کشمیری طلبہ پر حملے کیوں ہوتے ہیں؟

سہیل انجم

گزشتہ دنوں ہریانہ کے دو مقامات پر کشمیری طلبہ پر حملے ہوئے ہیں۔ پہلا واقعہ مہیندر گڑھ کا ہے جہاں دو طلبہ پر جو کہ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد بازار جا رہے تھے، حملہ کیا گیا اور انھیں زدوکوب کیا گیا اور دوسرا واقعہ انبالہ میں پیش آیا۔ پہلے واقعہ میں جن طلبہ کو چوٹیں آئیں ان کے نام آفتاب احمد اور ریحان ہیں۔ ان کا تعلق راجوری جموں سے ہے۔ وہ ہریانہ سینٹرل یونیورسٹی میں جغرافیہ کے طالب علم ہیں۔ انھیں ڈنڈوں، اینٹوں اور ہیلمٹ سے پیٹا گیا۔ جبکہ دوسرے واقعہ میں زد و کوب کیے جانے والے اسٹوڈینٹ کا نام مدثر احمد ہے۔ وہ سری نگر کا باشندہ ہے۔ وہ بی ایس سی ریڈیولوجی کا اسٹوڈینٹ ہے۔ اسے مہارشی مارکنڈیشور یونیورسٹی کے ہاسٹل کے پاس پیٹا گیا۔
پہلے واقعہ کے متاثرین نے بتایا کہ جب وہ مارکیٹ میں پہنچے تو کچھ لوگوں نے انھیں گھیر لیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ان کا پیچھا کر رہے تھے۔ بقول ان کے مسانی چوک پر جب ہم نے اپنی بائیک روکی تو انھوں نے پیچھے سے آکر مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ بعد میں انھوں نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی اور اسپتال جا کر اپنا علاج کرایا۔ مہیندر گڑھ پولیس نے اس حملے کے سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ضلع کمشنر گریما متل نے صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اس کی مناسب جانچ کی جائے گی۔ متاثرین کو طبی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ ایریا ایس پی کمل دیپ کے مطابق پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں کی بنیاد پر مزید تین افراد کی شناخت کی ہے۔ اس واقعہ پر جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے اظہار تشویش کیا تھا۔ محبوبہ مفتی نے ہریانہ کے اپنے ہم منصب منوہر لال کھٹر سے اپیل کی تھی کہ وہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ہریانہ کی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قصورواروں کو پکڑ لیا اور ان کے خلاف رپورٹ درج کر لی۔ کشمیر اسمبلی میں بھی اس پر ہنگامہ ہوا تھا اور اپوزیشن ارکان نے حکومت پر ایسے واقعات روک پانے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کیا تھا۔
اس سے قبل بھی اس قسم کے واقعات ملک کے مختلف علاقوں میں پیش آئے ہیں۔ حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ایسے واقعات کے اعادہ کے خلاف لوگوں کو خبردار کیا تھا۔ وزارت داخلہ نے تو تمام راستوں کو ایک ایڈوائزری جاری کرکے ہدایت دی تھی کہ وہ ایسے واقعات کو روکیں اور کشمیری طلبہ کو تحفظ فراہم کریں۔ جبکہ وزیر اعظم لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ کشمیریوں کو گلے لگانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کشمیر کا مسئلہ گالی یا گولی سے حل نہیں ہوگا۔ پھر بھی ایسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں اس پر حکومت کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ ماضی قریب میں ایسے اور کہاں کہاں واقعات ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیش میں جب ہندوستان او رپاکستان کے مابین کرکٹ میچ ہو رہا تھا تو میچ کے اختتام پر جب پاکستان کی جیت ہوئی تو میرٹھ کی ایک پرائیوٹ یونیورسٹی سوامی وویکانند سبھارتی یونیورسٹی میں کچھ کشمیری طلبہ نے خبروں کے مطابق پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا دیے۔ ان کی مخالفت میں دوسرے لوگ آگئے اور ان میں ٹکراؤ بھی ہوا۔ جب کچھ طلبہ نے کشمیری طلبہ کے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے کی مخالفت کی تو انھوں نے توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ میز کرسیاں توڑیں اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے۔ جبکہ کشمیری طلبہ کا کہنا تھا کہ دوسرے طلبہ نے ان کے ہاسٹل پر حملہ کیا اور انھوں نے کھڑکیوں کے شیشے توڑے۔ اس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آگیا اور اس نے 66کشمیری طلبہ کو یونیورسٹی سے معطل کر کے ان کو جبراً ہاسٹل سے نکال دیا۔
طلبہ کو اس معاملے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ جب غیر کشمیری افراد کے ذریعے پاکستانی ٹیم کے حق میں نعرے لگانے سے ماحول خراب ہو جاتا ہے تو کشمیری طلبہ کو تو سختی سے اس سے بچنا چاہیے تھا۔ ان کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ وہ میدان میں نہیں ہیں بلکہ یونیورسٹی میں ہیں جہاں وہ میچ دیکھنے نہیں بلکہ تعلیم حاصل کرنے گئے ہیں۔ ان کو ایسی کسی بھی حرکت سے بچنا چاہیے جن سے ان کے کیرئر پر اثر پڑے اور ان کی تعلیم کو نقصان پہنچے۔ ان کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے تھی کہ ان کے ایسے اقدامات سے ملک کے اندر خلفشار تو پیدا ہی ہوگا دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں گے۔
اسی طرح پچھلے سال جون میں کرکٹ چیمپینس ٹرافی کے فائنل میں ہندوستان پر پاکستان کی جیت کے بعد مسوری میں کچھ کشمیری لڑکوں نے نعرے لگائے تھے۔ جس کے بعد وہاں کشمیری دکانداروں کے خلاف ایک ماحول بن گیا تھا۔ گزشتہ دنوں انتخابات کے دوران جب ایک پولنگ عملہ سری نگر میں جا رہا تھا تو ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں کچھ نوجوان پولنگ عملہ کے ساتھ ناروا سلوک کرہے تھے۔ اس واقعہ نے ملک کے دیگر علاقوں میں کشمیریوں کے خلاف زبردست ماحول پیدا کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ چنڈی گڑھ میں پی جی آئی اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے ایک کشمیری خاتون کا علاج کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا۔ ایسے واقعات اکثر و بیشتر ہوتے رہتے ہیں۔ ان واقعات کی وجہ سے پورے کشمیر کے عوام کو ملک کا غدار کہا جانے لگتا ہے۔
اس وقت جموں و کشمیر میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت ہے۔ کشمیری عوام کو چاہیے کہ وہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھائیں اور پرامن ماحول کے قیام کے ساتھ ریاستی اور مرکزی حکومت کے اشتراک سے ریاستی عوام کے لیے فلاحی اسکیموں کو شروع اور ان پر عمل درآمد کروائیں۔ وزیر اعلی محبوبہ مفتی تو چاہتی ہیں کہ وادی کے بھی حالات بہتر ہوں اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی کشمیریوں کے ساتھ ناروا سلوک نہ کیا جائے۔ اگر کشمیری عوام بھی اس میں معاونت کریں تو کوئی مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔ کشمیری نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ علاحدگی پسند لیڈروں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ آخر وہ اس بات پر کیوں نہیں غور کرتے کہ پتھراؤ اور پولیس فائرنگ میں ان لیڈروں کا کوئی عزیز یارشتہ دار زخمی یا ہلاک کیوں نہیں ہوتا۔
دوسری طرف کشمیر کے باہر کے لوگوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ جب کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتے ہیں تو کشمیریوں کو بھی اپنا بھائی سمجھیں۔ اگر کسی کشمیری طالب علم سے کوئی غلط حرکت سرزد ہو بھی گئی ہے تو اسے سمجھا بجھا کر راہ راست پر لائیں۔ امید ہے کہ وہ ضرور سمجھیں گے اور کوئی ایسی حرکت نہیں کریں گے کہ ان کا بھی نقصان ہو اور ملک کا بھی ہو۔ ہندوستان کے عوام موسم گرما میں جب تعطیلات منانے کی پلاننگ کرتے ہیں تو مقامات کی ان کی فہرست میں کشمیر سب سے اوپر رہتا ہے۔ وہ وہاں جاتے ہیں اور واپس آکر وہاں کے لوگوں کے اخلاق اور مہمان نوازی کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ لیکن جوں ہی کشمیر میں حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ کشمیریوں کے مخالف بن جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام کے خلاف ایک ذہنیت بن گئی ہے یا بنا دی گئی ہے۔ اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ مانتے ہیں تو وہاں کے عوام کے ساتھ بھی ہمیں اسی طرح کا برتاؤ کرنا چاہیے جیسا برتاؤ اپنے اٹوٹ انگ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کشمیر تو ہمارا ہے کشمیریوں کو بھی ہمیں اپنا کہنا اور بنانا ہوگا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Attack on kashmiri students in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment