طلاق میں آگے تعلیم میں پیچھے

سہیل انجم
مردم شماری 2011 کے نتائج موضوعات کے اعتبار سے سامنے آ رہے ہیں جن میں کئی باتیں چونکانے والی ہیں۔ اس رپورٹ سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کی شرح دیگر فرقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اسی طرح مسلمانوں میں ناخواندہ افراد کی شرح بھی دیگر فرقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمان مجموعی طور پر طلاق دینے میں آگے اور تعلیم حاصل کرنے میں پیچھے ہیں۔ گویا ان کو جس میدان میں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا اس میں وہ سب سے پیچھے ہیں اور جس میں سب سے پیچھے ہونا چاہیے تھا اس میں سب سے آگے ہیں۔ یہ آج کے ہندوستانی مسلمانوں کی ایک ایسی تصویر ہے جس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ مذہب اسلام میں طلاق کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ اگر کسی وجہ سے میاں بیوی میں نباہ کی کوئی صورت نہ بنے تو طلاق کے ذریعے علاحدگی اختیار کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ علاحدگی بھی ایک ضابطے کے تحت ہے بے ضابطہ نہیں۔ تین طہر میں تین طلاق دے کر باعزت طریقے سے اور کچھ دے دلاکر مطلقہ کو رخصت کرنے کا حکم ہے۔ ایسا انتظام اس لیے کیا گیا تاکہ ممکن ہے کہ مصالحت کی کوئی صورت نکل آئے۔ لیکن مسلمانوں میں بجائے اس کے یہ ہو رہا ہے کہ اشتعال اور غصے میں آکر بیک وقت تین طلاقیں اور بعض اوقات بے شمار طلاقیں ایک سانس میں دے دی جاتی ہیں۔ اس طرح مطلقہ کو بے یار و مددگار گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔ یا جب اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو مفتیوں اور علماءکے پاس جا کر فتوے حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس وقت ملک میں تین طلاق کی بحث زور شور سے جاری ہے۔ سپریم کورٹ میں اس تعلق سے کئی مقدمات زیر سماعت ہیں۔ طلاق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک ایسا جائز کام ہے جس پر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ غصہ آتا ہے۔ اس کے باوجود یہی کام مسلمانوں میں سب سے زیادہ ہو رہا ہے۔
مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق بیس سے چونتیس سال کے درمیان شادی کرنے والی مسلم خواتین میں سے اکثریت پر طلاق کی تلوار لٹکی رہتی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک ہزار مسلم خواتین میں سے پانچ خواتین پر طلاق کی تلوار لٹکی رہتی ہے۔ جبکہ جینیوں، ہندوؤں اور سکھوں میں دو یا تین خواتین اس کی زد میں رہتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کی بڑی وجہ زبانی اور بیک وقت تین طلاق دینے کا رواج ہے۔ لیکن اس رپورٹ کی ایک بات ذرا اطمینان بخش ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں میں بیواؤں کی تعداد دوسرے مذاہب کے مقابلے میں کم ہے۔ در اصل اس کی وجہ اسلام میں بیواؤں سے نکاح کی حوصلہ افزائی ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک ایک بیوہ سے شادی کرنا غلط نہیں بلکہ مستحسن ہے۔ یہ اللہ کے رسول کی سنت بھی ہے۔ جبکہ دوسرے مذاہب میں اور خاص طور پر ہندوؤں میں بیواؤں سے شادی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوؤں اور جینیوں میں بیواؤں کی تعداد زیادہ ہے۔ لیکن رپورٹ میں اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ چونکہ مسلمانوں میں عورتوں کی اموات کی شرح دوسرے مذاہب کے مقابلے میں زیادہ ہے اس لیے مسلمانوں میں بیواؤں کی تعداد کم ہے۔ مسلمانوں میں ایک ہزار شادی شدہ لوگوں کے مقابلے میں 73 بیوائیں ہیں جبکہ ہندؤوں اور سکھوں میں یہ تعداد 88 ہے۔ عیسائیوں میں یہ تعداد 97ہے اور بودھوں میں 100 ہے۔ یعنی بودھوں میں بیواؤں کی تعداد سب سے زیادہ ہے یعنی ایک ہزار میں سو خواتین بیوہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہزار ہندو مردوں میں اوسطاً ساڑھے پانچ خواتین کی مردوں سے علاحدگی ہو جاتی ہے۔ جن میں طلاق اور مردوں کے ذریعے اپنی بیویوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دینے کے اعداد و شمار بھی شامل ہیں۔ مسلمانوں میں جہاں ایک ہزار میں پانچ خواتین مطلقہ ہیں وہیں ہندوؤں میں یہ تعداد ایک اعشاریہ آٹھ فیصد ہے۔ ہندووں میں کم طلاق دینے کی ایک وجہ غالباً یہ ہے کہ طلاق دینے کے بعد مردوں کو بھی غلط نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور خواتین کو تو نحس اور اپ شگونی قرار دیا ہی جاتا ہے۔
آئیے اب تعلیمی صورت حال کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ مسلمانوں میں ناخواندہ افراد کی تعداد 42.7 فیصد ہے۔ جبکہ ہندؤوں میں 36.4، سکھوں میں 32.5 اور بودھوں میں 28.2 اور عیسائیوں میں 25.6 فیصد ہے۔ گویا تعلیم میں سب سے پیچھے مسلمان اور سب سے آگے عیسائی ہیں۔ سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ مسلمانوں میں اور سب سے کم غیر تعلیم یافتہ عیسائیوں میں ہیں۔ ہندوؤں کی بھی حالت کوئی بہت اچھی نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی وہ تعلیمی اعتبار سے مسلمانوں سے کہیں آگے ہیں۔ سکھوں میں بھی ناخوادہ افراد کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ لیکن خواندگی کے معاملے میں جین سب سے آگے ہیں۔ ان میں 86.4 فیصد خواندگی ہے۔ گویا ان میں ناخواندہ افراد کی شرح محض 13.7 فیصد ہے۔ مجموعی طور پر ہندوستان میں ناخواندگی کی شرح 36.9 فیصد ہے۔ جہاں تک گریجویٹ افراد کی تعداد کا معاملہ ہے تو جین فرقے میں 25.65 فیصد گریجویٹ ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں میں 8.84، سکھوں میں 6.39، بودھوں میں 6.17، ہندووں میں 5.98 اور مسلمانوں میں 2.75 فیصد گریجوٹ ہیں۔ یعنی جین فرقے میں گریجویٹ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ باقی فرقے ان کے مقابلے میں بہت پسماندہ ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ جین فرقے میں پچیس فیصد سے زائد گریجویٹس ہیں اور مسلمانوں میں پونے تین فیصد۔ جہاں تک خواتین گریجویٹس کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ جین میں 44فیصد سے زائد، عیسائیوں میں 49فیصد سے زائد، سکھوں میں بھی اتنے ہی، بودھوں میں 38 فیصد، ہندوؤں میں ساڑھے 37 فیصد اور مسلمانوں میں 36.65 فیصد خواتین گریجویٹ ہیں۔ گویا اس میدان میں مسلمانوں کی حالت بہت زیادہ خراب نہیں ہے۔ اگر چہ اس شعبے میں بھی وہ دوسروں سے پیچھے ہیں لیکن اتنے بھی پیچھے نہیں ہیں کہ اظہار افسوس کیا جائے۔ اس سے ایک بات کا پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں میں لڑکیوں کی تعلیم کا اچھا رجحان ہے بالمقابل مجموعی تعلیم کے۔ یہ ایک اچھی بات ہے۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس میں اور اضافہ ہو۔
خیال رہے کہ اسلام نے تعلیم پر بہت زور دیا ہے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر ضروری ہے۔ لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم دوسرے مذاہب کے مقابلے میں سب سے کم تعلیم یافتہ ہیں۔ اس کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں لیکن ان اسباب کا بہانہ بنا کر ہم بچ نہیں سکتے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ آخر ہم کس طرح تعلیم میں آگے آئیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ جس میدان میں ہمیں سب سے آگے ہونا چاہیے اس میں ہم سب سے پیچھے ہیں اور جس میدان میں سب سے پیچھے ہونا چاہیے اس میں سب سے آگے ہیں۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کے ٹھیکیداروں پر زیادہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ ان کی سیاست تو کرتے ہیں لیکن ان کو تعلیم سے دور رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں پر اور حکومت پر بھی اس کی ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔ سچر کمیٹی کی سفارشات میں بھی اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ مسلمانوں کی تعلیمی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ لیکن نہ تو حکومت صورت حال کو بدلنے کے لیے آگے آئی اور نہ ہی ملت کے ٹھیکیدار آگے آئے۔ لیکن بہر حال سب سے زیادہ ذمہ داری خود مسلمانوں پر عاید ہوتی ہے۔ اپنے حالت کو بدلنے کی کوشش انھیں خود کرنی ہوگی۔
رابطے کے لیے:sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Divorce and illiteracy among muslims increasing in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply