گالیوں کی سیاست بی جے پی کو لے ڈوبے گی

سہیل انجم
بی جے پی خود کو ایک سنسکاری پارٹی بتاتی ہے اور دوسری پارٹیوں سے الگ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ وہ اپنی چال اور چرتر کی بھی خوب دہائی دیتی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ اس کا سیاسی کیرکٹر دوسروں سے الگ ہے اور وہ دوسروں سے افضل ہے۔ اس کی یہ بات تو درست ہے کہ وہ دوسری پارٹیوں سے الگ ہے۔ اس کا مظاہرہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ پہلے بی جے پی لیڈران ذرا کم کم کھلتے تھے۔ ان کو اندیشہ تھا کہ ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ لیکن اب وہ بیباک ہو گئے ہیں۔ وجہ صاف ہے۔ سیاں بھئے کوتوال تو ڈر کاہے کا۔ اب کچھ بھی کہو، کچھ بھی کرو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب کی زبانیں کئی کئی گز کی ہو گئی ہیں۔ ان دو برسوں میں جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے زبان درازیوں کا سلسلہ بہت بڑھ گیا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ کوئی بھی شخص کبھی بھی کوئی بھی بیان دے دیتا ہے اور کسی کو بھی مغلظات سنا دیتا ہے۔ جس کو نشانہ بنایا جاتا ہے اس کی جانب سے احتجاج کیا جاتا ہے یا کوئی سیاست داں اس کے خلاف کوئی بیان دے دیتا ہے اور بس۔ حکومت کی جانب سے بی جے پی کی جانب سے یا آر ایس ایس کی جانب سے مذکورہ شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔
لیکن یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی نے اپنے ایک لیڈر کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ در اصل بی جے پی کے اتر پردیش کے نائب صدر دیا شنکر سنگھ اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک پروگرام میں بہک گئے اور اتنے بہک گئے کہ انھو ں نے بی ایس پی کی صدر اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کو ”طوائف سے بھی بدتر“ بتا دیا۔ وہ اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ مایاوتی پیسے لے کر ٹکٹ دیتی ہیں۔ اس حوالے سے انھوں نے مایاوتی کی شان میں ایسی گستاخی کی جیسی اس سے پہلے کسی نے نہیں کی تھی۔ ان کے اس بیان پر مایاوتی کی جانب سے اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے زبردست ہنگامہ ہوا اور پارلیمنٹ میں بھی ممبران نے زبردست احتجاج کیا۔ حالانکہ بی جے پی کا وطیرہ اب تک یہ رہا ہے کہ کوئی کچھ بھی بیان دے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی تھی۔ لیکن اس بار معاملہ ذرا الٹا پڑ گیا۔ اتر پردیش میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ جب یہ معاملہ زیادہ اچھلا تو بی جے پی کو اپنے ووٹ بینک کی فکر ہونے لگی۔ ادھر گجرات میں دلتوں پر مظالم کے خلاف زبردست احتجاج ہو رہا ہے۔ ان دونوں باتوں نے بی جے پی کو پریشان کر دیا۔ اس نے سوچا کہ اگر دلت اس کے ہاتھ سے نکل گئے تو کیا ہوگا۔ اتر پردیش کا قلعہ جیتنا مشکل ہو جائے گا۔ ادھر بی ایس پی کے کارکنوں نے لکھنؤ میں زبردست احتجاج کیا۔ ہریانہ میں احتجاج ہوا اور دوسری جگہوں پر بھی ہوا۔ ہریانہ میں بی ایس پی کی ایک لیڈر نے جوابی اعلان کیا کہ اگر کوئی شخص دیا شنکر سنگھ کی زبان کاٹ لائے تو اسے پچاس لاکھ روپے انعام دیے جائیں گے۔ یہ اعلان در اصل بی جے پی یا آر ایس ایس سے وابستہ لیڈروں کے اسی قسم کے بیان کے جواب میں دیا گیا۔ یاد رہے کہ ابھی اس بیان کی صدائے بازگشت تھمی نہیں ہے جو انتہائی دریدہ دہن سادھوی پراچی نے دیا تھا اور جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر کوئی سعودی عرب جا کر ڈاکٹر ذاکر نائک کی گردن کاٹ لائے اس کو پچاس لاکھ روپے بطور انعام دیے جائیں گے۔ بی ایس پی لیڈر کا بیان گویا بی ایس پی کی جانب سے ترکی بہ ترکی جواب تھا۔ اسی لیے بی جے پی والوں کی بولتی بند ہو گئی۔ نہ سادھوی پراچی کی زبان کھل رہی ہے نہ یوگی آدتیہ ناتھ کی، نہ ساکشی مہاراج کی اور نہ ہی دوسرے زبان درازوں کی۔
بہر حال جب چاروں طرف سے خوب ہنگامہ ہوا اور بی جے پی کو یہ احساس ستانے لگا کہ اگر یہ معاملہ آگے بڑھا تو اسے سیاسی طور پر زبردست نقصان ہو سکتا ہے تو اس کی جانب سے کارروائی کی گئی۔ پہلے بی جے پی لیڈروں نے دیا شنکر کے بیان کو ناپسندیدہ بتایا۔ پھر ارون جیٹلی نے ان کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور مایاوتی سے معافی مانگی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس قسم کے بیانات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اس پر بھی جب ہنگامہ فرو نہیں ہوا اور بی ایس پی نے اسے اچھالنا شروع کیا، مزید برآں یہ کہ گجرات میں دلتو ںکا معاملہ کافی گرم ہو گیا تو پہلے دیا شنکر کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا اور پھر پارٹی سے برخاست کر دیا گیا۔ ادھر ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی اور پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے۔ وہ لاپتہ ہیں اور روپوش ہو گئے ہیں۔
بہر حال دیا شنکر کو آج نہیں تو کل گرفتار کر ہی لیا جائے گا۔ بی جے پی نے انھیں جو کہ ٹھاکر برادری سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے نائب صدر کا عہدہ دیا تھا کہ اس کا خیال تھا کہ اس سے ٹھاکروں کا ووٹ حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ اتر پردیش میں اور دوسری جگہوں پر بھی ذات پات کی سیاست چلتی رہتی ہے اسی لیے بی جے پی بھی جو کہ ہمیشہ ذات پات کی سیاست کی مخالفت کرتی ہے، اسی نقطہ نظر سے عہدے تقسیم کرتی ہے۔ اتر پردیش بی جے پی کا صدر کیشو پرشاد موریہ کو اس لیے بنایا گیا کہ اس کی آڑ میں موریہ برادری کے ووٹ، جو کہ نچلی برادری میں آتی ہے، حاصل کیے جا سکیں۔ اسی وجہ سے دیا شنکر کو بھی نائب صدر بنایا گیا تھا۔ لیکن جب بی ایس پی کی جانب سے ہنگامہ ہوا تو بی جے پی کو یہ خیال آیا کہ اس سے نقصان ہو جائے گا۔ دلت ووٹ ہم سے الگ ہو جائے گا۔ اسی لیے دیا شنکر کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ورنہ اب تک بی جے پی کے لیڈران مسلمانوں کے خلاف کیا کیا ہفوات نہیں بکتے رہے ہیں اور انھیں کس کس طرح سے مغلظات نہیں سنائے جاتے رہے ہیں لیکن کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ وجہ صاف ہے کہ بی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹ نہیں چاہیے۔ اس نے پارلیمانی الیکشن میں فرقہ وارانہ بنیاد پر الیکشنی مہم چلا کر مسلمانوں کے ووٹ بینک کو بے اثر کر دیا تھا۔ مسلمان بی جے پی کو ویسے بھی ووٹ نہیں دیتے ہیں۔ اس لیے بی جے پی کو بھی مسلمانوں کی پروا نہیں ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ مسلمانوں کے خلاف جس قدر زبان درازی کی جائے ان کو برا بھلا کہا جائے گا اور ان کے خلاف بیان بازی کی جائے گی، سماج کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرنا اتنا ہی آسان ہو جائے گا۔ مسلمانوں کے خلاف ہندووں کے ایک طبقے کو متحد کرنے میں آسانی ہوگی۔ لہٰذا اگر مسلمانوں کو گالیاں دی جاتی ہیں تو اس سے بی جے پی کا نقصان نہیں بلک فائدہ ہی ہے۔ اسی لیے ا ن لوگوں کی زبان بندی کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی گئی جو مسلمانوں کی برا بھلا کہتے ہیں۔
لیکن اس بار معاملہ ذرا پلٹ گیا اور بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر نے ایسے سیاست داں کی شان میں گستاخی کر دی جو طاقتور ہے اور جس کے پاس ایک طبقے کا ووٹ بینک ہے۔ بی جے پی کی گھبراہٹ کی ایک وجہ گجرات میں چل رہا دلتوں کا احتجاج بھی ہے۔ وہاں گایوں کے تحفظ کے نام پر قائم نام نہاد گو رکشا سمیتیوں کے کارکنوں نے چار دلتوں کی اس لیے پٹائی کی کہ بقول ان کے انھوں نے گؤ کشی کی تھی۔ حالانکہ بعد میں ثابت ہوا کہ انھوں نے گؤکشی نہیں کی تھی بلکہ ایک مری ہوئی گائے کا چمڑا نکال رہے تھے یہ کام وہ صدیوں سے کرتے آئے ہیں۔ لیکن گؤ کشی کے نام پر مسلمانوں کو مارنے پیٹنے کے عادی لوگوں نے جو اپنے کردار سے مجرموں سے کم نہیں ہیں دلتوں کے ساتھ بھی یہی حرکت کی۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ان کی گرفتاری ہو چکی ہے اور دلتوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کارروائی کے خلاف بطور احتجاج اب تک پندرہ دلتوں نے خود کشی کی کوشش کی۔ ایک دلت ختم بھی ہو گیا۔ گجرات میں پہلے سے ہی پاٹی داروں کا، ریزرویشن کے لیے احتجاج چل رہا ہے۔ لہٰذا بی جے پی نے سوچا کہ فوری طور پر اس آگ پر قابو پانا چاہیے ورنہ اپنا ہی گھر جل جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دیا شنکر کے خلاف سخت کارروائی کی گئی۔ لیکن بی جے پی کو چاہیے کہ وہ صرف دیا شنکر کے خلاف کارروائی کرکے نہ بیٹھ جائے بلکہ سادھوی پراچی اور سادھوی نرنجن اور ساکشی مہاراج اور یوگی آدتیہ ناتھ جیسے بد زبانوں کے خلاف بھی کارروائی کرے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اسے یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اسے اس کا خمیازہ الیکشن میں بھگتنا پڑے گا اور اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Abusive culture of bjp leaders will harm party in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply