اپوزیشن کا انتشار فالِ نیک نہیں

سہیل انجم

موجودہ دور میں جمہوری نظام کو سب سے بہتر طرز حکمرانی خیال کیا جاتا ہے۔ اس نظام میں حکومت کا انتخاب عوام کرتے ہیں۔ اس نظام کے تحت یا تو پارلیمانی جمہوریت عمل میں لائی جاتی ہے یا پھر صدارتی۔ پارلیمانی طرز حکومت میں عوام پارلیمنٹ کے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں اور جو پارٹی یا محاذ اکثریت میں آتا ہے وہ اپنا ایک قائد چنتا ہے اور وہی قائد وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوتا ہے۔ جبکہ صدارتی طرز حکومت میں عوام براہ راست صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ اول الذکر طرز حکومت میں تمام اختیارات پارلیمنٹ کو اور اس کے توسط سے وزیر اعظم کو حاصل ہوتے ہیں جبکہ صدارتی طرز حکومت میں بیشتر اختیارات صدر کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں پھر بھی اسے بہت سے فیصلے پارلیمنٹ کی منظوری سے کرنے ہوتے ہیں۔ پارلیمانی نظام میں صدر ملک کا اعلیٰ ترین منصب دار ہوتا ہے اور وہ مسلح افواج کا کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے۔ اس کا منصب آئینی ہوتا ہے۔ وہ آئین و دستور کا محافظ بھی ہوتا ہے۔ یعنی اگر آئین پر کوئی آنچ آرہی ہو تو اسے آئین کو بچانے کے لیے اقدامات کرنے کا حق ہوتا ہے۔ لیکن عملاً اس کا منصب نمائشی ہے۔ اگر پارلیمنٹ کوئی قانون وضع کرے تو اس پر صدر کو دستخط کرنے ہوتے ہیں۔ صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دے۔ لیکن اس کا یہ انکار ایک ہی بار کام دے گا۔ اگر پارلیمنٹ دوسری بار بھی وہی تجویز صدر کے پاس بھیجے تو اس کے سامنے اس پر دستخط کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہوتا۔

پارلیمانی جمہوریت میں ایک حزب اقتدار ہوتا ہے تو دوسرا حزب مخالف یعنی اپوزیشن۔ اگر حکومت کمزور ہے اور وہ از خود کوئی اہم فیصلہ نہیں کر سکتی یا اس کے گر جانے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے تو یہ صورت حال جمہوری نظام کے لیے نقصاندہ ہے۔ اسی طرح اگر حکومت اس قدر مضبوط ہے کہ وہ من مانا فیصلے کرنے لگے اور اس کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہ ہو تو یہ صورت حال بھی باعث تشویش ہے۔ اسی طرح اگر اپوزیشن بہت زیادہ مضبوط ہے اور وہ حکومت کو کوئی کام ہی نہ کرنے دے ہر کام میں ٹانگ اڑائے تو اسے بھی پسندیدہ تصور نہیں کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ اگر اپوزیشن بہت کمزور ہو جائے اور اس میں حکومت کی کسی غلط کاری کے خلاف آواز اٹھانے کی سکت ہی نہ رہ جائے تو اسے بھی اچھا تصور نہیں کیا جاتا۔ یعنی ایک طرح سے معتدل صورت حال ہونی چاہیے۔ پلڑا نہ ادھر جھکا ہو اور نہ ادھر۔

ہندوستان میں دو بار سے ایسا ہو رہا ہے کہ پارلیمانی انتخابات کے بعد جہاں حکومت کو بہت زیادہ اکثریت حاصل ہے وہیں اپوزیشن کی پوزیشن کمزور ہے۔ گزشتہ پارلیمانی انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت اگر چہ بہت مضبوط تھی مگر اتنی نہیں تھی جتنی کہ اب ہے۔ پچھلی بار بھی اپوزیشن کمزور تھا اور ا س بار بھی ہے۔ پچھلی بار بھی لوک سبھا میں کسی بھی پارٹی کو قائد حزب اختلاف کا منصب نہیں ملا تھا اور اس بار بھی نہیں مل رہا ہے۔ قائد حزب اختلاف کا منصب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم دس فیصد نشستیں اس کے پاس ہوں۔ اتنی نشستیں نہ تو پچھلی بار کسی پارٹی کے پاس تھیں اور نہ ہی اس بار ہیں۔ لہٰذا اس بار بھی لوک سبھا میں اپوزیشن کا کوئی قائد نہیں ہوگا۔ قائد حزب اختلاف کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس کا منصب بھی کابینہ درجے کا ہوتا ہے۔ اس کو بھی وہی تمام سہولتیں اور مراعات حاصل ہوتی ہیں جو ایک کابینہ وزیر کو حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن اس بار بھی اصل اپوزیشن جماعت کانگریس کو یہ منصب نہیں مل سکتا۔

ہم نے گزشتہ کالم میں کانگریس کی صورت حال پر اظہار خیال کیا تھا۔ اس بار دوسری اپوزیشن جماعتوں کے حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب لوک سبھا انتخابات سے قبل ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں دو اہم علاقائی جماعتوں ایس پی اور بی ایس پی میں اتحاد ہو گیا تو کہا جانے لگا تھا کہ یہ اتحاد بی جے پی کی نیا ڈبو دے گا۔ ریاست میں بی جے پی چند سیٹوں پر سمٹ جائے گی۔ یہاں تک کہ بی ایس پی صدر مایاوتی وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھنے لگی تھیں۔ مایاوتی اور اکھلیش یادو کے درمیان بوا اور بھتیجے کے رشتے کی خوب تشہیر کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ جوڑی بی جے پی کی” کھٹیا کھڑی“ کر دے گی۔ لیکن جب نتیجہ سامنے آیا تو اس اتحاد کی ہی کھٹیا کھڑی ہو گئی اور بی جے پی کو ایک بار پھر شاندار کامیابی مل گئی۔ ایس پی اور بی ایس پی نے اعلان کیا تھا کہ ان کا یہ اتحاد آگے بھی جاری رہے گا۔ لیکن جوں ہی لوک سبھا انتخابات میں اس اتحاد کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا دونوں پارٹیاں اور خاص طور پر بی ایس پی کے ہوش ٹھکانے لگ گئے۔ چند روز کے اند رہی مایاوتی نے اس اتحاد کو توڑنے کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ سماجوادی پارٹی اپنا ہی گھر نہیں بچا سکی تو وہ دوسروں کا کیا بچائے گی۔ خیال رہے کہ اس الیکشن میں اکھلیش یادو کی بیوی قنوج سے ہار گئیں اور دھرمیندر یادو بھی شکست کھا گئے۔ شیو پال یادو بھی ہوا ہو گئے۔ صرف ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو ہی کامیاب ہو سکے۔ مایاوتی کا یہ بھی الزام تھا کہ سماجوادی پارٹی کا ووٹ بی ایس پی کو نہیں ملا۔ جبکہ دوسری طرف سماجوادی نے یہی الزام بی ایس پی پر لگایا۔ یعنی بی ایس پی کا ووٹ سماجوادی امیدواروں کو نہیں ملا۔ بہر حال دونوں نے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ گویا بی جے پی کے خلاف جو ایک طاقتور محاذ بنا تھا وہ ختم ہو گیا۔ اب آنے والے ضمنی الیکشن میں دونوں پارٹیوں نے الگ الگ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اس واقعہ سے ظاہر ہے سب سے زیادہ خوشی بی جے پی کو ہوئی ہوگی۔ اترپردیش کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی اپوزیشن کافی کمزور ہو گئی ہے۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس مصیبت میں ہے۔ وہاں ترنمول اور بی جے پی میں ٹکراو¿ جاری ہے اور کہا نہیں جا سکتا کہ ممتا بنرجی کی حکومت کب تک قائم رہتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو مرکزی حکومت اسے برخاست کرکے وہاں صدر راج نافذ کر دے گی۔ حالانکہ ممتا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بنگال کو گجرات نہیں بننے دیں گی۔ لیکن حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں اور اگر یہی شب و روز رہے تو ممتا کی حکومت زیادہ دنوں تک نہیں رہ سکے گی۔

آندھرا پردیش میں جگن موہن ریڈی کی حکومت بن گئی ہے۔ لیکن مرکزی سطح پر وہ بی جے پی حکومت کی حامی ہے۔ یعنی حکومت کے کاموں کو وہ اپنی حمایت دیتی رہے گی۔ جگن موہن ریڈی نے جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی سے مل کر ان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے اس سے صورت حال بالکل واضح ہو گئی ہے۔ ان ریاستوں میں بھی جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے، غیر بی جے پی پارٹیوں میں سرپھٹول ہے اور ان کی باہمی چپقلش بی جے پی کے لیے ٹانک کا کام کر رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں صدر راج نافذ ہی ہے۔ بہار میں بھی اپوزیشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی اور جنتا دل یو نے ایک کو چھوڑ کر تمام سیٹیں آپس میں بانٹ لی ہیں۔ اگر چہ اس وقت وہاں این ڈی اے میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے لیکن اس سے مرکزی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی کام میں کسی رخنہ اندازی کا کوئی شبہ ہے۔ نتیش کمار نے اگر چہ یہ اعلان کر دیا ہے کہ ان کی پارٹی بہا رکے علاوہ کسی اور ریاست میں این ڈی اے کا حصہ نہیں بنے گی لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی اپوزیشن کو کوئی طاقت ملتی ہے۔ باقی جس ریاست پر بھی نظر ڈالیں وہاں غیر این ڈی اے جماعتوں کی حالت خراب ہے۔ کرناٹک میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی مخلوط حکومت ہے لیکن وہاں باہمی لڑائی ہوتی رہتی ہے۔ تمل ناڈو کی اے آئی اے ڈی ایم کے این ڈی اے کے ساتھ ہے۔ مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیو سینا انتہائی مضبوط ہیں۔ وہاں نہ تو کانگریس کے پاس کوئی طاقت ہے اور نہ ہی این سی پی کے پاس۔ پنجاب میں اگر چہ کانگریس کی حکومت ہے لیکن وہاں بھی لڑائی جھگڑا جاری ہے۔ ہریانہ میں اپوزیشن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ گویا کوئی بھی ریاست ایسی نہیں ہے جہاں غیر این ڈی اے جماعتوں کو کوئی طاقت حاصل ہو۔

مرکزی سطح پر بھی کانگریس انتشار کا شکار ہے۔ بائیں بازو کے پاس کوئی طاقت نہیں رہ گئی ہے۔ اگر چہ ابھی راجیہ سبھا میں اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ جلد ہی وہاں بھی حکومت کو اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ امید ہے کہ ان انتخابات میں بھی بی جے پی جیتے گی۔ اگر ایسا ہوا تو راجیہ سبھا میں اسے اکثریت حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

مجموعی طور پر ملک سے اپوزیشن ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی تو علاقائی جماعتوں کو جو تھوڑی بہت طاقت حاصل ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ملک کے لیے انتہائی نقصاندہ ہوگا۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن کے بغیر حکومت بے نکیل ہو جاتی ہے اور ایک طرح سے آمریت قائم ہو جاتی ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت کو بے نکیل بننے اور اسے آمریت کی راہ پر چلنے سے بچانے کے لیے ایک مضبوط اپوزیشن کی ضرورت ہے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ مضبوط اپوزیشن کا خواب اب محض ایک خواب ہی بنا رہے گا۔ کم از کم کچھ دنوں تک تو یہی صورت حال رہنے والی ہے۔ اور اگر ایسا ہوا تو یہ بات ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہوگی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: A divided opposition not good for democracy in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.