کیا فاروقی صاحب، ایسے کوئی جاتا ہے بھلا؟

سہیل انجم

منگل 25 ستمبر کی صبح کو جب پندرہ روزہ صدائے انصاری کے مدیر اطہر انصاری نے بدریعہ فون یہ اطلاع دی کہ نعمان فاروقی صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے تو دل و دماغ کو شدید دھچکہ لگا۔ دل کہہ رہا تھا کہ یہ خبر غلط ہوگی، ایسا نہیں ہو سکتا۔ ابھی تو چند روز قبل ان کے دولت خانے پر ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ مگر دماغ کا کہنا تھا کہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ جانے کتنے لوگ یوں ہی اچانک اور چپکے سے رخت سفر باندھ لیتے ہیں اور جب وہ ایک ایسی دنیا میں چلے جاتے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا تب لوگوں کو علم ہوتا ہے اور پھر یقین کرنا ہی پڑتا ہے۔سو یقین کرنا ہی پڑا کہ اب نعمان فاروقی جیسی شریف، مرنجا مرنج، بذلہ سنج اور پُر بہار شخصیت کی صحبت سے لطف اندوز ہونے کے دن چلے گئے۔ ان کو وائرل ہو گیا تھا جس کا علاج چل رہا تھا۔ مگر وائرل تو ایسا کوئی موذی مرض نہیں کہ آدمی روٹھ جائے اور دنیا سے منہ موڑ لے۔ لیکن وہ روٹھ گئے۔ 25 ستمبر کو صبح کے تقریباً تین ساڑھے تین بجے دل کا دورہ پڑا۔ انھیں ہولی فیملی اسپتال لے جایا گیا۔ لیکن انھوں نے گھر کا راستہ پکڑنے کے بجائے دوسری دنیا کی راہ تھام لی۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ نعمان فاروقی صاحب کون ہیں؟ آپ کا سوچنا بجا ہے۔ وہ مشہور نہیں گمنام آدمی تھی۔ ان کو اپنی شہرت سے بھی کوئی غرض نہیں تھی۔ ان کو تو صرف اپنے کام سے دلچسپی تھی سو اسی میں لگے رہتے تھے۔ وہ اردو کتابوں کے بہت بڑے پبلشر تھے۔ نیو پرنٹ سینٹر کے نام سے کوچہ چیلان، دریا گنج، نئی دہلی میں ان کا دفتر تھا۔ ان کی عمر ساٹھ سال تھی۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اردو کتابوں کی پرنٹنگ و اشاعت کے لیے وقف کر دی تھی۔ وہیں ان کا اپنا پریس تھا بلکہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک کلر پرنٹنگ مشین میں بھی ان کا شیئر تھا۔ جس کی وجہ سے کتابوں کی چھپائی بہت اچھی ہوتی تھی اور دوسرے یہ کہ لاگت کم آتی تھی۔ معیار انتہائی اعلی اور بائنڈنگ انتہائی مضبوط اور دیر پا۔ چونکہ ان کا اپنا بائنڈنگ کا کارخانہ بھی تھا جو اب بھی ہے، اس لیے وہ کسی دوسرے کے سہارے نہیں بلکہ اپنے سامنے بائنڈنگ کرواتے۔ اور اگر کسی کسٹمر نے شکایت کر دی کہ بائنڈنگ خراب ہے تو وہ اس کو ادھڑوا دیتے تھے اور پھر سے کسٹمر کی پسند کے مطابق بائنڈنگ کرواتے تھے خواہ اس میں نقصان ہی کیوں نہ ہو جائے۔

وہ کئی برسوں سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مکتبہ جامعہ لمٹیڈ کی کتابیں چھاپتے رہے ہیں۔ نہ صرف ادبی کتابیں بلکہ درسی کتابیں بھی اور فاصلاتی تعلیم کے کورس کی کتابیں بھی۔ کئی برسوں سے ان کا معمول تھا کہ سر سید روڈ، جوگا بائی، نئی دہلی پر واقع اپنی رہائش گاہ سے چلتے تو مکتبہ جامعہ پر پڑاو¿ ڈالتے۔ وہاں کے اسٹاف سے ملتے۔ کچھ معاملات ہوتے تو وہ نمٹاتے اور اگر مکتبہ کا کچھ چھپائی وغیرہ کا کام ہوتا تو وہ لیتے اور پھر آٹو رکشہ پکڑ کر دریا گنج چلے جاتے۔ وہاں دن بھر کام کرتے اور رات میں آٹھ نو بجے پھر بذریعہ آٹو گھر لوٹ آتے۔ واپسی کے لیے ان کا آٹو ڈرائیور مقرر تھا۔ وہ ان کے لیے اپنا وقت فاضل رکھتا اور انھیں سرسید روڈ چھوڑ تا ہوا اپنے گھر چلا جاتا۔

اپنی کتابیں اچھی اور کفایتی شرح پر چھپوانے والے اردو مصنفوں کے لیے نعمان فاروقی کسی فرشتے سے کم نہیں تھے۔ وہ جہاں مکتبہ جامعہ کی کتابیں چھاپ رہے تھے وہیں دہلی ہی میں کئی پبلشروں کی کتابیں بھی چھاپتے تھے۔ اس کے علاوہ ملک کے گوشے گوشے سے ان کے پاس مسودے آتے اور وہ بذریعہ فون معاملات طے کرکے چھاپ دیتے اور دیے گئے پتے پر بذریعہ ٹرانسپورٹ بھجوا دیتے۔ لیکن مجال کیا ہے کہ جو بات طے ہوئی ہو اس سے انحراف کریں۔ جو کاغذ طے ہوتا وہی لگاتے۔ جو ڈیزائن پسند کی جاتی وہی استعمال کرتے۔ ان کے پاس ٹائٹل ساز بھی تھا۔ وہ اس سے ایک کتاب کے کئی ٹائٹل بنواتے اور مصنف کے پاس میل کر دیتے۔ مصنف جو پسند کرتا اور جتنی ترمیم چاہتا وہ اس کا پاس و لحاظ رکھتے۔ دہلی میں تو ایسے درجنوں پبلشر ہیں جو ان سے اپنی کتابیں چھپواتے تھے۔ دوسرے درجنوں شہروں میں بھی مصنفوں اور پبلشروں سے ان کے مراسم تھے جو ان کی خدمات حاصل کرتے تھے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ انھوں نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ٹائٹل چھاپے ہوں گے۔ لیکن مجال کیا کہ کسی نے شکایت کی ہو۔ جس نے ایک بار ان سے کام کرا لیا وہ ہمیشہ کے لیے ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ شرافت تو ان کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ کسی سے پیسوں کا تقاضہ نہیں کرتے تھے۔ اگر بہت مجبوری آگئی تو بڑی شرافت سے کہتے کہ کاغذ لینا ہے اگر کچھ انتظام ہو جائے تو اچھا ہے ورنہ کوئی بات نہیں میں کسی طرح چلا لوں گا۔ میں ایسے کئی اردو مصنفوں کو جانتا ہوں جو برسوں سے ان کے ذریعے کتابیں چھپوا رہے ہیں اور چھپوانے کے بعد بھول جاتے ہیں کہ انھیں فاروقی صاحب کو پیسے بھی دینے ہیں۔ فاروقی صاحب بھی ایسا لگتا کہ جیسے بھول گئے ہوں۔ ایک مولانا صاحب بیسیوں برس سے ان سے اپنی کتابیں چھپوا رہے تھے۔ دونوں کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ صرف فون پر بات ہوتی۔ مسودہ آجاتا۔ وہ چھاپ دیتے اور ٹرانسپورٹ سے ان کے پتے پر بھیج دیتے۔ جب رمضان آتا تب ان کی طرف سے پیسوں کی ادائیگی ہوتی۔ فاروقی صاحب کو بھی معلوم تھا کہ رمضان تک انتظار کرنا پڑے گا۔ اس لیے وہ تقاضہ بھی نہیں کرتے تھے۔ حیدرآباد، ممبئی، کلکتہ، پٹنہ اور دوسرے کئی شہروں کے مصنفین ان سے ہی کتابیں چھپواتے رہے ہیں اور ان کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ان پر اور ان کے کام پر لوگوں کو اتنا اعتماد تھا کہ وہ بالمشافہ ملاقات کرکے معاملات طے کرنا ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ فاروقی صاحب بھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ ملاقات ہو۔ ان کو بھی لوگوں پر اعتماد تھا۔ ایک بار میں نے پوچھا کہ آپ ایسے ہی چھاپ کر کتابیں بھیج دیتے ہیں اگر پیسے نہ آئیں تو کیا کریں گے؟ ان کا جواب تھا کہ مجھے ان پر اور اللہ کی ذات پر بھروسہ ہے۔ اور اگر کوئی میرا پیسہ مار بھی لے گا تو کتنا مارے گا اور پھر اسے قیامت کے روز تو دینا ہی پڑے گا۔ لے جائے کب تک لے جائے گا۔

نعمان فاروقی سے میری شناسائی کم و بیس پچیس برسوں پر محیط تھی۔ پہلے جب میں ہفت روزہ اخبار نو اور پھر روزنامہ قومی آواز میں کام کرتا تھا تو ان سے رات میں لوٹتے وقت بس میں ملاقات ہوتی تھی۔ ادھر حالیہ برسوں میں یا تو میں ان کے دولت خانے پر چلا جاتا یا اگر دریا گنج کی طرف جانا ہوا تو ان کے دفتر چلا گیا۔ میں بھی اپنی کتابیں عموماً انھی سے چھپوایا کرتا تھا۔ ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ ان کے پاس مختلف مسالک کے ماننے والے اپنی کتابیں چھپواتے تھے اور وہ ہر مسلک کے پیروکار کے جذبات کا خیال رکھتے تھے۔ یعنی اگر کسی کتاب میں کسی مسلک کے خلاف کوئی بات ہے تو وہ اس مسلک کے ماننے والے کسی بھی شخص کے سامنے وہ کتاب نہیں ہونے دیتے تھے۔ ہمارے ایک عزیز اور رشتے دار مولانا محمد اسماعیل صاحب دبئی میں مقیم ہیں۔ ان کی مذہبی کتابیں بھی ہم انھی سے چھپواتے۔ مگر کبھی انھوں نے پیسوں کا تقاضہ نہیں کیا۔ مولانا رقم بھیج دیتے۔ میں ان کو بتا دیتا۔ اور کبھی عدم فرصت کی وجہ سے ان کو بروقت دے نہیں پاتا تو وہ یہ نہیں کہتے کہ پیسہ آگیا ہے تو اپنے پاس کیوں رکھے ہوئے ہیں، مجھے کیوں نہیں دیتے۔

ہمارے ایک صحافی دوست تحسین منور کو اپنی کتاب چھپوانی تھی۔ انھوں نے ہم سے کہا۔ ہم ان کو لے کر فاروقی صاحب کے پاس گئے۔ ان سے درخواست کی کہ یہ ہمارے دوست ہیں۔ کتاب اچھی اور سستی چھپنی چاہیے۔ انھوں نے ہماری بات کا لحاظ رکھا۔ جب کتاب چھپ کر آئی تو تحسین منور فاروقی صاحب کے گرویدہ ہو گئے اور جو طے ہوا تھا اس سے بھی زیادہ کی ادائیگی کی۔ کئی پبلشروں کو بھی ان سے ہمارے مراسم کا علم تھا۔ تحسین منور سے معالات طے کرا دینے کے بعد جب ہم ان کے ساتھ باہر آئے اور دریا گنج روڈ کی طرف جانے لگے تو ایک معروف ناشر سے راستے میں ملاقات ہو گئی۔ وہ برسوں سے ہماری کتاب چھاپنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔ مگر اتفاق سے ہم ان سے کوئی کتاب ابھی تک نہیں چھپوا سکے۔ انھوں نے ہمیں دیکھا۔ سمجھ گئے کہ فاروقی صاحب کے پاس سے آرہے ہیں۔ سلام دعا کے بعد اظہار ناراضگی کرتے ہوئے بولے کہ آپ تو اپنی کتاب ہمیں دیتے نہیں، دوسروں کو بھی ہمارے پاس نہیں آنے دیتے۔

ایک اور اردو پبلشر کا قصہ سن لیجیے۔ وہ بھی اپنی کتابیں دوسروں سے چھپواتے ہیں۔ وہ بار بار ہم سے مطالبہ کرتے رہے کہ آپ اپنی کوئی کتاب چھاپنے کے لیے ہمیں دیں۔ ایک بار جب انھوں نے بہت اصرار کیا تو ہم نے صاف لفظوں میں کہا کہ آپ زیادہ چارج کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چارج کرتا ہوں تو کوالٹی بھی دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ وہی کوالٹی دوسرے کم پیسوں میں دیتے ہیں۔ بہر حال ان کے اصرار پر ہم نے ان کو ایک مسودہ دے دیا۔ اتفاق سے تقریباً ایک ہفتے کے بعد ہمارا گزر فاروقی صاحب کے دفتر کی طرف ہوا۔ ان سے باتیں ہونے لگیں۔ باتوں باتوں میں ان کا ذکر نکل آیا۔ وہ مسکرانے لگے۔ ہم نے مسکراہٹ کی وجہ پوچھی تو چپ رہے۔ اصرار کرنے پر کہا کہ اگر آپ اپنے تک رکھیں تو ایک راز کی بات کہوں۔ میں نے ان سے وعدہ کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی فلاں کتاب فلاں صاحب کے توسط سے چھاپنے کے لیے میرے پاس آئی ہوئی ہے۔ میں نے اظہار حیرت کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ آپ سے چھپواتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ مجھ سے بھی چھپواتے ہیں۔ میں نے کہا کہ جب آپ نے یہ بتا دیا تو یہ بھی بتا دیجیے کہ میرا کتنے کا خسارہ ہوا۔ انھوں نے کہا زیادہ نہیں پانچ چھ ہزار روپے کا۔ اگر آپ براہ راست مجھ سے چھپواتے تو اتنے کم لگتے۔ اب وہ اتنا تو لیں گے ہی۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں، اتنا ان کی قسمت میں لکھا تھا سو وہ لے رہے ہیں۔

اوپر جن مولانا صاحب کا ذکر ہوا ہے کہ وہ رمضان میں ادائیگی کرتے تھے، ان کو ہم نے فاروقی صاحب کے انتقال کی خبر دی تو انھوں نے اظہار غم کرتے ہوئے کہا کہ ہاں کسی نے فیس بک پر ڈالا تھا میں نے وہیں یہ خبر دیکھی ہے۔ پھر کہنے لگے کہ سہیل انجم صاحب میں بیس پچیس برسوں سے ان سے اپنی کتابیں چھپواتا رہا ہوں۔ لیکن نہ میں نے ان کو کبھی دیکھا نہ انھوں نے مجھے دیکھا۔ ہم دونوں کی غائبانہ ملاقاتیں تھیں۔ انھوں نے کبھی بھی مجھ سے پیسوں کا تقاضہ نہیں کیا اور میں نے بھی اپنے وقت پر ان کو پیسے دیے۔ اب میں سوچتا ہوں کہ کس کو پکڑوں جو اس طرح میرا کام کر دیا کرے۔ ایسے لوگ اب کہاں ملتے ہیں؟

ان میں شرافت اتنی تھی کہ اگر جامعہ علاقے کا کوئی شخص ان سے کتاب چھپواتا اور وہ وہاں جا کر لانے سے معذوری ظاہر کرتا تو وہ خود کتاب پہنچا دیتے تھے۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ مجھے اپنی چھپی ہوئی کتابیں چاہئیں مگر وقت کی قلت کے سبب میں جانے سے معذوری ظاہر کرتا تو وہ کہتے کہ ارے آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں، میں لے آو¿ں گا۔ اور واقعی وہ رات میں فون کرتے کہ میں آٹو سے آرہا ہوں، آپ کی کتابیں لا رہا ہوں۔ اگر زیادہ ہوتیں تو آٹو رکشہ گھموا کر میرے دروازے سے ہو کر کتابیں دیتے ہوئے جاتے اور اگر کم ہوتیں تو سرسید روڈ پر اصلاح مسجد کے پاس بلا لیتے اور کتاب تھماتے ہوئے نکل جاتے۔
نعمان فاروقی صاحب انتہائی پُر مزاح اور بذلہ سنج تھے۔ کسی کا دل دکھانا ان کی شریعت میں نہیں تھا۔ اپنا نقصان کر لیتے تھے مگر دوسرے کا نقصان نہیں ہونے دیتے تھے۔ لحیم شہیم قد تھا۔ کھانے پینے اور اس سے بھی زیادہ کھلانے پلانے کے شوقین تھے۔ پان کے عاشق تھے۔ شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض تھے۔ مگر مٹھائیاں خوب کھاتے تھے۔ میں ان کے گھر جاتا تو مجھے بھی زبردستی کھلاتے۔ جب میں کہتا کہ میری شوگر بارڈر پر ہے۔ تو کہتے کہ ارے میری تو بڑھی رہتی ہے۔ مگر کھائیے، یہ شوگر فری دکان سے لی گئی ہے۔ میں وہیں سے لاتا ہوں۔ چائے پینے کے بھی خوب شوقین تھے۔ چائے کا کپ ان کے قد کے حساب سے ہی ہوتا۔ گویا حصہ بقدر جثہ والا معاملہ تھا۔

یوں تو بظاہر وہ بڑے خوش مزاج تھے مگر اندر سے بہت دکھی تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنا دکھ ظاہر نہیں کرتے تھے۔ دکھ یہ تھا کہ ان کے کوئی اولاد نرینہ نہیں۔ تین بیٹیاں ہیں اور تینوں جامعہ ملیہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ مگر غیر شادی شدہ ہیں۔ ان کی شادیوں کے لیے وہ بہت پریشان رہا کرتے تھے۔ اب ان کے کاروبار کا سارا بوجھ ان کی بیٹیوں کے کندھوں پر آگیا ہے۔ انھوں نے اپنے والد کے کاروبار کو سنبھالنے اور آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اللہ تعالی اس کام میں ان کی مدد کرے اور فاروقی صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔ آمین۔

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: A friend who dies its something of you who dies in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News

Leave a Reply