سنسنی خیز واقعات سے بھرپور رہا سال رفتہ

سہیل انجم

سال 2018 بھی اپنے دامن میں خوشیوں کے کچھ پھول اور غموں کے کچھ کانٹے لے کر آیا تھا۔ یہ سوغات دنیا کو سونپ کر وہ ہم سے رخصت ہو رہا ہے۔ نیا سال بھی کچھ خوشیاں اور کچھ غم لے کر آئے گا اور پھر وہ بھی اسی طرح چلا جائے گا۔ رخصت پذیر سال ہنگاموں سے بھرپور رہا ہے۔ سیاسی، سماجی، اقتصادی ہر قسم کے ہنگامے برپا رہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ سرگرم عدلیہ رہی ہے۔

ابتدائے سال ہی میں سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین ججوں نے ایک پریس کانفرنس کرکے چیف جسٹس کے خلاف ایک محاذ کھول دیا اور ان پر من مانی بینچ بنانے کا الزام عاید کرتے ہوئے جمہوریت کو خطرات میں گھری ہوئی قرار دیا۔ آزاد ہندوستان میں ایسا واقعہ پہلی بار پیش آیا اور پہلی بار ہی چیف جسٹس کے خلاف تحریک مواخذہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

سپریم کورٹ نے کئی اہم اور تاریخی فیصلے سنائے۔ اس نے کیرالہ کی نو مسلم خاتون ہادیہ کے معاملے میں کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کی شادی کو قانونی اور جائز قرار دیا اور اسے اس کے شوہر شافعین جہاں کے پاس بھیج دیا۔ اس نے سبری مالا مندر میں دس سے پچاس سال کی خواتین کے داخلے پر آٹھ سو برسوں سے عاید پابندی ختم کرکے ہر عمر کی خواتین کو داخلے کی اجازت دے دی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اس کی آئینی بینچ نے نجی رازداری کو فرد کا بنیاد حق قرار دیا اور بہت سے معاملات میں آدھار کارڈ کی لازمیت ختم کر دی۔

لیکن اس نے کچھ ایسے فیصلے بھی سنائے جو روایت کے تو خلاف تھے ہی اخلاقیات کے بھی منافی تھے۔ البتہ عدالت نے آئینی و قانونی تشریح کی روشنی میں ایسے فیصلے سنائے ہیں۔ مثال کے طور پر اس نے ہم جنس پرستی کو جرم کے دائرے سے باہر کر دیا اور شادی شدہ مردو خواتین کو دوسروں سے جنسی رشتے قائم کرنے کی بھی اجازت دے دی۔ اس کی یہ دلیل سماج کے بہت بڑے طبقے کے گلے نہیں اتری کہ عورت کے سیکس پر مردوں کی اجارہ داری نہیں چل سکتی۔ اس نے بابری مسجد معاملے پر سماعت کرتے ہوئے اسماعیل فاروقی کیس میں سنائے جانے والے اس فیصلے کی توثیق کی کہ مسجد اسلامی شریعت کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ نماز کہیں بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ البتہ اس نے بابری مسجد رام جنم مندر تنازعہ میں نومبر میں حق ملکیت کے مقدمے پر سماعت کرنے سے انکار کیا اور یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہماری ترجیح میں شامل نہیں ہے جنوری کے پہلے ہفتے میں اس پر سماعت کی بات کہی۔ جس کے بعد پہلے اجودھیا میں اور پھر دہلی میں رام مندر کے حق میں ریلیاں کی گئیں۔

عدالت نے سہراب الدین انکاونٹر معاملے کی سماعت کرنے والے جج بی ایچ لویا کی متنازعہ موت پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ بھیما کورے گاؤں معاملہ بھی کافی مشہور ہوا جہاں ایک ریلی کے دوران تشدد برپا ہوا تھا۔ مہاراشٹر کی پولیس نے اس معاملے میں انسانی حقوق کے چار کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ ان کو شہری نکسلی قرار دیا گیا اور ان پر الزام عاید کیا گیا کہ وہ شہروں میں نکسل ازم کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ عدالت نے اس معاملے میں گرفتار شدگان کو راحت دینے سے انکار کر دیا۔

اسی سال پنجاب نیشنل بینک میں 13 ہزار 600 کروڑ روپے کا فراڈ پکڑا گیا۔ اس معاملے کے اصل ملزمین نیرو مودی اور میہول چوکسی ملک سے باہر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ وجے مالیہ بھی ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حکومت ان لوگوں کو ملک واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ برطانیہ کی ایک عدالت نے وجے مالیہ کو بھارت واپس کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ ان پر 9000 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کا الزام ہے۔

آسام میں شہریوں کی تصدیق کے لیے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس جاری کیا گیا جس میں 40 لاکھ افراد کے نام غائب پائے گئے۔ تاہم حکومت نے ناموں کی شمولیت کی مدت میں توسیع کر دی۔ یہ معاملہ سیاسی مباحثے کا موضوع بن گیا۔ اب بھی بہت بڑی تعداد میں وہاں کے شہریوں کے نام این آر سی میں شامل نہیں ہو سکے ہیں۔ ان میں مسلم اور غیر مسلم سبھی شامل ہیں۔

اس سال پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کے دوران ایک ایسا منظر دیکھا گیا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے تقریر کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس پہنچ کر ان کو گلے لگا لیا۔ اسے ”سال کا معانقہ“ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد راہل نے اپنی نشست پر بیٹھ کر آنکھ ماری جس پر کئی دنوں تک بحث ہوتی رہی۔

کیرالہ میں ایک بھیانک سیلاب آیا جسے 1924 میں آئے سیلاب کے مماثل قرار دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں لوگوں کو زبردست جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ سیلاب کے تین ماہ کے بعد بھی حکومت کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ وہ ریلیف کے کاموں کو تیزی سے انجام دے سکے۔ سیلاب کے نتیجے میں 483 افراد کو اپنی جانیں گنوانی پڑی ہیں۔ متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

ایک اور ہنگامہ خیز معاملہ می ٹو Mee Two مہم کا تھا جس کی زد پر متعدد نامی گرامی شخصیات آئیں۔ یہاں تک کہ ایک سابق صحافی اور مرکزی وزیر ایم جے اکبر کو اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس کا آغاز ایک فلمی اداکارہ تنوشری دتا کے فلمی دنیا کے ایک معروف اداکار نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزام سے ہوا۔ اس کے بعد بہت سی فلمی شخصیات جیسے کہ آلوک ناتھ، ساجد خان، سبھاش گھئی، انو ملک، کیلاش کھیر اور صحافیوں میں ایم جے اکبر، ونود دوا اور دوسرے کئی صحافی اور سہیل سیٹھ اور چیتن بھگت وغیرہ کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑی۔

اسی درمیان پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے جن میں بی جے پی کو اپنی تین اہم ریاستیں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان گنوا دینی پڑیں۔ ان تینوں ریاستوں میں کانگریس کی حکومت قائم ہوئی ہے۔ چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی پندرہ برسوں سے اور راجستھان میں پانچ برسوں سے برسراقتدار تھی۔ ان انتخابی نتائج کے بعد ملک کا سیاسی منظرنامہ کافی بدل گیا ہے۔ اپوزیشن کانگریس میں جو کہ پژمردگی کے دور سے گزر رہی تھی نئی جان آ گئی۔ جبکہ بی جے پی کو خود احتسابی کا موقع ملا ہے۔
2018 میں کئی اہم شخصیات دنیا سے چلی گئیں جن میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی، ڈی ایم کے رہنما کروناندھی، بی جے پی لیڈر انت کمار اور اداکارہ سری دیوی قابل ذکر ہیں۔

2018 میں کسانوں کے متعدد بڑے مظاہرے ہوئے۔ یہ مظاہرے مہاراشٹر کے علاوہ دہلی میں بھی ہوئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت ان کے قرضے معاف کرے اور ان کی فصلوں پر لاگت سے دوگنا قیمت ادا کرے۔
ایک اہم واقعہ شہروں کے نام بدلنا ہے۔ الہ آباد کا نام پریاگ راج، فیض آباد کا اجودھیا اور مغل سرائے کا دین دیال اپادھیائے کر دیا گیا ہے۔ دوسرے اور بھی کئی شہروں کے نام بدلے جانے ہیں اور ایک حلقے کی جانب سے کئی شہروں کے نام بدلنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جن میں آگرہ اور احمد آباد کا نام بدلا جانا بھی شامل ہے۔

ایک اہم واقعہ گجرات میں دنیا کے سب سے اونچے مجسمہ کی تنصیب رہی۔ یہ مجسمہ ملک کے پہلے وزیر داخلہ سردار پٹیل کا ہے۔ اس کی اونچائی 182 میٹر ہے۔ اس پر تقریباً تین کروڑ روپے کا صرفہ آیا ہے۔ اس کے بعد یو پی کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اجودھیا میں رام چندر کی 221 میٹر اونچی مورتی نصب کرے گی۔

2018 میں سی بی آئی کی آپسی لڑائی سامنے آگئی۔ ڈائرکٹر آلوک ورما اور اسپیشل ڈائرکٹر راکیش استھانہ نے ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزامات لگائے۔ دونوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور ان کے معاملات عدالت میں زیرسماعت ہیں۔ حکومت نے ان دونوں کی لڑائی کے پیش نظر دونوں کو تعطیل پر بھیج دیا۔
جموں و کشمیر میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور وہاں پہلے گورنر راج اور پھر صدر راج نافذ کر دیا گیا۔1996 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دہشت گردی سے متاثرہ اس ریاست میں مرکز کے زیر انتظام حکومت چل رہی ہے۔

ایک اور معاملہ جو زبردست سیاسی ایشو بن گیا ہے رافیل جنگی طیارے کا ہے۔ وہ بھی اسی سال سامنے آیا ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی کا الزام ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سودے میں بدعنوانی کی ہے۔ جبکہ حکومت کی جانب سے اس الزام کی سختی سے تردید کی جا رہی ہے۔ بعض افراد نے اس معاملے کو سپریم کورٹ میں پہنچا دیا جس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس سودے کی کارروائی میں اسے کوئی بدعنوانی نظر نہیں آتی۔

ایک اور معاملہ کرتارپور کاریڈور کھولنے کا ہے۔ ہندوستان بیس برسوں سے پاکستان سے اس کا مطالبہ کر رہا تھا۔ وہاں کے وزیر اعظم عمران خان نے کاریڈور کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ جبکہ ہندوستانی حکومت نے بھی گورداس پور میں ڈیرہ بابا نانک سے سرحد تک کاریڈور کی تعمیر کا افتتاح کیا ہے۔ اب ہندوستانی سکھ زائرین کو بغیر ویزا کے پاکستان میں واقع گرو نانک کی آخری آرام گاہ کرتارپور کے دربار صاحب تک جانے کی اجازت مل گئی ہے۔ اسے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی سال میں ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل کے استعفے کا بھی واقعہ پیش آیا۔ ان کی جگہ پر شکتی کانتا داس کو گورنر مقرر کیا گیا۔

اس طرح یہ سال بڑا ہی ہنگامہ خیز رہا۔ توقع ہے کہ آنے والا سال بھی ہنگامہ خیز ہوگا۔ کیونکہ اسی سال دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں پارلیمنٹ کے انتخابات ہونے ہیں۔

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: 2018 the year that was in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
Tags:
What do you think? Write Your Comment