مسئلہ طلاق پر بحث میں ان امور پر بھی غور کیا جائے

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل

اسلام میں شادی دو عاقل بالغ آزاد مرد و عورت کے درمیان باہمی رضا مندی سے کیا گیا ایک قرار ہے جس کی ایک مستقل مذہبی اور قانونی حیثیت ہے۔ یہ شادی دونوں خاندانوں کے بزرگوں کے ذریعے بھی طے ہوسکتی ہے اور مرد و عورت کی باہمی رضا مندی سے بھی طے ہوسکتی ہے۔ شادی کے ذریعہ ہی ایک خاندان کا وجود ہوتا ہے اور خاندانوں کے ارتباط سے ایک سماج اور تمدن کا ظہور ہوتا ہے۔ شادی تمام مذاہب، تمدن اور سماج میں نامعلوم ادوار سے مرد و عورت کے درمیان باہمی تعلق کا ایک تسلیم شدہ ضابطہ رہا ہے اور اس کے ذریعہ سے جونسل وجود میں آتی ہے، اسے قانونی، سماجی اور مذہبی تقدس و احترام حاصل ہے۔ اس کے علاوہ اگر مرد وعورت کے درمیان کوئی تعلق ہوتا ہے تو اسے مذہبی اور اخلاقی طور پر صحیح نہیں مانا جاتا ہے۔ دنیا کی ہر قوم، ملک اور سماج میں شادی ایک لازمی ادارہ ہے چاہے اس کی شکل اور اس کو انجام دینے کا طریقہ کتنا ہی مختلف ہو۔ ہر قوم اور مذہبی اکائی اپنے عقیدے، مذہب، تمدنی اور سماجی ضابطے کے تحت شادی کا اہتمام کرتی ہے۔

شادی چونکہ دو الگ الگ مردوعورت کے درمیان ہوتی ہے جن کا خاندانی اور تمدنی پس منظر الگ ہوتا ہے نیز ان کے طبائع میں اختلاف ہوتا ہے۔ عام طور پر شادی کے بعد مردوعورت دونوں کو ایک دوسرے سے Compromiseکرنا پڑتا ہے ورنہ اس رشتہ کا باقی اور جاری رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ سو میں 98.99%فیصد معاملو ں میں مردوعورت آپس میں کمپرومائز کرتے ہیں اور یہ رشتہ تا عمر چلتا رہتا ہے مگر ایک دو فیصد معاملے ایسے بھی ہوتے ہیں جس میں فریقین میں سے کوئی ایک یا دونوں کسی طرح ایک دوسرے کو رعایت دینے کو تیار نہیں ہوتے ہیں ایسی صورت میں رشتہ نبھانا مشکل ہوجاتا ہے۔

کچھ قوموں اور برادریوں میں شادی جنم جنم کا بندھن ہے، جس کو کسی حال میں توڑا نہیں جاسکتا۔ ایسی صورت میں جب نباہ مشکل ہوجاتا ہے تو شوہر یا بیوی ایک دوسرے کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس طرح شادی کی ذمہ داری سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ یہ طلاق نہیں ترک کہلاتا ہے۔ اس ترک سے انسانی حقوق کی جو خلاف ورزی ہوتی ہے اس کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ لہٰذا جن سماجوں میں طلاق کا کوئی قانون اور رواج نہیں ہے اب ان میں باضابطہ طلاق کا قانون بناکر مرد وعورت دونوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ باضابطہ ایک دوسرے سے طلاق لے کر شادی کے بندھن سے آزاد ہوسکتے ہیں۔

اسلام میں شادی نباہنے کے لیے کی جاتی ہے توڑنے کےلئے نہیں۔ لیکن رشتے کو برقرار رکھنے میں زیادہ فتنہ ہے تو اس کو توڑ دینا بہتر ہے تاکہ دونوں ذہنی کوفت اور ایک دوسرے کی حقوق کی خلاف ورزی سے محفوظ رہیں۔ اسلام میں شادی کا توڑنا انتہائی ناپسندیدہ بات ہے کیونکہ اس کے بے حد خراب نفسیاتی اثرات پڑتے ہیں لیکن اس کو اسلامی شریعت نے جرم اور گناہ نہیں مانا ہے۔

اسلام نے عورت اور مرد دونوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ کوئی بھی عقد نکاح کے لوازمات ادا کرنے میں کوتاہی برتتا ہے، یا اس کی خلاف ورزری کرتا ہے یا اس کے حقوق کو ادا نہیں کرتا ہے تو اسے اس بندھن سے آزاد ہونے کا حق ہے۔ شادی کے قرار میں مرد فریق اول ہوتا ہے کیونکہ شادی کے بعد کے جملہ اخراجات اور مالی ذمہ داری مرد کی ہوتی ہے۔ عورت چاہے مالدار ہو، خود کفیل اور برسرِ روزگار ہو اس کے مال و دولت اور اس کی آمدنی میں اس کی مرضی اور اجازت کے بغیر مرد کو تصرف کاکوئی اختیار نہیں ہے جبکہ عورت کو مرد کے مال اور آمدنی میں تصرف کا نہ صرف اختیارہے بلکہ یہ اس کا حق ہے۔ اس طرح عورت فریق ثانی ہوتی ہے جس پر کوئی مالی بوجھ نہیں ہوتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت مرد کی غلام اور باندی ہوگی اور اس کا کوئی آزادانہ وجود نہیں ہوگا۔

اب اگرمرد اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتا ہے تو عورت کو اس شادی سے باہر آنے کا حق ہے۔ اس کو اصطلاح شرع میں خلع کہتے ہیں۔ اس صورت میں عورت اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے گی، اگر شوہر نے اس کو مان لیا تو ٹھیک ہے ورنہ قاضی سے رجوع کرکے اس کو نافذ کرائے گی۔ قاضی فریقین کے درمیان معاملے کو درست کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ علیحدگی کی نوبت نہ آئے مگر کسی وجہ سے بات نہیں بنی تو علیحدگی کا فیصلہ کردے گا۔ خلع کے سلسلے میں یہ بات سمجھ لینی چاہےے کہ عورت کی مرضی یا رضا مندی کے بغیر اسے کسی رشتے میں باندھ کر نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ اس طرح صرف اسلام نے مرد کو ہی نہیں عورت کو بھی فسق نکاح یعنی شادی توڑنے کا حق دیا ہے جس کو خلع کہتے ہیں۔

دوسری جانب اگر مرد اس رشتے کو برقرار نہیں رکھنا چاہتا ہے تو وہ عورت کو طلاق دے سکتا ہے لیکن اس کی کچھ شرطیں ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اگر مرد وعورت میں کسی بات پر اختلاف ہوگیا ہے تو فوراً طلاق کی اجازت نہیں ہے بلکہ اس میں تدریج کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ طلاق کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کا اہم فیصلہ ہے جس سے دونوں خاندان، مردوعورت اور اگر بچے ہیں تو سب متاثر ہوتے ہیں۔ اس لےے قرآن نے اس سلسلے میں واضح رہنمائی کی ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل اس وجہ سے پیدا ہوگئے ہیں کہ ہم قرآن کی ان واضح ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور فقہی موشگافیوں میں گرفتار ہوکر اپنے لےے مسائل بھی کھڑے کررہے ہیں اور جگ ہنسائی کا سبب بھی بن رہے ہیں۔

قرآن کا حکم ہے کہ شوہر اگر بیوی کی کسی بات سے ناراض ہے یا بیوی کی کوئی بات اسے ناپسند ہے تو اس کو سمجھائے اور اس کی اصلاح کرے۔ بیوی اگر اس کی بات نہیںمانتی ہے اور اپنے رویہ میں تبدیلی کے لےے تیار نہیں ہے تو اپنا بستر اس سے الگ کرلے۔ اس کے بعد بھی دونوں میں بہتری کی صورت پیدا نہیں ہورہی ہے تو دونوں خاندانوں کے بڑے اور بزرگ اس معاملہ کو دیکھیں اور دونوں کو سمجھا بجھا کر معاملہ کو حل کرادیں۔ خدانخواستہ اگر خاندان کے بڑوں کی ثالثی بھی ناکام ہوجاتی ہے تو اس صورت میں جب عورت عالم حیض میں نہ ہو اس وقت اس کو ایک طلاق دے۔ اس طلاق کے باوجود وہ اس گھر میں رہے گی اور اس کو سارے اختیارات ایک بیوی کی طرح حاصل ہوں گے۔ اس درمیان دونوں یا کوئی ایک رجوع کرنا چاہے تو بغیر کسی تکلف کے رجوع کرسکتا ہے اور دونوں نارمل طریقے سے میاں بیوی کو طرح از سر نو رہ سکتے ہیں۔ اس کو طلاع رجعی کہتے ہیں۔

لیکن ایک طلاق ہوجانے کے بعد بھی دونوں اپنے رویہ میں تبدیلی لانے کو تیار نہیں ہیں تو شوہر دوسرے طہر میں یعنی عورت جب حیض سے باہر آجائے اس وقت دوسری طلاق دے سکتا ہے۔ اس صورت میں بھی بیوی شوہر کے گھر میں رہے گی اور اس کے جملہ حقوق محفوظ رہیں گے۔ اب اگر ددنوں از خود باہمی رضا مندی سے یا کسی کی مداخلت اور مصالحت کی وجہ سے اپنے رشتہ کو پھر سے استوار کرنا چاہیں تو بآسانی کرسکتے ہیں اس صورت میں انہیں اپنے نکاح کی تجدید کرنی پڑے گی۔ اس کو طلاق بائن کہتے ہیں۔
اب دو طلاق کے باوجود فریقین اپنے رویہ میں تبدیلی لانے کو تیار نہیں ہیں تو رشتہ کو معلق رکھنا صحیح نہیں ہے بلکہ تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے کر عورت کو بھلے طریقے سے رخصت کردینا چاہےے۔ اب اس کے بعد ان دونوں کے درمیان کوئی رشتہ باقی نہیں رہے گا۔ اس کو طلاق مغلظہ کہتے ہیں۔

اگر قرآن کی پیش کردہ ترتیب اور ہدایت کے مطابق طلاق دی جائے تو اولاً اس سے طلاق کا وقوع بہت کم ہوجائے گی اور دوسرے جب تک کوئی ایسی وجہ نہ ہو جس میں کسی طرح اس رشتہ کو جاری رکھنا ممکن نہ ہو صرف اسی صورت میں طلاق ہوگی۔ اس پورے پروسس کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ کام بغیر کورٹ کچہری، بغیر کسی خرچ کے، بغیر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے گھر کے اندر خاموشی اور شرافت سے انجام پذیر ہوں گے۔ میں نہیں جانتا کہ اس سے بہتر اور شریفانہ طریقہ علیحدگی کا کوئی دوسرا طریقہ ہوسکتا ہے یا ہے۔

طلاق کے بعد عورت کو شادی کے بعد جو مال، گھر،مکان، اپنی جائداد، نقدی یا زیورات کی شکل میں شوہر یا اس کے گھر والوں کی طرف سے ملے تھے وہ عورت کی ملک ہوگی اور اسے اپنے ساتھ لے جانے کا حق ہوگا۔

اس کے علاوہ اس کا مہر باقی ہے تو وہ ادا کرنا ہوگا اور تین مہینے تک اس کی کفالت کا خرچ دینا ہوگا۔ اس کے بعد عورت آزاد ہوجاتی ہے۔ اب وہ اپنی پسند سے چاہے جس سے شادی کرلے یا شادی کے بغیر زندگی گزارے۔ وہ اپنے معاملات میں آزاد ہوگی۔ اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت کی مدت وضع حمل تک ہوگی۔ بچہ جننے کے بعد بچہ زچہ دونوں کی کفالت کا ذمہ مرد یعنی سابقہ شوہرکا ہوگا۔ بچہ کی پرورش کے عوض وہ اپنے سابقہ شوہر سے معاوضہ لے سکتی ہے۔ بچہ کی ساری ذمہ داری باپ پر ہوگی اور اس کا سارا خرچ باپ برداشت کرے گا۔ اسلامی شریعت کسی مرحلے میں عورت پر کوئی مالی بوجھ نہیں ڈالتی ہے۔ اگر کوئی اس کی کفالت نہیں کرے گا تو سرکاری خزانے سے اس کی کفالت کی جائے گی۔ یہ اسلام کا عام اصول ہے۔
شریعت مبنی بر عدل ہے۔ اگر کوئی رائج شرعی اصول عدل کے تقاضے کو پورا کرنے میں قاصر ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی تفہیم اور نفاذ میں کوئی خامی ہے جس کو دور کرنا ضروری ہے۔ ایک مجلس میں تین طلاق کا مروجہ طریقہ اپنے اندر بہت سے مفاسد رکھتا ہے۔ لہٰذا اس کو بدلنا اور ختم کرنا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے تین طلاق کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ حکومت وقت کا اصرار ہے کہ اس کو فوجداری قانون بنادیا جائے جو غیر منطقی ہے اور شریعت میں بے جا مداخلت ہے۔

حکومت جس جنڈر جسٹس کی بنیاد پر یہ قانون سازی کرنا چاہتی ہے اس میں فائدے کم اور مفاسد زیادہ ہیں۔ اس قانون سے خاندان نہ صرف ٹوٹ جائے گا بلکہ وہ تباہ بھی ہوجائے گا۔ اس لےے عورتوں کی ہمدردی کی شکل میں ظلم کا ایک باب کھل جائے گا۔ اگر واقعی حکومت عورتوں کو انصاف دلانا چاہتے ہے ان کے حقوق محفوظ رکھنا چاہتی ہے تو صرف مسلمان عورت ہی نہیں بلکہ وہ تمام عورتیں جن کو ان کے شوہروں نے طلاق دے دی ہے یا بغیر طلاق کے چھوڑ دیا ہے یعنی جو متروکہ ہیں جن میں بڑے بڑے لوگ، اونچے عہدوں پر فائز لوگ، پڑھے لکھے اور این آر آئی شامل ہیں ان کے خلاف قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں بیوہ کی شادی کا قانون ہونے کے باوجود لاکھوں نوجوان بیوہ خواتین ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اس لےے اگر حکومت قانون بنانا ہی چاہتی ہے اور جینڈر جسٹس کو یقینی بنا نا چاہتی ہے تو اسے تمام عورتوں کے تحفظ کا قانون بنانا چاہےے جس میں بیوہ، متروکہ اور مطلقہ تمام طرح کی خواتین آتی ہیں۔ ایسا کوئی قانون جو Non-discriminatory ہو اس کے ذریعہ ہی جنڈر جسٹس کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں ۔ اس لےے اس پورے معاملے کو اکثریت کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اقلیت اور اس کے واجبی مسائل کے حل کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیا ملت اور حکومت ان باتوں پر دھیان دے گی؟

کالم نگار ’زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد‘ کے مصنف ہیں۔
ای میل:dr.abuzarkamaluddin@gmail.com

Read all Latest social news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from social and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Triple talaq and gender based considerations in Urdu | In Category: سماجیات Social Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.