تجارت کے چند اہم اسلامی اصول(تیسری قسط)

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
استادو سابق صدر، شعبہ تعلیم، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ

۱ ادھار معاملات کو ضبط تحریر میں لانا:
(گذشتہ سے پیوستہ)

10۔دھار معاملات کو ضبط تحریر میں لانا:یہ بھی اسلامی اصول میں سے ہے کہ خرید و فروخت کا معاملہ اگر ادھار پر مبنی ہوتو اسے ضبط تحریر میں لانا چاہیے۔ ایسی صورت میں قیمت کے ساتھ ادائیگی کی مدت اور اس کی صورت و ترکیب کا بھی طے کیا جانا ضروری ہے، مثلاً یہ کہ ادائیگی یکمشت ہوگی یا قسطوں میں اور اگر قسطوں میں ہوگی تو کتنی قسطوں میںہوگی وغیرہ۔ ان سب باتوں کو تحریر کے تحت لانا چاہیے تاکہ آگے چل کر کسی بھی فریق کی بھول چوک جس کا وقت گزرنے کے ساتھ امکان رہتا ہے سے کسی قسم کی غلط فہمی اور اختلاف کی راہ نہ ہموار ہو۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے کلام میں اس کی تاکید فرمائی ہے۔ ارشاد باری ہے: ” اے ایمان والو! جب تم معین میعاد کے لئے ادھار کا کوئی معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو“۔(البقرہ:282 )۔ آگے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اور جو معاملہ اپنی میعاد سے وابستہ ہو، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اسے لکھنے میں کاہلی نہ کرو، یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف ہے اور گواہی کو درست رکھنے کا بہتر ذریعہ ہے ، اور اس بات کی قریبی ضمانت ہے کہ تم آئندہ شک میں نہیں پڑوگے “۔ (البقرہ:282 )
اس لئے اس طرح کے معاملات کو ضرور دستاویزی شکل دینی چاہیے۔ اس کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ فریقین میں سے اگر کسی کا بھی انتقال ہوجائے تو ان کے ورثا کے لئے حق کی ادائیگی یا وصولی دونوں ہی میں یہ دستاویز معاون ثابت ہوگا۔ ہمارے دیار میں عام طور پر لوگ اس طرح کی تحریر کو باہمی اعتماد اور تعلقات کی نزاکتوں کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس سلسلے میں کوتاہی برتتے ہیں جو بسا اوقات آگے چل کر نسیان یا غلط فہمی کے باعث باہمی نزاع کا سبب بن جاتاہے جس کے نتیجے میں اعتماد بھی مجروح ہوجاتا ہے اور تعلقات بھی خراب ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو کیس اور مقدمے بازی تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اس لئے ہمیںاللہ تعالیٰ کے اس حکم کی حکمت کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور سماجی اقدار کے خود ساختہ میعار قائم کر کے اس سلسلے میں کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔ ساتھ ہی فریقین کو چاہیے کہ وہ معاہدہ بیع کی پابندی کریں، فروخت کنندہ میعاد معین سے پہلے ادائیگی کا مطالبہ نہ کرے اور خریدار اس سے تاخیر نہ کرے اور نہ ہی ٹال مٹول کا رویہ اختیار کرے بلکہ حسن ادائیگی کی صورت اختیار کرے۔ قرض کی ادائیگی پر قادر ہوتے ہوئے بھی ٹال مٹول کا رویہ اختیار کرنا ظلم ہے، اس لئے اس سے بچنا ضروری ہے اور اگر کسی معقول وجہ سے خریدار وقت پر ادھار کی رقم ادا نہ کرسکے تو تاجر کو خریدار سے نرمی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اسے مہلت دینی چاہیے اور جرمانہ وصول نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ یہ سود کے زمرے میں داخل ہے۔
11۔کم منافع پر اکتفا کرنا:مسلمان تاجروں کو چاہیے کہ وہ کم منافع پر اکتفا کریں اور اپنی تجارت میںجذبہ¿ احسان کو پیش نظر رکھیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
”بے شک اللہ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے“(سورہ النحل:90) اور فرمایا: ”بے شک اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے“(الاعراف56)۔ اس لئے ضرورت مند خریدار اگر اپنی ضرورت کے تحت زیادہ نفع دینے پر بھی تیار ہو تو بھی جذبہ احسان کا تقاضہ یہ ہے کہ زیادہ نفع نہ لے۔ کم نفع لے کرزیادہ مال فروخت کرنا ایک ایسی پالیسی ہے جس سے تجارت کافی اوپر اٹھ جاتی ہے۔ سلف صالحین کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ کم نفع پر زیادہ مال فروخت کرنے کوزیادہ نفع حاصل کرنے کے انتظار سے زیادہ مبارک سمجھتے تھے۔ حضرت علی ؓ کوفہ کے بازار میںچکر لگاتے تھے اور فرماتے تھے کہ اے لوگو! تھوڑے نفع کو نہ ٹھکراو¿کہ زیادہ نفع سے بھی محروم ہوجاو¿گے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے جن کا ذکر اوپر گزرا، ایک بار لوگوں نے پوچھاکہ آپ کس طرح اتنے دولت مند ہوگئے؟ تو انھوں نے فرمایاکہ میں نے تھوڑے نفع کو بھی کبھی رد نہیں کیا۔ جس نے بھی مجھ سے کوی¿ جانور خریدنا چاہا میں نے اسے روک کر نہ رکھا بلکہ فروخت کردیا۔ ایک دن ایک ہزار اونٹ اصل قیمت خرید پرفروخت کردئے اور بجز ہزار رسیوں کے کچھ نفع حاصل نہ کیا۔ پھر ہر ایک رسّی ایک ایک درم سے فروخت کی اور اونٹوں کے اس دن کے چارہ کی قیمت ایک ہزار درہم میرے ذمے سے ساقط ہوگئی، اس طرح دو ہزار درم کا مجھے منافع حاصل ہوا۔ (کیمیای سعادت ، صفحہ280)۔
یہ ہے تجارت میں ترقی کا راز! لیکن اس سلسلے میں ہمارے یہاںبڑی بے صبری پای¿ جاتی ہے۔ ہم چند دنوں میں ہی لاکھ پتی اور کروڑ پتی بن جانا چاہتے ہیںجس کا نقصان سامنے آکر رہتا ہے جبکہ بعض دوسری قوموں نے اس پالیسی کو اپنا لیاہے اور وہ اس کا خوب پھل کھارہے ہیں۔
یہاں یہ واضح کردینا بھی مناسب ہے کہ گو تاجر کو اپنی چیزوں کا نرخ (Rate) مقرر کرنے کا حق ہے اور فطری اصول و ضوابط کے تحت قیمتوں میں اضافہ کرنا بھی درست ہے لیکن اتنا اضافہ جو غیرمعمولی، غیر فطری، غیر مناسب اور غیرمنصفانہ ہو اور جس سے صارفین کے استحصال کی صورت پیدا ہوتی ہو درست نہیں۔ ایسی صورت میں حکومت وقت کو اشیاءکی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کی حکمت عملی اپنانی چاہیے اور عوام کو تاجروںکے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ رقمطراز ہیں: ’گر ان (تاجروں) کی طرف سے (قیمتوں کے تعین میں) کھلا ظلم دکھائی دے جس میں لوگ شک نہ کریںتو ان (قیمتوں) میں تبدیلی (یعنی کنٹرول) جائز ہے کیوں کہ یہ (غیر مناسب بھاو¿ بڑھا دینا) فساد فی الارض ہے“۔ (حجة اللہ البالغہ ، دار احیاءالعلوم، بیروت1990، جلد2 صفحہ301)۔
مذکورہ عبارت کی تشریح میں مولانا سعید احمد صاحب پالن پوری لکھتے ہیں: ”اگر تاجروں کی طرف سے عام صارفین پر زیادتی ہورہی ہو، اور زیادتی ایسی واضح ہو کہ اس میں کوئی شک نہ ہو، تو قیمتوں پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے کیوں کہ ایسے وقت بھی تاجروں کو ظالمانہ نفع اندوزی کی چھوٹ دینا اللہ کی مخلوق کو تباہ کرنا ہے“۔ (رحمة اللہ الواسعة شرح حجة اللہ البالغہ ، مکتبہ حجاز، دیوبند2003، جلد4 صفحہ598)۔
اس لئے تاجروں کو چاہیے کہ وہ قیمتوں کے تعلق سے بازار میں ایسی نامناسب صورتحال پیدا نہ کریں جو عوام کے لئے پریشانی کا باعث ہو اور حکومت وقت کے لئے مداخلت کا جواز فراہم کرے۔
12۔ فریب دہی سے پرہیز کر نانا:تاجر کو چاہیے کہ خریدار کو کسی قسم کا دھوکا نہ دے کیوں کہ یہ خدمت اور حاجت روائی کے جذبہ کے خلاف تو ہے ہی، دیانت داری کے بھی خلاف ہے۔ اس لئے اگر اس کے سامان میں کسی قسم کا عیب ہو تو اس کو نہ چھپائے بلکہ سچای¿ کے ساتھ بیان کردے، اگر چھپائے گا توخیانت اور ظلم کا مرتکب ہوگا اور ایسی صورت میں خریدار کو شریعت کی رو سے یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ تاجر کو عیب دارمال واپس کردے اور اپنی رقم لے لے ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (بازار میں) غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے، آپ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر داخل کردیا تو آپ کی انگلیوں نے گیلاپن محسوس کیا۔ پس آپ نے فرمایا: اے غلے کے مالک ! یہ کیا ہے (یعنی یہ تری اور نمی کیسی ہے)؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اس پر بارش کی بوندیں پڑگئی تھیں۔ آپ نے فرمایا : تو تم نے اس (بھیگے ہوئے غلے) کو ڈھیری کے اوپر کیوں نہیں کردیا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکتے ؟ (یاد رکھو!) جوشخص دھوکے بازی کرے وہ مجھ سے نہیں (یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، )۔
امام سلیمان بن احمد طبرانیؒ نے اس روایت کے آخری اور کلیدی فقرے کو عبداللہ ابن مسعودؓ سے چند الفاظ کے اضافے کے ساتھ اس طرح روایت کیا ہے: ” جوشخص دھوکے بازی کرے وہ مجھ سے نہیں اور دغابازی اور فریب کا انجام جہنم ہے۔
لہٰذا ایک مسلمان تاجر کو چاہیے کہ وہ چند سکّوں کی خاطراپنی آخرت کو داو¿ پر نہ لگائے اور یہ یقین رکھے کہ چالبازی سے رزق میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ الٹا مال سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ ایسے شخص کی خیانت دھیرے دھیرے لوگوں میں مشہور ہوجاتی ہے اور گاہک اس سے گریز کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجہ میںاس کا کاروبار بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اس لئے بجائے دھوکا دینے کے دیانت داری کے ذریعے گاہکوں کو اپنے اعتماد میں لینے کی سعی کرنا چاہیے اور سامان میں اگر کوئی عیب ہو تو اسے واضح کردینا چاہیے تاکہ ان کو یہ یقین اور اطمینان ہو جائے کہ آپ انہیں کبھی دھوکا نہیںدے سکتے۔ بعض تاجر اپنے سامان کا نقص ظاہر نہیں کرتے بلکہ خریدار سے ہی یہ کہتے ہیں کہ آپ خود اچھی طرح دیکھ لیں، اگر بعد میں کوئی نقص نکلا تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے حالانکہ یہ ان کے علم میں ہوتا ہے کہ سامان میں کس قسم کا نقص ہے۔ یہ طریقہ بھی خلاف شریعت ہے کیوں کہ شارع نے عیب کو ظاہر کرنے کی ذمے داری تاجر پر ڈالی ہے جیسا کہ سطور بالا میں ذکر کردہ عقبہ بن عامرؓ کی روایت سے واضح ہے۔ ساتھ ہی تجارت کا نفع صرف اس شخص کے لئے جائز بتایا گیا ہے جو سامان کے بے عیب اور کارآمد ہونے کی ضمانت (Guarantee) دے، جو شخص یہ ذمے داری نہیں لے سکتا اس کے لئے اس چیز کا منافع درست نہیں۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں: ” حلال نہیں نفع اس کا جس کا وہ (تاجر) ضامن نہیں“۔ (جامع ترمذی 1234، بروایت عبداللہ بن عمروؓ)۔
نبی کریم ﷺ سے ایک غلام یا لونڈی کی بیع میں ایک خریدار کو تحریری ضمانت کا دیا جانا حدیث کی کتابوں میں منقول ہے۔ یہ خریدار عداءبن خالدؓ تھے جن کو یہ تحریر لکھ کر دی گئی تھی: ’ یہ بیع نامہ ہے ایک ایسی چیز کا جو عداءبن خالد بن ھوذہ نے اللہ کے رسول محمد ﷺ سے خریدی ہے، انہوں نے آپ سے ایک ایسا غلام یا لونڈی خریدی ہے جس میں نہ تو کوئی بیماری ہے، نہ بھگوڑاپن اور نہ ہی کوئی (اور) خباثت (یعنی اخلاقی برائی)، یہ ایک مسلمان کی مسلمان کے ساتھ بیع ہے “۔ (جامع ترمذی1216، بروایت عداءبن خالدؓ)۔
رسول اللہ ﷺ کا اس قسم کی تحریر لکھ کر دینا امت کی تعلیم کے لئے ہی تھا ورنہ صحابہ کرامؓ میں سے کون ایسا فرد ہوگا جسے آپ کی باتوں پر اعتماد نہ ہو۔ آج کے دور میں رسید اور وارنٹی کے کاغذات (Warranty Paper) کا دیا جانا تعلیم نبوی کی رو سے ایک مستحسن عمل ہے جس میں اس بات کی گنجائش موجود رہتی ہے کہ بعد میں سامان میں کوئی نقص سامنے آجائے تو خریدار ثبوت کے ساتھ فروخت کنندہ یا اس کی کمپنی سے رجوع کرسکے ۔
یہاں یہ ذکر کردینا بھی مناسب ہے کہ تجارت کی بعض شکلیں ایسی ہیں جن میں فی نفسہ دھوکا موجود ہوتا ہے جیسے پانی میں موجود مچھلی کی بیع کہ اس میں بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں میں سے کسی فریق کو حتمی طور پر یہ پتا نہیں ہوتا کہ اس میں مچھلی کی مقدار کتنی ہے لہٰذا ہر ایک فریق کے دھوکا کھا جانے کا امکان ہے ۔ اس طرح کی بیع جس میں بیچی جانے والی چیز اپنی جنس، ذات، مقدار اور اوصاف کے لحاظ سے مبہم اور مجہول ہو، متعین اور واضح نہ ہو یا بیچنے والے کے قبضہ و قدرت سے باہر ہو اور اس کی سپردگی ممکن نہ ہو، اس کو شریعت کی اصطلاح میں بیع غرر (Deceptive Transaction) کہا جاتا ہے۔ اس کی دوسری مثالیں ہیں؛ غائب جانور یا فضا میں اڑتے ہوئے پرندے کی بیع، دودھ کی بیع جو جانور کے تھن میں ہی ہو وغیرہ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے: ”ن رسول اللہ ﷺ نے بیع حصات اور بیع غرر سے منع فرمایا ہے“۔ (صحیح مسلم، کتاب البیوع µ)۔ یہاں بیع حصات سے مراد وہ بیع ہے جو کنکری پھینک کر طے کی جائے۔ یہ بھی دھوکے کی ایک شکل ہے اس لئے ممنوع ہے۔
دودھ دینے والے جانوروں کی بیع میں بھی دھوکے کی ایک صورت اس طرح پیدا کی جاتی ہے کہ گاہک کے سامنے پیش کرنے سے ایک یا دو روز قبل سے ہی اس کا دودھ دوہنا بند کردیتے ہیں تاکہ اس کے تھن بھرے نظر آئیں اور گاہک یہ تاثرلے کہ جانور بہت زیادہ مقدار میںدودھ دینے والا ہے جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ گاہک مغالطہ میں آکر معاملہ کرلیتا ہے لیکن ایک دو روز کے اندر ہی حقیقی صورتحال اس پر واضح ہوجاتی ہے۔ اس طرح کی بیع کو شرعی اصطلاح میں ”بیع مصراة“ کہا گیا ہے جو کہ ممنوع ہے اور اس کے نتیجے میں دھوکا کھائے ہوئے خریدار کو شریعت نے اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ بیع کو فسخ کردے اور جانور واپس کرکے اپنی رقم لے لے۔ اس اختیار کو شرعی اصطلاح میں ”خیا ر تدلیس“ کہا جاتا ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” اونٹنی اور بکری کے تھنوں میں دودھ کو روک کر نہ رکھو، اگر کسی نے (دھوکہ میں آکر) کوئی ایسا جانور خرید لیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دونوں اختیارات ہیں؛ چاہے تو جانور کو رکھ لے اور چاہے تو واپس کردے اور ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دیدے“ ۔ (صحیح بخاری، کتاب البیوع2148 بروایت ابوہریرہؓ)۔
صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق لوٹانے کا یہ اختیار خریدار کو تین دنوں تک ہے۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں: ” جس نے ایسی بھیڑ (یا بکری ) خرید لی جس کا دودھ روکا گیا ہو، تو اسے تین دن تک اس کے بارے میں اختیار ہے، اگر چاہے تو رکھ لے اور چاہے تو واپس کردے اور اگر لوٹائے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے“ ۔ (صحیح مسلم، کتاب البیوع 24/3831بروایت ابوہریرہؓ)۔
ایک صاع کھجور (جو احناف کے نزدیک3کلو49۱گرام280ملی گرام اور علمائے اہل حدیث کے نزدیک تقریباً سوا دو کلوبنتا ہے) کے ساتھ جانور اس کے مالک کو لوٹانے کا حکم غالباً اس لئے دیا گیا ہے کیوں کہ خریدار نے اس کے دودھ سے فائدہ اٹھایا ہے اور بعضوں نے یہ کہا کہ یہ از راہ احسان یا تالیف قلب کے لئے ہے کیوں کہ دودھ کے لئے تو خریدار نے جانور کو چارہ بھی ڈالا ہوگا اورالخراج بالضمان کے اصول کے مطابق حساب تو برابر ہوچکا۔ اور کھجور کی تخصیص اس لئے کی گئی کیوں کہ یہ اس وقت وہاں کی عام غذا تھی، اس لئے یہ کوی¿ ضروری نہیں کہ ایک صاع کھجور ہی دیا جائے بلکہ ہر زمانے میں اپنے اپنے ملکی دستور کے مطابق خوردنی غلہ اسی وزن سے یا اس کی قیمت کے برابر رقم بھی دی جاسکتی ہے۔
اسی طرح درختوں اور باغات کو پھلوں کے نمودار ہونے سے پہلے ان کی امید پر ایک سال یا زیادہ مدت کے لئے بیچنا بھی ممنوع ہے کیوں کہ اس بات کا امکان ہے کہ درختوں میں پھل نہ آئے یا آنے کے بعد پختگی سے پہلے ہی کسی آفت مثلاً آندھی، بارش یا اولے کا شکار ہوجائے۔ اس طرح کی بیع کو حدیث میں ”معاومت“ کہا گیا ہے اور اس سے روکا گیا ہے، نیز پھل لگنے کے بعد بھی اس وقت تک خرید و فروخت سے منع کیا گیا ہے جب تک ان کی پختگی ظاہر نہ ہوجائے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے: ” رسول اللہ ﷺ نے پھلوںکی بیع سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ ان کی پختگی ظاہر ہوجائے ، یہ ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کے لئے ہے“۔ (صحیح بخاری، کتاب البیوع 2194)۔ دوسری روایت انسؓ سے یوں ہے: ” رسول اللہ ﷺ نے ”زھو “ سے پہلے پھلوںکی بیع سے منع فرمایا ہے، ان سے دریافت کیا گیا کہ ”زھو “ کسے کہتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”یہاں تک کہ سرخ ہوجائے (یعنی پکنے پر آجائے)، پھر آپ نے فرمایا: ” تم ہی بتاو¿ اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک دے (یعنی پکنے سے روک دے یا کسی آفت کے ذریعے ضائع کردے) تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کس بناپر لے گا“۔ (صحیح بخاری، کتاب البیوع 2198)۔
اس لئے باغات کے مالکوں اور پھلوں کے تاجروں کو چاہیے کہ وہ پھلوں کے پختہ و تیار ہونے تک صبر و انتظار کریں اور اس کے بعد ہی خرید و فروخت کا کوئی معاملہ کریں۔
13۔ جھوٹ سے پرہیز کرنا:تجارت میں جھوٹ سے بھی پرہیز لازمی ہے۔ دور حاضر کی تجارت میں لوگ اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ غیروں کی تو بات ہی کیا بعض سادہ لوح مسلمان بھی ایسا خیال رکھتے ہیں۔ خود راقم سے ایک بار ایک صاحب نے ان خیالات کا اظہار کیاجس کی بندہ نے اصلاح کی۔ یاد رکھیں کہ جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کا اعلان قرآن کریم میں موجود ہے۔ رسول پاک سے بھی دروغ گوئی مذمت میں بہت سے اقوال منقول ہیں منجملہ ان کے یہ بھی ہے کہ اس کو منافقین کی صفت بتایا ہے۔ دنیا میں اس کے بھی وہی نقصانات سامنے آتے ہیںجو راقم نے عنوان بالا کے تحت بیان کئے ہیں۔ مثال کے طور پر اس روایت کو دیکھیں: حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے کہ بیع و شرا کرنے والے فریقین (بائع اور مشتری ) کو اختیار ہے (فسخ بیع کا) جب تک جدا نہ ہوںپھر اگر وہ دونوںسچ بولیں اور واضح کر دیں حقیقت کو (یعنی جو کچھ عیب ہے سامان میںیا قیمت میں) توان کی بیع میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اگر وہ جھوٹ بولیںاور چھپائیں (عیوب کو) تو ان کی بیع سے برکت ختم کردی جاتی ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البیوع، ِ)۔(جاری)

Read all Latest social news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from social and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Principles of trading in islam 2 in Urdu | In Category: سماجیات Social Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.