اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا!

سہیل انجم

فانی بدایونی کا ایک شعر ہے:
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا،  زندگی کاہے کا ہے خواب ہے دیوانے کا

انھوں نے اس شعر میں زندگی کی پراسراریت کی جانب اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ زندگی کے راز کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زندگی، زندگی نہیں ہے بلکہ ایک دیوانے کا خواب ہے۔ لیکن یہاں موت ایک معمہ بن گئی ہے۔ وہ بھی ایک موت نہیں بلکہ گیارہ گیارہ موتیں۔ وہ بھی موتیں نہیں بلکہ اجتماعی خود کشی۔ وہ بھی ایک ہی خاندان کی۔ خود کشی کرنے والوں میں77 سالہ معمر خاتون نرائن دیوی سے لے کر پندرہ سالہ نابالغ شیوم تک شامل ہیں۔ جب یکم جولائی کی صبح کو شمالی دہلی کے براڑی علاقے کے لوگ نیند سے بیدار ہوئے تو ان کا استقبال بھاٹیہ خاندان کی اجتماعی خود کشی نے کیا۔ اس خبر نے نہ صرف اس علاقے کے لوگوں کو بلکہ پوری دہلی کے باشندوں کو سکتے میں ڈال دیا۔

یہ خاندان بنیادی طور پر راجستھان کا باشندہ تھا۔ بیس بائیس برسوں سے براڑی میں آباد تھا۔ اس کی دو دکانیں تھیں۔ ایک پلائی ووڈ کی اور دوسری کیرانہ کی۔ کیرانہ کی دکان گھر ہی میں تھی اور صبح پانچ بجے ہی کھل جاتی تھی۔ لیکن جب یکم جولائی کو سات بجے تک بھی دکان نہیں کھلی تو لوگوں کو تشویش ہوئی۔ مکان کا داخلی دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ایک لڑکے نے گھر میں جا کر دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے ایک ہی جگہ دس لاشیں لٹکی ہوئی دیکھیں۔ سب کی سب مکان میں لوہے کے جال سے معلق تھیں۔ اس نے شور مچایا اور کچھ دیر میں جب پولیس آئی تو معلوم ہوا کہ گھر کی سب سے معمر خاتون بھی ایک کمرے میں مردہ پڑی ہوئی ہے۔ پوری دہلی میں سنسنی پھیل گئی۔ مقامی باشندوں نے بتایا کہ یہ خاندان بہت دھارمک تھا۔ پوجا پاٹھ میں وشواس رکھتا تھا۔ بھجن کیرتن ہوتے رہتے تھے۔ پلائی ووڈ کی دکان پر روزانہ کسی پلائی پر کوئی دھارمک قول لکھا ہوتا تھا جسے دکان کے باہر کھڑا کر دیا جاتا تھا۔ ایسے میں کسی کو یہ شبہ بھی نہیں ہو سکتا کہ اس خاندان کی کسی سے دشمنی رہی ہوگی۔ کسی نے ان لوگوں کا قتل کرکے ان کی لاشیں لٹکا دی ہوں گی۔

اسی درمیان پولیس کو گھر کے اندر سے کئی ڈائریاں ملیں جو کئی برسوں سے لکھی جاتی رہی ہیں۔ ان ڈائریوں نے معاملے کو اور بھی سنگین بنا دیا بلکہ اور بھی الجھا دیا۔ اس سے پتا چلا کہ گھر کے بزرگ یعنی نارئن دیوی کے شوہر کا کئی سال قبل انتقال ہو چکا تھا۔ ڈائریوں کے مطابق اس کی روح دوسرے بیٹے 50 سالہ للت بھاٹیہ کے جسم میں آتی رہی ہے۔ ڈائری کے مندرجات بتاتے ہیں کہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ اسی روح نے لکھوایا ہے۔ ان میں مختلف قسم کے عمل کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح ان اعمال کو کرنا ہے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ جو بھی عمل کرنا ہے وہ کسی کے سامنے نہیں کرنا ہے اور یہ کہ کوئی بھی بات کسی کو بتانی نہیں ہے۔ ہر چیز را ز میں رکھنی ہے۔ اگر گھر میں مہمان آجائیں تو عمل کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ اس واردات سے چند روز قبل ہی گھر کی ایک لڑکی 33 سالہ پرینکا کا رشتہ طے ہوا تھا اور گھر کے لوگ بہت خوش تھے۔ اس نے اسی رات اپنے رشتے داروں کو فون کرکے شاپنگ کے بارے میں بات کی تھی۔ علاقے کے لوگوں کے بارے میں سب بہت خوش تھے۔ ڈائری سے یہ بھی علم ہوا کہ پرینکا مانگلک ہے یعنی منگل کو پیدا ہوئی ہے۔ بعض ہندووں کا عقیدہ ہے کہ منگل کو پیدا ہونے والی لڑکی بد قسمت ہوتی ہے۔ اسی لیے اہل خانہ اس کے مانگلک ہونے پر بہت پریشان رہا کرتے تھے۔
ڈائری میں یہ بھی لکھا ہے کہ کس طرح دنیا کی آلائشوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ مذکورہ روح للت کے جسم میں آتی تھی اور وہ اہل خانہ کو مختلف اعمال کے لیے ہدایت دیتی تھی۔ اس کی مذہبی فطرت کی وجہ سے اور اس بات پر بھی کہ اس کے جسم میں پاپا کی روح آتی ہے، سب اس کا نہ صرف احترام کرتے تھے بلکہ اس کی ہر بات مانتے تھے۔ ڈائری میں لکھا ہے کہ کس طرح خود کشی کرنے کی مشق کرنی ہے۔ ہدایت کے مطابق چونکہ یہ خاندان برگد کی پوجا کرتا تھا اس لیے سب کو خود کشی کے لیے ایسے لٹکنا ہے جیسے کہ وہ برگد کی شاخ سے لٹکے ہوئے ہیں۔ اسی لیے لوہے کے جال کا استعمال کیا گیا۔ ہدایت کے مطابق سب کو اپنے پیر باندھ دینے ہیں، منہ پر پٹی باندھ لینی ہے اور اگر نئی چنری میں سے کچھ بچ جائے تو منہ پر ایک اور پٹی باندھ لینی ہے۔ معمر خاتون کے علاوہ تمام لاشوں کے پیر بندھے ہوئے تھے اور ان کے منہ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ ڈائری کے اندراج کے مطابق روح نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اس عمل کو کریں اور موت سے نہ ڈریں۔ ایسا کرتے وقت اگر زمین کانپنے لگے تب بھی نہیں ڈرنا ہے کیونکہ میں آکر تم سب لوگوں کو بچا لوں گی۔ روح نے ان لوگوں کو بتایا تھا کہ تم سب لوگوں کی روحیں میرے پاس گروی ہیں۔ دوسرے شہروں میں جو قریبی رشتے دار ہیں ان کی روحیں بھی اس کے پاس ہیں۔

ڈائری میں اور بھی بہت سی باتیں لکھی ہوئی ہیں جن کا تجزیہ پولیس کر رہی ہے۔ لیکن مذکورہ خاندان کے دوسرے رشتے داروں نے جو کہ دوسرے شہروں میں رہتے ہیں انھوں نے اس سے انکار کیا ہے کہ یہ لوگ خود کشی کر سکتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ کسی سے ان لوگوں کی دشمنی بھی نہیں تھی۔ اسی کے ساتھ وہ یہ بھی شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ کسی نے ان کو قتل کرکے لاشیں لٹکا دی ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ بزدل نہیں تھے کہ خود کشی کر لیتے۔ پوسٹ مارٹ رپورٹ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ سب کی موتیں لٹکنے سے ہوئی ہیں۔ یہ بھی پتا چلا ہے کہ ایک شخص نے خود کو بچانے کی جد و جہد کی تھی لیکن چونکہ ٹانگیں بندھی ہوئی تھیں اور منہ پر پٹی تھی اس لیے وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

اخباری رپورٹوں میں ایک اور اسرار کا ذکر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گھر کی ایک دیوار میں گیارہ پائپ فٹ کیے گئے ہیں۔ گیارہ لاشیں اور گیارہ پائپ، کیا اس میں کوئی کنکشن ہے؟ اس کی بھی پولیس جانچ کر رہی ہے۔ لیکن مذکورہ رشتے داروں کا کہنا ہے کہ گھر کے لوگوں نے بتایا تھا کہ ان پائپوں کو اس لیے لگوایا گیا ہے کہ سولر کی فٹنگ ہونی ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو یا پھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بات اس لیے کہی گئی ہو کہ اس سلسلے میں زیادھ پوچھ تاچھ نہ کی جائے۔ اس واردات کو ہوئے تقریباً دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں لیکن پولیس ابھی تک کوئی سراغ لگا پانے میں ناکام ہے۔ بس لے دے کے یہی بات سامنے آرہی ہے کہ یہ واقعہ کسی تنتر منتر یا دھارمک عمل کا نتیجہ ہے۔ ممکن ہے کہ عمل میں کوئی کوتاہی رہ گئی ہو اس لیے ان لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس بارے میں ایک اسٹول بھی بڑا پراسرار بنا ہوا ہے جس پر چڑھ کر خود کو لٹکایا گیا تھا۔ یہ اسٹول کون خرید کر لایا تھا اور کیوں لایا تھا اس کی بھی جانچ ہو رہی ہے۔ حالانکہ محلے کے سی سی ٹی وی کیمرے سے یہ معلوم ہو گیا ہے کہ گھر کا ہی ایک فرد اسے لایا تھا لیکن اب چونکہ وہ بھی زندہ نہیں ہے اس لیے پولیس پوچھے تو کس سے پوچھے۔ حالانکہ اس نے ایک سو سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی ہے جن میں ایک سادھو بابا اور دوسرے کئی لوگ بھی شامل ہیں۔ لیکن کسی نتیجے پر پہنچنا آسان نہیں معلوم ہوتا۔

ممکن ہے کہ یہ قتل کی واردات نہ ہو کر کسی عمل کے بگڑ جانے یا بد عقیدگی کے نتیجے میں ہونے والا واقعہ ہو۔ ہندووں کے تنتر منتر کے ذریعے آتماو¿ں کو بس میں کرنے اور مسلمانوں کے ذریعے جنات کو قبضے میں کرنے کے واقعات کے بارے میں وقتاً فوقتاً سنا جاتا رہا ہے۔ خاص طور پر جو لوگ چلہ کرتے ہیں یعنی چالیس روز تک رات کے سناٹے میں آبادی سے دور کسی سنسان مقام پر عمل کرتے ہیں تاکہ کوئی جن ان کے قبضے میں آجائے اور وہ اس کے ذریعے جو چاہیں کریں، ایسے بہت سے لوگوں کی موت کی بھی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جوں جوں چالیس روز نزدیک آتے جاتے ہیں عامل کو ڈرانے اور خوف زدہ کرنے کی کوششیں تیز ہو جاتی ہیں۔ جو ڈر گیا وہ یا تو مر گیا یا پھر پاگل ہو گیا۔ اور جو ڈرا نہیں اس نے کسی جن کو اپنے قابو میں کر لیا۔ ایسی روایت ہے۔ وللہ اعلم بالصواب۔

ممکن ہے کہ یہ موتیں بھی ایسے ہی کسی تنتر منتر کے بگڑ جانے کی وجہ سے ہوئی ہوں۔ کیونکہ بہر حال ہندوستان ایک مذہبی ملک ہے اور بہت سے لوگ تو بد عقیدگی کے بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ان کے بزرگوں کی آتمائیں آتی ہیں اور ان کو ہدایات دیتی ہیں یا انھیں پریشانیوں سے نکالتی ہیں۔ بالخصوص ہندو مذہب میں بہت سے لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق ان کے بزرگوں کی روحیں آتی ہوں، لیکن ان اعمال کے نتیجے میں براڑی جیسے واقعات بھی ہو جاتے ہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ کوئی اپنا عقیدہ بدل لے لیکن اس ترقی یافتہ دور میں یہ یقین رکھنا کہ وہ خود کو پھندے سے لٹکائے گا اور اس کے بزرگوں کی روحیں آکر اسے بچا لیں گی، ایک احمقانہ خیال ہی کہا جائے گا۔ یعنی فانی بدایونی نے تو زندگی کو ایک دیوانے کا خواب بتایا تھا لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ موت ہی دیوانے کا خواب بن جاتی ہے۔ بہر حال پولیس تو تنتر منتر کے نقطہ نظر سے بھی اس کی جانچ کر رہی ہے اور کسی سازش کے نقطہ نظر سے بھی۔ ابھی تک تو کوئی سراغ ہاتھ نہیں لگا ہے۔ جو بھی چیزیں سامنے آرہی ہیں وہ اسی جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ یہ کسی عمل کے بگڑ جانے کا نتیجہ ہے۔ آگے آگے دیکھیے کیا کیا سامنے آتا ہے۔ ہمیں انتظار کرنا چاہیے اور بہر حال بد عقیدگی سے بچنا چاہیے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Delhi burari mass suicide case in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply