یہ جو راستے ہیں جدا جدا یہ معاملہ کوئی اور ہے

(پاکستان) اسماءطارق ، گجرات

بنانے والی ذات ایک ،سب کے خون کا رنگ لال ،سب کے دل کے چار خانے، سب کو سانسں لینے کے لیے ہوا درکار ہے مگر ایک دوسرے سے فاصلہ اتنا ہے کہ ساتھ بیٹھ کر بھی صدیوں پر محیط۔ہم سب آجکل عجیب سی حالت میں ہیں جہاں ہمیں ہماری ذات تو درست لگتی ہے مگر دوسرا اتنا غلط کہ ہم ایک پل کےلیے نہیں سوچتے اور اسے غلط ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں۔ بس اس کی رائے ہماری رائے سے اور اس کا عقیدہ ہمارے عقیدے سے الگ نکلے سہی۔ ہم نے اپنے اپنے نظریات کی عینک چڑھائی ہوئی ہے اور پھر ہم سب کو اسی عینک سے دیکھتے ہیں اب اگر کوئی اس عینک میں فٹ نہیں آتا تو ہم اسے جہنم واصل کر دیتے ہیں کیونکہ اس معاشرے میں کسی ایسے فرد کو زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے جس کا عقیدہ یا نظریہ ہمارے جیسا نہیں ہے۔

شدت پسندی ہمارا خاصہ بن گئی ہے جس نے ہمارے دلوں کو تنگ کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے علاوہ کسی کی کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ عدم برداشت ہم میں بہت بڑھ گئی ہے جو انتشار پھیلانے کا باعث بن رہی ہے۔ہمیں سمجھنا ہو گا کہ اسلام کا سب سے پہلا سبق انسانیت کا ہے اور اس سے منافی ہر قانون کی اسلام مذمت کرتا ہے۔ جب اللہ ایک ،قرآن ایک ،رسول ایک تو پھر ان کے ماننے والے ایک دوسرے کے دشمن کیسے ہو سکتے ہیں۔

بقول شاعر
نہ میرا خدا کوئی اور ہے نہ تیرا خدا کوئی اور ہے
یہ جو راستے ہیں جدا جدا یہ معاملہ کوئی اور ہے

ہم سب نے اپنے فرقے بنا رکھے ہیں اور حتی کہ ان فرقوں کے بھی فرقے اور جو انہیں نا مانے ہم اسے مانتے نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے مسلمان ہونے کے لئے صرف یہی فرقہ وارانہ اصول رکھ چھوڑے ہیں اور باقی اخلاق و آداب، حسن سلوک کو ذاتی معاملے پر چھوڑ دیا ہے اسی لیے اس کا پرچار بھی بہت کم ہے ،حالانکہ اگر ہم سمجھیں تو یہی وہ بنیادی عقائد جو مسلمان کے لئے ضروری ہیں۔ فرقہ تو سب کا ذاتی مسئلہ ہے جو عالمی اخوت کے سامنے اہمیت کا حامل نہیں ہوتا جس کے سامنے سب مسلمان ہیں جن کا رب ایک ہے اور وہ چاہے کسی بھی فرقے یا خطے سے تعلق رکھتے ہوں سب بھائی بھائی ہیں۔

یہ بات افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ ہمارے ہاں فرقہ وارانہ فسادات قوموں نسلوں کے قاتل ہیں جو آئے دن بڑھ رہے ہیں اور انسانیت کو شرم سار کر رہے ہیں۔ عجیب بات ہے نہ کہ ہم نے آج تک کسی اچھے مسلمان کو کافر کو بھی کافر کہتے نہیں سنا۔ وہ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی انسانیت کو مدنظر رکھتا ہے اور ہم لوگ جن کو اپنے ایمان کی خبر نہیں وہ دوسروں کا ایمان جانچتے رہتے ہیں۔غیر مسلم چھوڑیئے ،ہم تو اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو نہیں بخشتے ہم اگر سوچیں تو کیا یہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہے۔

خدا را مسلمان صرف خلیے ہی کا نام نہیں ہے اس میں اخلاقی سماجی معاشرتی ہر طرح کے رویوں کو اسلام کے مطابق ڈالنا مسلمان ہونا ہے ، ایک اللہ اور رسول کے ماننے والوں کو اس طرح کے تفرقات رکھنا واجب نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حوصلہ دے کہ ہم اپنے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کے عقیدے کا بھی احترام کریں اور اس سے محبت کا رویہ رکھیں تاکہ ہمارا ملک امن کا گہوارہ بن جائے۔ ہمیں محبت اور امن کے پیغام کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے اور ہمیں خود میں قوت برداشت اور جذبہ روادری و ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگی تب ہی امن کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
ای میل:trqasma2511@gmail.com

Read all Latest social news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from social and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: The key to suppress extremism is to get rid of sectarianism in Urdu | In Category: سماجیات Social Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.