ہندوستان کہیں افواہستان نہ بن جائے؟


سہیل انجم
شام کا وقت ہو رہا ہے۔ برگد کے ایک درخت کے نیچے گاو¿ں کے کچھ لوگ بیٹھے ایک موبائیل کی اسکرین پر جھکے ہوئے ہیں۔ اسکرین پر ایک دلخراش منظر ہے اور وہ چند افراد اسے بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں۔ منظر میں ایک ہجوم نظر آتا ہے جو زمین پر گرے ہوئے دو افراد کی پٹائی کر رہا ہے۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہجوم بڑا ہوتا جا رہا ہے اور دونوں افراد کی پٹائی کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ پہلے لات گھونسوں سے پٹائی کی جاتی ہے پھر لاٹھی ڈنڈے بھی آجاتے ہیں۔ کرکٹ بیٹ بھی آجاتا ہے۔ کچھ لوگ جن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے اپنے جوتوں سے ٹھوکریں لگا رہے ہیں۔ ہر شخص اپنے ہاتھ کی صفائی دکھانا چاہتا ہے۔ ایک شخص زمین پر پڑا ہوا ہے۔ دونوں کے منہ سے خون جاری ہے۔ ایک شخص کھڑا ہو کر رحم کی بھیک مانگتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی اور شدت سے اس پر حملہ کر دیا جاتا ہے۔ بالآخر زمین پر پڑے ہوئے شخص کی موت ہو جاتی ہے۔ وہیں برابر میں ایک کم عمر بچہ کھڑا ہے جو بے یقینی کے ساتھ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ زندہ شخص سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اس بچے کو کہاں سے چرا کر لایا ہے تو وہ شخص جو جواب دیتا ہے اس پر کسی کو یقین نہیں آتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ میرا بھتیجہ ہے۔ مگر کوئی سننے والا نہیں۔ بچے سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ کچھ بول نہیں پاتا۔ اس پر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کو نشہ کھلا دیا ہے۔ یہ کیا بتائے گا۔
یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ مغربی اترپردیش کے اصالت پور گاو¿ں کا ایک واقعہ ہے جو انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمس میں شائع ہوا ہے۔ مذکورہ دونوں افراد بچے کے ساتھ جا رہے تھے کہ انھیں بچہ چور گینگ سمجھ لیا گیا اور پھر ان کی ایک بھی سنے بغیر ان کو اس طرح زد و کوب کیا گیا کہ ایک شخص کی موت ہو گئی اور دوسرا بری طرح زخمی ہے۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں میں ایسے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ بچہ چوری کے الزام میں مشتبہ افراد کو پکڑا گیا اور پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ ایک شخص پر بھیڑ نے اس لیے حملہ کر دیا کہ اس نے اپنے ہی بچے کو جس کو لے کر وہ کہیں جا رہا تھا راستے میں چانٹا رسید کر دیا تھا۔ کچھ لوگوں نے شور مچایا اور کہا کہ یہ بچہ چور ہے دیکھو ایک بچہ چرا کر لے جا رہا ہے۔ پھر کیا تھا وہ شخص ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا اور اپنی ہڈی پسلی تڑا بیٹھا۔
آجکل ہجومی تشدد نے ایک دوسری شکل اختیار کر لی ہے۔ یعنی اب بچہ چوری کی افواہ پر لوگ اکٹھا ہو جاتے ہیں اور جو بھی شخص مشتبہ نظر آتا ہے اس کو زدوکوب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کسی واقعہ میں پیٹے جانے والا شخص ہلاک ہو جاتا ہے اور کسی میں سنگین حالت میں زخمی ہو جاتا ہے۔ لیکن جب بعد میں تحقیق ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ تو بچہ چور نہیں تھا۔ وہ کوئی غریب بھکاری تھا یا کوئی بے حال مزدور تھا جو مزدوری کی تلاش میں تھا۔ کچھ عورتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے کوئی اپنے ہی بچے کو لے کر جا رہی تھی کہ لوگوں نے اسے بچہ چور کہہ کر اس پر حملہ کر دیا۔ ایسا نہیں ہے کہ بچہ چوری کے واقعات نہیں ہوئے ہیں لیکن ان کی تعداد انتہائی کم ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ دنوں ایک ریلوے پلیٹ فارم سے رات میں سوتے وقت ایک شخص نے ایک بچی چرا لی تھی۔ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی اور بچی کی موت ہو گئی۔ بعد میں وہ شخص پکڑا گیا۔ وہ عادی مجرم تھا اور حال ہی میں جیل سے باہر آیا تھا۔ لیکن ایسے واقعات شاذ و نادر ہی ہو رہے ہیں۔ البتہ بچہ چوری کی افواہ بالکل اسی انداز میں پھیل رہی ہے جس انداز میں گنیش جی کے دودھ پینے کی افواہ پھیلی تھی۔ خیر اس وقت موبائیل نہیں تھا۔ صرف زبانی افواہ پھیلی تھی۔ لیکن اب تو موبائیل نے اسے ایک نئی شکل دے دی ہے۔ اب لمحے بھر میں کوئی افواہ ملک کے اس کونے سے اس کونے تک پہنچ جاتی ہے۔ آج لوگوں نے لاکھوں واٹس ایپ گروپ بنا رکھے ہیں۔ کسی نے کہیں کا واقعہ اٹھایا اور اسے یہ کہہ کر گروپ میں ڈال دیا کہ یہ بچہ چوری کر رہا تھا پکڑا گیا اور مارا پیٹا گیا۔ لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہوشیار رہیں۔ اس علاقے میں گینگ گھوم رہے ہیں۔ کسی بھی مشتبہ شخص کو دیکھیں تو اس کی خبر لیں۔ صورت حال اتنی بگڑ گئی ہے کہ ادھر واٹس ایپ پر کوئی ویڈیو آیا اور ادھر اسے آگے فارورڈ کر دیا گیا۔ جیسے کہ یہ اس کی ڈیوٹی ہے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ اپنی ڈیوٹی سے غافل سمجھا جائے گا۔ کوئی بھی شخص یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ جو کچھ آیا ہے اس میں کہاں تک صداقت ہے۔ بس اسے فارورڈ کرنا ہے۔ موبائیل کے علاوہ فیس بک پر بھی اس قسم کی چیزیں خوب چل رہی ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس افواہ بازی کو ایک نیا روپ دے دیا ہے۔ اب زبانی افواہ اڑانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب تو آپ کے ہاتھ میں موبائیل ہے۔ بس جو کچھ نظر آئے اسے آگے بڑھاتے جائیں۔ گھر بیٹھے آپ کا کام ہو جائے گا۔ آپ کو اس سے کیا غرض کہ اس کا شکار کون مظلوم بنتا ہے اور کس کی جان جاتی ہے۔
پورا ملک ان افواہ بازیوں کا شکار ہو گیا ہے۔ گزشتہ ماہ ملک کے مختلف صوبوں سے بچہ چوری کے الزام میں ہجومی تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ راجستھان میں ایسے بیس واقعات رپورٹ کیے گئے۔ یاد رہے کہ راجستھان ماب لنچنگ کے خلاف قانون سازی کرنے والی پہلی ریاست ہے۔ مغربی بنگال میں بارہ گھنٹے کے اندر ماب لنچنگ کے تین واقعات پیش آگئے۔ وہاں کی ریاستی اسمبلی نے بھی ہجومی تشدد کے خلاف بل منظور کیا ہے۔ بل منظور ہونے کے ایک ہفتے کے اندر تین واقعات ہو گئے۔ اترپردیش میں گزشتہ ماہ ماب لنچنگ کے 46 واقعات پیش آئے۔ جبکہ وہاں ایسے واقعات میں انتہائی خطرناک دفعہ قومی سلامتی ایکٹ لگائی جاتی ہے۔ اس کے باوجود وہاں ہجومی تشدد کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش، بہار اور دہلی میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔
ان واقعات کو روکنے کے لیے ایک تو انتظامیہ کو سخت ہونا ہوگا اور دوسرے عوام کو خود اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی۔ سوشل میڈیا پر افواہ بازی بند کرنی ہوگی اور جو لوگ واٹس ایپ وغیرہ پر اس قسم کی افواہیں پھیلائیں ان کے خلاف سائبر قانون کے تحت ایکشن لیا جانا ہوگا۔ اگر ان افواہوں کو نہیں روکا گیا تو ہندوستان افواہستان بن جائے گا اور پھر کسی کی بھی زندگی کی ضمانت نہیں ہوگی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Child lifting whatsapp messages and the mad mob lynching in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.