سشما سوراج کا جانا سیاست کا نقصان عظیم

سہیل انجم

ایک اچھا انسان، ایک اچھا سیاست داں، ایک اچھا منتظم او رایک بہترین مقررہندوستانی سیاست میں ایک خلا پیدا کرکے ہم سے رخصت ہو گیا۔ ہم بات کر رہے ہیں سشما سوراج کی۔ سیاست کے اس دور زوال میں سشما کا دم بڑا غنیمت تھا۔ انھوں نے اگر چہ اپنی پوری زندگی بی جے پی میں گزاری لیکن ہر پارٹی میں ان کے چاہنے والے رہے ہیں۔ ہر جگہ انھیں پسند کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے حامی بھی ان کے قدردادن تھے اور ان کے مخالف بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال پر جہاں حکمراں بی جے پی کے لیڈروں نے اظہار غم کیا وہیں اپوزیشن رہنماؤں نے بھی کیا۔ سشما نے بھی دوسری سیاسی پارٹیوں کو اپنا دشمن نہیں سمجھا۔ اگر سمجھا تو سیاسی حریف سجھا اور کچھ نہیں۔ اور حریف سمجھنے اور دشمن سمجھنے میں بہت فرق ہے۔ دشمنی اچھی نہیں ہوتی مخالفت میں کوئی برائی نہیں۔ مخالفت اگر تعمیری ہو اور کسی کی کردار کشی کرنے کی نیت سے نہ کی جائے تو اسے برا نہیں مانا جاتا۔ بلکہ اختلاف رائے جمہوریت کی پہچان ہے۔ سشما سوراج نے دوسروں کو اپنا حریف تو سمجھا، اپنا مخالف تو سمجھا لیکن کسی کو اپنا دشمن نہیں سمجھا۔ انھوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز بی جے پی کی طلبہ شاخ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے کیا تھا۔ ان کو سیاست میں جے پرکاش نرائن لے کر آئے تھے۔ ایمرجنسی کے بعد 1977 میں انھوں نے بی جے پی جوائن کی اور 25 سال کی عمر میں ہریانہ حکومت میں کم عمر اور پہلی خاتون وزیر تعلیم بنیں۔ وہ دہلی کی پہلی خاتون وزیر اعلی بھی رہیں۔ انھیں بہترین پارلیمنٹیرین کا ایوارڈ بھی ملا تھا۔

انھوں نے عدم صحت کی بنا پر 2019 کا الیکشن نہیں لڑا تھا۔ پارلیمانی انتخابات کے خاتمے کے بعد جب مرکز میں دوسری مدت کے لیے مودی حکومت قائم ہوئی تو انھوں نے ایک ماہ کے اندر اندر اپنا سرکاری بنگلہ خالی کر دیا۔ حالانکہ بہت سے سیاست داں برسوں تک خالی نہیں کرتے۔ ان کو نوٹس پر نوٹس بھیجا جاتا ہے تب کہیں جا کر وہ خالی کرتے ہیں۔ لیکن انھوں نے ایک ماہ کے اندر خالی کرکے صرف تین کمروں کے ایک فلیٹ میں منتقل ہو گئی تھیں۔ جس روز ان کو دل کا دورہ پڑا شام تک وہ تندرست تھیں۔ سات بجے کے بعد انھوں نے ٹویٹ کرکے دفعہ 370 کے خاتمے پر مودی حکومت کو مبارکباد پیش کی تھی اور کہا تھا کہ اس دن کا انتظار وہ اپنی پوری زندگی کرتی رہی ہیں۔ لیکن رات میں دل کا دورہ پڑا۔ 9 بجکر 50 منٹ پر انھیں نئی دہلی کے آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں داخل کرایا گیا اور تھوڑی ہی دیر کے بعد انھوں نے اپنی آخری سانس لی۔

وہ سیاست میں تو تھیں لیکن سیاست کی آلائشوں سے انھوں نے اپنا دامن کبھی گندا نہیں کیا۔ انھوں نے مسلمانوں کے بارے میں یا کسی اور کے بارے میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے فرقہ واریت کی بو آتی ہو۔ کبھی کوئی متنازعہ بیان نہیں دیا۔ پاکستان کے بارے میں بھی جب بھی کوئی بیان دیا نپا تلا اور سمجھا بوجھا دیا۔ ان کے کسی بیان سے پاکستان کے تعلق سے نفرت یا دشمنی کی کوئی جھلک کبھی نہیں ملی۔ انھوں نے اقوام متحدہ میں بھی پاکستان کے خلاف تقریریں کیں اور دیگر عالمی فورموں پر بھی۔ لیکن کہیں بھی انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی جو اخلاقیات سے گری ہو یاس جس سے ہتک عزت کی بو آئے۔ انھوں نے ہمیشہ ہندوستان کی پالیسی کو سامنے رکھ کر بیان دیا لیکن انسانیت کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

2014 کے عام انتخابات سے قبل ان کو بھی وزیر اعظم کے عہدے کا دعوے دار سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن انھوں نے اپنی زبان سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے اس کا کچھ اندازہ ہو سکے۔ یہاں تک کہ مودی حکومت کے قیام کے بعد جب عوامی طور پر یہ بات اٹھنے لگی کہ انھیں وزیر خارجہ تو بنایا گیا ہے لیکن ان کا سارا کام وزیر اعظم مودی ہی کرتے ہیں تب بھی انھوں نے کوئی بات نہیں کہی۔ بلکہ ہر ایسے مواقع پر جب لوگوں کی باتوں سے کوئی غلط پیغام ملنے کا تاثر قائم ہونے لگتا تو وہ کھل کر مودی حکومت اور خود مودی کی تعریف میں بیان دے دیتیں۔ انھوں نے حکومت کے ہر اچھے فیصلے پر وزیر اعظم کو مبارکباد دی۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے بھی کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے یہ قیاس آرائی ہونے لگے کہ ان میں اور سشما میں من مٹاؤ چل رہا ہے۔ حکومت سے الگ ہونے کے بعد بھی سشما کی زبان بند ہی رہی۔ انھوں نے ہمیشہ اخلاقیات کو اپنے قریب رکھا بلکہ عزیز رکھا۔

وزیر خارجہ کی حیثیت سے انھوں نے اپنی وزار ت کو ایک انسانی رخ عطا کیا۔ انھوں نے غیر ممالک میں پھنسے ہندوستانیوں کو واپس وطن لانے میں جو نمایاں کردار ادا کیا اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ انھوں نے پاکستان سے ایک گونگی بہری ہندو لڑکی گیتا، دہلی کی ڈاکٹر عظمیٰ احمد اور ممبئی کے حامد انصاری کو واپس لانے میں جس انتھک محنت سے کام کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ انھوں نے سربجیت کے اہل خانہ ہوں یا کل بھوشن یادو کے اہل خانہ سب کے ساتھ انتہائی اپنائیت کا مظاہرہ کیا او ران کے دکھ درد میں شریک رہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے کسی مریض نے ہندوستان میں علاج کرانے کے لیے ان سے مدد مانگی تو انھوں نے اس کی بھی اسی طرح مدد کی جس طرح ہندوستانیوں کی مدد کرتی رہی ہیں۔ ان کی کوششوں سے متعدد پاکستانیوں کو ہندوستان میں نئی زندگی ملی۔ یہاں تک کہ دونوں ملکوں میں کشیدگی کے ماحول میں بھی انھوں نے انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور یہ نہیں کہا کہ تمھارا ملک ہمارے ملک سے دشمنی کرتا ہے اس لیے ہم تمھاری کوئی مدد نہیں کریں گے۔ ان کی انسانیت نوازی کی قدر اہل پاکستان بھی کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کے سیاست دانوں سے ان کے اچھے مراسم رہے ہیں۔ انھوں نے دسمبر 2015 میں پاکستان کا آخری مرتبہ دورہ کیا تھا۔ اس روز وہ ہرے رنگ کی ساڑی میں تھیں۔ اس پر یہاں کے کچھ متعصب لوگوں نے ان کے خلاف باتیں کیں او رکہا کہ انھوں نے پاکستانیوں کو خوش کرنے کے لیے ہری ساڑی باندھی تھی۔ اس پر انھوں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا اور کہا کہ کیا وہ پاکستان میں ہری ساڑی نہیں پہن سکتیں۔ انھوں نے ایک بات اور کہی تھی کہ اس دن چونکہ ان کے ہری ساڑی پہننے کا دن تھا اس لیے ہری ساڑی پہنی تھی۔ در اصل سشما سوراج ہر دن کے اعتبار سے الگ الگ رنگوں کی ساڑی باندھتی رہی ہیں۔ وہ ساڑی کے اوپر جیکٹ پہنتی تھیں جو ان کی ایک طرح سے پہچان بن گیا تھا۔ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستانہ و خیر سگالانہ تعلقات کی حامی رہی ہیں لیکن اس کے لیے ہندوستانی پالیسی کی طرفدار بھی رہیں۔ سشما سوراج اردو بھی اچھی بولتی تھیں اور پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران اردو اشعار بھی استعمال کرتی رہی ہیں۔ مجموعی طور پر وہ ہندوستان کے زوال پذیر سیاسی ماحول میں اصولوں اور قدروں کی سیاست کرنے کی وجہ سے جانی جاتی تھیں۔ ان کا 67 سال کی عمر میں چلا جانا بلا شبہ ہندوستانی سیاست میں ایک خلا پیدا کر گیا جو کہ جلد پُر ہونے سے رہا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Demise of sushma swaraj nation lost a great and remarkable leader in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.