جو دل کا حال ہے وہی دہلی کا حال ہے

سہیل انجم

مرحوم ملک زادہ منظور احمد نے کہا تھا:
چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے
جو دل کا حال ہے وہی دہلی کا حال ہے

آج واقعی دہلی کے ہر شہری کا چہرہ گرد آلود اور آنکھیں خون آلود ہیں۔ ملک کے دار الحکومت میں رہنے کی یہ سزا ہے جو یہاں کا ہر شہری بھگت رہا ہے۔ دہلی آجکل قابل رہائش شہر نہ رہ کر خیر باد کہہ دینے کے قابل شہر بن گیا ہے۔ لیکن کوئی کیا کرے۔ دہلی کو کیسے چھوڑے۔ جب قدرت نے یہیں پر روزی روٹی لکھ دی ہے تو پھر وہ جائیں تو جائیں کہاں۔

استاد ذوق نے کہا تھا:
آجکل گرچہ دکن میں ہے بڑی قدرِ سخن
کون جائے ذوق پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر
جبکہ مرزا غالب نے کہا تھا:
ہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت اسد
ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھائیں گے

مرزا غالب نے غم و الم کے کھانے کی بات کہی ہے اور کہا ہے کہ محبت کا غم اب ملتا نہیں۔ لہٰذا دہلی میں رہ کر کیا کریں جب یہاں کچھ کھانے ہی کو نہیں ہے۔ لیکن آج کھانے کے لیے غم الفت بھی ہے اور غم موسم بھی ہے۔ اسی لیے کوئی اسے چھوڑ کر جائے تو کیونکر جائے۔ خواہ دہلی گیس چیمبر ہی کیوں نہ بن گئی ہو۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال کہتے ہیں کہ دہلی گیس چیمبر میں تبدیل ہو گئی ہے۔ وہ شاید درست کہتے ہیں۔ آج دہلی کا ہر شہری ایسا محسوس کر رہا ہے جیسے اس کا دم گھٹ رہا ہے۔ وہ چند ساعتوں کا مہمان ہے۔ اسے سانس لینے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ اس کی آنکھیں جل رہی ہیں۔ آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے۔

شہریار نے ایک فلم کے لیے ایک غزل لکھی تھی جس کا مطلع تھا:
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے

آج اگر وہ زندہ ہوتے اور یہ کہتے کہ میں نے یہ شعر دہلی کی موجودہ فضا کے لیے لکھا تھا تو ہر شخص ان کی بات پر یقین کر لیتا۔

دہلی کی موجودہ فضائی آلودگی گزشتہ تین برسوں کے مقابلے میں سب سے اونچی سطح پر ہے۔ شہر کی بہت بڑی آبادی گھروں میں قید ہے اور جن کے سامنے باہر نکلنے کی مجبوری ہے ان کی اکثریت ماسک لگائے ہوئے نکل رہی ہے۔ لیکن ماسک مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اسے کسی اور طریقے سے حل کرنا ہو گا۔

اس صورت حال کے سب سے زیادہ شکار بچے ہو رہے ہیں۔ اسی لیے دو دو بار اسکولوں کو بند کیا گیا۔ لیکن کیا اسکولوں کو بند کرنا اس مسئلے کا حل ہے۔ دہلی کی حکومت نے آلودگی پر قابو پانے کے لیے نجی گاڑیوں کو طاق اور جفت کے فارمولے پر چلایا۔ لیکن کیا یہ فارمولہ اس مسئلے کا کوئی مستقل حل ہے۔ جی نہیں اس کے لیے تو نہ صرف دہلی کی حکومت کو بلکہ مرکزی حکومت کو بھی کچھ کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے موجودہ صورت حال پر بڑی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں حکومتوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے دہلی کے شہریوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ ا س نے آڈ ایون یا طاق اور جفت کے فارمولے پر بھی سوال اٹھایا ہے اور پوچھا ہے کہ کیا اس سے آلودگی کم ہو جائے گی۔

وہ بھی کیا زمانہ تھا جب دہلی کی فضا بھی حیدرآباد، بنگلور اور دیگر شہروں کی مانند انتہائی صاف ستھری ہوا کرتی تھی۔ میں پہلی بار 1983 میں دہلی آیا تھا۔ بہت سکون تھا۔ آمد و رفت میں بہت آسانیاں تھیں۔ جینے کے لیے بہتر ماحول تھا۔ آبادی بھی کم تھی اور گاڑیوں کی تعداد بھی زیادہ نہیں تھی۔ لیکن اب میں غور کرتا ہوں تو اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ جب دہلی کا سنہرا دور نہیں بھی تھا تب بھی رہائش کے قابل ایک اچھا شہر تو تھا۔ اس وقت سڑکیں خالی خالی رہتی تھیں۔ ٹریفک جام کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ڈبل ڈیکر بسیں بھی چلتی تھیں اور منی بسیں بھی۔ بسوں کی تعداد کم تھی تو سواریوں کی بھی تعداد کم تھی۔ لوگوں کے پاس وقت بھی رہتا تھا۔ کسی بس اسٹاپ پر کھڑے ہو کر بسوں کا گھنٹوں انتظار بھی کیا جاتا تھا۔ کاریں بہت کم لوگوں کے پاس تھیں۔ جو کار لے لیتا وہ بڑا خوش نصیب اور امیر سمجھا جاتا تھا۔ آج تو ہر شخص کے پاس کار ہے۔

اِس وقت ہم جہاں رہائش پذیر ہیں یعنی جامعہ نگر کے علاقے میں، اس وقت سب سے قریبی ٹریفک کی سرخ بتی پانچ کلو میٹر دور تھی۔ لیکن گاڑیوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے سرخ بتیوں کی تعداد بھی بڑھنے لگی اور آج قریبی ریڈ لائٹ محض ایک کلو میٹر دور ہے۔ گاڑیوں کی تعداد میں اضافے کی متعدد وجوہات ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی وجہ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ وقت کا پہیہ ایسا گھوما کہ وہ ساری پرانی باتیں خواب و خیال بن گئی ہیں۔ اہل دہلی نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انھیں ایک روز گیس چیمبر میں بند ہونا پڑے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دشمنوں کو گیس چیمبر میں بند کر کے مارا بھی گیا۔ لیکن اہل دہلی کا کہنا ہے کہ انہیں تو بغیر کسی جرم کے گیس چیمبر میں بند کر دیا گیا ہے۔ ہاں یہ بات الگ ہے کہ اس گیس چیمبر پر کوئی ڈھکنا نہیں ہے۔ یہ بالکل کھلا ہوا ہے پھر بھی بے حد خطرناک ہے۔ گاڑیوں کی بڑھتی تعداد نے زیادہ دھواں چھوڑنا شروع کر دیا۔ آج دہلی کی کسی بھی سڑک پر چلے جائیے دھواں ہی دھواں نظر آئے گا۔

پہلے ہم نے سنا بھی نہیں تھا کہ فصلوں کی کٹائی کے بعد کچھ حصے کھیتوں میں بچ رہتے ہیں۔ پہلے مزدور ہاتھوں سے فصلوں کی کٹائی کرتے تھے۔ لیکن پھر مشینیں آ گئیں۔ مشینیں رحمت بنیں تو زحمت بھی بن گئیں۔ ان سے کٹائی ہونے لگی تو کھیتوں میں ڈنٹھل بھی بچنے لگے۔ کاشتکاروں کو اور کچھ نہیں سوجھا ان ڈنٹھلوں سے نجات پانے کے لیے، تو انھوں نے انہیں وہیں جلانا شروع کر دیا۔ پنجاب، ہریانہ اور مغربی اترپردیش میں یہ سلسلہ چل پڑا تو پھر پورے خطے کی فضائیں رفتہ رفتہ دھند سے بھر گئیں اور فضا پر ایک دبیز چادر سی تن گئی۔ یہ چادر اتنی دبیز اور موٹی ہے کہ سورج چھپ جاتا ہے۔ دھوپ نظر نہیں آتی۔ چند سو میٹر کے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

کئی روز تو اتنے برے گزرے ہیں کہ باہر تو باہر گھر کے اندر بھی رہنا دوبھر تھا۔ گھروں میں بھی آنکھیں جلتی رہیں، ان سے پانی آتا رہا اور سانس لینے میں دقت پیش آتی رہی۔ ہم نے ایسے کئی مریضوں سے، جو صرف نزلہ زکام سے متاثر ہیں، بات کی تو انھوں نے بتایا کہ ان کے گلے میں شدید تکلیف ہے۔

دہلی میں فضائی آلودگی کے کئی اسباب ہیں۔ یہ اسباب دہلی کے اپنے بھی ہیں۔ لیکن آلودگی میں اضافے کا سہرا ان کاشتکاروں کے سر جاتا ہے جو بدرجہ مجبوری ڈنٹھلوں کو جلا رہے ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ میں 26 لاکھ کسان ہیں۔ مرکزی حکومت نے ان کو جدید ترین مشینیں دینے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اب تک صرف 63 ہزار مشینیں ہی حکومت دے پائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال اور نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا پنجاب اور ہریانہ حکومتوں کے ساتھ مرکزی حکومت کو بھی اس صورت حال کے لیے ذمہ دار گردانتے ہیں۔

ملک زادہ منظور احمد نے جو بات کہی تھی کہ جو دل کا حال ہے وہی دہلی کا حال ہے۔ یہ بات بہت بر محل ہے۔ لیکن دل کو تو منایا بھی جا سکتا ہے، تھپکی دے کر سلایا بھی جا سکتا ہے لیکن دہلی کی فضاؤں پر چھائی ہوئی خطرناک آلودگی کو کیسے ہٹایا جائے، اس کے بارے میں نہ تو دہلی کی حکومت کو کچھ سوجھ رہا ہے اور نہ ہی مرکزی حکومت کو۔ اسی لیے دونوں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اس الزام اور جوابی الزام کے درمیان دہلی اور دہلی والوں کا دم گھٹ رہا ہے۔ اسی لیے عدالت عظمیٰ کو سامنے آنا پڑا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا عدالتی حکم حکومتوں کو مؤثر اقدامات کے لیے مجبور کر پاتا ہے۔

ماہرین صحت نے اس صورت حال کو سزائے موت کے مساوی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق آلودگی کی یہ سطح عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کسی ہنگامی صورت تحال کے لئے مقرر کردہ محفوظ حد سے بھی 35 گنا بڑھ چکی ہے۔دنیا بھر کے تمام دارالحکومتوں کے مقابلے میں یہ سب سےزیادہ آلودہ فضاءہے۔ یہاں ہرسال اسموگ کے باعث بہت سے افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔شہر کی صورتحال ہر نومبر میں اس وقت مزید جان لیوا ہوجاتی ہے جب اس مہینے دیوالی کا جشن پوری آب و تاب کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

دیوالی پر نہایت وسیع پیمانے پر ملک بھر میں آتش بازی کی جاتی ہے۔ آتش بازی کا دھواں وپٹاخوں میں استعمال ہونے والا باروداور اس کی بو پورے ماحول اور فضا ءکو زہریلا بنادیتی ہے۔یہی آلودگی یا زہر پور ی فضاءکو زہریلا بنادیتا ہے جس سے انسانوں کی بڑے پیمانے پر اموات ہوتی ہیں۔
sanjumdelhi”gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Delhi turns into gas chamber in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.