ذکر دو ہنگامہ خیز کتابوں کا

سہیل انجم

اس وقت دو کتابوں نے پوری دنیا میں ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔ خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان میں زبردست شور و شر ہے۔ ایک نے چھپنے کے بعد طوفان اٹھایا اور دوسری نے چھپنے سے قبل ہی طوفان برپا کر دیا ہے۔ بلکہ ایک طرح سے اس سے پاکستان کی سیاست میں سونامی آگئی ہے۔ پہلی کتاب کے مصنف دو ہیں اور دوسری کے ایک۔ اول الذکر کتاب ہندوستان اور پاکستان کے جاسوسانِ اعظم اے ایس دُلت اور اسد درانی نے مشترکہ طور پر تصنیف کی ہے۔ دُلت ہندوستان کی خفیہ ایجنسی RAW کے سابق ڈائر کٹر ہیں اور درانی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق ڈائرکٹر ہیں۔ جبکہ دوسری کتاب کی مصنفہ عالمی شہرت یافتہ سابق کرکیٹر اور پاکستانی سیاست کی ایک اہم شخصیت اور الیکشن بعد وزارت عظمی کے منصب کا خواب دیکھنے والے پی ٹی آئی کے صدر عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان ہیں۔ اول الذکر کتاب سے پیدا شدہ طوفان سے اٹھنے والا غبار اب رفتہ رفتہ بیٹھ رہا ہے۔ لیکن ثانی الذکر کتاب سے اٹھنے والا طوفان روز بہ روز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

پہلی کتاب جس کا نام Spy Chronicle ہے، ہندوستان اور پاکستان کے مابین بہت سے واقعات سے پردہ اٹھاتی ہے۔ خاص طور پر دہشت گردانہ واقعات، ممبئی حملہ، کرگل چڑھائی اور اسامہ بن لادن جیسے کئی ایشوز سے بحث کرتی ہے۔ یہ کتاب اسد درانی اور اے ایس دلت کی ہندوستان کے ایک صحافی آدتیہ سنہا سے ہونے والی بات چیت پر مبنی ہے۔ درانی نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا ہمیں (پاکستان کو) یہ زیب دیتا ہے کہ ہم نان اسٹیٹ ایکٹرس کو ہندوستان بھیج کر دہشت گردانہ حملے کرواکر بے قصوروں ہو ہلاک کروائیں۔ انھوں نے کرگل چڑھائی کے بارے میں اور دہشت گردی کے بارے میں ایسی باتیں کہی ہیں جو پاکستانی فوج کو بے نقاب کرتی ہیں۔ انھوں نے اسامہ بن لادن کے بارے میں کہا ہے کہ ”اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں عملاً موجود تھا اور یہ بات اسٹیبلشمنٹ کے کچھ لوگوں کے علم میں تھی اور ان کی موجودگی کو یہ سمجھتے ہوئے قبول کیا ہوا تھا کہ اسامہ تاریخ کے کسی مرحلے پر ان کے لیے Bargaining Chip کا کردار ادا کرسکتا ہے اس لیے کہ ہماری جو اسٹیبلشمنٹ ہے اس کے لیے ہر ہر چیز استعمال کرنے کے لائق ہے خواہ وہ اسلام ہو، خواہ وہ کوئی نظریہ ہو، دو قومی نظریہ ہو، خواہ پاکستانیت ہو، خواہ جہاد ہو، خواہ جہادی عناصر ہوں… ان کے لیے ہر چیز قابلِ استعمال ہے۔ ایک شے جسے وہ استعمال کرتے ہیں اور پھینک دیتے ہیں۔“

اسد درانی نے بہت کھل کر گفتگو کی ہے۔ لیکن اے ایس دلت نے احتیاط سے کام لیا ہے۔ وہ زیادہ نہیں کھلے ہیں۔ البتہ انھوں نے اکھنڈ بھارت کی بات کی ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ وہ ممکن نہیں ہے۔ درانی نے جہاں پاکستان کے سیاسی و فوجی نظام پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے وہیں دلت نے ہندوستان کے سیاسی نظام پر تو بات کی ہے لیکن فوجی نظام پر کوئی بات نہیں کی ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ پاکستان میں اقتدار پر ہمیشہ وہاں کی فوج کا قبض©ہ رہا ہے۔ نصف مدت تو وہاں مارشل لا فذ رہا اور جب وہاں سویلین حکومت رہی تو اس پر بھی فوج کی بالادستی رہی۔ جبکہ ہندوستان میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں سیاست اور فوج الگ الگ چیزیں ہیں اور فوج کو سیاست میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔

ماہرین کے خیال میں نہ تو درانی نے کوئی نیا انکشاف کیا ہے اور نہ ہی دلت نے۔ کیونکہ وہ ساری باتیں تو لوگ پہلے سے جانتے ہیں۔ البتہ نئی بات یہ ہے کہ پہلی بار دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے دو سابق سربراہوں نے دونوں ملکوں میں امن و شانتی کی بات کی ہے اور جنگ سے گریز پر زور دیا ہے۔ اے ایس دلت جموں و کشمیر کے بارے میں بولتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے۔ لیکن درانی کی باتوں سے پاکستانی فوج اور وہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ کو پریشانی ہے۔ کیونکہ گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھانے کی کوشش کی ہے۔ اسی لیے فوج ان پر بری طرح ناراض ہے۔ ان کے خلاف جانچ کا حکم دے دیا گیا ہے اور ان پر ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ویسے ہندوستان کے بعض سابق فوجی افسروں کا کہنا ہے کہ اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ کیونکہ فوج میں درانی کے بہت سے دوست ہیں اور درانی کو بھی اس کا اندازہ رہا ہوگا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر کیا رد عمل ہوگا۔ یہاں یہ ذکر دلچسپ ہوگا کہ درانی نے پرویز مشرف کے بارے میں بھی کچھ باتیں کہی ہیں۔ مشرف نے گزشتہ دنوں دہلی کے ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ درانی ان سے سینئر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے دور صدارت میں انھیں ایک ملک کا سفیر بنایا تھا پھر ہٹا بھی دیا تھا۔ انھوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم لوگ اسد درانی کو ”حسد درانی“ کہا کرتے تھے۔

اس کتاب پر ہندوستان میں کوئی خاص رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا اور تعلیم یفتہ طبقہ نے اس پر کسی تشویش کا بھی اظہار نہیں کیا۔ لیکن پاکستان میں بڑی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر شاہنواز صدیقی پاکستان کے ایک معروف دانشور اور قلمکار اور کالم نگار ہیں۔ ان کے ایک مضمون کے ایک چھوٹے سے اقتباس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں اس کتاب پر کیا آرا ظاہر کی جا رہی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”کہنے کو امرجیت سنگھ دلت بھی ایک پیشہ ور جاسوس ہیں اور جنرل درانی بھی، مگر امرجیت نے ہر جگہ بھارت کی تعریف کی ہے، را کی تعریف کی ہے، را کے سربراہوں اور کارکنوں کی تعریف کی ہے، بھارتی سفارت کاروں کی شان میں قصیدے پڑھے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے نریندر مودی اور اجیت دوال جیسے …. پر تعریفوں کے پھول برسائے ہیں۔ انہوں نے جگہ جگہ مودی کو ”مودی جی“ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ اس کے برعکس جنرل درانی کے تبصرے، تجزیے اور آرا ملاحظہ کرکے خیال آتا ہے کہ اس شخص کا نہ کوئی مذہب ہے نہ تہذیب، اس کی تربیت میں نہ کسی تاریخ کا کوئی کردار ہے، نہ اسے اپنے ملک سے محبت ہے۔ اس کے لیے پاکستان محض ایک ”دکان“ ہے یا ایک ”لمیٹڈ کمپنی“۔ (اقتباس بلا تبصرہ)۔
اب تھوڑا سا ذکر ریحام خان کی کتاب کا ہو جائے۔ یہ کتاب ابھی چھپی بھی نہیں ہے کہ اس سے پاکستان کی سیاست میں زلزلہ آگیا ہے۔ وہ عمران خان کی دوسری بیوی رہی ہیں۔ ان سے پہلے جمائما خان عمران کی بیوی تھیں۔ ریحام پاکستانی صحافی ہیں۔ اس وقت وہ امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اختلافات کی وجہ سے ان کو عمران خان نے طلاق دے دی تھی۔ ان کی تیسری بیوی بشریٰ منیکا ہیں جو کہ ایک صوفیہ ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ ان کی روحانی قوتوں سے متاثر ہو کر عمران خان نے ان کو اپنے حرم کی ملکہ بنایا ہے۔ دو سال قبل ہی لندن کے ایک اخبار نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ریحام خان اپنی خود نوشت لکھنے جا رہی ہیں جس میں وہ عمران خان کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی کے واقعات بیان کریں گی۔ گزشتہ دنوں یہ خبر آئی کہ ان کی کتاب چھپ کر آنے والی ہے اور اس میں ایسی باتیں ہیں کہ عمران خان کی پارٹی کو الیکشن میں نقصان ہو سکتا ہے۔

اس خبر کے آنے کے بعد پاکسیانی سیاست میں طوفان آگیا۔ پی ٹی آئی کے لیڈروں کا الزام ہے کہ اس کتاب کے پیچھے نواز شریف کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ نون ہے۔ چونکہ اس وقت عمران خان کی پارٹی کافی مقبول ہو رہی ہے اسی لیے اسے نقصان پہنچانے کی خاطر اسے منظر عام پر لایا جا رہا ہے۔ عمران خان کے قریبی دوست اور سابق کرکیٹر وسیم اکرم اور ان کی پارٹی کے کئی رہنماو¿ں نے ریحام کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ اور اس کتاب کو سامنے لانے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ملتان کی ایک عدالت نے اس پر پابندی لگا بھی دی ہے۔ عمران کی پہلی بیوی جمائمہ خان نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر کتاب منظر عام پر آئی تو وہ ریحام کے خلاف مقدمہ کریں گی۔ اس کتاب کے کچھ اقتباسات لیک ہو گئے ہیں۔ جس پر ریحام کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کتاب چوری کر لی گئی ہے۔ اسی درمیان یہ بھی خبر آئی ہے کہ کتاب ابھی چھپی ہی نہیں ہے۔ کناڈا او رترکی نے اسے چھاپنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس لیے ریحام خان ہندوستان میں اپنے بعض دوستوں کی مدد سے اسے چھاپنا چاہتی ہیں۔ کئی قسم کی باتیں ہیں۔ ادھر ریحام نیوز چینلوں اور اخباروں کو دھڑا دھڑ انٹرویو دے رہی ہیں۔ انھوں نے عمران کے بارے میں کہا ہے کہ وہ شادی شدہ زندگی میں وفادار رہنے والے آدمی نہیں ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے سیکس یعنی عورت کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

پی ٹی آئی کے لوگوں کو اس کتاب کی ٹائمنگ پر بھی اعتراض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کے موقع پر اسے لانے کی کیا تک ہے۔ ان کا خیال ہے نواز شریف کے لوگ اس وقت اسے اس لیے لانا چاہتے ہیں تاکہ عمران کی پارٹی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ بہر حال ایک طوفان اٹھا ہوا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ کتاب الیکشن کے دوران منظر عام پر آپاتی ہے یا اس کی ذات سے پیدا ہونے والا طوفان محض پانی کا بلبلہ ثابت ہوتا ہے۔

sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: a tell of two sensational books in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar ) Urdu News

Leave a Reply