دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی ضرورت

سہیل انجم

جموں و کشمیر میں پلوامہ کے نزدیک اونتی پورہ میں ہونے والا انتہائی خوفناک خود کش حملہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پوری دنیا کو متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنی ہوگی۔ اور یہ جنگ ایک ایسی فیصلہ کن جنگ ہونی چاہیے جو موت کے ان سوداگروں کا روئے زمین سے خاتمہ کر دے اور دنیا کو امن و امان کا گہوارہ بنا دے۔ اس وقت اگر کوئی سب سے بڑا عالمی مسئلہ ہے تو بلا شبہ وہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے۔ یہ صرف ہندوستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں دہشت گردانہ وارداتیں جاری ہیں جو وحشت و بربریت کا رقص برہنہ پیش کرکے بے قصوروں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہیں۔ اس مسئلے کو کسی ایک ملک کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے عالمی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ صرف موت کے ان ہرکاروں کو ہی صفحہ ہستی سے مٹانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان طاقتوں کو بھی سبق سکھانے کی ضرورت ہے جو ان کی تائید و حمایت کرتی ہیں اور ان کو پروان چڑھاتی ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق مذکورہ حملے کے بعد جیش محمد نامی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کیا گیا ہے جس میں ایک نوجوان ہندوستان کو للکارتا ہے اور اسے سبق سکھانے کا وعدہ کرتا ہے۔ اب تک کی رپورٹیں بتاتی ہے کہ اسی نوجوان نے جس کا نام عادل احمد ڈار ہے اور جو انتہائی کم تعلیم یافتہ تھا یہ خونیں واردات انجام دی ہے۔ حالانکہ ہندوستان کی سیکورٹی فورسز نے کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف زبردست آپریشن چلا رکھا ہے جسے آپریشن آل آؤٹ کہا جاتا ہے اور جس میں اب تک بے شمار دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اتنا بڑا حملہ ہو جانا بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کشمیر میں خود کش حملہ کیا گیا۔ ورنہ اس سے قبل یا تو بم بازی کی جاتی تھی یا فائرنگ یا گھات لگا کر حملہ کیا جاتا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایک خود کش بمبار اپنی گاڑی میں ڈیڑھ سو کلو آتش گیر مادہ لے کر آتا ہے اور سی آر پی ایف کے قافلے سے ٹکرا دیتا ہے۔ ایسے حملے عراق، شام، پاکستان اور افغانستان میں ہوا کرتے تھے۔ کشمیر میں ایسا حملہ کبھی نہیں ہوا۔ لہٰذا یہ واردات انتہائی تشویش میں مبتلا کر دینے والی ہے۔ اگر یہ سلسلہ چل پڑا تو پھر اسے روک پانا آسان نہیں ہوگا۔ رپورٹوں سے یہ بھی وضاحت ہوتی ہے کہ مذکورہ خود کش بمبار کوئی پرانا دہشت گرد نہیں ہے۔ بلکہ وہ ابھی ایک سال قبل ہی جیش محمد میں شامل ہوا تھا۔ گویا دہشت گردوں کا صفایا تو ہو رہا ہے اور اب پرانے دہشت گرد نہیں بچے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نئے نئے دہشت گرد بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ جتنے مارے جاتے ہیں اتنے ہی پیدا بھی ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جس نے بھی کسی دہشت گرد جماعت میں شمولیت اختیار کی اور بندوق اٹھائی تو اس کی زندگی کے دن بس گنے چنے ہی بچتے ہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق ایسے دہشت گردوں کی زندگی بس چار چھ ماہ کی ہی ہوتی ہے اور اس کا علم ان لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ وہ خود کو موت کی بھٹی میں جھونک دیتے ہیں۔ اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنا بڑا حملہ کسی ایک شخص کا نہیں ہو سکتا۔ اس میں اور بھی بہت سے لوگ شامل رہے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہونے کی بھی بات کہی جا رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جیش محمد پاکستان کی سرزمین سے سرگرم ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہاں کی حکومت کی حمایت بھی اسے حاصل ہے۔ لہٰذا پاکستان اس قسم کے حملوں کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتا۔ مذکورہ حملے کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے اس کی مذمت کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس پر شبہے کی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ اس سے قبل اڑی اور پٹھان کوٹ میں ہونے والے حملے میں بھی جیش محمد کا نام آیا تھا۔ جیش اور اس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے حکومت پاکستان سے جو روابط ہیں ان کے پیش نظر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا فطری ہے۔

حالانکہ پاکستان خود دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہے۔ وہاں تقریباً ایک لاکھ بے قصور افراد اب تک دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ پاکستان بار بار یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ وہ کسی کو بھی اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا لیکن اس کے باوجود وہاں کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ آخر مولانا مسعود اظہر وہیں رہ رہے ہیں اور جیش کا دفتر بھی وہیں ہے۔ تو پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ پاکستان ان کی حمایت نہیں کرتا۔ ہندوستان نے کئی بار کوشش کی کہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دلوا دے لیکن جب بھی وہ عالمی سطح پر اس کی کوشش کرتا ہے تو چین آڑے آجاتا ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ آکھڑا ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے سے جیش کی سرگرمیاں بند ہو جائیں گی۔ ایسا بالکل نہیں ہوگا۔ کیونکہ لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کو بھی تو عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اور امریکہ نے بھی دونوں نے انھیں دہشت گرد قرار دیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ امریکہ نے تو ان کے سر پر دس لاکھ ڈالر کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ ہندوستان نے ممبئی حملوں میں ان کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی پاکستان کو سونپے ہیں لیکن ان کو اپنا کام کرنے اور ہندوستان کے خلاف استعال انگیزی کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے۔ لہٰذا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے سے دہشت گردی بند ہو جائے گی ایسا سوچنا خلاف عقل ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف تو کچھ اور ہی اقدامات کرنے ہوں گے۔

خود کش حملے کے بعد وزیر اعظم نریند رمودی کی صدارت میں سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کا ایک اجلاس جمعہ کے روز نئی دہلی میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کو دیا جانے والا انتہائی مراعات یافتہ ملک کا درجہ واپس لینے کا نہایت اہم فیصلہ کیا گیا۔ اس درجے کے تحت پاکستان کو ہندوستان کے ساتھ تجارت میں متعدد اشیا کی قیمتوں میں چھوٹ دی جاتی تھی۔ ہندوستان نے پاکستان کو یہ درجہ 1996 میں دیا تھا۔ جبکہ پاکستان نے ابھی تک ہندوستان کو یہ درجہ نہیں دیا ہے۔ اب پاکستان کو ہندوستان کے ساتھ تجارت کرنے میں نقصان ہوگا۔حملے کے ایک روز بعد منعقد ہونے والے اس اجلاس میں وادی میں سلامتی کی صورت حال پر غور کیا گیا۔ اس میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، وزیر دفاع نرملا سیتا رمن، وزیر خارجہ سشما سوراج، وزیر مالیات ارون جیٹلی، تینوں مسلح افواج کے سربراہوں اور حکومت کے اہم عہدے داروں نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نے بجا طور پر کہا کہ جن لوگوں نے یہ حملہ کیا ہے انھوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور انھیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انھوں نے کہا کہ جو طاقتیں اس حملے کے پس پردہ ہیں ان کو بھی سزا دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا پڑوسی ملک اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ نفرت پھیلا کر اور سازشیں رچ کر ہمارے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا تو وہ بڑی بھول کر رہا ہے۔ ہم اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

وزارت خارجہ نے ہندوستان میں پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کو طلب کرکے اس حملے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ اس نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیم کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اسی کے ساتھ وزیر اعظم مودی نے جھانسی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز کو جوابی کارروائی کی اجازت اور آزادی دے دی گئی ہے۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں واقع دہشت گردانہ ٹھکانوں کی نشاندہی کر لی ہے اور جلد ہی ان کے خلاف کارروائی کی جانے والی ہے۔

بہر حال یہ ایک انتہائی خوفناک حملہ تھا جس میں چالیس سے زائد جوان ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے خلاف پورے ملک میں شدید غم و غصہ ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ حملے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ دہشت گردی کے خلاف ہر قسم کی کارروائی میں ہندوستان کی تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک پاکستان کی جانب سے ان کی حمایت کا سلسلہ بند نہیں ہوگا اس قسم کی وارداتیں آئے دن ہوتی رہیں گی۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں کو اپنے یہاں سے نیست و نابود کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اس کے لیے جو بھی طریقہ کارگر ہو وہ کیا جانا چاہیے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Decisive fight against terrorism need of hour in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.