بلوچستان کی تاریخ پر ایک ہمہ جہت نظر

لندن:23فروری 2017کو برٹش ہاؤس آف لارڈز لندن میں’بلوچستان کی تاریخ پر ایک بھرپور نظر ‘کے عنوان سے ایک سمینار منعقد ہوا۔ ڈیموکریسی فورم کے زیر اہتمام ہوئے اس سمینار میں19ویں صدی میں بلوچستان کی وفاقیت سے برطانیہ کے تاریخی تعلقات اور1948 میں نتیجةً بلوچستان کا پاکستان سے الحاق مقررین کے اظہار خیال کا محور رہا۔انسٹی ٹیوٹ فار کامن ویلتھ اسٹڈیز کے ڈاکٹر ولیم کراؤلی نے سمینار کی صدارت کی۔ کلیدی خطبہخان قلات عزت ماٰب سلیمان داؤد جان احمد زئی نے دیا۔
اپنے خطاب میں مسٹر خان نے پاکستان سے بلوچستان کے الحاق پر سوال اٹھایا اور انہوں نے اپنی اس بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے بلوچ حکمرانوں کے ساتھ حکومت برطانیہ کے ان مختلف معاہدوں کا حوالہ دیا جس میں بلوچستان کے اقتدار اعلیٰ خود مختاری اور آزادی کی بار بار توثیق کی گئی تھی۔خان نے دلیل دی کہ بابائےپاکستان محمد علی جناح بھی ، جو بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق سے قبل تمام مذاکرات میں قلات کے اٹارنی تھے، اس بات سے مکمل طور پر واقف تھے کہ سلطنت برطانیہ کے نمائندے قلات کو ایک آزاد مملکت تسلیم کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے بلوچ عوام سے دھوکا اور ملک پر غیر قانونی تسلط قائم کر کے لیے جناح کے ساتھ ساز باز کی۔پاکستان کو دہشت گردی کا منبع قرار دیتے ہوئے خان قلات نےبین الاقوامی برادری سے پر زور اپیل کی کہ بلوچیوں کے آزادی دلانے میں مدد کریں۔بعد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خان قلات نے اس امر کا اعادہ کیا کہ وہ ان کے ملک کو پاکستان کے شکنجہ غلامی سے بہر صورت آزادکرانے کے لیے مغربی ممالک اور ہندوستان سے مدد مانگیں گے۔سمینار کے دیگر مقررین نے بھی جن میں اورئینٹل یونیورسٹی نیپلز میں بلوچ تاریخ کے محقق پروفیسر صابر بادل خان ،ہاؤس آف لارڈز میں پارلیمنٹ ریسرچر میکسویل ڈاؤن مین اور تحریک آزادی بلوچستان کے ایک فعال کارکن جمال ناصر بلوچ بھی شامل تھے سمینار سے خطاب کیا۔ بلوچستان کے تربت شہر کے وکیل اور حقوق انسانی کے کارکن حیدر کے بلوچ کو بھی اس سمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا تھا لیکن پاکستانی امیگریشن حکام کے ذریعہ لندن جانے والی پرواز میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملنے کے باعث وہ سمینار میں شرکت سے قاصر رہے۔
ایک اور مقرر ڈاکٹر یعقوب بنگش کو بھی تقریر کرنا تھا لیکن انہیں بھی پاکستانی حکام نے انتباہ دیتے ہوئے سمینار میں شرکت سے روک دیا۔ میکسویل ڈاؤن مین نے کہا کہ یہ برطانیہ ہی تھا جو قلات کے ساتھ1876کے معاہدے کے باوجود خان قلات کی حیثیت کو کمزور کرتا رہا اور پاکستان کو قلات کو ایک آزادمملکت تسلیم نہ کرنے کا درس دیتا رہا۔پروفیسر بادل خان نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس وقت کی بلوچستان کی تاریخ کی مثالیں پیش کیں جب برطانیہ واضح طور پر اس کی آزادی تسلیم کر چکا تھا۔ آزاد بلوچ تحریک کے رہنماجمال ناصر بلوچ نے، جو حیر بیار مری کی نمائندگی کر رہے تھے، کہا کہ 1948 کے بلوچستان معاہدہ الحاق کی تقدیس و حرمت مشکوک ہے کیونکہ اس وقت کے خان قلات پر تشدد اور ناجائز دباؤ ڈال کر اس پر دستخط کرائے گئے تھے۔سمینار کے شرکاءمیں یہ عام خیال پایا گیا کہ اس وقت کے خان قلات نے دباؤ میں آکر1948کے معاہدہ الحاق پر دستخط کیے تھے جو حکومت برطانیہ اور پاکستانی حکومت کے درمیان ساز باز کا شاخسانہ تھا۔سمینار کے دیگر اہم شرکاءمیں برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین بشمول ممبر پارلیمنٹ اور ڈیموکریسی فورم کے چیرمین نیگل ہڈل اسٹون، ماہرین تعلیم ، پاکستان، افغانستان اور ایران سمیت مختلف سفارت خانوں کے سفیر،میڈیا کے نمائندے اور بالوچ باشندے شامل تھے۔

Title: the history of balochistan revisited | In Category: مضامین  ( articles )

Leave a Reply