی جے پی کن ایشوز کی بنیاد پر عوام کو اپنا ہمنوا بناتی ہے اور سماجوادی اور کانگریس کا اتحاد امیدوں اور آرزووں پر کہاں تک کھرا اتر پاتا ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Elecion scenario of uttar pardesh in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply