ذوقِ یقین کی ضرورت

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

اگر ہم موجودہ حالات کو چند لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو اس سے اچھی تصویر کشی نہیں ہوسکتی کہ آگ ہے اولادابراہیم ہے نمرود ہے۔ اب اس سے بچنے اور یہاں سے بچ کر نکلنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ کہا جاتا ہے کہ قیادت بحران میں پیدا ہوتی ہے، لیکن یہا ںتو دور دور تک سناٹا ہے، پوری قوم شتر بے مہار بنی ایک بے آب و گیاہ صحرا میں بھٹک رہی ہے۔ اس عالم مایوسی میں کچھ لوگ غصہ میں اپنا ہاتھ پاؤں چبا رہے ہیں تو کچھ شدید احساس کمتری میں مبتلاہوکر قشقہ کھینچ کر دیر میں بیٹھنے پر آمادہ ہیں۔ سوال ہے لوگوں کو کیسے سنبھالا جائے ان کے اندر زندگی، حرارت، حرکت اور غیرت کیسے پیدا کی جائے اور کس طرح انہیں جوڑ کر کاروانِ حیات میں زندہ اور بامقصد قوم کی طرح آگے بڑھایا جائے۔

آج جو بر سر اقتدار ہیں وہ اچانک ایوان حکومت میں داخل نہیں ہو گئے بلکہ یہ ان کی ایک سو سال کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔ ان کے جہد و ارتقاءکی ایک منصوبہ بند اور منظم کوشش کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا نہ تو کوئی چیز اچانک ظہور پذیر ہوتی ہے اور نہ اچانک فنا ہوتی ہے۔ اس کو ایک طبعی عمل سے گزرنا ہوتا ہے۔ اس لےے ہم سوچیں اور وہ چھومنتر ہوجائے ایسا ممکن نہیں ہے۔ یہ ابھی رہے گا۔ اس کی مدت حیات کیا ہوگی؟ یہ کہنا مشکل ہے۔

انگریز جب ہندوستان پر قابض ہوئے تو لوگوں نے بہت زورلگایا کہ اس کے اقتدار کو ختم کردیں اس کے لےے لوگوں نے جگہ جگہ ان سے ہتھیار بند جدوجہد کی۔مگر ہندوستانیوں کو ہر جگہ اور ہر محاذ پر شکست ہوئی اور انگریزی اقتدار مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ پھر گاندھی عہد کا آغاز ہوا۔ گاندھی جی نے محسوس کرلیا کہ انگریزوںکوہتھیار کی جنگ میں شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔ لہٰذا انھوں نے جدوجہد کی قواعد (Grammar of Struggle)کو بدل دیا اور ہنسا کی جگہ اہنسا کو اپنا ہتھیار بنایا۔
سماجی اصلاح اورآپسی اتحاد پر زور دیا اور قوم میں خود اعتمادی پیدا کی اور اپنی عزت و آزادی کے لےے ابھارا۔ گاندھی عہد سے پہلے جو آزادی کی جدوجہد تھی، وہ حکمراں طبقوں کے درمیان تھی۔ عوام کو اس جنگ میں شریک نہیں کیا گیا تھا۔ خواص کا ایک مخصوص طبقہ تھا جو انگریزوں سے برسرِ پیکار تھا۔ گاندھی جی نے عام عوام کو جوڑا اور جنگ آزادی کو عوامی جدوجہد (People’s Struggle)میں بدل دیا۔ جب عوام کی شرکت بڑھنے لگی تو حکومت کے ہاتھ سے طوطے اڑنے لگے اور بالآخر انہیں عوامی جدوجہد اور قربانی کے آگے شکست کھانی پڑی اور ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔

گاندھی جی نے لوگوں میں بے خوفی پیدا کی، ہر ظلم اور جبر کے مقابلے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا داعیہ پیدا کیا، سچائی اور عدم تشدد کے ساتھ ہر طرح کے تشدد کا مقابلہ کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ دیکھتے دیکھتے ایک ڈری سہمی قوم، بہادروں کی فوج بن گئی، جن کے سروں پر لاٹھیاں برستی رہیں، گولیاں چلتی رہیں،مگر وہ ڈٹ کر کھڑے رہے۔ نہ وہ میدان چھوڑ کر بھاگے اور نہ انھوں نے ہاتھ اٹھایا۔ یہاں تک ظلم کے ہاتھ شل ہوگئے اور ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس پرامن جدوجہد کا مقابلہ کیسے کریں؟ خان عبدالغفار خاں نے بتایا کہ گاندھی جی نے سچائی اور عدم تشدد کا یہ سبق حضور کی مکی زندگی سے سیکھا تھا اور جب اس کو انھوں نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں استعمال کیا تو اس کے معجزاتی نتائج رونما ہوئے۔

ہم ہندوستان کے پیدائشی اور فطری شہری ہیں۔ ہمیں اس ملک سے کوئی نکال نہیں سکتا ہے۔ ہمیں اس وقت صبر، حکمت اور ذوق یقین کی ضرورت ہے۔ یقینا ہمارے سامنے ایک آگ کا دریا ہے اور ہمیں اس سے تیر کر نکلنا ہے۔ کچھ لوگ تو ضرور اس آگ کی نذر ہوں گے، مگر ذوق یقین سے یہ آگ ضرور ٹھنڈی ہوجائے گی اور ہم بخیریت اس سے گزر جائیں گے۔

صبر کمزوری اور مجبوری کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے موقف پر پوری مضبوطی اور پامردی کے ساتھ ڈٹے رہنے اور جمے رہنے کا نام ہے۔ حکمت وہ صلاحیت ہے جو اندھیری رات میں راستہ دکھاتی ہے اور ذوقِ یقین وہ سرمایہ حیات ہے جو زادِ راہ کا کام کرتا ہے۔ علم و حوصلہ وہ دھاگہ ہے جو چیزوں کو مربوط کرکے ایک خاص وقت تک جدوجہد کا داعیہ پیدا کرتا ہے ۔ اور یہ سب ذوق یقین سے پیدا ہوتا ہے۔ بقول اقبال

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

(کالم نگار ’زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد‘ کے مصنف اور بہار انٹر میڈیٹ ایجوکیشن کونسل کے سابق وائس چیرمین ہیں)

Read all Latest social news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from social and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: We must have an open mind patience to overcome problems in Urdu | In Category: سماجیات Social Urdu News
Tags:
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.