پاکستانی وزیر خارجہ کا بے تکا بیان!

سہیل انجم

نایاب سیاہ ہرنوں کے شکار کے ایک بیس سال پرانے مقدمہ میں بالی ووڈ اسٹار سلمان خان کو پانچ سال کی قید کی سزا کیا سنائی گئی پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگی۔ انھوں نے جیو ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے سلمان کے ساتھ امتیازی رویہ اپنایا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت نے انھیں اس لیے سزا دی کہ وہ اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ خواجہ آصف کے اس بیان کو کسی دیوانے کی بڑ قرار دے کر نظرانداز کیا جا سکتا تھا لیکن چونکہ ان کا یہ بیان بہت خطرناک ہے اور اس کے ذریعے ہندوستان میں ہندو مسلم منافرت پھیلانے اور مسلمانوں کو پاکستانی ہونے کا طعنہ دینے کے امکانات ہیں اس لیے ہم نے اس پر اظہار خیال کی ضرورت محسوس کی۔
ان کا یہ بیان حقیقت سے بالکل پرے ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انھیں اس معاملے کے تمام پہلووں کا علم نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے یہ بیان دے کر ہندوستان کی ان طاقتوں کو ایک ہتھیار تھمانے کی کوشش کی ہے جو کسی بھی حساس معاملے کو فوری طور پر ہندو مسلم رنگ دے دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے خواجہ آصف کو اس معاملے کے تمام ملزموں کا علم نہیں۔ حالانکہ سلمان کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کے بھی نام لیے جاتے رہے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ سلمان کو اقلیت ہونے کی وجہ سے سزا سنائی گئی ہے کتنا بڑا جھوٹ ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسی معاملے میں دو اقلیتی ملزموں یعنی سیف علی خاں اور تبو کو بری کیا گیا ہے۔ سیف کی بیوی کرینہ کپور کو بھی سیف سے شادی کرنے کے بعد اگر مسلمان مان لیا جائے اقلیتی فرقے سے تین ملزموں کو بری کیا گیا ہے۔ لیکن خواجہ آصف کو صرف سلمان خان نظر آئے۔ ہم سلمان خان کے مذہب اور عقیدے کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کرتے لیکن خواجہ آصف کے بیان کے بعد اس پر گفتگو ضروری ہو گئی ہے۔
ہندوستان کی فلمی دنیا ایسی دنیا ہے جہاں مختلف مذاہب کے لوگ کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہتے ہیں۔ چند استثناؤں کو چھوڑ کر وہاں فرقہ وارانہ خیالات کے افراد نہیں ہیں اور نہ ہی وہ لوگ مذہبی خطوط پر سوچتے یا اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ اگر ہم بڑے ستاروں کی بات کریں تو بیشتر ایسے ہیں جنھوں نے دوسرے مذہب میں شادیاں کی ہیں۔ سپر اسٹار شاہ رخ حان کی بیوی غیر مسلم ہے۔ عامر خان کی بیوی غیر مسلم ہے۔ خود سلمان خان کی والدہ غیر مسلم ہیں۔ ان کے بہنوئی اور دوسر ے رشتے دار غیر مسلم ہیں۔ اگر مردم شماری کرنے نکلیں تو ہر دوسرا تیسرا گھر ایسا مل جائے گا جہاں الگ الگ مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور ان کا آپس میں ماں، بہن، بھائی وغیرہ کا حقیقی رشتہ ہے۔ سلمان خان کے بارے میں خواجہ آصف کا یہ کہنا کہ اقلیت ہونے کی وجہ سے سزا سنائی گئی کتنا بڑا مذاق ہے کہ سلمان خان کا خود کوئی مذہب نہیں ہے۔ وہ تمام مذاہب کی تقریبات میں شامل ہوتے ہیں اور نہ صرف شامل ہوتے ہیں بلکہ ہر سال اپنے گھر میں گن پتی بپا بٹھا کر پورے دس دن پوجا کرتے ہیں یا کراتے ہیں۔ وہ ہندووں کے تمام تہواروں میں شامل ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے تہواروں میں بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کی بیشتر فلمیں عید کے موقع پر ریلیز ہوتی ہیں۔ اب یہی دیکھیے ان کی آنے والی فلم ریس 3 عید کے موقع پر ریلیز ہونے والی تھی۔ اس لیے ان پر کسی مذہب کا ہونے کا ٹھپہ نہیں لگایا جا سکتا۔ یا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ پکے سچے اور باعمل مسلمان ہیں۔ یہی حال ان کے والد سلیم خان اور ان کے بھائیوں ارباز خان اور سہیل خان کا ہے۔ ہم اسے پسند کریں یا ناپسند کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا گھر ایک طرح سے سیکولرزم کی زندہ مثال ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ اقلیت ہونے کی وجہ سے سزا سنائی گئی بہت بڑی بکواس اور گمراہی ہے۔
جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے تو یہ بھی بالکل بے بنیاد بات ہے۔ کیا خواجہ آصف کو یاد دلانا پڑے گا کہ یہی سلمان خان ہیں جن کو ممبئی کے ایک فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے افراد پر گاڑی چڑھا کر متعدد افراد کو کچل کر ہلاک کر دینے کے الزام میں مقدمہ چلا تھا اور اس میں انھیں بری کر دیا گیا تھا۔ اس وقت یہ کیوں نہیں دیکھا گیا کہ چونکہ سلمان خان اقلیتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے انھیں سزا ضرور ملنی چاہیے۔ اور اسی سیاہ ہرن مارنے کے مقدمہ میں انھیں ایک معاملے میں بری کر دیا گیا تھا۔ وہ معاملہ ایکسپائر بندوق کا تھا۔ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے جس بندوق سے ہرنوں کا شکار کیا تھا اس کے لائسنس کی تاریخ نکل چکی تھی۔ لیکن ثبوتوں کے فقدان کی وجہ سے ان پر سے یہ الزام ہٹا لیا گیا تھا۔ اور اگر اقلیت ہونے کی وجہ سے سزا سنائی جانی ہوتی تو اس میں بیس سال نہیں لگ جاتے۔ بلکہ مقدمہ قائم ہوتے ہی آناً فاناً میں فیصلہ سنا دیا جاتا۔
خواجہ آصف بہت قابل شخص ہیں۔ ایک ملک کے وزیر خارجہ ہیں۔ لیکن ان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہندوستان اور پاکستان کی عدالتوں میں بہت فرق ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ پاکستان کی عدالتیں بھی بہت سے معاملات میں بہت جلد اور حق بجانب فیصلے کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر پناما لیکس میں اس نے بہت جلد فیصلہ سنایا۔ لیکن ہندوستان میں اس بارے میں ابھی کارروائی کا آغاز بھی نہیں ہوا۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان میں پناما لیکس کا معاملہ سیاسی بن گیا تھا اس لیے عدالت حرکت میں آئی اور ایک منتخب وزیر اعظم کو نااہل قرار دے دیا۔ بعض دوسرے کئی معاملات میں بھی وہاں کی عدالتوں نے اچھے فیصلے سنائے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستان میں کسی جرم کا فیصلہ سنانے میں مذہب اور عقیدہ دیکھا جاتا ہے۔ یہاں قانون کی بالا دستی ہے اور قانون ہی کی حکمرانی ہے۔ یہاں جرم کی نوعیت اور ثبوت و شواہد دیکھے جاتے ہیں نہ کہ شخصیت، اس کا مذہب یا اس کے معتقدین۔ یہاں کی عدالتوں کی انصاف پروری پوری دنیا میں مشہور ہے اور عالمی سطح پر ان کو وقار اور اعتبار حاصل ہے۔ پاکستان میں تو کسی مذہبی شخصیت کی گرفتاری بھی بڑی مشکل ہو جاتی ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ لاہور میں دھرنا دے کر عوام کی زندگی اجیرن کرنے کے معاملے میں تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مولانا خادم رضوی اور ان کے حامیوں کو گرفتار کرنا ناممکن ہو گیا۔ جس کی وجہ سے عدالت نے انھیں اشتہاری مجرم قرار دے دیا۔ لیکن یہاں ہندوستان میں کتنے بااثر سادھو سنتوں کو جن کے معتقدین کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ لہٰذا یہاں جرم اور ثبوت اور قانون کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا جاتا۔ ہاں بعض اوقات کسی جج کے ذاتی خیالات و رجحانات فیصلے میں دخیل ہو جاتے ہوں تو وہ الگ بات ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب ثبوتوں کی کمی ہو۔ ورنہ بڑے بڑے طرم خاں کو قانون و عدالت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اس لیے یہ الزام عاید کرنا کہ سلمان خان کے ساتھ امتیازی رویہ اپنایا گیا بالکل بے بنیاد ہے۔ بہت سی فلمی شخصیات نے سلمان سے اظہار ہمدردی کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے ساتھ رعایت برتی جانی چاہیے تھی لیکن بہت سے لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ یہاں کا قانون ان کو یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ فیصلے کو چیلنج کریں اور انھوں نے کیا۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب کسی فلمی شخصیت کو کسی جرم میں سزا سنائی گئی ہو۔ اس سے قبل سنجے دت کو بھی سزا سنائی گئی تھی اور انھوں نے بھی جیل میں برسوں گزارے تھے۔ 2012ءمیں ممبئی تاج ہوٹل میں جھگڑا اور شکایت کنندہ اقبال شرما کی ناک توڑنے پرسیف علی خان کو گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں ان کی ضمانت ہوگئی تھی۔ اداکار جان ابراہم کو 2006ءمیں اپنی موٹر سائیکل سے دو راہ گیروں کو زخمی کرنے پر چھ سال کی اور بعد میں15 دن قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کی بھی ضمانت ہوگئی تھی۔ اکشے کمار کوبھی ایک فیشن شو میں بے ہودگی اور فحش حرکات پر مختصر قید ہوئی۔ سنیل شیٹی کو چیک باﺅنس ہوجانے پر سزا ہوئی۔ فیروز خان کے بیٹے فردین خان کو منشیات خریدنے کی کوشش کے الزام میں 2001ءمیں گرفتار کیا گیا۔ پرتگال میں جعلی دستاویزات پر داخل ہونے کے الزام میں اداکارہ مونیکا بیدی کو گرفتار کیا گیا۔ انہیں ڈھائی سال قید بھگتنا پڑی۔ ایک رسالے کے سرورق کے لئے نامناسب پوز دینے پر سونالی بیندرے پکڑی گئیں لیکن جلد ان کی ضمانت بھی ہوگئی۔ گلوکار انکیت تیواری کو شادی کا جھانسہ دیکر ایک عورت سے زنا بالجبر پر گرفتار کیا گیا تاہم ہفتہ بھر بعد ضمانت ہوگئی۔ مارچ 2015ءمیں آدتیہ پنچولی کوبھی عدالتی تحویل میں جانا پڑا۔ راج پال یادو عدالت کو گمراہ کرنے کے الزام میں پکڑے گئے۔
اس طرح یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ فلمی دنیا کے لوگ بھی انسان ہیں اور ان سے بھی جرائم سرزد ہوتے ہیں۔ انھیں اس کی سزا بھی ملتی ہے۔ اگر مذہب دیکھ کر یہاں سزائیں سنائی جاتیں تو کسی ہندو کو کسی جرم کی سزا ہی نہیں ملتی اور ہر مسلمان کو خواہ اس کا جرم ثابت ہو یا نہ ہو سزا سنائی جاتی۔ لہٰذا خواجہ آصف ایسی باتیں نہ کریں۔ ویسے بھی یہاں مسلمانوں کو پاکستانی کہہ کر طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس میں سیاست داں پیش پیش رہتے ہیں اور ان کی نقل کرتے ہوئے بہت سے سماج دشمن عناصر بھی مسلمانوں پر یہی الزام لگاتے ہیں۔ اس لیے پاکستانی حکمرانوں کو چاہیے کہ اگر وہ ہندوستانی مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں تو ایسی باتیں کرکے مسلم دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھمانے کی کوشش نہ کریں۔

(sanjumdelhi@gmail.com)

Title: childish statement of khawaja asif regarding salman khan | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )

Leave a Reply