کیا یہ صحت مند جمہوریت ہے؟

سہیل انجم

پارلیمنٹ ہندوستانی جمہوریت کا مندر ہے۔ وہاں عوامی نمائندے قانون سازی کرتے ہیں اور عوامی فلاح و بہبود کی اسکیموں پر عمل درآمد کا فیصلہ ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کے دو ایوان ہیں۔ ایک ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا اور دوسرا ایوان زیریں یعنی لوک سبھا۔ ایوان بالا کے ممبران کا انتخاب ممبران اسمبلی کرتے ہیں اور ایوان زیریں کا انتخاب براہ راست عوام کرتے ہیں۔ کوئی بھی بل جو قانون بننے جا رہا ہو پہلے لوک سبھا میں پیش ہوتا ہے اور وہاں سے منظور ہونے کے بعد راجیہ سبھا میں جاتا ہے۔ دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد بل قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لیکن اگر ایوان میں ہنگامہ آرائی ہو رہی ہو اور ایسی پوزیشن نہ ہو کہ کوئی ضروری بل منظور ہو سکے تو حکومت آرڈیننس لاکر اسے منظور کر لیتی ہے۔ ایسا اس وقت کیا جاتا ہے جب پارلیمنٹ ہنگاموں کی نذر ہو جائے اور قانون بنانا ضروری ہو یا کسی اسکیم پر عمل درآمد ضروری ہو۔
جمہوریت میں اپوزیشن کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس کا کام جہاں حکومت کے کام کاج میں تعاون دینا ہے وہیں اس کا یہ بھی کام ہے کہ اگر حکومت کوئی غلط قدم اٹھا رہی ہو تو اس کی مخالفت کرے۔ لیکن عوامی فلاح و بہبود کی اسکیموں اور پروگراموں میں اسے بہر حال حکومت سے تعاون کرنا ہوتا ہے۔ ایک مضبوط اور جمہوری اصولوں پر چلنے والی حکومت کے لیے ایک مضبوط حزب اختلاف کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ لیکن جب سے تمام باتوں میں سیاست دخیل ہو گئی ہے حکومت کے ذمہ داران بھی اپنی ڈیوٹی بھول گئے ہیں اور اپوزیشن لیڈران بھی۔ اب تو ہر پروگرام اور اسکیم پر سیاسی نفع نقصان کی بنیاد پر غور کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی مناسب ہوگا کہ پارلیمنٹ کی کارروائیوں پر زبردست اخراجات آتے ہیں۔ لوک سبھا کے اعداد و شمار کے مطابق کارروائی کے دوران ڈھائی لاکھ روپے فی منٹ خرچ ہوتا ہے۔ اس حساب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پارلیمنٹ کے بجٹ، سرمائی اور گرمائی اجلاسوں پر کل کتنا صرفہ آتا ہوگا۔ لیکن اگر کارروائی چلے اور قانون سازی ہو یا بلوں کو منظور کیا جا سکے یا اہم ایشوز پر بحث ہو، سوال جواب ہو اور وقفہ صفر و وقفہ سوالات کا اہتمام ہو تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کارروائی کے دوران جو صرفہ آتا ہے وہ وصول ہو جا تا ہے۔ لیکن اگر ہنگاموں کی وجہ سے کارروائی ہی نہ چل سکے تو پھر یہی کہا جائے گا کہ عوام کی گاڑھی کمائی کے ہزاروں کروڑ روپے برباد ہو گئے۔
ادھر کچھ برسوں سے یہ روایت بن گئی ہے کہ پارلیمنٹ کو چلنے نہ دیا جائے۔ اس میں سب سے زیادہ رخنہ اندازی اپوزیشن کی جانب سے کی جاتی ہے۔ لیکن ایوان کو چلانے کی ذمہ داری حزب اقتدار کی بھی ہوتی ہے۔ اگر اپوزیشن ممبران کسی ایشو پر ہنگامہ کر رہے ہیں اور ایوان چلنے نہیں دے رہے ہیں تو حکومت کے ذمہ داروں اور اسپیکر کو اس بارے میں پہل کرنی ہوتی ہے تاکہ تعطل کو دور کیا جا سکے۔ اس سے پہلے جانے کتنی بار پارلیمانی اجلاس برباد ہو چکے ہیں۔ لیکن اگر ہم رواں اجلاس کو دیکھیں تو کہنا پڑے گا کہ اپوزیشن ممبران اسے چلنے نہیں دے رہے ہیں۔ آندھرا پردیش میں برسراقتدار تیلگو دیسم پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ریاست کو خصوصی ریاست کا درجہ دے۔ لیکن حکومت نے مختلف دلائل کی بنیاد پر اسے یہ درجہ نہیں دیا۔ جس کی وجہ سے وہ این ڈی اے سے الگ ہو گئی اور اب اس نے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ در اصل آندھرا پردیش کی مقامی سیاست کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ وہاں کی ایک اپوزیشن جماعت وائی ایس آر کانگریس نے، جس کے لیڈر سابق وزیر اعلی وائی ایس آر ریڈی کے بیٹے جگن موہن ہیں، حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن سیاسی سبقت حاصل کرنے کے لیے تیلگو دیسم نے پہلے ہی پیش کرنے کی کوشش کر دی۔ گویا دونوں جماعتیں تحریک پیش کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن کئی روز گزر جانے کے باوجود تحریکیں پیش نہیں ہو سکی ہیں۔ کارروائی شروع ہوتے ہی اے آئی اے ڈی ایم کے اور ٹی آر ایس کے ممبران ایوان کے وسط میں پہنچ جاتے ہیں اور تختیاں اٹھاکر اور نعرے لگا کر اپنے مطالبے دوہرانے لگتے ہیں۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے بار بار یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ہم تمام ایشوز پر بشمول عدم اعتماد کی تحریک، بحث کرانا چاہتے ہیں۔ لیکن پتا نہیں کیوں اپوزیشن ممبران ایسا ماحول ہی نہیں پیدا کر رہے ہیں۔
اس سے قبل جب وزیر خارجہ سشما سوراج نے عراق میں 39ہندوستانی باشندوں کے داعش کے ہاتھوں قتل پر راجیہ سبھا میں بیان دیا تو انھیں لوک سبھا میں بیان نہیں دینے دیا گیا۔ اتنا ہنگامہ کیا گیا کہ وہ خاموش ہو گئیں۔ اس کے بعد انھوں نے پریس کانفرنس کرکے اپنی بات رکھی۔ ان ہنگامہ آرائیوں کی وجہ سے اسپیکر کو ایوان ملتوی کرنا پڑتا ہے۔ جب بھی اسپیکر عدم اعتماد کی تحریکوں کو لینے کی کوشش کرتی ہیں اپوزیشن کے ممبران مختلف بہانوں سے ہنگامہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آجاتے ہیں۔ اسپیکر کی ان کو خاموش کرنے کی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں اور وہ ایوان کی کارروائی ملتوی کر دیتی ہیں۔ یہ سلسلہ کئی روز سے چل رہا ہے۔ یعنی عوام کی گاڑھی کمائی کے ہزاروں کروڑ روپے پانی میں بہائے جا رہے ہیں لیکن ممبران کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔
اس سے قبل پندرہویں لوک سبھا بھی ہنگاموں کی نذر ہو گئی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ اس بار اپوزیشن کانگریس سابقہ حزب اختلاف بی جے پی سے بدلہ لینا چاہتی ہے۔ اسی لیے وہ ایوان کو چلنے نہیں دینا چاہتی۔ لیکن اس معاملے میں صرف کانگریس ہی پیش پیش نہیں ہے دوسری اپوزیشن جماعتیں بھی ہیں۔ لیکن بہر حال حکومت کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسے اپوزیشن پارٹیوں سے مل کر اس معاملے کو حل کرانا اور تعطل کو ختم کرانا چاہیے۔ کیونکہ یہ صحت مند جمہوری روایت نہیں ہے کہ پارلیمانی کارروائیوں کو ہنگاموں کی نذر کر دیا جائے۔ صحت مند جمہوریت یہ ہے کہ دونوں فریق سنجیدگی سے کام لیں اور ایک دوسرے کو انگیز کرتے ہوئے کارروائی آگے بڑھانے میں مدد دیں۔ پارلیمنٹ کے ممبران پر خواہ وہ لوک سبھا کے ہوں یا راجیہ سبھا کے بڑی ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔ انھیں اپنی ان ذمہ داریوں سے اس طرح پیچھا نہیں چھڑانا چاہیے۔ سیاست اپنی جگہ پر اور کام اپنی جگہ پر۔ ملک کے لیے قانون سازی ضروری ہوتی ہے۔ پروگراموں اور اسکیموں کو منظور کرانا ہوتا ہے۔ اگر ایوان چلنے ہی نہ پائے تو عوامی فلاح و بہبود کی کی اسکیموں کا کیا ہوگا۔
اس لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق ایک ساتھ بیٹھیں اور سنجیدگی سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ عوام کے ہمدرد ہیں تو عوامی پیسے کو اس طرح برباد کرنے کا حق ان کو کسی نے نہیں دیا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری سمجھیں اور صحت مند جمہوری روایت کو آگے بڑھانے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔

( sanjumdelhi@gmail.com)

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Characteristics of a healthy democracy in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply