مولانا اسرارالحق قاسمیؒ:قوم کے لئے اپنے آپ کوکھپادینے والے قائدورہنما

مولانانوشیراحمد

حضرت مولانااسرارالحق قاسمی دور حاضر میں اکابر و اسلاف کا نمونہ اورہر وقت ملت کے مسائل و مشکلات کو حل کرنے میں سرگرم رہنے والے ایک عظیم خادم قوم تھے۔ ان کی رحلت اس ملک کے تمام مسلمانوں کا ذاتی خسارہ ہے؛کیوںکہ انھوں نے ساری زندگی تمام مسلمانوں کی بھلائی و ترقی کی کوششیں کیں اور مصیبت کے ہر موقع پر ملک کے دوردراز کے علاقوں میں پہنچ کرسماجی خدمت کا فریضہ انجام دیا، وہ ممبر پارلیمنٹ ہونے کے باوجود کسی قسم کے ٹھاٹ باٹ اور شان و شوکت کے قائل نہیں تھے اور جس طرح شروع سے وہ سادہ اور اکابر و اسلاف والی زندگی گزارتے آرہے تھے ایم پی بننے کے بعد بھی اپنی اسی روش پر قائم رہے، سیاست کے میدان میں سرگرم ہونے کے باوجود وہ نہ صرف فرض عبادتوں کے پابند تھے؛ بلکہ نوافل اور تہجد تک کی پابندی کیا کرتے تھے اور اپنے معمولات میں کبھی کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا،وہ بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے تھے اور کسی حال میں بھی اپنے اوپر ذاتی خواہش یا کسی قسم کے حرص و طمع کو غالب نہیں آنے دیتے تھے،ان کی زندگی کے کئی پہلو تھے اور ہر پہلو میں صالحیت تھی،میں نے حضرت کے ساتھ سفر و حضر میں کم و بیش پچیس سال کا طویل عرصہ گزارااور اس دوران مجھے ان کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا،وہ سیاست میں سرگرم ہونے کے باوجود ایک باوقار عالم دین تھے اور اپنی عالمانہ شان سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوئے،انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو علما،مدارس اور بزرگانِ دین سے وابستہ کیے رکھا اور تاحیات وہ ملک کے نہایت ہی معتبر ومقبول اور گنے چنے علما میں شمار کیے جاتے رہے،جس دن صبح کو ان کا انتقال ہوا ،اس رات بھی انھوں نے ایک مدرسے کے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں کو یہی تلقین کی کہ اپنے آپ کو مسجد اور مدرسے سے وابستہ رکھیں ؛کیوںکہ اسی میں مسلمانوں کی دین و دنیا کی کامیابی ہے۔

وہ گزشتہ کم و بیش دس سال سے ممبر آف پارلیمنٹ تھے،مگر اس اعلیٰ عہدے پر ہونے کے باوجود انھوں نے کوئی ذاتی فائدہ حاصل نہیں کیا،انھوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ اپنے علاقے کے پسماندہ عوام کی بہتری کے لیے کیاتھا؛چنانچہ وہ مکمل دیانت داری،احتیاط اور انہماک کے ساتھ عوام کے مسائل کو حل کرتے رہے،انھوں نے ایم پی رہتے ہوئے کشن گنج میں بے شمار ترقیاتی کام کروائے اور ان کے ایم پی رہتے ہوئے کشن گنج کی تعلیمی حالت میں بے پناہ سدھار ہوا اور سماجی و اقتصادی خوشحالی بھی آئی،وہ سیاست میں ہونے کے باوجود موجودہ دور کی سیاست کی گندگیوں سے یکسر پاک و صاف تھے،ان کے سیاسی مخالفین ہمیشہ ان کے خلاف لوگوں میں بدگمانیاں پھیلاتے تھے اور طرح طرح کی الزام تراشیاں کرتے رہتے تھے،مگر مولانا اپنے کام میں مصروف رہتے اور ہم لوگوں سے بھی کہتے کہ اس پر دھیان مت دوکہ لوگ میرے بارے میں کیاکہتے ہیں،ہمارا کام سماج اور قوم کی خدمت کرنا ہے اورہمیں اسی پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے،یہی وجہ ہے کہ حضرت کواپنے علاقے میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل تھی اورلوگ انھیں ایم پی صاحب کہنے کے بجائے حضرت صاحب ہی کہتے تھے،خاص طور پرخواتین کے درمیان حضرت کاغیر معمولی احترام پایاجاتاتھا اور الیکشن کے دنوں میں وہ مولاناکی کامیابی کے لیے روزے رکھتی تھیں ، حضرت کے جنازے میں جہاں دوردورسے لاکھوں لوگوں نے شرکت کی، وہیں خواتین کی بہت بڑی تعدادبھی اظہارغم کرتے ہوئے اکٹھاہوئیں ۔

آپ کی خدمات کا سلسلہ دراصل معاشرے کے پچھڑے اور پسماندہ طبقات سے جڑا ہوا تھا اور آپ نے تہیہ کررکھاتھا کہ ان کی بہتری کے لیے ہر ممکن جدوجہدکرنی ہے،انھوں نے جمعیت علماے ہند اور ملی کونسل میں رہتے ہوئے ہندوستان کے دوردراز کے ہزاروں گاو¿ں کا دورہ کیااور اس دوران وہاں کے بد حال مسلمانوں سے مل کر انھیں اندازہ ہوا کہ مجموعی طورپر پوری قومِ مسلم کی بدحالی و پسماندگی کی اصل وجہ تعلیم سے ان کی دوری ہے،اسی احساس کی وجہ سے آپ نے 2000ءمیں آل انڈیاتعلیمی و ملی فاو¿نڈیشن کی بنیاد رکھی اور اس کے پلیٹ فارم سے بہار،جھارکھنڈ،مغربی بنگال اور یوپی کے دیہاتوں اور پسماندہ مسلمانوں کی آبادیوں میں تعلیمی ادارے قائم کیے،اس وقت فاو¿نڈیشن کے تحت سوسے زائد مکاتب،چار مدارس اور کشن گنج میں اسلامی ماحول میں لڑکیوں کی عصری تعلیم و تربیت کا معیاری ادارہ ملی گرلس اسکول قوم کی بیش بہا خدمت انجام دے رہے ہیں۔آپ کی یہ شدید خواہش تھی کہ ملک کے مسلمان دیگر تمام مسائل کو چھوڑ کر سب سے پہلے تعلیم پر توجہ دیں ،ان کاکہناتھا کہ اگر مسلمان تعلیم یافتہ ہوںگے ،تو ان کی معاشی و سماجی پسماندگی خود بخود دور ہوجائے گی،انھوں نے نہایت محدود وسائل کے باوجود قوم میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے لیے جو خدمات اور کارنامے انجام دیے ہیں ،وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں،حضرت مولانا کی اسی سوچ اور فکر کا نتیجہ تھا کہ بحیثیت مفکرِ تعلیم آپ مسلمانوں کے ہر طبقے میں مقبول تھے اور ہرحلقے میں نہ صرف ایک بزرگ عالمِ دین کی حیثیت سے آپ کو نہایت ہی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا؛بلکہ ایک دانشورکے طورپر بھی آپ کی منفرد پہچان تھی۔

مولاناکی تعلیمی خدمات کا ایک روشن باب ہندوستان کے پسماندہ ترین ضلع کشن گنج میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی شاخ کا قیام ہے، اس کے لیے انھوں نے وسیع پیمانے پرتحریک چلائی اور بالآخر انھیں کامیابی بھی ملی، بہت سے لوگوں نے سیاسی وجوہات کی بناپرآپس میں ہی انتشارپیداکرنے کی کوشش کی، مگرمولانانے نہایت بصیرت اوردوراندیشی سے کام لیتے ہوئے نہ صرف علاقے کے تمام مسلمانوں کومتحدکیا؛بلکہ اپنی ہی پارٹی کی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے اوربالآخر حکومت نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے کشن گنج میں اے ایم یوشاخ قائم کردیا۔ اسی طرح گزشتہ سال تین طلاق بل کے سلسلے میں بھی حضرت نے زبردست دینی وملی غیرت وبصیرت کامظاہرہ کیااورلوک سبھامیں بل پاس ہوجانے کے بعد مولانانے پارٹی کودھمکی دی کہ اگرراجیہ سبھامیں بل کی مخالفت نہیں کی گئی، تووہ پارٹی سے استعفادے دیں گے، مولاناکے اس رویے کاپارٹی پرغیرمعمولی اثرہوااوربالآخرکانگریس نے راجیہ سبھامیں پوری قوت سے اس بل کی مخالفت کی ،جس کے نتیجے میں تین طلاق بل پاس نہیں ہوسکا؛حالاںکہ اس موقع پر مولاناکے سیاسی مخالفین نے بے بنیاد الزامات بھی لگائے اور سوشل میڈیاوغیرہ پر انھیں بری طرح بدنام کرنے کی کوشش کی گئی،مگر وہ ان چیزوں سے بے پرواہوکر اس اہم مسئلے پر اپنی پارٹی کے سامنے مسلمانوں کا موقف رکھنے اور اس بل کو رکوانے کے لیے بے مثال کوششیں کرتے رہے اور انہی کوششوں کے نتیجے میں کانگریس نے راجیہ سبھا میں تین طلاق بل کی پر زور انداز میں مخالفت کی اور وہ پاس نہیں ہوسکا۔
آپ کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ عملی اور فکری اعتبار سے آپ نہایت بڑی سوچ کے حامل تھے،یہی وجہ ہے کہ زندگی میں بے شمار مواقع پر آپ کوبہت سے حادثات جھیلنے پڑے،کئی بار آپ کی ذات پر حملے کیے گئے ،مگر آپ نے صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھا اور کبھی بھی کسی سے انتقام لینے یا کسی سے بدلہ لینے کا خیال بھی دل میںنہیں لاتے تھے؛بلکہ بعض دفعہ اگر ہم لوگ ایسی کوئی بات کرتے ،توسختی سے ہمیں تنبیہ کرتے ،وہ ہر شخص اور ادارے میں خوبیاں تلاش کرنے کے عادی تھے، ان کا خیال تھا کہ ہم ایک دوسرے کی خوبیوں پر نظر رکھ کر ملی،دینی اور سماجی شعبوں میں بہتر کام کرسکتے ہیں ،انھوں نے مجھے اور اپنے تمام متعلقین کو ہمیشہ یہی تعلیم دی۔ اسی طرح ان کے ذہن میں ذرابھی مسلکی یا فکری تنگی نہ تھی،وہ ہر ایک سے کشادہ دلی کے ساتھ ملتے تھے اور خندہ پیشانی کا مظاہرہ کرتے تھے،انھوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے مجموعی اور عمومی مسائل پر توجہ دی؛اس لیے کبھی بھی وہ کسی مسلکی دائرے میں مقید نہیں رہے،وہ اجتماعی طورپر تمام مسلمانوں کی فلاح چاہتے تھے اور پوری زندگی انھوں نے پوری قوم کی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے جدوجہد کی،ان کی اسی فطرت کی وجہ سے انھیں مسلمانوں کے ہر طبقے میں غیر معمولی مقبولیت حاصل تھی اور ہر طبقے میں وہ یکساں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ناگہانی انتقال پر مسلمانوں کے تمام ہی مکاتب فکر کے اداروں،مدارس و مکاتب اور اہم شخصیات نے اپنے رنج و غم کا اظہار کیاہے۔وہ مختلف فکر رکھنے والے علمااور اداروں کے درمیان پل کا کام کرتے تھے،وہ ہر جگہ اور ہر ادارے سے اچھی چیزیں قبول کرتے اور دوسروں پر اپنا اچھااور مثبت تاثر قائم کردیتے تھے۔

آپ نے اپنی زندگی کے شب و روز عوام کے درمیان گزارے،اسی وجہ سے آپ عام لوگوں کی ہی طرح رہنا پسند کرتے تھے،بڑے سے بڑے مقام و مرتبے پر پہنچنے کے باوجود کسی قسم کی کے بڑے پن کا اظہار نہیں کرتے تھے،اخیر عمر تک اپنا ذاتی کام حتی کہ کپڑا وغیرہ بھی خود دھویا کرتے اور دیگر ضروریات بھی خود پوری کرتے۔کپڑا نہایت معمولی پہنتے اوراس وقت نہیں بدلتے تھے،جب تک وہ پوری طرح پرانانہ ہوجائے یا پھٹ نہ جائے،اس کے بعد بھی وہ عموماً اس وقت اس کپڑے کو پہننا بند کرتے تھے،جب ہم خدام انھیں اس کی طرف توجہ دلایاکرتے تھے۔ان کی سادگی کا عالم ہر دور میں یہی رہااور جب وہ ممبر پارلیمنٹ تھے،تب بھی ان کے اندر کسی قسم کی شان و شوکت یا ایسی کوئی علامت نہیں پائی جاتی تھی،جس سے پتہ چلے کہ وہ ہندوستان کے ایک ممتاز عالم اور پارلیمنٹ کے ممبر ہیں۔

حضرت مولاناکی پیدایش 1942 میں ٹپو، ضلع کشن گنج بہار میں ہوئی ، تعلیم کی شروعات اپنے علاقے کے مدرسے سے کی ،اس کے بعد سات سال دارالعلوم دیوبند میں زیر تعلیم رہ کر 1964ءمیں دورہ¿ حدیث شریف مکمل کیا،طالب علمی کے دوران اپنی خوبیوں اور کمالات کی وجہ سے ہمیشہ نمایاں رہے،فراغت کے بعد چھ سات سال مدرسہ رحیمیہ مدھے پورہ اور مدرسہ بدرالاسلام بیگوسرائے میں تدریسی خدمت انجام دی ،آپ کو شروع سے ہی سماجی خدمت اور ملی میدان میں کام کرنے کا بے پناہ جذبہ تھا؛چنانچہ آپ کی لیاقت اورجذبے کو دیکھتے ہوئے فداے ملت حضرت مولانا سید اسعدمدنیؒ نے جمعیت علماے ہندکے لیے آپ کی خدمات حاصل کیں، وہاں آپ پہلے ناظم اوراس کے بعدگیارہ سال تک ناظم ِعمومی رہے،جمعیت سے آپ لگ بھگ 29سال تک وابستہ رہتے ہوئے پورے ملک کے مسلمانوں کی بے مثال سماجی و رفاہی خدمات انجام دیں ۔1991ءمیں آپنے بعض ناگزیر اسباب کی بناپر جمعیت سے استعفادے دیا ،1992ءمیں جب فقیہ العصرحضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ نے آل انڈیاملی کونسل کے قیام کا فیصلہ کیا،توآپ کا خصوصی تعاون حاصل کیااور آپ کو کونسل کا اسسٹنٹ سکریٹری جنرل بنایاگیا،آپ نے اس پلیٹ فارم سے بھی مسلمانوں کی بیش بہاخدمت انجام دی،2000ءمیںآپ کونسل سے علیحدہ ہوگئے ،مگراس کے بعد بھی اس سے آپ کا مضبوط تعلق قائم رہااور اخیر وقت تک اس کے نائب صدر بھی رہے۔

آپ نے پارلیمنٹ میں ملت کی ترجمانی کرنے کے لیے متعدد بار کشن گنج سے پارلیمانی انتخابات میں بھی حصہ لیااوربالآخرآپ کی امانت و دیانت ،لگن اور محنت اور سماجی خدمت کے طویل تجربے کو دیکھتے ہوئے عوام نے2009ءکے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹ کیااور آپ کامیاب ہوئے،پہلی مدتِ کارمیں آپ نے اپنے حلقے میں بے مثال ترقیاتی کام کروائے ،جس کے نتیجے میں 2014ءکے عام الیکشن میں اس وقت آپ کو تقریباًدولاکھ ووٹوں کے مارجن سے کامیابی ملی ،جب پورے ملک میں زبردست مودی لہر چل رہی تھی اور کانگریس کو بہت بڑی ناکامی کاسامنا کرنا پڑاتھا، آپ مسلمانوں کے ایسے سیاسی رہنما تھے،جنھوں نے حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی یادکو تازہ کرتے ہوئے ان کے راستے پرچل کر پوری جرا¿ت وبے باکی کے ساتھ ملت کے مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا اورہر سطح پر مسلمانوں کی نمایندگی پوری قوت و جرات کے ساتھ کی۔

آپ نے ہر کام انسانی دردمندی کے جذبے سے کیا، آپ کے اندر بے پناہ عجز و انکساری تھی، یہی وجہ تھی کہ ہندوستانی عوام کی نظر میں مولاناکو ہردلعزیز رہنما کی حیثیت حاصل تھی،مولانانے ہمیشہ شرافتِ نفسی کے دامن کوتھامے رکھا،ہمیشہ سادگی و خلوص کا اعلی نمونہ پیش کیا،یہی وجہ ہے کہ نہ صرف معاصر علماواکابرآپ کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے؛ بلکہ آپ کے سیاسی مخالفین بھی آپ کی قدر کرتے تھے،خود حضرت مولانانے بھی کبھی کسی سیاسی مخالف کے خلاف طعن و تشنیع کی زبان استعمال نہیں کی،آپ نے ہمیشہ اپنے مخالفین کے سامنے بھی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش کیا،یہ آپ کا ایسا وصف تھا،جس کی ہر طبقے میں قدر کی جاتی تھی، اسی طرح شب وروزسیاسی وسماجی مصروفیات میں سرگرم رہنے کے باوجودآپ کی عملی زندگی پرکوئی فرق نہیں پڑتاتھا؛ چنانچہ آپ فرائض ونوافل کی پابندی کے ساتھ تاعمر تہجدکے بھی پابندرہے؛ بلکہ آخرشب میں بیدارہوتے اورتہجدپڑھنے کے بعدکچھ دیر تلاوتِ قرآن کریم فرماتے، پھرفجرکی نمازاول وقت میں پڑھ کراستراحت فرماتے تھے ، آپ کی وفات بھی ایسے وقت میں ہوئی، جب تہجدکے لیے بیدارہوئے تھے اوروضوکے بعدنمازکے لیے تیاری کررہے تھے۔

حضرت مولانا نے اپنے قلم کے ذریعے بھی ملک و ملت کی خدمت کی اور دیگر شعبوں میں کام کرنے کے ساتھ تصنیفی میدان میں بھی آپ تاعمر سرگرم رہے اور مختلف سیاسی، سماجی اور اسلامی موضوعات پر آپ نے نہ صرف ہندوستان کے سیکڑوں اخبارات ورسائل میں مضامین اورکالمز لکھے؛ بلکہ کتابیں بھی تصنیف کیں اور ان کتابوں کو عوام و خواص دونوں حلقوں میں محبوبیت اور مقبولیت بھی نصیب ہوئی اور مختلف زبانوں میں ان کتابوں کے ترجمے بھی شائع ہوئے۔آپ سیاسی، سماجی اور تصنیفی سرگرمیوں کے ساتھ سلسلہ¿ تصوف وسلوک سے بھی وابستہ تھے اورفقیہ الاسلام حضرت مفتی شاہ مظفر حسین مظاہری رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ¿ مجاز تھے، ان کی وفات کے بعدآپ نے نمونہ¿ سلف حضرت مولانا قمر الزماں الٰہ آبادی مدظلہ العالی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی،آپ کو دونوں بزرگوں سے بیعت و خلافت کی اجازت حاصل تھی،آپ کی ذات میںجوبلنداخلاقی اور عجز و انکساری کے اوصاف پائے جاتے تھے،ان میں ان بزرگوں کی صحبتوں کا بھی اثر تھا۔ وفات کے حضرت کی عمر 76سال تھی، آپ کے پسماندگان میں تین بیٹے اوردوبیٹیاںہیں ۔ حضرت مولاناکا اچانک سانحہ¿ وفات ہندوستان ہی نہیں ،تمام امتِ مسلمہ کا عظیم خسارہ ہے، خاص طورپر ملک کے موجودہ ماحول میں آپ کے جیسے صاحبِ بصیرت قائد و رہنما کی مسلمانوں کو شدید ضرورت تھی،مگر ظاہر ہے کہ قضاے الٰہی کے مطابق ہر شخص کاایک وقت مقرر ہے، جس کی آمد کے بعد اسے اس دنیاکو خیرباد کہناہے؛ لہذاہم اللہ عزوجل کے اس فیصلے پرراضی برضاہیں ، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کے تمام حسنات کو قبول فرمائے اور لغزشوں سے درگذر کرتے ہوئے آپ کے درجات کو بلند فرمائے۔

Read all Latest social news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from social and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Maulana asrarul haq qasmi and his contribution in Urdu | In Category: سماجیات Social Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.