ہندوستانی جمہوریت: کثرت میں وحدت کی اعلیٰ ترین مثال ہے

محمد شاہ نواز ندوی

26جنوری 2019 کو وطن عزیز ہندوستان میں 70 واں یوم جمہوریہ منایا جائے گا۔جمہوریت کے 69سال پورے ہوگئے ،26 جنوری 1950 میں دستور ہند نافذ کیا گیاتھا،اس کی بنیاد بلا تفریق مذہب و ملت حق مساوات،آزادی را ئے اور آزادی مذہب پرہے۔اس کے لئے بڑی جد و جہد کرنی پڑی۔ ملک ہندوستان سے انگریزوں کا تسلط اور ناجائز قبضہ ہٹاناپڑا۔ اس دشوار گزار کام کے لئے ملک کے خود دار اور غیور جانبازوں نے اپنے سر پہ موت کا کفن باندھ لیا، اور ایک مشت ہو کر برطانی سامراج کو یہاں سے ہٹانے کے لئے سر گرم ہوگئے۔ مدتوں کی لڑائی اور جد و جہد کے بعد ہمارا ملک 15 اگست 1947 کوانگریزوں کی غلامی کی زنجیر سے آزاد ہوا۔ لاکھوں لوگ پھانسی کے پھندے پر چڑھا دئے گئے، لاکھوں لوگ زندہ جلا دئے گئے، دھار دار اسلحہ سے چیر دئے گئے۔ الغرض ظلم و ستم اور جورو جبر کی کوئی ایسی شکل باقی نہیں تھی جس کا سامنا وطن عزیز کے غیور نوجوانوں نے نہیں کیا۔ بہر حال اتنی ساری قربانیوں کے بعد ہمارا ملک آزاد ہوا، اس آزادی کے بعد عدل وانصاف قائم رکھنے،ملک کی سا لمیت اور امن و سکون کو بحال رکھنے کے لئے دستورہند مرتب کیا گیا۔

ملک کو جمہوری سانچہ میں ڈھالنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ حکومت کی باگ ڈور یہاں کی عوام کے قبضہ میں آگئی۔ یہ عوام کی طاقت ہے کہ جسے چاہے اقتدار کی کرسی پر بٹھائے۔ اور جسے چاہے کرسی اقتدار سے اتاردے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی عہدہ کی مدت صرف پانچ سال ہے۔ اسی پانچ سال کے اندر لیڈران کی کارکردگی اور ان کی نیتوں کا اندازہ لگا لیا جاتا ہے۔ اگر سابقہ پانچ سالہ مدت میں لیڈران کی نیت صاف اور درست پائی گئی تو آئندہ کے لئے وہ لائق حکومت ہے، ورنہ یہ فصلہ بھی عوام الناس کے پاس ہے کہ وہ چاہے تو سابقہ پارٹی کو اقتدار تک پہونچائے یا پھر ان سے دستبردار ہوجائے۔

اسی طرح اس جمہوری ملک میں تمام لوگوں کو آزادی مذہب کا حق حاصل ہے۔ ملک کا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم لوگ آزادانہ طور پر عبادت کریں۔ جو جس مذہب کا ماننے والا ہے اسی کے مطابق زندگی بسر کرے۔ اس میں کسی لیڈر یا کسی بھی شخص کو قطعی اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ مذہبی مسائل میں رخنہ ڈالے، یا کسی کو اپنے مذہب میں جبرا داخل کرے۔ یا کسی کا جبرا مذہب تبدیل کرے۔ ایسا کرنا ایک قانونی جرم ہے۔ ہندوستانی آئین کے مطابق وہ مجرم ہے۔ اس کے اوپر تبدیلی مذہب کا الزام عائد ہوگا۔ جس کے تحت اسے سزا کا مستحق قرار دیا جائے گا۔
جمہوریت ہمیں اس بات کی بھی اجازت دیتی ہے کہ ہم سب کے سب ہندوستانی آئین کے مطابق برابری کے حق دار ہیں۔ کسی کے ساتھ سوتیلا معاملہ یا سلوک نہیں برتا جائے گا۔ کسی کے ساتھ حق تلفی اور ناانصافی نہیں برتی جائے گی۔ ہندوستان میں رہنے والے سبھی افراد ہندوستان ہی کے شہری ہیں۔ ہمیں ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔یہاں ذات پات اور مذہب کے نام پر کسی کو دوسرے نمبر کا شہری قرار نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا۔ اسی کا نام جمہوریت ہے۔ اسی کا نام گنگا جمنی تہذیب ہے۔ہم اسی سے کثرت میں وحدت کی مثال پیش کرتے ہیں۔ اسی میں ہندوستان کی خوبصورتی ہے۔ جہاں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی ایک ساتھ رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کی خوشی وغم کی محفلوں شریک ہوتے ہیں۔

مگر آج ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو مٹایا جارہا ہے۔ فسطائی طاقتوں کو یہ بات کبھی بھی تسلیم نہیں ہے کہ ملک میں ہندو مسلم کی دوستی و بھائی چارگی قائم رہے۔ ایک ساتھ مل کر رہا جائے۔ملک کی حفاظت کی خاطر متحد ہو کر رہیں۔نفرتوں کا خاتمہ کیا جائے۔ اس گہری اور بنیادی سازش کے پیچھے جو حقیقت چھپی ہوئی ہے اصلا وہ یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنے نکمے پن کو چھپارہی ہیں۔ ورنہ کسی بھی مذہب کی کتابوں میں تشدد پھیلانے کی تعلیم نہیں دی گئی ہے۔ آزادی کے بعد سے چند سال قبل تک جس طرح بلا جھجک ہندو مسلم ایک ساتھ سفر کیا کرتے تھے اب اس دائرہ میں تنگی پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔ اگر سیاسی بازیگران لوگوں کے جذبات سے کھلواڑ نہ کرکے محبت و بھائی چارگی کے ساتھ جینے کا موقع دے دیں تو ملک میں کبھی بھی مذہب کے نام پر کوئی فتنہ برپا نہ ہوگا۔

ملک کی موجودہ صورتحال کچھ اس طرح ہوچکی ہے کہ سپرم کورٹ کے ججوں کو یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ جمہوریت خطرہ میں ہے ۔ جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کے حکم حضرات جمہوریت کی خستہ حالی کی گواہی دینے لگ جائیں اور اس کے لئے پریس کانفرنس کرنے لگیں تو ہمیں ان کی بات ماننی پڑے گی کہ ضرور بالضرور جمہوری آئین کے ساتھ خورد برد کی گئی ہے۔ اپنے من کے مطابق فیصلہ کی خاطر ججوں پردباو ڈالاگیا ہے۔ اسی طرح حزب مخالف کی جانب سے بار بار دستور بچاؤ، آئین بچاؤ اور دیش بچاؤ کی ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اگر قانون میں بلا وجہ ترمیم کرنے والوں کی مخالفت نہیں کی گئی تو وہ دن دور نہیں ہے کہ جمہوری آئین کو بدل کر تاناشاہی نافذ کر دی جائے گی۔ اقلیتوں کے خلاف نئے قانون بنائے جائیں گے۔ ان کے ہاتھ سے ووٹ دینے کی طاقت چھین لی جائے گی۔ انہیں دوسرے نمبر کا شہری قرار دیا جائے گا۔ جس کانقصان یہ ہے کہ ملک کی ایک بڑی تعداد ووٹ دینے سے محروم ہو جائے گی۔ تاناشاہی حکومت کے خلاف اقلیتوں کی ایک بات بھی نہیں سنی جائے گی۔ بلکہ حکومت ان کے خلاف جو بھی ایکشن لے گی اس کے مطابق انہیں زندگی بسر کرنی ہوگی۔ اگر اقلیتوں کو ملک بدر کرنے کی بات کہی جائے تو یہ بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ وہیں تاناشاہ حکمراں کا فائدہ یہ ہوگا کہ حکومت بنانے کے لئے جو مصیبت اٹھانی پڑتی ہے۔ جس طرح کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ لوگوں سے ایک ایک ووٹ کی بھیک مانگنی پڑتی ہے ان سب کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس لئے کہ جب اقلیتوں سے ووٹ کی طاقت چھین لی جائے، تو حکومت بنانے کے راستے میں اقلیتوں کی طرف سے کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔ اکثریتی طبقہ کے لوگ اپنی مرضی کے مطابق حکومت بنا سکتے ہیں اور جب تک چاہے حکومت قائم رکھ سکتے ہیں۔

ملک کی مخصوص سیاسی پارٹی کے اندر سے جمہوریت کی قدر و قیمت ختم ہوچکی ہے۔ جمہوری اقدار و اصول سے انہیں خطرہ لاحق ہے۔ اس لئے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ملک ہندوستان میں سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا دستور ہند میں شامل ہے تو آپ پھر کس قانون کے تحت ہجومی تشدد کے ذریعہ اقلیتوں کی جان لے لیتے ہیں؟ اقلیتوں کو ملک بدر کرنے کی بات کرتے ہیں، ان کی عبادت خانوں کو قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کھلی جگہوں میں انہیں عبادت کرنے سے روکتے ہیں۔ ان کے خلاف ہمیشہ زہر افشانی کرتے ہیں۔ ان کے جذبات کو ٹھیس پہونچاتے ہیں۔ ان کے ساتھ مساوات و برابری کا معاملہ نہیں کرتے ہیں۔ کیا یہ سب جمہوری آئین کے خلاف نہیں ہے؟ کیا دستور ہند کی خلاف ورزی نہیں ہے ؟ تو ایسے وقت میں ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا ہے۔ لیکن اقتدار کے نشہ میں دھت ہونے کی وجہ سے انہیں جمہوری آئین کے خلاف ایکشن لینے میں کوئی ڈربھی نہیں ہوتا ہے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو ملک میں جو ر و ظلم کی کہانی بار بار نہیں دہرائی جاتی، رام مندر کی تعمیر کے لئے سپریم کو رٹ کے فیصلہ کا انتظار کئے بغیر آرڈیننس کی بات نہیں کی جاتی، تین طلاق بل کو بار بار پیش نہیں کیا گیا ہوتا، ہجومی تشدد کے ملزموں کی رہا ئی نہیں ہوتی، گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ، ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی ضد نہیں ہوتی،وغیرہ،وغیرہ۔ جہاں پرڈاکٹر بھیم راو امیڈ کر کے ذریعہ لکھے گئے جمہوری آئین کے مطابق فیصلے کو تسلیم کیا جاتا نہ کہ منو اسمرتی کے مطابق فیصلے کرائے جانے کی بات ہوتی۔ جس کے مطابق اقلیتوں کی کوئی مجال نہیں ہے کہ وہ کسی بھی عہدہ پر فائز ہو سکے، کسی ادارہ میں تعلیم حاصل کرسکے، بلکہ وہ اکثریتی طبقہ کی غلامی میں اپنی پوری زندگی گزار دیں۔

یہ حقیقت انہیں بھی معلوم ہے کہ ہندوستان کی خوبصورتی گنگا جمنی تہذیب میں ہے۔ کثرت میں وحدت کے رنگ میں ہے، ہندو مسلم سکھ عیسائی کے اتحاد و اتفاق میں ہے۔ اور یہ بات یہاں کی عوام کو پسند ہے کہ ہمیں سیاسی اغراض و مقاصد کے پیش نظر جتنا بھی کمزور کیا جائے، ذات پات اور رنگ ونسل میں تقسیم کیا جائے، ہماری یکجہتی کو پارہ پارہ کیا جائے، ہمارے شیرازے کو منتشر کیا جائے،ہمارے درمیان میں نفرت و عداوت کی بیج بو ئی جائے، ہمارے درمیان دشمنی کی کھائی کھودی جائے لیکن پھر بھی ہم کسی ایسی مفاد پرست تنظیم یا پارٹی کے جھانسے میں نہیں آنے والے ہیں۔ ہم کسی بھی حالت میں آپسی اتحاد و اتفاق کو دشمنی میں بدلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ آخر ایسی سیاست کا فائدہ ہی کیا جو ہماری جڑیں کھوکھلی کرنے پر تلی ہو۔ ہمارے وجود کو مٹانے کے درپہ ہو۔

اب وقت ایسا آچکا ہے کہ ایک آزاد ملک میں رہتے ہوئے بھی آزادی کی دہائی دی جارہی ہے۔ جمہوری اقدار و اصول کی حفاظت کی بات کی جارہی ہے۔ جس دستور کے مطابق ملک چلتا ہے اسی دستور کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو ہندو مسلم اتحاد کا کیا ہوگا؟ کیسے اس ملک میں سب لوگ بھائی بھائی بن کر رہ سکیں گے۔ کیسے ایک ہی راستہ سے شیو کا پجاری مندر کی طرف جائے گا تو ایک نمازی مسجد کی طرف جائے گا۔ کیسے کرشن کا بھکت غریبوں کی مدد کے لئے نکلے گا تو کیسے ایک خدا ترس مسلم بندہ محتاجوں کی خبرگیری کے لئے علاقہ کا دورہ کرے گا؟ آخر سیاسی مفاد پرستی ہمیں نفرت و عداوت کی کیسی کھائی میں ڈھکیل رہی ہے؟

آیئے اس جمہوریت کے ستر ویں سال گرہ کے موقع پر ہم اس بات کا عہد کریں کہ جمہوری آئین کی پاسداری کریں گے۔ جمہوری آئین کی قدر کریں گے۔ اس کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبائیں گے۔ عدل و انصاف کی ترازو قائم کریں گے، امیر و ہو یا غریب،دولت مند ہو یا فقیر سب کے ساتھ یکساں سلوک کریں گے۔ جمہوریت کے تحت ملنے والی آزادی رائے، آزادی مذہب اور مساوات و برابری کا پرچم لہر ا ئیں گے۔ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتیں گے۔

رابطہ: shahnawaz.shah56@gmail.com

Read all Latest social news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from social and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Indian democracy great example of unity in diversity in Urdu | In Category: سماجیات Social Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.