میڈیا کی تعلیم، مدارس اور سیرِ بنارس

سہیل انجم

اگر کسی دینی تعلیمی ادارے کے ذمہ داران، اساتذہ اور طلبہ حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیے نہ صرف یہ کہ میڈیا سے دلچسپی رکھتے ہوں بلکہ اپنے یہاں میڈیا کی تعلیم پر زور بھی دیتے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ باشعور ہیں اور زمانے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے کے خواہشمند بھی ہیں۔ گزشتہ دنوں جب ملک کے ایک عظیم تعلیمی ادارے ”مرکزی دارالعلوم، جامعہ سلفیہ بنارس اترپردیش“ میں راقم الحروف کو حاضری دینے اور ذمہ داران جامعہ، اساتذہ اور طلبہ کے سامنے میڈیا اور مسلمان کے موضوع پر اظہار خیال کرنے کا شرف حاصل ہوا تو وہ خود کو خوش قسمت تصور کرنے لگا۔ جامعہ سلفیہ بنارس نہ صرف یہ کہ ملک کی ایک قابل ذکر جامعہ ہے بلکہ جماعت اہلحدیث کا ایک قابل فخر تعلیمی ادارہ بھی ہے۔

جامعہ سلفیہ کے ناظم حضرت مولانا عبد اللہ سعود حفظہ اللہ اور طلبہ کے ماہانہ پروگرام کے منتظم اور ذمہ دار اور جامعہ کے استاد ڈاکٹر عبد ا لصبور حفظہ اللہ ایک عرصے سے خاکسار سے یہ اصرار کرتے رہے ہیں کہ وہ وہاں حاضری دے اور میڈیا کے موضوع پر طلبا سے خطاب کرے اور طلبہ کو مشورے بھی دے۔ ان کے بے پناہ اصرار پر میں نے پندرہ فروری کو جامعہ میں حاضری دی اور نماز عشا کے بعد طلبہ سے خطاب کیا۔ میں نے میڈیا اور مسلمانوں کے بارے میں اپنی رائے رکھی اور بہت ہی معروضی انداز میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ نیشنل میڈیا مسلمانوں کے بارے میں کیا سوچتا ہے، اس کا رویہ کیسا ہے اور اس کا نقطہ نظر کیا ہے۔ اسی کے ساتھ میڈیا کے بارے میں مسلمان کیا سوچتے ہیں اور وہ میڈیا کے تعلق سے کس زاویہ نظر کو اپنائے ہوئے ہیں۔ میں نے طلبائے مدارس کو کچھ مشورے بھی دیے کہ اگر وہ میڈیا کی تعلیم حاصل کرکے میڈیا کو اپنے پیشے کے طور پر اختیار کرنا چاہیں تو انھیں کیا کیا کرنا ہوگا اور کن کن باتوں کو ذہن نشین رکھنا ہوگا۔ ہمیں جامعہ کی لائبریری دکھائی گئی جو انتہائی شاندار ہے اور ذمہ داران جامعہ کی کتابوں سے دلچسپی اور لائبریرین کے حسن کارکردگی کا بین ثبوت ہے۔ ہم نے کلاسوں کا بھی دیدار کیا اور اساتذہ و طلبہ کی علم دوستی بھی دیکھی۔

بنارس یا وارانسی میں یہ میری پہلی حاضری تھی۔ اس لیے میں کم از کم صبح بنارس اور گیان واپی مسجد کا دیدار کرنا چاہتا تھا۔ ناظم صاحب نے دو تین اساتذہ کی ڈیوٹی لگا دی تھی کہ وہ مجھے بنارس کی سیر کرا دیں۔ لیکن یہ عجیب اتفاق رہا کہ میں نے جس روز سرزمین بنارس پر قدم رکھا اس کے اگلے روز یعنی 16 فروری کو وزیر اعظم کا بنارس کا دورہ تھا۔ وہاں ان کی کافی مصروفیات تھیں جس کی وجہ سے سیکورٹی کا زبردست انتظام تھا اور جگہ جگہ راستے بند کر دیے گئے تھے۔ چونکہ مجھے 17 فروری کی دوپہر کو نکلنا تھا اس لیے 16 فروری کا یعنی صرف ایک دن کا وقت تھا۔ جگہ جگہ راستے بند ہونے کی وجہ سے دوپہر کا وقت ہو گیا اور میں کہیں نہیں جا سکا۔ لیکن اگر نیت درست ہو تو اللہ تعالی انتظام کر دیتا ہے۔ حسن اتفاق سے بنارس ہی کے ایک سابق صحافی، سماجی کارکن اور بنارس و اہل بنارس کے بارے میں گہرا علم رکھنے والے عتیق انصاری سے پچھلی شام کو ہی ملاقات ہو گئی تھی۔ وہ 16 فروری یعنی بروز اتوار دوپہر ایک بجے اپنی موٹر بائیک سے جامعہ تشریف لے آئے اور یہ پیشکش کی کہ اگر فور ویلر کے جانے کی گنجائش نہیں ہے تو کیا ہوا یا میرا ٹوویلر ہر گلی میں پہنچ جائے گا۔ آئیے میں آپ کو بنارس کی سیر کراتا ہوں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے فوراً ان کی بائیک کی پچھلی نشست پر قبضہ کیا اور ہم دونوں نکل پڑے وارانسی درشن کے لیے۔

سب سے پہلے وہ اپنے ایک دوست انور جمال کے گھر لے گئے جو بڑے عالم و فاضل معلوم ہوئے۔ ان سے چند منٹ کی گفتگو سے اندازہ ہو گیا کہ عتیق انصاری ان کو یوں ہی Intelectual نہیں کہتے۔ وہاں سے ہم لوگ بنارس ہندو یونیورسٹی پہنچے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ جہاں جہاں سے وزیر اعظم کا قافلہ گزرتا رہا ہم اس کے نقش پا پر آگے بڑھتے رہے۔ بی ایچ یو کے داخلی دروازے پر یونیورسٹی کے بانی پنڈت مدن موہن مالویہ کا وہ مجسمہ دیکھا جو ہم بارہا ٹی وی میں دیکھ چکے تھے۔ بی ایچ یو کی عمارتوں کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اسے بڑے منصوبہ بند طریقے سے قائم کیا گیا ہے۔

وہاں سے دریائے گنگا کے دیدار کو نکلے۔ حال ہی میں تعمیر شدہ اس پل پر گئے جہاں سے پورا بنارس نظر آتا ہے۔ وہاں سے قلعہ رام نگر بھی دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد عتیق انصاری ہمیں لے کر بنارس کے مشہور اسّی گھاٹ پر پہنچے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ پہلے چھوٹا تھا لیکن اب اس کی توسیع کر دی گئی ہے۔ اسی گھاٹ کو مرکز میں رکھ کر ناول لکھے گئے ہیں اور کئی فلمیں بھی بنائی گئی ہیں۔ دوپہر کا وقت تھا اور وہاں نرم گرم دھوپ میں لوگوں کا کافی مجمع تھا۔ انھوں نے بتایا کہ فلاں جگہ پر جو کہ اسٹیج کی شکل کا بنا ہوا ہے اور جس کی دیوار پر صبح بنارس لکھا ہوا ہے، روزانہ طلوع آفتاب کے وقت صبح بنارس کے نام سے شاستریہ سنگیت کا پروگرام ہوتا ہے۔ سامنے لوگوں کو یوگا سکھایا جاتا ہے اور ساحلِ دریا پر لوگ طلوع آفتاب کا نظارہ کرتے ہوئے صبح بنارس سے حظ اٹھاتے ہیں۔ ہمیں صبح بنار س دیکھنے کا موقع اگلی صبح کو آیا۔ وہاں سے نکلے تو مسلمانوں کے محلے مدن پورہ ہوتے ہوئے جہاں جنگم واڈی مٹھ میں وزیر اعظم کا پروگرام تھا، آگے بڑھ گئے۔ اس وقت بھی وہاں پی ایم کی تشریف آوری کے نقوش بہت واضح نظر آرہے تھے۔ ان کے پروگرام کی وجہ سے مدن پورہ میں بانس بلی باندھ کر سیکورٹی کا ایسا انتظام کیا گیا تھا کہ پورا علاقہ ایک پنجرے میں بند ہو گیا تھا۔لیکن اصل پنجرہ تو ہم نے دیکھا گیان واپی مسجد کے اطراف میں۔ جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو نماز عصر میں نصف گھنٹے کا وقت باقی تھا۔ احاطے سے پہلے بازار میں ایک غیر مسلم دکاندار نے لاکرس کا انتظام کر رکھا ہے۔ یہ لاکرس ان لوگوں کے لیے ہیں جو گیان واپی مسجد کا دیدار کرنے یا وہاں نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔ ہم دونوں کے بھی موبائل اور دوسری اشیاءانہیں لاکروں میں بند کر دی گئیں۔ جب ہم احاطے کی جانب بڑھے تو سب سے پہلے لب سڑک ہماری تلاشی لی گئی۔ اور آگے بڑھے تو پھر تلاشی ہوئی۔ اور بڑھے تو پھر ہوئی۔ سڑک سے مسجد کے د روازے تک کی مسافت بمشکل پچاس ساٹھ گز ہوگی لیکن اتنی دوری میں چار جگہ چیکنگ کی گئی۔ جب ہم مسجد کے صحن میں پہنچے تو پیچھے سے السلام علیکم کی آواز آئی۔ مڑ کر دیکھا تو ایک پندرہ سولہ سال کا نوجوان نظر آیا۔ اس نے بتایا کہ اس کا نام محمد اسلم ہے اور وہ اس مسجد کا موذن ہے۔ ہم لوگ اس سے باتیں کرنے لگے۔ وہ دروازہ کھول کر ہمیں مسجد کے اندر لے گیا۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک مدرسے کا طالب علم ہے اور پارٹ ٹائم موذنی کے فرائض انجام دیتا ہے۔

اس نے بتایا کہ اس مسجد میں پہلے نمازی بہت کم آتے تھے۔ جب اس سلسلے میں مقامی مسلمانوں سے اپیل کی گئی اور انھیں غیرت دلائی گئی تو اب پندرہ بیس مصلی آجاتے ہیں۔صحن میں وضو کرنے کے لیے حوض بھی ہے اور اس کے چاروں طرف پانی کی ٹونٹیاں بھی ہیں۔ لیکن اس حوض کو چاروں طرف سے لوہے کی جالی کی دیوار سے بند کر دیا گیا ہے اور ایک دروازہ لگا کر اس میں قفل چڑھا دیا گیا ہے۔ عتیق انصاری نے بتایا کہ ایسا بندروں سے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ پہلے بندر حوض میں نہایا کرتے تھے۔ اس وقت بھی وہاں دو چار بند دکھائی دیے۔ لیکن گیان واپی مسجد کی ویرانی دیکھ کر دل کڑھنے لگا۔ جبکہ اس سے متصل کاشی وشوناتھ مندر میں جو رونق تھی وہ بڑی غضب کی تھی۔ مندر کو رنگ و روغن سے سجایا گیا ہے۔ وہاں پوجا کرنے والوں کی کافی بھیڑ تھی اور کافی گہما گہمی نظر آرہی تھی۔ محمد اسلم نے بتایا کہ مندر کے احاطے میں جو کنواں نظر آرہا ہے پہلے وہاں مصلی وضو کیا کرتے تھے۔ لیکن اب مندر اور مسجد کے درمیان لوہے کے پائیوں کی دیوار کھڑی کر دی گئی ہے۔ صرف ان دونوں کے درمیان ہی دیوار نہیں ہے بلکہ مسجد کے اطراف میں بھی لوہے کے پائپوں کی دیوار بنا دی گئی ہے اور مسجد کو حقیقتاً ایک پنجرے میں بند کر دیا گیا ہے۔ صرف وہی ایک راستہ ہے اس کے اندر جانے کا جہاں چار چار جگہ پر تلاشی اور چیکنگ ہوتی ہے۔ اگر کوئی اس مسجد کی فصائی تصویر لے تو مسجد ایک بہت بڑے پنجرے میں جو اوپر سے کھلا ہو بند نظر آئے گی۔

بہر حال بھاری قدموں کے ساتھ گیان واپی مسجد سے باہر نکلے۔ وہاں جو کاریڈور بنایا جا رہا ہے ہم اس کا شہرہ پہلے ہی سن چکے تھے اور یہ بھی معلوم تھا کہ اس کاریڈور کے راستے میں جو چھوٹے چھوٹے مندر آرہے تھے وہ سب منہدم کر دیے گئے ہیں۔ مسجد سے باہر نکلے اور اس کاریڈور پر پہنچے جو کہ کاشی وشوناتھ مندر تک بنایا جا رہا ہے تو فوری طور پر یہ بات سمجھ میں آگئی کہ اس کا مقصد مندر تک رسائی ہو تو ہو مسجد کو ختم کرنا بھی ہے۔ ابھی تو اسے پنجرے میں بند کیا گیا ہے اور زبردست سیکورٹی لگا دی گئی ہے اگر کل کلاں کو مسجد کا وجود خطرے میں پڑ جائے تو کوئی تعجب نہیں ہوگا۔ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ جب اتنے مندر منہدم کر دیے گئے تو ایک مسجد کیوں نہیں گرائی جا سکتی۔

بہر حال وہاں سے نکلے اور بنیا باغ، نئی سڑک اور دال منڈی کی گنجان گلیوں سے گزرتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقے للّا پورہ پہنچ گئے۔ للا پورہ میں پہنچے تو یوں لگا کہ جیسے اپنے آبائی وطن میں آ گئے ہیں۔ وہی روایتی مسلم محلوں کا انداز۔ جگہ جگہ چائے خانے اور چائے اور دوسری خورد و نوش کی اشیا سے لطف اندوز ہوتے بے فکرے مسلمان۔ میں لمحے بھر میں کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ خیالات و تصورات تانا بانا اس وقت ٹوٹا جب عتیق انصاری نے کہا کہ لیجیے ہم علی ساگر آگئے۔ علی ساگر کیا ہے؟ بہت بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی سنیوں اور شیعوں کی کربلا ہے۔ پہلے سنیوں کی ہے پھر شیعوں کی۔ وہاں بھی بے فکرے مسلمان بنچوں اور کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے جیسے ان کے پاس کتنا وقت ہو جسے کاٹنا مشکل ہو رہا ہو۔ ہمیں بتایا گیا کہ فلاں حجرہ جو دکھائی دے رہا ہے وہ قدم شریف ہے۔ یعنی وہاں ایک ایسا پتھر نصب ہے جس پر رسول اللہ ﷺ کے قدم مبارک کا نشان ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) وہیں برابر میں کربلا ہے جہاں پورے شہر کے تعزیے لائے جاتے ہیں۔ پاس میں اونچائی پر ایک مقبرہ نما ہے جسے سلطان ٹیپو کے ایک بیٹے کی قبر بتایا گیا۔ کتبہ بھی لگا ہوا ہے۔ چہار دیواری کی دوسری طرف اہل تشیع کی کربلا ہے۔ وہاں اہل بیت کے مصنوعی مقبرے بنائے گئے ہیں۔ وہیں بھارت رتن شہنائی نواز استاد بسم اللہ خاں کی بھی قبر ہے جہاں بڑی ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ ایک خاتون قبر کے چبوترے پر ایک بکس رکھ کر گٹکا فروخت کرتے ہوئے اس جگہ کی ویرانی کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ نماز مغرب کا وقت ہو رہا تھا اور ہم لوگ انتہائی تنگ و تاریک گلیوں سے گزرتے ہوئے جامعہ واپس آگئے۔

اگلی صبح کو ”صبح بنارس“ دیکھنے کے لیے فجر بعد ہی نکل پڑے۔ ہمارے میزبان ڈاکٹر عبد الصبور، مولانا دل محمد اور مولانا محسن ہمارے ساتھ تھے۔ ہم طلوع آفتاب سے پانچ منٹ قبل ہی عالمی شہرت یافتہ ”دشاشومیدھ گھاٹ“ پہنچ گئے۔ چالیس زینے اتر کر گھاٹ پر پہنچے اور پھر کم از کم دس زینے مزید اتر کر ساحل دریا پر پہنچے۔ لوگوں کی کافی بھیڑ تھی۔ کوئی اشنان کر رہا ہے تو کوئی بوتلوں میں گنگا جل بھر رہا ہے۔ لیکن اکثریت سیاحوں کی رہی۔ جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو اس کے نیچے سے ایک سرخ لکیر جو رفتہ رفتہ دبیز ہوتی چلی جاتی ہے، دریا کے دونوں ساحلوں کو ملا دیتی ہے۔ یہ منظر بڑا دلفریب ہوتا ہے۔ اسی کو دیکھنے کے لیے جو بمشکل نصف گھنٹہ رہتا ہے، لوگ جانے کہاں کہاں سے آتے ہیں۔ وہاں پوجا کرانے والے پنڈتوں کو تخت پر قطار اندر قطار بیٹھے دیکھا۔ لیکن اس شہرہ آفاق گھاٹ کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا۔ کم از کم صفائی ستھرائی تو ہونی ہی چاہیے۔ البتہ بھیڑ کے باوجود شانتی کا احساس ہوا۔ وہاں بزنس کو خوب پھلتے پھولتے بھی دیکھا۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد وہاں سے نکلے اور زینوں سے متصل اس میوزیم میں جا گھسے جہاں وارانسی کا دیدار کرایا جاتا ہے۔ دو مقامات پر پروجکٹر لگا کر اسکرین پر بنارس کی تاریخ دکھائی جاتی ہے۔ دالانوں اور کمروں میں اور چھت پر بھی بنارس کی تاریخ کے متعدد مظاہر سجائے گئے ہیں جن میں ہتھ کرگھا بھی شامل ہے۔ انھی ہتھ کرگھوں پر آج بھی ایسی ساڑیاں بنی جاتی ہیں جو ایک ایک ساڑی دسیوں ہزار میں فروخت ہوتی ہے۔ بہر حال ہمیں بتایا گیا کہ جب سے وزیر اعظم مودی نے بنارس کو اپنا حلقہ انتخاب بنایا ہے کچھ ترقیاتی کام ضرور ہوئے ہیں۔ البتہ ہندو دھارمک ریتوں اور رواجوں کو کہیں زیادہ فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس طرح صبح بنارس کا دیدار کرکے ہم جامعہ پہنچے اور پھر ناظم جامعہ اور عتیق انصاری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دہلی واپس آگئے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: A visit to varanasi in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
Tags:
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.